Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 112
قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ
قٰلَ : فرمائے گا كَمْ لَبِثْتُمْ : کتنی مدت رہے تم فِي الْاَرْضِ : زمین (دنیا) میں عَدَدَ : شمار (حساب) سِنِيْنَ : سال (جمع)
ان سے کہا جائے گا ، تمہیں خیال ہے کہ تم زمین میں کتنے برس تک رہے
یہ سوال قوم کے انہیں وڈیروں اور مخالفین انبیاء کرام سے کیا جا رہا ہے : 112۔ اس سوال میں ایک قسم کی تلمیح پائی جاتی ہے اور قرآن کریم میں اس طرح کی تلمیحات بہت پائی جاتی ہیں کہ کچھ کہا بھی نہ جائے اور ایک طرح سے سب ہی کچھ کہہ دیا جائے جو دائرہ ادب کلام میں رہ کر کیا جاسکتا ہے ۔ یہ سوال انہیں قوم کے وڈیروں اور انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام کے مخالفین سے کیا جا رہا ہے کہ تم تو ظہور قیامت کو بعید از عقل وسمجھ کہتے تھے اور خیال کرتے تھے پہلے تو قیامت ویامت کچھ ہے ہی نہیں لیکن اگر ہوئی بھی تو آخر اتنی جلدی کب ہوگی کیا ابھی سے اس کی فکر دامن گیر کرلیں اور گھلنا شروع ہوجائیں ۔ فرمایا یہ اسی زعم باطل میں ہوں گے کہ جو کچھ ہونا ہے وہ ہوجائے گا کہ من مات قدقامت قیامتہ پھر جب وہ پہلی بار صور پھونکے جانے کے بعد اور قیامت کے بپا ہونے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا صور پھونکا جائے گا تو کھیتی اگنے کی مانند اٹھ کر کھڑے ہوجائیں گے تو ایک دوسرے سے سوال کریں گے یا کچھ لوگ دوسروں سے سوال کریں گے کہ تم زمین میں کتنی مدت ٹھہرے تھے ؟ اس میں دراصل یہ بتایا گیا ہے کہ جس بات کا ان کو دنیا کی زندگی میں یقین ہی نہیں آرہا تھا وہ دوبارہ اٹھائے جانے کی بات ہی تھی لیکن اب جب وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے تو ان کے طوطے اڑ جائیں گے اور وہ حیرت زدہ ہو کر پوچھیں گے کہ وہ دنیا کی زندگی ہماری کتنی تھی ؟ یہ تو پوچھنے والوں کی حالت ہے اور بتانے والوں کا اندازہ بھی ملاحظہ کیجئے ۔
Top