16. An-Nahlالنحل
The Bee · Meccan · 128 ayahs · 16 rukus · مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ﴿1﴾
(اے کافرو) اللہ کا حکم آپہنچا، لہذا اس کے لئے جلدی نہ مچاؤ وہ پاک ہے اور اس سے بلندتر ہے جو یہ لوگ شرک کرتے ہیںیُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ﴿2﴾
وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی دے کر فرشتے نازل کرتا ہے اور (ان بندوں کو حکم دیتا ہے) متنبہ کردو کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں لہذا مجھی سے ڈروخَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ﴿3﴾
اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور جو کچھ یہ لوگ شرک کر رہے ہیں اللہ اس سے بلندتر ہےخَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ﴿4﴾
اس نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا مگر وہ دیکھتے دیکھتے (اسی کے بارے میں) کھلم کھلا جھگڑالو بن گیاوَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪﴿5﴾
نیز چوپایوں کو (بھی) اس نے پیدا کیا۔ جن میں سے بعض (کی اون سے گرم کپڑے بنا کر) تم سردی سے بچتے ہو نیز اور بھی کئی فائدے اٹھاتے ہو اور بعض کو تم کھاتے بھی ہووَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪﴿6﴾
نیز جب تم انھیں شام کو چرا کر لاتے ہو اور جب صبح چرانے لے جاتے ہو تو اس میں تمہارے۔ لئے ٹھاٹھ بھی ہےوَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ﴿7﴾
نیز وہ جانور تمہارے بوجھ ایسے شہر تک اٹھا کرلے جاتے ہیں جہاں تم سخت جانفشانی کے بغیر پہنچ نہیں سکتے تھے بلاشبہ تمہارا پروردگار بڑا شفیق اور رحم کرنے والا ہےوَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿8﴾
اس نے گھوڑے، خچر اور گدھے بھی پیدا کئے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور وہ تمہارے لئے باعث زینت بھی ہیں اور وہ اور بھی کئی چیزیں پیدا کرے گا۔ جنہیں تم نہیں جانتےوَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ع﴿9﴾
اور سیدھی راہ بتانا اللہ کے ذمہ ہے جبکہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتاهُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ﴿10﴾
وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا۔ اس پانی کو تم پیتے بھی ہو اور اس سے نباتات اگتی ہے جو تم مویشیوں کو چراتے ہویُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ﴿11﴾
وہ اس پانی سے تمہارے لئے کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور ہر طرح کے پھل پیدا کرتا ہے۔ غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں ایک بڑی نشانی ہے۔وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ﴿12﴾
اس نے تمہارے لئے رات اور دن کو، نیز سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے اور تمام ستارے اسی کے حکم کے پابند ہیں۔ بلاشبہ اس میں سوچنے والوں کے لئے کئی نشانیاں ہیںوَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ﴿13﴾
نیز اس نے تمہارے لئے زمین میں رنگ برنگ کی کئی چیزیں پیدا کی ہیں۔ اس میں بھی ان لوگوں کے لئے نشانی ہے جو سبق حاصل کرتے ہیںوَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿14﴾
وہی تو ہے جس نے سمندر کو تمہارے اختیار میں کردیا تاکہ اس میں سے تم تروتازہ گوشت کھاؤ اور اس سے وہ زیور نکالو جو تم پہنتے ہو۔ اور تو دیکھتا ہے کہ کشتی سمندر کا پانی چیرتی ہوئی چلتی ہے اور اس لئے بھی کہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اس کا شکر ادا کرووَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ﴿15﴾
نیز اس نے زمین (کو ہچکولوں سے بچانے کے لئے اس) میں مضبوط پہاڑ رکھ دیئے تاکہ تمہیں لے کر ہچکولے نہ کھائے اور نہریں بھی بنائیں اور رستے بھی تاکہ تم (آتے جاتے وقت) راہ پاسکووَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ﴿16﴾
اور کچھ نشانیاں بھی بنادیں اور بعض لوگ ستاروں سے راستہ معلوم کرلیتے ہیںاَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ﴿17﴾
(اب ذرا سوچو) کیا وہ اللہ جو (یہ سب چیزیں) پیدا کرتا ہے اس جیسا ہوسکتا ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتا ؟ پھر بھی تمہیں سمجھ نہیں آتی ؟وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿18﴾
اور اگر تم اللہ کی نعمتیں گننا چاہو تو کبھی ان کا حساب نہ رکھ سکو گے بلاشبہ اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہےوَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ﴿19﴾
