21. Al-Anbiyaaالأنبياء
The Prophets · Meccan · 112 ayahs · 7 rukus · مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ﴿1﴾
لوگوں کے حساب کا وقت قریب آپہنچا ہے جبکہ وہ ابھی تک غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں۔مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ﴿2﴾
جب بھی ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے سن تو لیتے ہیں مگر کھیل میں پڑے رہتے ہیں (اس میں غور نہیں کرتے)لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ﴿3﴾
ان کے دل تو اور باتوں میں منہمک ہیں اور یہ ظالم خفیہ مشورے کرتے ہیں کہ : کیا یہ تمہارے جیسا بشر ہی نہیں، پھر تو دیکھتے بھالتے (اس کے) جادو میں کیوں پھنستے ہو ؟قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿4﴾
رسول نے کہا کہ : آسمان اور زمین میں جو بات بھی ہو رہی ہو میرا پروردگار اسے خوب جانتا ہے کیونکہ وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ﴿5﴾
بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن کی آیات) پراگندہ خواب ہیں، بلکہ یہ اس کی اپنی خود ساختہ چیز ہے، بلکہ یہ شاعر ہے، ورنہ اسے ہمارے پاس کوئی ایسا معجزہ لانا چاہئے جیسا کہ پہلے رسول معجزات دے کر بھیجے گئے تھے۔مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ﴿6﴾
حالانکہ جس بستی کو بھی ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لائی تھی۔ تو یا اب یہ ایمان لائیں گے ؟وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴿7﴾
اور (اے نبی) آپ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے، وہ سب مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ لہذا اگر تم لوگ یہ بات نہیں جانتے تو اہل الذکر (اہل کتاب) سے پوچھ لو۔وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ﴿8﴾
ہم نے ان (رسولوں کے) جسم ایسے نہیں بنائے تھے جو کھانا نہ کھاتے ہوں اور وہ ہمیشہ رہنے والے بھی نہ تھے۔ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ﴿9﴾
پھر ہم نے ان رسولوں سے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کردیا۔ ہم نے انھیں بھی بچا لیا اور جس جس کو ہم نے چاہا اسے بھی اور حد سے آگے بڑھنے والوں کو ہلاک کردیا۔لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ع﴿10﴾
(لوگو) ! ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں۔وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ﴿11﴾
کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جن کے رہنے والا ظالم تھے تو انھیں ہم نے پیس کے رکھ دیا اور ان کے بعد دوسرے لوگ پیدا کردیئے۔فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ﴿12﴾
پھر جب ان کو ہمارا عذاب محسوس ہوا تو لگے وہاں سے بھاگنے۔لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ﴿13﴾
(ہم نے کہا) بھاگو نہیں بلکہ اپنے مکانوں اور اس عیش و عشرت کے سامان کی طرف لوٹ آؤ جس سے تم مزے اڑا رہے تھے شاید تم سے (حقیقت حال کے متعلق) سوال کیا جائے۔قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ﴿14﴾
وہ کہنے لگے ہائے افسوس ! ہم ہی خطا کار تھے۔فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ﴿15﴾
وہ یہی پکارتے رہے تاآنکہ ہم نے کٹی ہوئی کھیتی کی طرح بنادیا اور وہ بجھ کر وہیں ڈھیر ہوگئے۔وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ﴿16﴾
اور ہم نے آسمان، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے انھیں محض کھیل کے طور پر نہیں پیدا کیا۔لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ﴿17﴾
اگر ہمارا مقصود کھیل ہی ہوتا تو اگر ہم چاہتے تو اپنے ہاں ہی ایسا کرسکتے تھے۔بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ﴿18﴾
بلکہ (۔۔) ہم باطل پر حق کی ضرب لگاتے ہیں تو حق باطل کا بھیجا نکال دیتا ہے اور باطل شکست کھا کر بھاگ اٹھتا ہے اور تمہارے لئے ہلاکت ہے ان باتوں کی وجہ سے جو تم بیان کرتے ہو۔وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ﴿19﴾
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور جو مخلوق (فرشتے) اس کے حضور میں ہیں وہ اس کی بندگی سے اکڑتے نہیں اور نہ ہی وہ اکتاتے ہیں۔یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ﴿20﴾
وہ دن رات اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور کبھی دم نہیں لیتے۔اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ﴿21﴾
کیا انہوں نے زمین میں ایسے الٰہ بنا رکھے ہیں جو انھیں (عذاب الٰہی سے مرجانے کے بعد) زندہ اٹھا کریں گے ؟لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ﴿22﴾
اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہوتے تو زمین و آسمان کا نظام درہم برہم ہوجاتا، لہذا جو کچھ یہ لوگ بیان کرتے ہیں ان سے اللہ پاک ہے جو عرش کا مالک ہے۔لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ﴿23﴾
جو کچھ وہ کرتا ہے اس سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا البتہ ان سے ضرور باز پرس ہوگی۔اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ﴿24﴾
کیا انہوں نے اللہ کے علاوہ دوسرے الٰہ بنا رکھے ہیں ؟ آپ ان سے کہئے : اس پر اپنی کوئی دلیل تو لاؤ یہ ذکر (قرآن) ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے جو میرے ساتھ ہیں اور یہ ذکر (تورات و انجیل وغیرہ) ان لوگوں کے لئے بھی جو مجھ سے پہلے تھے۔ مگر ان میں سے اکثر حق بات کو جانتے نہیں لہذا اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ﴿25﴾
اور آپ سے پہلے ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس کی طرف یہی وحی کرتے رہے کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ لہذا صرف میری ہی عبادت کرووَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ﴿26﴾
(مشرکین) کہتے ہیں کہ رحمن کا اولاد ہے۔ اللہ ایسی باتوں سے پاک ہے، بلکہ وہ تو اس کے معزز بندے ہیں۔لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ﴿27﴾
وہ اس کے حضور بڑھ کر نہیں بولتے بس اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ﴿28﴾
اللہ ان بندوں کے سامنے کے (ظاہری) احوال کو بھی جانتا ہے اور پوشیدہ احوال کو بھی۔ اور وہ صرف اسی کے حق میں سفارش کرسکیں گے جس کے لئے اللہ راضی ہو اور وہ ہمیشہ اس کے خوف سے ڈرتے رہتے ہیں۔وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ع﴿29﴾
اور ان میں سے جو شخص یہ کہے کہ : اللہ کے علاوہ بھی الٰہ ہوں اسے ہم جہنم کی سزا دیں گے اور ہم ظالموں کے ایسے ہی سزا دیتے ہیں۔اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ﴿30﴾
کیا کافروں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ آسمان اور زمین آپس میں گڈ مڈ تھے پھر ہم نے انھیں الگ الگ کیا اور ہر جاندار چیز کو پانی سے زندگی بخشی کیا پھر بھی یہ لوگ (اللہ تعالیٰ کے کے خلاقی) پر ایمان نہیں لاتے ؟وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ﴿31﴾
اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ وہ انھیں لے کر ہچکولے نہ کھائے۔ نیز اس میں کشادہ راہیں بنادیں تاکہ لوگ راستہ معلوم کرلیں۔وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ﴿32﴾
اور آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا۔ پھر بھی یہ لوگ اللہ کی نشانیوں کی طرف توجہ نہیں کرتے۔وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ﴿33﴾
وہی تو ہے جس نے رات اور دن، اور سورج اور چاند کو پیدا کیا یہ سب (سیارے اپنے اپنے) مدار میں تیر رہے ہیں۔وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ﴿34﴾
(اے نبی) آپ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کے لئے دائمی زندگی تو نہیں رکھی، اگر آپ مرجائیں تو کیا یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے ؟كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ﴿35﴾
ہر جاندار کو موت کا مزا چکھنا ہے اور ہم تو تمہیں اچھے اور برے حالات (دونوں طرح) سے آزماتے ہیں اور بالاخر تمہیں ہماری طرف لوٹنا ہے۔وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ﴿36﴾
اور جب کافر آپ کو دیکھتے ہیں تو بس مذاق ہی اڑاتے ہیں (کہتے ہیں) کیا یہی وہ شخص ہو جو تمہارے معبودوں کا ذکر کیا کرتا ہے ؟ جبکہ وہ خود رحمن کے ذکر کے منکر ہیں۔خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ﴿37﴾
انسان جلد باز مخلوق ہے عنقریب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھلا دوں گا لہذا جلدی کا مطالبہ نہ کرو۔وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿38﴾
نیز وہ (مسلمانوں سے) کہتے ہیں : اگر تم سچے ہو تو وعدہ (عذاب) کب پورا ہوگا۔لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ﴿39﴾
کاش یہ کافر لوگ اس وقت کا علم رکھتے جب وہ آگ سے نہ تو اپنے چہروں کو بچا سکیں گے اور نہ اپنی پشتوں کو اور نہ ہی انھیں کہیں سے مدد مل سکے گی۔بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ﴿40﴾
بلکہ وہ عذاب یکدم ان پر آپہنچے گا جو ان کے اوسان خطا کردے گا پھر نہ تو یہ اسے دفع کرسکیں گے اور نہ ہی انھیں کچھ مہلت ملے گا۔وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ع﴿41﴾
(اے نبی) آپ سے پہلے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا جاچکا ہے۔ مگر ان کا مذاق اڑانے والے اسی چیز میں خود گھر گئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ﴿42﴾
