Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 93
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ
قُلْ : فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اِمَّا تُرِيَنِّيْ : اگر تو مجھے دکھا دے مَا يُوْعَدُوْنَ : جو ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
آپ کہہ دیجئے ، اے میرے رب ! جن باتوں کا تو نے وعدہ کیا ہے اگر ان کا ظہور میرے سامنے ہونے والا ہے
اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اپنے پروردگار سے ہمیشہ دعا کرتے رہئے : 93۔ یہ طریقہ گزشتہ قوموں سے چلتا آرہا ہے کہ ہر نبی ورسول نے جب اپنی قوم کو شرک سے بچنے کی تلقین کی اور قوم نے اس تلقین کو قبول نہ کیا تو ہر نبی ورسول نے قوم کو عذاب الہی کا خوف دلایا اور قوم کے لوگوں نے عذاب الہی کا خوب مذاق اڑایا اور مطالبہ کیا کہ جب ہم آپ ﷺ کی تلقین کے مطابق عمل نہیں کر رہے تو وہ عذاب الہی آکیوں نہیں جاتا ؟ اور رسول سے مطالبہ کیا کہ تم نے جس عذاب کی ہم کو بار بار دھمکی دی ہے اس کو لے کیوں نہیں آتے ؟ قریش کے لوگوں کو جب رسول اللہ ﷺ نے ڈرایا تو انہوں نے بھی وہی مطالبہ کیا جو گزشتہ قومیں کرچکی تھیں کہ اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لے کیوں نہیں آتے ؟ قریش مکہ کی اس طلب کا ذکر پیچھے سورة یونس کی آیت 46 ‘ سورة رعد کی آیت 40 میں گزر چکا ہے ۔ زیر نظر آیت میں نبی اعظم وآخر ﷺ کو دعا سکھائی جا رہی ہے کہ اب قریش کے عذاب کا وقت بھی قریب چلا آرہا ہے آپ ﷺ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ دعا کرتے رہئے کہ ” اے میرے رب ! جن باتوں کا تو نے وعدہ کیا ہے اگر ان کا ظہور میرے سامنے یعنی میری موجودگی میں ہونے والا ہو تو مجھے اپنی امان میں رکھیے کہ میں تو تیرے عذاب کی وہا سے بھی تیری پناہ طلب کرتا ہوں اور دعا کے الفاظ اس طرح وحی کئے گئے ۔
Top