اور جو کچھ تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو اللہ سب کچھ جانتا ہےوَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ﴿20﴾
اور اللہ کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کوئی چیز کیا خاک پیدا کریں گے وہ تو خود پیدا کئے گئے ہیںاَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ع﴿21﴾
وہ مردے ہیں زندہ نہیں۔ انھیں یہ بھی پتا نہیں کہ کب دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ﴿22﴾
تمہارا الٰہ بس ایک ہی ہے پھر جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے، انکار ان کے دلوں میں رچ بس گیا ہے اور اکڑ بیٹھے ہیںلَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ﴿23﴾
جو کچھ یہ لوگ چھپاتے ہیں یا جو ظاہر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ یقینا سب کچھ جانتا ہے اور وہ تکبر کرنے والوں کو قطعاً پسند نہیں کرتاوَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ﴿24﴾
اور جب ان سے پوچھا جائے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے ؟ تو کہتے ہیں : بس پہلے لوگوں کی داستانیں ہی ہیںلِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ع﴿25﴾
(اور یہ اس لیے کہتے ہیں) کہ قیامت کے دن اپنے بوجھ تو پورے کے پورے اٹھائیں اور کچھ ان لوگوں کے بھی جنہیں وہ بغیر علم کے گمراہ کرتے رہے دیکھو ! کیسا برا بوجھ ہے جو وہ اٹھائیں گےقَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ﴿26﴾
ان سے پہلے بھی لوگ (حق کے خلاف) چالیں چلتے رہے ہیں۔ پھر اللہ نے ان کے مکر کی عمارت کو بنیادوں سے اکھاڑ پھینکا اور اوپر سے چھت بھی ان پر گرا دی اور انھیں عذاب ایسی جگہ سے آیا جہاں سے ان کا وہم و گمان بھی نہ تھاثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ﴿27﴾
پھر قیامت کے دن اللہ انھیں رسوا کرے گا اور پوچھے گا : وہ میرے شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم (اہل حق سے) جھگڑا کیا کرتے تھے ؟ (اور) جن لوگوں کو (دنیا میں) علم دیا گیا وہ کہیں گے : آج کافروں کے لئے رسوائی اور بدبختی ہےالَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿28﴾
وہ کافر جو اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہوتے ہیں جب فرشتے ان کی روح قبض کرنے آتے ہیں تو ہتھیار ڈال دیتے ہیں (اور کہتے ہیں) ہم کوئی برے کام تو نہیں کرتے تھے فرشتے کہیں گے : کیوں نہیں (کررہے تھے) جو کچھ تم کر رہے تھے۔ اللہ یقینا اسے خوب جانتا ہےفَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ﴿29﴾
اب جہنم کے دروازوں سے اس میں۔ داخل ہوجاؤ تم ہمیشہ اس میں رہو گے۔ غرض تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا بہت برا ہےوَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ﴿30﴾
اور (یہی بات) جب پرہیزگاروں سے پوچھی جاتی ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے ؟ وہ تو کہتے ہیں بھلائی ہی بھلائی ایسے لوگ جنہوں نے اچھے کام کئے ان کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو بہت بہتر ہے۔ اور پرہیزگاروں کے لئے کیا ہی اچھا گھر ہےجَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ﴿31﴾
دائمی باغ ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے۔ ان میں نہریں جاری ہوں گی اور جو کچھ بھی وہ چاہیں گے انھیں ملے گا اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو اسی طرح جزا دیتا ہےالَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿32﴾
وہ پرہیزگار جو پاک سیرت ہوتے ہیں۔ فرشتے ان کی روح قبض کرنے آتے ہیں تو کہتے ہیں تم پر سلام ہو، جو اچھے عمل تم کرتے رہے اس کے صلہ میں جنت میں داخل ہوجاؤهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ﴿33﴾
کیا اب یہ لوگ اسی بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تیرے پروردگار کا حکم (عذاب) آجائے ؟ ان سے پہلے بھی لوگوں نے یہی کچھ کیا تھا۔ اللہ نے تو ان پر ظلم نہیں کیا، وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کر رہے تھےفَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ع﴿34﴾
پھر انھیں اپنے اعمال کے برے نتائج سے دوچار ہونا پڑا۔ اور جس عذاب کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے اسی نے انھیں گھیر لیاوَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ﴿35﴾