آپ ان سے پوچھئے : کون ہے جو رات اور دن میں رحمن (کے عذاب) سے تمہاری حفاظت کرتا ہے ؟ بلکہ یہ لوگ تو اپنے پروردگار کے ذکر تک سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ﴿43﴾
کیا ان کے کچھ ایسے الٰہ ہیں جو ہمارے مقابلہ میں ان کو بچا سکیں ؟ وہ تو خود اپنی بھی مدد نہیں کرسکتے اور نہ انھیں ہماری تائید حاصل ہے۔بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ﴿44﴾
بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہم نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو طویل مدت تک سامان زیست سے فائدہ پہنچایا۔ کیا یہ دیکھتے نہیں کہ ہم ان کی زمین کو مختلف سمتوں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں۔ پھر کیا یہی غالب رہیں گے۔قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ﴿45﴾
آپ ان سے کہئے کہ : میں تو وحی کے ذریعہ ہی تمہیں ڈراتا ہوں۔ مگر جنہیں ڈرایا جائے وہ بہرے ہوں تو وہ پکار کو نہیں سن سکتے۔وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ﴿46﴾
اور اگر انھیں تیرے پروردگار کے عذاب کی ایک لپٹ بھی چھو جائے تو فوراً بول اٹھیں۔ افسوس ! یقینا ہم ہی ظالم تھے۔وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ﴿47﴾
اور ہم روز قیامت انصاف کے ترازو رکھیں گے اور کسی کی کچھ بھی حق تلفی نہ ہوگی اور اگر کسی کا رائی کے دانہ برابر بھی عمل ہوگا تو وہ بھی سامنے لائیں گے اور حساب کرنے کو ہم کافی ہیں۔وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ﴿48﴾
اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ اور ہارون کو جو کتاب (تورات) دی تھی وہ (حق و باطل میں) فرق کرنے والا تھی اور ایسے پرہیزگاروں کے لئے روشنی اور نصیحت تھی۔الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ﴿49﴾
جو اپنے پروردگار سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور وہ روز قیامت سے ڈرتے رہتے ہیں۔وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ع﴿50﴾
اور یہ (قرآن) بھی ایسی ہی بابرکت نصیحت ہے جسے ہم نے اتارا ہے۔ پھر کیا تم اس سے انکار کرتے ہو ؟وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ﴿51﴾
اور اس سے بھی پہلے ہم نے ابراہیم کو ہوشمندی بخشی تھی اور ہم اس (کے حال) سے خوب واقف تھے۔اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ﴿52﴾
جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ : یہ مورتیاں کیا ہیں جن کے آگے تم بندگی کے لئے بیٹھے رہتے ہو ؟قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ﴿53﴾
وہ کہنے لگے : ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ان کی عبادت کرتے ہی پایا ہےقَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿54﴾
(حضرت) ابراہیم نے کہا : پھر تو تم بھی اور تمہارے آباء و اجداد بھی کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہوقَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ﴿55﴾
وہ کہنے لگے : کیا تو ہمارے پاس کوئی سچی بات لایا ہے یا ویسے ہی دل لگی کر رہا ہےقَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ﴿56﴾
اس نے جواب دیا : دل لگی نہیں بلکہ سچی بات یہی ہے کہ تمہارا پروردگار وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے جس نے انھیں پیدا کیا اور میں اس بات پر گواہی دیتا ہوں۔وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ﴿57﴾
اور اللہ کی قسم ! میں تمہارے چلے جانے کے بعد تمہارے تینوں سے ضرور دو دو ہاتھ کروں گا۔فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ﴿58﴾
چناچہ بڑے بت کو چھوڑ کر باقی سب بتوں کو ابراہیم نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا تاکہ وہ اس (بڑے بت) کی طرف رجوع کریں۔قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ﴿59﴾
وہ کہنے لگے : ہمارے معبودوں کا یہ حال کس نے کردیا ؟ بلاشبہ وہ بڑا ظالم ہے۔قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ﴿60﴾
(بعض) لوگ کہنے لگے : ہم نے ایک نوجوان کو ان بتوں کا ذکر کرتے سنا تھا جس کا نام ابراہیم ہے۔قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ﴿61﴾
وہ کہنے لگے : پھر اسے لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ وہ دیکھ لیں (کہ ہم اس سے کیا کرتے ہیں)قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ﴿62﴾
(جب ابراہیم آگئے تو) انہوں نے پوچھا : ابراہیم ! ہمارے معبودوں سے یہ کارستانی تم نے کی ہے ؟قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ﴿63﴾
