15. Al-Hijrالحجر
The Rock · Meccan · 99 ayahs · 6 rukus · مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ﴿1﴾
ا۔ ل۔ ر یہ اللہ کی کتاب اور اس قرآن کی آیات ہیں جو اپنے احکام واضح طور پر بیان کرنے والا ہےرُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ﴿2﴾
ایک وقت آئے گا جب کافر یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتےذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ﴿3﴾
آپ انھیں (ان کے حال پر) چھوڑ دیجئے کہ کچھ کھالیں، مزے اڑا لیں، اور لمبی چوڑی امیدیں انھیں غافل کئے رکھیں۔ پھر جلد ہی انھیں (سب کچھ) معلوم ہوجائے گاوَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ﴿4﴾
ہم نے جس بستی کو بھی ہلاک کیا تو اس کے لئے ایک مقررہ مدت لکھی ہوئی تھیمَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ﴿5﴾
کوئی قوم اس مقررہ مدت سے پہلے ہلاک نہیں ہوسکتی اور نہ ہی اس مدت کے بعد بچی رہ سکتی ہےوَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ﴿6﴾
کافر یہ کہتے ہیں کہ : اے وہ شخص جس پر یہ قرآن نازل ہوا ہے تو تو دیوانہ ہےلَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿7﴾
اگر تو سچا ہے تو پھر ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لے آتا ؟مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ﴿8﴾
(حالانکہ) ہم فرشتے صرف حق (فیصلہ) کے وقت ہی اتارتے ہیں۔ پھر اس وقت انھیں مہلت نہیں دی جاتیاِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ﴿9﴾
یقینا ہم نے ہی الذکر اتارا ہے اور یقینا ہم ہی اس کے محافظ ہیںوَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ﴿10﴾
آپ سے پہلے ہم نے سابقہ قوموں میں بھی رسول بھیجے تھےوَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ﴿11﴾
اور ان کے پاس جو بھی رسول آیا اس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہےكَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ﴿12﴾
ہم مجرموں کے دلوں میں ایسی ہی باتیں داخل کردیتے ہیںلَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ﴿13﴾
کہ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے، پہلی قوموں کی بھی یہی روش چلی آرہی ہےوَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ﴿14﴾
اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول بھی دیتے جس میں وہ چڑھنے لگ جاتےلَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ع﴿15﴾
تو بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کی نظر ہے بندی کردی گئی ہے بلکہ ہم لوگوں پر جادو کیا گیا ہےوَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ﴿16﴾
بلاشبہ ہم نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لئے انھیں سجا دیاوَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ﴿17﴾
اور ہر شیطان مردود سے اسے محفوظ کردیااِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ﴿18﴾
ہاں اگر شیطان چوری چھپے سننا چاہے تو ایک چمکتا ہوا شعلہ اس کے پیچھے لگ جاتا ہےوَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ﴿19﴾
اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور اسی میں سلسلہ ہائے کوہ جما دیئے اور اس میں سے ہر مناسب چیز کو ہم نے اگایاوَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ﴿20﴾
اور اسی زمین میں ہم نے تمہارے لئے بھی سامان معیشت بنادیا اور ان کے لئے بھی جن کے رازق تم نہیں ہووَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ﴿21﴾
کوئی بھی ایسی چیز نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں۔ اور اسے ہم ایک جانی پہچانی مقدار کے مطابق ہی نازل کرتے ہیںوَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ﴿22﴾
نیز ہم پانی سے لدی ہوئی ہوائیں بھیجتے ہیں پھر آسمان سے پانی برسا کر اس سے تمہیں سیراب کرتے ہیں۔ اس پانی کا ذخیرہ رکھنے والے (ہم ہی ہیں) تم نہیں ہووَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ﴿23﴾
اور بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہم ہی (ہر چیز کے) وارث ہیںوَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ﴿24﴾
اور ہمیں یقینا ان لوگوں کا بھی علم ہے جو تم سے آگے نکل گئے اور جو پیچھے رہنے والے ہیںوَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ع﴿25﴾
آپ کا پروردگار ہی ان سب کو جمع کرے گا۔ بلاشبہ وہ حکمت والا اور سب کچھ جاننے والا ہےوَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ﴿26﴾
ہم نے انسان کو گلے سڑے گارے سے خشک شدہ ٹن سے بجنے والی مٹی سے پیدا کیاوَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ﴿27﴾
اور جنوں کو اس سے پہلے ہم آگ کی لپٹ سے پیدا کرچکے تھےوَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ﴿28﴾
اور (وہ وقت یاد کرو) جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں گلے سڑے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے ایک انسان پیدا کرنے لگا ہوںفَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ﴿29﴾
تو جب میں اسے درست کر چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانافَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ﴿30﴾
چناچہ سب کے سب فرشتوں نے (آدم کو) سجدہ کیااِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ﴿31﴾
سوائے ابلیس کے جس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کردیاقَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ﴿32﴾
اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا : ابلیس ! تجھے کیا ہوگیا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا ؟قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ﴿33﴾