یہ مشرکین کہتے ہیں : اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اللہ کے سوا کسی چیز کی عبادت کرتے اور نہ ہمارے آباء واجداد، نہ ہی ہم اس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو حرام قرار دیتے۔ ان سے پہلے لوگوں نے بھی یہی کچھ کیا تھا، رسولوں پر تو صرف یہی ذمہ داری ہے کہ وہ واضح طور پر پیغام پہنچا دیںوَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ﴿36﴾
ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا (جو انھیں یہی کہتا تھا) کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ پھر کچھ ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ نے ہدایت دے دی اور کچھ ایسے تھے جن پر گمراہی ثابت ہوگئی۔ سو تم زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ؟اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ﴿37﴾
ایسے لوگوں کی ہدایت کے لئے آپ خواہ کتنی خواہش کریں، اللہ جسے گمراہ کردے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا اور ان کا کوئی مددگار بھی نہیں ہوتاوَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ﴿38﴾
وہ اللہ کی پکی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ : جو مرجاتا ہے اللہ اسے دوبارہ نہیں اٹھائے گا اٹھائے گا کیوں نہیں۔ یہ تو ایسا وعدہ ہے جسے پورا کرنا اللہ کے ذمہ ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیںلِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ﴿39﴾
یہ اٹھانا اس لئے (ضروری ہے) کہ اللہ ان پر وہ حقیقت واضح کردے جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔ اور اس لیے (بھی ضروری ہے) کہ کافر جان لیں کہ وہی جھوٹے تھےاِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ع﴿40﴾
ہم تو جب کسی چیز کا ارادہ کرلیتے ہیں تو اسے بس اتنا ہی کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہےوَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ﴿41﴾
اور جن لوگوں نے ظلم سہنے کے بعد اللہ کے لئے ترک وطن کیا، ہم انھیں دنیا میں بھی بہت اچھا ٹھکانا دیں گے اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے کاش وہ لوگ جانتےالَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ﴿42﴾
(یعنی) جن لوگوں نے صبر کیا اور اپنے پروردگار پر ہی بھروسہ کرتے ہیںوَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ﴿43﴾
آپ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے وہ آدمی ہی ہوتے تھے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ لہذا اگر تم خود نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھ لوبِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ١ؕ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ﴿44﴾
(ان رسولوں کو ہم نے) واضح دلائل اور کتابیں (دے کر بھیجا تھا) اور آپ کی طرف یہ ذکر۔ (قرآن) اس لئے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو واضح طور پر بتادیں کہ ان کی طرف کیا چیز نازل کی گئی ہے۔ اس لئے کہ وہ اس میں غور و فکر کریںاَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ﴿45﴾
جو لوگ بری چالیں چل رہے ہیں کیا وہ اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ انھیں زمین میں دھنسا دے یا ایسی جگہ سے ان پر عذاب آجائے جہاں سے آنے کا انھیں وہم و گمان بھی نہ ہواَوْ یَاْخُذَهُمْ فِیْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَۙ﴿46﴾
یا انھیں چلتے پھرتے ہی پکڑ لے تو یہ لوگ اسے عاجز کرنے کی طاقت نہیں رکھتےاَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ﴿47﴾
یا انھیں اس طرح پکڑے کہ وہ کمزور ? و ہو کر تباہ ہوجائیں بلاشبہ آپ کا پروردگار ترس کھانے والا، رحم کرنے والا ہے (جو انھیں مہلت دیئے جاتا ہے)اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ﴿48﴾
کیا ان لوگوں نے اللہ کی پیدا کردہ اشیاء میں سے کسی چیز کو بھی نہیں دیکھا کہ اس کا سایہ کیسے دائیں سے (بائیں) اور بائیں سے۔ (دائیں) اللہ کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے ڈھلتا رہتا ہے اور یہ سب چیزیں انتہائی عجز کا اظہار کر رہی ہیںوَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ﴿49﴾
آسمانوں اور زمین میں جتنی جاندار مخلوق ہے اور فرشتے بھی سب اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور کبھی تکبر نہیں کرتےیَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩۩ع﴿50﴾
وہ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں جو ان کے اوپر ہے اور وہی کام کرتے ہیں جو انھیں حکم دیا جاتا ہےوَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ﴿51﴾