ابراہیم نے جواب دیا : نہیں بلکہ ان پر بڑے (بت) نے ہی یہ کچھ کیا ہوگا۔ لہذا انھیں (ٹوٹے ہوئے بتوں) سے ہی پوچھ لو۔ اگر بولتے ہوں ؟فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ﴿64﴾
پھر انہوں نے اپنے دل میں سوچا تو (دل میں) کہنے لگے : ظالم تو تم خود ہو۔ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ﴿65﴾
پھر لا جواب ہو کر شرم کے مارے سرنگوں ہوگئے۔ اور کہنے لگے (یہ تو تمہیں معلوم ہی ہے کہ یہ (بت) بولتے نہیں۔قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ﴿66﴾
(اس پر) ابراہیم نے کہا : پھر کیا تم ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں کچھ فائدہ دے سکیں اور نہ نقصان پہنچا سکیں۔اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿67﴾
تف ہے تم پر اور ان پر بھی جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔ کیا تم ذرا بھی نہیں سوچتے ؟قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ﴿68﴾
وہ بولے : اگر تمہیں کچھ کرنا ہے تو ابراہیم کو جلا ڈالو اور (اس طرح) اپنے معبودوں کی امداد کروقُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ﴿69﴾
ہم نے آگ کو حکم دیا : اے آگ ! تو ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جاوَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ﴿70﴾
وہ تو چاہتے تھے کہ ابراہیم کو دکھ پہنچائیں مگر ہم نے انھیں ہی امتحان میں ڈال دیا۔وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ﴿71﴾
اور ہم ابراہیم اور لوط کو ان سے بچا کر اس سرزمین (شام) کی طرف لے گئے جس میں نے اہل عالم کے لئے برکتیں رکھی ہیں۔وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ﴿72﴾
پھر ہم نے ابراہیم کو اسحاق عطا کیا اور یعقوب اس پر مزید۔ ان میں سے ہر ایک کو ہم نے صالح بنایا تھا۔وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ﴿73﴾
نیز ہم نے انھیں پیشوا بنادیا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیک اعمال کرنے، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی کی اور وہ سب ہمارے عبادت گزار تھے۔وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ﴿74﴾
اور لوط کو ہم نے حکمت اور علم عطا کیا اور اس بستی سے نجات دی جس کے رہنے والے گندے کام کرتے تھے۔ بلاشبہ وہ بہت برے اور نافرمان لوگ تھے۔وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠ع﴿75﴾
اور لوط کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کرلیا۔ کیونکہ وہ بڑے صالح بندے تھے۔وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ﴿76﴾
اور نوح کو بھی (انہی رحمت میں داخل کیا) جبکہ ان سب سے پہلے انہوں نے (ہمیں) پکارا تو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انھیں اور ان کے گھر والوں کو شدید بےچینی سے نجات دیوَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ﴿77﴾
اور ان لوگوں کے خلاف ان کی مدد کی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا۔ وہ لوگ بھی بہت برے تھے لہذا ہم نے ان سب کو غرق کردیا۔وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ﴿78﴾
اور داؤد اور سلیمان کو بھی (یہی نعمت دی تھی) جب وہ ایک کھیتی کے بارے میں فیصلہ کر رہے تھے جس کچھ لوگوں کی بکریاں اجاڑ گئی تھیں اور جب وہ فیصلہ کر رہے تھے تو ہم انھیں دیکھ رہے تھے۔فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ﴿79﴾
اس وقت ہم نے سلیمان کو صحیح فیصلہ سمجھا دیا جبکہ ہم نے قوت فیصلہ اور علم دونوں کو عطا کیا تھا اور داؤد کے ساتھ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا کہ وہ ان کے ہمراہ تسبیح کیا کریں اور یہ تسخیر ہم ہی کرنے والے تھے۔وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ﴿80﴾
اور ہم نے داؤد کو تمہارے (فائدہ کے) لئے زرہ بنانے کی صنعت سکھلا دی تھی تاکہ تمہیں لڑائی کی زد سے بچائے۔ پھر کیا تم شکرگزار بنتے ہو ؟وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ﴿81﴾
نیز ہم نے سلیمان کے لئے تند و تیز ہوا کو مسخر کردیا تھا جو اس کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی ہے اور ہم ہر چیز کو خوب جانتے ہیں۔وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ﴿82﴾
شیطانوں کو بھی اس کے تابع بنادیا تھا جو اس کے لئے (سمندر میں موتی، جواہرات نکالنے کے لئے) غوطہ لگاتے اور اس کے علاوہ اور بھی کئی کام کرتے تھے اور ہم ہی ان سب کے محافظ تھے۔وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ﴿83﴾
اور یہی نعمت ہم نے ایوب کو بھی دی تھی جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا : مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہےفَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ﴿84﴾