وہ بولا ! مجھے یہ گوارا نہ ہوا کہ میں ایسے انسان کو سجدہ کروں جسے تو نے گلے سڑے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہےقَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ﴿34﴾
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہاں سے نکل جا کیونکہ تو مردود ہےوَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ﴿35﴾
اور روز جزا تک تجھ پر لعنت ہےقَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ﴿36﴾
وہ کہنے لگا : میرے پروردگار ! پھر مجھے اس دن تک (زندہ رہنے کی) مہلت دے دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گےقَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ﴿37﴾
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تجھے مہلت دی جاتی ہےاِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ﴿38﴾
اس دن تک جس کا وقت معلوم ہےقَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ﴿39﴾
وہ بولا : پروردگار ! چونکہ تو نے مجھے (آدم کے ذریعہ) بہکا۔ دیا ہے تو اب میں بھی دنیا میں لوگوں کو (ان کے گناہ) خوشنما کرکے دکھاؤں گا اور ان سب کو بہکا کر چھوڑوں گااِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ﴿40﴾
الا یہ کہ تیرے چند مخلص بندے (بچ جائیں تو اور بات ہے)قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ﴿41﴾
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ وہ راستہ ہے جو سیدھا مجھ تک پہنچتا ہےاِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ﴿42﴾
میرے (حقیقی) بندوں پر تو تیرا کچھ زور نہ چل سکے گا۔ تیرا زور صرف ان گمراہوں پر چلے گا جو تیری پیروی کریں گےوَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ﴿43﴾
اور جہنم ہی وہ جگہ ہے جس کا ایسے سب لوگوں کو وعدہ دیا گیا ہےلَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ع﴿44﴾
اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر دروازے کے لئے ایک تقسیم شدہ حصہ ہوگااِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ﴿45﴾
(بخلاف اس کے) پرہیزگار لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گےاُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ﴿46﴾
(اور ان سے کہا جائے گا کہ) ان میں بلا خوف و خطر داخل ہوجاؤوَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ﴿47﴾
ان کے دلوں میں اگر کچھ کدورت ہوئی بھی تو ہم اسے نکال دیں گے اور وہ بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھیں گےلَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ﴿48﴾
نہ انھیں وہاں کوئی مشقت اٹھانا پڑے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گےنَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ﴿49﴾
(اے نبی) ! میرے بندوں کو خبر دے دیجئے کہ میں معاف کردینے والا اور رحم کرنے والا ہوںوَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ﴿50﴾
اور یہ بھی کہ میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہےوَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ﴿51﴾
نیز آپ انھیں ابراہیم کے مہمانوں کا حال بتائیےاِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ﴿52﴾
جب وہ اس کے ہاں آئے تو ابراہیم کو سلام کہا۔ ابراہیم نے کہا : ہمیں تو تم سے ڈر لگتا ہےقَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ﴿53﴾
وہ کہنے لگے : ڈرو نہیں ! ہم تمہیں ایک صاحب علم لڑکے کی بشارت دیتے ہیںقَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ﴿54﴾
ابراہیم نے کہا، کیا مجھے اس حال میں (اولاد کی) خوشخبری دیتے ہو جبکہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں پھر یہ کیسی بشارت دے رہے ہو ؟قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ﴿55﴾
وہ کہنے لگے : ہم تجھے سچی بشارت دے رہے ہیں لہذا مایوس نہ ہوقَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ﴿56﴾
ابراہیم نے کہا : (میں مایوس نہیں کیونکہ) اپنے پروردگار کی رحمت سے مایوس تو صرف گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیںقَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ﴿57﴾
پھر ان سے پوچھا : اے اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتو ! تمہارا کیا معاملہ ہے ؟قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ﴿58﴾
وہ کہنے لگے : ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیںاِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ﴿59﴾
سوائے لوط کے خاندان کے، ان سب کو ہم بچالیں گےاِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ع﴿60﴾
البتہ لوط کی بیوی کے لئے (بحکم الٰہی) ہم نے یہ مقدر کیا ہے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں شامل ہوگیفَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ﴿61﴾
پھر جب یہ فرستادہ (فرشتے) لوط کے گھر آئےقَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ﴿62﴾
تو لوط نے انھیں کہا : تم تو کچھ اجنبی لوگ معلوم ہوتے ہوقَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ﴿63﴾
وہ کہنے لگے : بلکہ ہم تو تمہارے پاس وہ (عذاب) لائے ہیں جس کے بارے میں یہ لوگ شک کر رہے تھےوَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ﴿64﴾
ہم آپ کے پاس یقینی بات لائے ہیں اور ہم خود بھی یقینا سچے ہیںفَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ﴿65﴾