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ : دو الٰہ نہ بناؤ الٰہ صرف ایک ہی ہے لہذا مجھی سے ڈرووَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًا١ؕ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ﴿52﴾
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے۔ پھر کیا تم اللہ کے علاوہ دوسروں سے ڈرتے ہو ؟وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْئَرُوْنَۚ﴿53﴾
تمہیں جو نعمت بھی مل رہی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چیخ و پکار کرتے ہوثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ﴿54﴾
پھر جب وہ تم سے اس تکلیف کو دور کردیتا ہے تو تم میں سے کچھ لوگ اپنے پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیںلِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١۫ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ﴿55﴾
تاکہ اللہ نے جو کچھ انھیں دے رکھا ہے (اس کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے) اس کی ناشکری ہی کریں۔ اچھا (کچھ دیر) مزے اڑا لو۔ عنقریب تمہیں (حقیقت) معلوم ہوجائے گیوَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ﴿56﴾
نیز جو رزق ہم نے انھیں دے رکھا ہے اس میں سے ایسے (شریکوں) کا حصہ مقرر کرتے ہیں جن کے متعلق انہیں علم نہیں۔ اللہ کی قسم ! جو کچھ تم اللہ پر افترا کرتے ہو اس کی تم سے ضرور باز پرس ہوگیوَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ١ۙ وَ لَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ﴿57﴾
ان لوگوں نے اللہ کے لئے بیٹیاں تجویز کیں حالانکہ وہ ایسی باتوں سے پاک ہے اور ان کے لئے وہ کچھ ہے جو یہ خود چاہیں (یعنی بیٹے)وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ﴿58﴾
اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی (کی پیدائش) کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہےیَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ١ؕ اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ﴿59﴾
اور دی ہوئی خبر سے عار کی وجہ سے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے کہ) آیا اس لڑکی کو ذلت کے باوجود زندہ ہی رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے ؟ دیکھو یہ لوگ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیںلِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ع﴿60﴾
بری مثال تو ان لوگوں کے لئے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اللہ کے لئے تو بلندتر مثال ہے اور وہ ہر چیز پر غالب اور حکمت والا ہےوَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَیْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ﴿61﴾
اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم کی بنا پر پکڑنے لگتا تو زمین پر کوئی جاندار مخلوق باقی نہ رہ جاتی لیکن وہ ایک معین عرصہ تک ڈھیل دیئے جاتا ہے پھر جب وہ مدت آجاتی ہے تو (اللہ کا عذاب ان سے) گھڑی بھر کے لئے بھی آگے پیچھے نہیں ہوسکتاوَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا یَكْرَهُوْنَ وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى١ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَ اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ﴿62﴾
یہ لوگ اللہ کے لئے وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے خود ناپسند کرتے ہیں اور ان کی زبانیں جھوٹ بکتی ہیں کہ ان کے لئے بھلا ہی بھلا ہے۔ ان کے لیے یقینی چیز تو دوزخ کی آگ ہے اور اس میں یہ (سب سے آگے) دھکیلے جائیں گےتَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿63﴾
اللہ کی قسم ! ہم آپ سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف رسول بھیج چکے ہیں تو (یہی ہوتا رہا کہ) شیطان انھیں ان کے کرتوت مزین کرکے دکھاتا رہا اور آج بھی شیطان ہی ان (کفار مکہ کا) سرپرست بنا ہوا ہے اور انھیں دردناک عذاب ہوگاوَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴿64﴾
ہم نے آپ پر یہ کتاب صرف اس لیے نازل کی ہے کہ جن باتوں میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں ان کے بارے میں آپ ان پر (حقیقت) واضح کردیں۔ نیز یہ کتاب ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت (بھی) ہےوَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠ع﴿65﴾
