Tafheem-ul-Quran - Al-Qasas : 26
سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا
سُنَّةَ اللّٰهِ : اللہ کا دستور فِي الَّذِيْنَ : ان لوگوں میں جو خَلَوْا : گزرے مِنْ قَبْلُ ۚ : ان سے پہلے وَلَنْ تَجِدَ : اور تم ہرگز نہ پاؤ گے لِسُنَّةِ اللّٰهِ : اللہ کے دستور میں تَبْدِيْلًا : کوئی تبدیلی
ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے اپنے باپ سے کہا”ابّا جان، اِس شخص کو نوکر رکھ لیجیے، بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہو سکتا ہے جو مضبوط اور امانتدار ہو۔“37
سورة القصص 37 ضروری نہیں کہ یہ بات لڑکی نے اپنے باپ سے حضرت موسیٰ کی پہلی ملاقات کے وقت ہی کہہ دی ہو۔ اغلب یہ ہے کہ اس کے والد نے اجنبی مسافر کو ایک دو روز اپنے پاس ٹھہرا لیا ہوگا اور اس دوران میں کسی وقت بیٹی نے باپ کو یہ مشورہ دیا ہوگا، اس مشورے کا مطلب یہ تھا کہ آپ کی کبر سنی کے باعث مجبورا ہم لڑکیوں کو کام کے لیے نکلنا پڑتا ہے۔ ہمارا کوئی بھائی نہیں ہے کہ باہر کے کام سنبھالے، آپ اس شخص کو ملازم رکھ لیں، مضبوط آدمی ہے، ہر طرح کی مشقت کرے گا، اور بھروسے کے قابل آدمی ہے، محض اپنی شرافت کی بنا پر اس نے ہم عورتوں کو بےبس کھڑا دیکھ کر ہماری مدد کی، اور کبھی ہماری طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھا۔
Top