لہٰذا تم کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ اور تم ان سب کے پیچھے رہو اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے۔ اور وہاں جاؤ جہاں تمہیں حکم دیا گیا ہےوَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ﴿66﴾
اور ہم نے لوط کو اس بات کا فیصلہ سنا دیا کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کٹ جائے گیوَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ﴿67﴾
اتنے میں شہر والے خوشی خوشی لوط کے ہاں آپہنچےقَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ﴿68﴾
لوط نے ان سے کہا : یہ تو میرے مہمان ہیں لہذا مجھے ذلیل نہ کرووَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ﴿69﴾
اللہ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کروقَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ﴿70﴾
وہ کہنے لگے کہ ہم نے تجھے اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ تم دنیا جہان کی حمایت نہ کیا کرو ؟قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ﴿71﴾
لوط نے کہا : اگر تمہیں کچھ کرنا ہے تو یہ میری بیٹیاں موجود ہیںلَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ﴿72﴾
(اے نبی) ! آپکی عمر کی قسم ! اس وقت وہ اپنی مستی میں دیوانے ہو رہے تھےفَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَۙ﴿73﴾
آخر سورج نکلنے کے وقت انھیں زبردست دھماکے نے آلیافَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ﴿74﴾
پھر ہم نے اس بستی کے اوپر کے حصہ کو نیچے کردیا اور ان پر کھنگر کی قسم کے پتھر برسائےاِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ﴿75﴾
بلاشبہ اس واقعہ میں بھی صاحب فراست لوگوں کے لئے کئی نشانیاں ہیںوَ اِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ﴿76﴾
اور وہ بستی بالکل شارع عام پر واقع ہےاِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ﴿77﴾
بلاشبہ اس میں ایمان لانے والوں کے لئے نشانی ہےوَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ لَظٰلِمِیْنَۙ﴿78﴾
اور ایکہ والے بھی یقینا ظالم تھےفَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍؕ۠ع﴿79﴾
چناچہ ہم نے ان سے (بھی) انتقام لے لیا اور یہ دونوں بستیاں کھلی شاہراہ پر واقع ہیںوَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْنَۙ﴿80﴾
اور وادی حجر کے لوگوں نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا تھاوَ اٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَۙ﴿81﴾
ہم نے انھیں اپنی نشانیاں دیں مگر وہ اعراض ہی کرتے رہےوَ كَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ﴿82﴾
وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر امن سے ان میں رہتے تھےفَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَۙ﴿83﴾
چناچہ صبح کے وقت انھیں زبردست دھماکہ نے آلیافَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَؕ﴿84﴾
اور جو وہ (پتھر کے مکان وغیرہ) بناتے تھے ان کے کسی کام نہ آسکےوَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ﴿85﴾
اور ہم نے جو آسمانوں زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے انھیں کسی مصلحت سے ہی پیدا کیا ہے اور قیامت یقینا آنے والی ہے۔ لہذا (اے نبی !) ان کافروں کی بیہودگیوں پر شریفانہ درگزر سے کام لواِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ﴿86﴾
بلاشبہ آپ کا پروردگار ہی سب کا پیدا کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہےوَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ﴿87﴾
نیز ہم نے آپ کو سات ایسی آیات دی ہیں جو بار بار دھرائی جاتی ہیں اور قرآن عظیم بھی دیا ہےلَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ﴿88﴾
لہٰذا ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو جو سامان حیات دے رکھا ہے ادھر نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیں اور نہ ہی ان کے لئے غمزدہ ہوں اور ایمان لانے والوں سے تواضع سے پیش آئیےوَ قُلْ اِنِّیْۤ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُۚ﴿89﴾
اور کہہ دیجئے کہ میں تو صاف صاف (عذاب سے) ڈرانے والا ہوںكَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِیْنَۙ﴿90﴾
جیسا کہ ہم نے (عذاب) ان تقسیم کرنے والوں پر نازل کیاالَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ﴿91﴾
جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھافَوَرَبِّكَ لَنَسْئَلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ﴿92﴾
سو آپ کے پروردگار کی قسم ! ہم ان سے ضرور (ان اعمال کی) باز پرس کریں گےعَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿93﴾
جو وہ کرتے رہےفَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ﴿94﴾
لہذا جو آپ کو حکم دیا جاتا ہے، ببانگ دہل سنا دیجئے اور شرک کرنے والوں کی پروا نہ کیجئےاِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ﴿95﴾
ان ٹھٹھا کرنے والوں کو ہم کافی ہیں۔الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ﴿96﴾
جو اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہ بھی قرار دیتے ہیں۔ عنقریب انھیں (سب کچھ) معلوم ہوجائے گاوَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَۙ﴿97﴾
ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اس سے آپ کا دل گھٹتا ہےفَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَۙ﴿98﴾
لہٰذا آپ اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے۔ اور سجدہ کیجئےوَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ع﴿99﴾
اور اپنے پروردگار کی عبادت کیجئے تاآنکہ آپ کے پاس یقینی بات (موت) آجائے