اور اللہ ہی نے آسمان سے پانی برسایا جس سے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کیا۔ اس میں بھی ان لوگوں کے لئے نشانی ہے جو غور سے سنتے ہیںوَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ﴿66﴾
نیز تمہارے لیے چوپایوں میں بھی نشان عبرت موجود ہے۔ ان کے پیٹوں میں غذا کا فضلہ اور خون موجود ہوتا ہے تو ان دونوں چیزوں کے درمیان سے ہم تمہیں خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لئے خوشگوار ہوتا ہےوَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴿67﴾
نیز کھجور اور انگور کے پھلوں سے بھی (ہم تمہیں ایک مشروب پلاتے ہیں) جسے تم نشہ آور بھی بنا لیتے ہو اور عمدہ رزق بھی۔ اہل دانش کے لئے اس میں بھی ایک نشانی ہےوَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ﴿68﴾
نیز آپ کے پروردگار نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ پہاڑوں میں، درختوں میں اور (انگور وغیرہ کی) بیلوں میں اپنا گھر (چھتا) بناثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ﴿69﴾
پھر ہر قسم کے پھل سے اس کا رس چوس اور اپنے پروردگار کی ہموار کردہ راہوں پر چلتی رہ۔ ان مکھیوں کے پیٹ سے مختلف رنگوں کا مشروب (شہد) نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لئے شفا ہے۔ یقینا اس میں بھی ایک نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیںوَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ع﴿70﴾
اللہ نے تمہیں پیدا کیا پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو رذیل ترین عمر تک پہنچایا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد وہ کچھ نہ جانے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور قدرت والا ہےوَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ﴿71﴾
نیز اللہ نے تمہیں رزق کے معاملہ میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے۔ پھر جن لوگوں کو رزق زیادہ دیا گیا ہے وہ ایسے تو نہیں جو زائد رزق کو اپنے غلاموں کی طرف لوٹا دیں تاکہ آقا و غلام سب رزق کے معاملہ میں برابر ہوجائیں۔ کیا پھر وہ اللہ کی نعمتوں کا ہی انکار کرتے ہیںوَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ﴿72﴾
اللہ نے تمہارے لئے تمہی میں سے بیو یاں بنائیں اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے بیٹے اور پوتے بنائے اور تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق عطا کیا۔ کیا پھر وہ باطل (معبودوں) پر یقین رکھتے اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں ؟وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ﴿73﴾
اللہ کے سوا وہ جن چیزوں کو پوجتے ہیں وہ آسمانوں اور زمین سے انھیں رزق مہیا کرنے کا کچھ اختیار نہیں رکھتیں اور نہ ہی وہ یہ کام کرسکتی ہیںفَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴿74﴾
اللہ کے لئے مثالیں نہ بیان کیا کرو۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتےضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿75﴾
اللہ ایک مثال بیان کرتا ہے۔ ایک غلام ہے جو خود کسی کی ملکیت ہے وہ کسی چیز کی قدرت نہیں رکھتا اور دوسرا وہ ہے جسے ہم نے عمدہ رزق عطا کیا پھر وہ اس سے خفیہ اور علانیہ بہرطور خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ سب تعریف اللہ ہی کو سزاوار ہے بلکہ اکثر لوگ (یہ سیدھی سی بات بھی) نہیں جانتےوَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ع﴿76﴾
نیز اللہ ایک اور مثال بیان کرتا ہے : دو آدمی ہیں جن میں سے ایک گونگا (بہرا) ہے کسی بات کی قدرت نہیں رکھتا، وہ اپنے مالک پر بوجھ بنا ہوا ہے، مالک اسے جہاں بھیجتا ہے وہ بھلائی سے نہیں آتا۔ کیا ایسا شخص اس دوسرے کے برابر ہوسکتا ہے جو انصاف کے ساتھ حکم دیتا ہے اور سیدھی راہ پر گامزن ہے ؟وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿77﴾
آسمانوں اور زمین کے پوشیدہ حقائق کا علم اللہ ہی کو ہے۔ اور ساعت (قیامت) کا سلسلہ یوں ہوگا جیسے آنکھ کی جھپک یا اس سے بھی جلد تر واقع ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ یقینا ہر چیز پر قادر ہےوَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿78﴾
اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے (اس حال میں) نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اسی نے تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم اس کا شکریہ ادا کرواَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴿79﴾
