Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 94
رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ
رَبِّ : اے میرے رب فَلَا تَجْعَلْنِيْ : پس تو مجھے نہ کرنا فِي : میں الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : ظالم لوگ
تو اے اللہ ! مجھے اس گروہ میں نہ رکھیو جو ظالم گروہ ہے !
رب فلا تجعلنی فی القوم الظلمین : 94۔ اور اے میرے رب ! اگر تو اس عذاب کو میری زندگی ہی میں ان ظالموں پر لانے والا ہے جس سے ان کو ڈرایا جاتا رہا ہے تو مجھے اپنے دامن رحمت میں رکھئے اور ان ظالموں میں نہ کیجئے ، اس طرح کی دعا کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ معاذ اللہ نبی اعظم وآخر ﷺ کا اس عذاب میں مبتلا ہوجانے کا کوئی خطرہ موجود تھا ۔ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ اس طرح کے انداز بیان سے یہ تصور دلانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی بڑے سے بڑے کی بھی نہیں چلتی اور ہر بڑا اس طرح بڑا بن سکتا ہے کہ وہ خوف الہی سے کانپتا رہے اور یہ بھی کہ اس طرح کی دعا ہر ایک انسان کے لئے باعث تقویت ہوتی ہے خواہ وہ کون ہو۔ یہاں تک کہ اللہ کے رسول بھی اسی طرح کی دعاؤں سے تقویت حاصل کرتے رہے اور ہر نبی ورسول نے اپنی امت کو اس بات کا عملی درس دیا کہ عذاب الہی ایک ایسی چیز ہے کہ اس سے ڈرتے ہی رہنا چاہئے اور یہ بھی کہ اجتماعی گناہوں کی پاداش میں جب عذاب کی چکی چلتی ہے تو برے لوگوں کے ساتھ نیک بھی بعض اوقات پس جاتے ہیں خصوصا جبکہ نیکوں کاروں نے خود تو نیکیاں کمائی ہوں لیکن اجتماعی برائیوں کا دفاع نہ کیا ہو اس لئے برے معاشرہ کے اندر رہنے والے نیکو کاروں کو بھی ہر وقت ایسے معاشرہ سے خوفزدہ رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے رہنا چاہئے کہ کہیں آٹے کے ساتھ گھن بھی نہ پس جائے اور یہ بھی کہ اس میں نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرکے آپ ﷺ کی امت کے لوگوں کو یہ بات تلقین کی جا رہی ہے اور قرآن کریم کا یہ انداز خطاب عام ہے کہ وہ نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد کو ہدایت کرتا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ہدایت کے قبول کرنے کی توفیق دے اور اپنی دعاؤں میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی توفیق طلب کرتے ہی رہیں کہ (رب فلا تجعلنی فی القوم الظلمین) ۔
Top