Asrar-ut-Tanzil - Al-Qasas : 26
لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ
لَاَانْتُمْ : یقیناً تم۔ تمہارا اَشَدُّ رَهْبَةً : بہت زیادہ ڈر فِيْ صُدُوْرِهِمْ : ان کے سینوں میں مِّنَ اللّٰهِ ۭ : اللہ سے ذٰلِكَ : یہ بِاَنَّهُمْ : اس لئے کہ وہ قَوْمٌ : ایسے لوگ لَّا يَفْقَهُوْنَ : کہ وہ سمجھتے نہیں
ان کے دلوں میں اللہ سے زیادہ تمہارا ڈر ہے یہ اس لیے کہ یہ لوگ سمجھ بوجھ نہیں رکھتے
بنو نضیر کے دلوں میں مسلمانوں کے خوف و ہراس کی وضاحت 13 ؎ گزشتہ آیت میں بنو نضیر کے معاملہ میں منافقین نے جو خفیہ سازش کی تھی اس کو بےنقاب کیا گا اور قبل از وقت اس کی نشاندہی کردی گئی تھی اور زیر نظر آیت میں براہ راست بنو نضیر کے متعلق پیش گوئی بیان فرمائی جا رہی ہے کہ بنو نضیر جنہوں نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور ان کو اس کی پاداش میں یہاں سے نکل جانے کا حکم آپ ﷺ نے صادر فرمایا اس حکم کے فوراً بعد بعض لوگوں کے اندر ایک طرح کا خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگوں میں سے وہ لوگ جو کچے ایمان کے تھے اور وہ جو منافق تھے انہوں نے طرح طرح کے تبصرے شروع کردیئے کہ ابھی حالات اس کے متحمل نہیں تھے ، اس معاملہ میں بہت جلد بازی سے کام لیا گیا اور ظاہر ہے کہ پروپیگنڈا کے اثرات بہت مہلک ثابت ہو سکتے ہیں اور بڑے بڑے سمجھدار لوگ اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے ہیں اس لیے فوراً ان کی تردید کی گئی اور ایمان والوں کے حوصلے بلند کردیئے گئے ۔ فرمایا تم لوگ اچھی طرح یاد رکھو کہ بنو نضیر تم سے کبھی بھی مل کر اور ایک جسم و جان ہو کر نہیں لڑ سکتے اور نہ ہی وہ اس طرح لڑیں گے۔ ( لا انتم) میں الف زائد ہے جس کا تعقل محض رسم خط سے ہے۔ فرمایا بنو نضیر یہود سے تعلق رکھتے ہیں ان کے متعلق ایک بات خوب یاد رکھو کہ ان کے دلوں میں تم مسلمانوں کا جو خوف و ڈر سمایا ہے وہ اللہ کے ڈر سے بھی زیادہ ہے۔ یہ لوگ تو مسلمانوں کا نام سنتے ہیں تو کانپ جاتے ہیں ، اللہ کے خوف سے تو ان کے دل خالی ہیں لیکن مسلمانوں کی ہیبت اور رعب ان کے دلوں پر اس طرح چھایا ہے کہ ان میں تمہارے خلاف میدان جنگ میں اترنے کی کبھی جرأت نہیں ہو سکتی ۔ ویسے بھی جو دوسروں کو لڑا کر ان کی لڑائی دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں اگر ان پر ایسا وقت آجائے تو وہ کبھی دکھائی نہیں دیتے اور مذہب و ملت کے بارے میں یہ اتنی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے ان کا کام فقط مال و دولت کے ڈھیر اکٹھے کرنا ہے اور یہ لوگ اس میں لگے رہتے ہیں ۔ کنجری مر سکتی ہے لیکن مشقت نہیں کرسکتی۔
Top