کیا انہوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمانی فضا میں کیسے مسخر ہیں۔ انھیں اللہ ہی تھامے ہوئے ہے۔ جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیںوَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ﴿80﴾
اللہ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو جائے سکون بنایا اور چوپایوں کی کھالوں سے تمہارے لیے ایسے گھر (خیمے) بنائے جنہیں تم نقل مکانی اور قیام دونوں حالتوں میں ہلکا پاتے ہو۔ اور ان کی اون، پشم اور بالوں سے تمہارے لیے گھر کا سامان اور کچھ مدت کے لئے معیشت بنایاوَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ﴿81﴾
نیز اللہ ہی نے تمہارے لئے اپنی مخلوق (کی اکثر چیزوں) کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں کمین گاہیں بنائیں اور تمہارے لیے ایسے لبادے بنائے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں اور جو لڑائی کے وقت بچاتے ہیں۔ اللہ اسی طرح تم پر اپنی نعمتیں پوری کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنوفَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ﴿82﴾
پھر اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو (اے نبی) ! آپ پر تو بالوضاحت پیغام پہنچا دینے کی ہی ذمہ داری ہےیَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ع﴿83﴾
وہ اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے بھی ہیں مگر پھر اس کا انکار کردیتے ہیں اور ان میں سے بیشتر ناشکرے ہیںوَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ﴿84﴾
اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے تو پھر کافروں کو نہ تو (عذر پیش کرنے کی) اجازت دی جائے گی اور نہ ہی توبہ کا موقع دیا جائے گاوَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ﴿85﴾
اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر ان کے عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی، نہ ہی انھیں مہلت دی جائے گیوَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ﴿86﴾
اور جب مشرکین اپنے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! یہ ہیں ہمارے (خود ساختہ) شریک جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے اس پر وہ شریک انھیں صاف جواب دیں گے کہ تم یقینا جھوٹے ہووَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ﴿87﴾
اس دن وہ اللہ کے حضور اپنی فرمانبرداری پیش کریں گے اور جو کچھ وہ افترا پردازیاں کرتے تھے سب کچھ انھیں بھول جائے گااَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ﴿88﴾
(یہ وہ لوگ ہوں گے) جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکتے رہے۔ ہم ان کے عذاب پر مزید عذاب کا اضافہ کرتے جائیں گے اس لیے کہ وہ فساد مچایا کرتے تھےوَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ع﴿89﴾
اور جس دن ہم ہر امت میں سے انہی میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور ان پر ہم آپ کو گواہ لائیں گے۔ اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کی وضاحت موجود ہے اور (اس میں) مسلمانوں کے لئے ہدایت، رحمت اور خوشخبری ہےاِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ﴿90﴾
اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھووَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ﴿91﴾
اور اگر تم نے اللہ سے کوئی عہد کیا ہو تو اسے پورا کرو۔ اور اپنی قسموں کو پکا کرنے کے بعد مت توڑو۔ جبکہ تم اپنے (قول وقرار) پر اللہ کو ضامن بناچکے ہو جو تم کرتے ہو، اللہ اسے خوب جانتا ہےوَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ﴿92﴾
اور اس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے بڑی محنت سے سوت کاتا پھر خود ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ تم اپنی قسموں کو باہمی معاملات میں مکرو فریب کا ذریعہ بناتے ہو کہ ایک جماعت دوسری سے ناجائز فائدہ حاصل کرے۔ اللہ تو ان (قسموں اور معاہدوں) کے ذریعہ تمہاری آزمائش کرتا ہے۔ اور قیامت کے دن تم پر یقینا اس بات کی وضاحت کر دے گا جس سے تم اختلاف کیا کرتے تھےوَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿93﴾
اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جو کچھ تم کرتے رہے، اس سے متعلق ضرور تمہاری باز پرس ہوگیوَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴿94﴾
نیز تم اپنی قسموں کو باہمی معاملات میں دھوکا دینے کا ذریعہ نہ بناؤ، ورنہ تمہارے قدم جم جانے کے بعد پھر سے اکھڑ جائیں گے اور (عہد شکنی کی وجہ سے) جو تم اللہ کی راہ سے روکتے رہے اس کی پاداش میں تمہیں برا نتیجہ بھگتنا ہوگا اور (آخرت میں) تمہارے لئے بہت بڑا عذاب ہوگاوَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿95﴾
اللہ سے کئے ہوئے عہد کو تھوڑی سی قیمت کے عوض مت بیچو کیونکہ جو کچھ (اجر) اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ اگر تم جانومَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿96﴾
جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب ختم ہوجائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور ہم صبر کرنے والوں کو ان کے اچھے اعمال کے مطابق ضرور ان کا اجر عطا کریں گےمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿97﴾
جو شخص بھی نیک عمل کرے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ان کے بہترین اعمال کے مطابق انہیں ان کا اجر عطا کریں گےفَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ﴿98﴾
پھر جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کریںاِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ﴿99﴾
اس کا ان لوگوں پر کوئی بس نہیں چلتا جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیںاِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ع﴿100﴾
اس کا بس تو صرف ان لوگوں پر چلتا ہے جو اسے اپنا سرپرست بناتے ہیں اور ایسے ہی لوگ اللہ کے شریک بناتے ہیںوَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿101﴾
اور جب ہم ایک آیت کے بجائے دوسری آیت تبدیل کرکے نازل کرتے ہیں۔ اور اللہ جو کچھ نازل فرماتا ہے اس (کی مصلحت) کو خوب جانتا ہے، تو یہ لوگ کہنے لگتے ہیں کہ : تم تو اپنے پاس سے بنا لائے ہو حالانکہ ان میں اکثر لوگ (حقیقت حال) کو نہیں جانتےقُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ﴿102﴾
آپ ان سے کہئے کہ اس قرآن کو روح القدس نے آپ کے پروردگار کی طرف سے حق کے ساتھ بتدریج نازل کیا ہے۔ تاکہ ایمان لانے والوں کے ایمان کو مضبوط بنا دے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور بشارت ہےوَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ﴿103﴾
ہم خوب جانتے ہیں کہ کافر یہ کہتے ہیں کہ : کوئی انسان ہے جو اس (نبی) کو (یہ قرآن) سکھا جاتا ہے حالانکہ جس شخص کی طرف یہ بات منسوب کرتے ہیں وہ عجمی ہے اور یہ (قرآن) سلیس عربی زبان ہےاِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿104﴾
بلاشبہ جو لوگ اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے انھیں وہ کبھی راہ پر نہیں لاتا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہےاِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ﴿105﴾
جھوٹ تو صرف وہ لوگ افترا کرتے ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے۔ اور یہی لوگ جھوٹے ہیںمَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴿106﴾
جس شخص نے ایمان لانے کے بعد اللہ سے کفر کیا، اِلا یہ کہ وہ مجبور کردیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تو یہ معاف ہے) مگر جس نے برضا ورغبت کفر قبول کیا تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور انہی کے لئے بہت بڑا عذاب ہےذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ﴿107﴾
یہ اس لئے کہ انہوں نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کیا اور اللہ کفر کرنے والوں کو سیدھی راہ نہیں دکھاتااُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ﴿108﴾
یہی لوگ ہیں جن کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور یہی لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیںلَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ﴿109﴾
یقینا یہی لوگ آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ع﴿110﴾
پھر جن لوگوں نے مصائب اٹھانے کے بعد ہجرت کی پھر جہاد کیا اور صبر کرتے رہے تو آپ کا پروردگار بلاشبہ ان (آزمائشوں) کے بعد انھیں معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہےیَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴿111﴾
جس دن ہر شخص اپنی بابت ہی جھگڑا کرتا ہوا آئے گا اور ہر ایک کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگاوَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ﴿112﴾
اللہ تعالیٰ ایک بستی کی مثال بیان کرتا ہے۔ جو امن و چین سے رہتی تھی اور ہر طرف سے اس کا رزق اسے بفراغت پہنچ رہا تھا۔ پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان کے کرتوتوں کا مزا یہ چکھایا کہ ان پر بھوک اور خوف (کا عذاب) مسلط کردیاوَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ﴿113﴾
ان کے پاس انہی میں سے ایک رسول آچکا تھا جسے انہوں نے جھٹلا دیا تو عذاب نے انھیں آلیا اور وہ بےانصاف لوگ تھےفَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ﴿114﴾
پس اللہ نے جو تمہیں حلال اور پاکیزہ رزق دیا ہے وہی کھاؤ اگر واقعی تم اس کی بندگی کرنے والے ہو تو اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرواِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿115﴾
اللہ نے جو کچھ تم پر حرام کیا ہے وہ ہے مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز جو اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام پر مشتہر کی گئی ہو۔ پھر وہ شخص (ان میں سے کوئی چیز کھانے پر) مجبور ہوجائے، بشرطیکہ وہ نہ تو شرعی قانون کا باغی ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ کھانے والا ہو، (تو ایسے شخص کو) اللہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہےوَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ﴿116﴾
جو جھوٹ تمہاری زبانوں پر آجائے اس کی بنا پر یوں نہ کہا کرو کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ افترا کرنے لگو۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹ افترا کرتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پاتےمَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿117﴾
(ایسے جھوٹ کا) فائدہ تو تھوڑا سا ہے مگر (آخرت میں) ان کے لئے دردناک عذاب ہےوَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ﴿118﴾
اور یہودیوں پر ہم نے جو کچھ حرام کیا تھا، وہ ہم اس سے پیشتر آپ سے بیان کرچکے ہیں ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھےثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ع﴿119﴾
البتہ جن لوگوں نے لاعلمی کی بنا پر کوئی برا کام کیا پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور اپنی اصلاح کرلی تو اس کے بعد آپ کا پروردگار یقینا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہےاِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا١ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ﴿120﴾
بلاشبہ ! ابراہیم (اپنی ذات میں) ایک امت تھے۔ اللہ کے فرمانبردار اور یکسو رہنے والے تھے۔ وہ ہرگز مشرک نہ تھےشَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ١ؕ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿121﴾
وہ اللہ کی نعمتوں کے شکرگزار تھے اللہ نے انھیں منتخب کرلیا اور سیدھی راہ دکھادیوَ اٰتَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَؕ﴿122﴾
ہم نے انھیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کی اور آخرت میں تو وہ یقینا صالحین میں سے ہوں گےثُمَّ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ﴿123﴾
پھر ہم نے آپ کی طرف وحی کی کہ یکسو رہنے والے ابراہیم کی ملت کی اتباع کرو اور وہ مشرک نہ تھےاِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ﴿124﴾
اور رہا سبت (ہفتہ) کا قصہ تو وہ صرف ان لوگوں پر مسلط کیا گیا جنہوں نے اس بارے میں اختلاف کیا تھا۔ آپ کا پروردگار قیامت کے دن یقینا ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں یہ اختلاف کیا کرتے تھےاُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ﴿125﴾
(اے نبی) ! آپ (لوگوں کو) اپنے پروردگار کے راستہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دیجئے اور ان سے ایسے طریقہ سے مباحثہ کیجئے جو بہترین ہو۔ بلاشبہ آپ کا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک چکا ہے اور وہ راہ راست پر چلنے والوں کو بھی خوب جانتا ہےوَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ﴿126﴾
اور اگر تمہیں بدلہ لینا ہو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنی تم پر زیادتی ہوئی اور اگر برداشت کر جاؤ تو صبر کرنے والوں کے لئے یہی بات بہتر ہےوَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ﴿127﴾
آپ صبر کیجئے اور آپ کا صبر اللہ (ہی کی توفیق) سے ہے اور ان لوگوں کے متعلق رنجیدہ نہ ہوں اور نہ ان کی چال بازیوں پر تنگی محسوس کریںاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۠ع﴿128﴾
بلاشبہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرتے ہیں اور جو اچھے کام کرتے ہیں