چناچہ ہم نے ان کی دعا قبول کی اور جو بیماری انھیں لگی تھی اسے دور کردیا۔ اور انھیں ہم نے صرف اس کے اہل و عیال ہی نہ دیئے بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیئے اور یہ ہماری طرف سے خاص رحمت تھی اور (اس میں بھی) عبادت گزاروں کے لئے ایک سبق تھا۔وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ﴿85﴾
اور اسمٰعیل، ادریس اور ذوالکفل کو بھی نعمت دی تھی اور یہ سب بڑے صابر تھے۔وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿86﴾
اور ان سب کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا۔ بلاشبہ یہ صالح بندے تھے۔وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ﴿87﴾
اور مچھلی والے (یونس) کو بھی ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا جب وہ غصہ سے بھرے ہوئے (بستی چھوڑ کر) چلا گئے انھیں یہ گمان تھا کہ ہم ان پر گرفت نہ کرسکیں گے، پھر انہوں نے اندھیروں میں پکارا کہ : تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں تو پاک ہے میں ہی قصور وار تھا۔فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ﴿88﴾
تب ہم نے ان کی دعا کو قبول کیا اور انھیں اس غم سے نجات دی اور ہم اسی طرح ایمان رکھنے والوں کو نجات دیا کرتے ہیں۔وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ﴿89﴾
اور زکریا کو بھی، جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا : اے میرے پروردگار ! مجھے تنہا نہ چھوڑنا اور بہترین وارث تو تو ہی ہےفَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ﴿90﴾
سو ان کی بھی ہم نے دعا قبول کی اور انھیں یحییٰ عطا کیا اور ان کی بیوی کو اولاد کے قابل بنادیا یہ سب لوگ بھلائی کے کاموں کے طرف لپکتے تھے اور ہمیں شوق اور خوف سے پکارتے تھے اور یہ سب ہمارے آگے جھک جانے والے تھے۔وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ﴿91﴾
اور اس عورت کو بھی، جنہوں نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی۔ پھر ہم نے اپنی روح سے ان کے اندر پھونکا اور انھیں اور ان کے بیٹے کو تمام اہل عالم کے لئے ایک نشانی بنادیا۔اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ﴿92﴾
یہ (انبیاء کی جماعت) ہی تمہاری امت ہے جو ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری ہی عبادت کرو۔وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ع﴿93﴾
اور لوگوں نے اپنے (دین کے) معاملہ کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا مگر ہر ایک کو ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہےفَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ﴿94﴾
پھر جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن ہو۔ تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں ہوگی اور ہم اس (کے ہر عمل) کو لکھتے جارہے ہیں۔وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ﴿95﴾
اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا ہو اس کے لئے ممکن نہیں کہ وہ (ہمارے پاس) لوٹ کر نہ آئیں (بلکہ انھیں آنا پڑے گا)حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ﴿96﴾
یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے نیچے کو دوڑتے آئیں گے۔وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ﴿97﴾
اور سچا وعدہ (قیامت) نزدیک آجائے گا تو اس وقت کافروں کی آنکھیں یکایک پتھرا جائیں گی (اور وہ کہیں گے) افسوس ! ہم تو اس (سچے وعدہ) سے غفلت میں ہی پڑے رہے بلکہ ہم خطا کار تھے۔اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ﴿98﴾
اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم بھی اور جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے رہے سب جہنم کا ایندھن ہیں۔ وہی تم کو جانا ہے۔ (لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿99﴾
اگر یہ (معبود) واقعی الٰہ ہوتے تو کبھی جہنم میں نہ جاتے ان سب کو ہمیشہ جہنم میں رہنا ہوگا۔لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ﴿100﴾
وہ وہاں اس طرح پھنکاریں گے کہ اس میں اور کوئی آواز نہ سن سکیں گے۔اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ﴿101﴾
بلاشبہ جن لوگوں کے لئے ہمارے طرف سے پہلے ہی بھلائی مقدر ہوچکی ہے وہ دوزخ سے دور رکھے جائیں گے۔لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ﴿102﴾
وہ اس کی آہٹ تک نہ سنیں گے اور وہ اپنی دل پسند نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ﴿103﴾
یہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت انھیں غمگین نہیں کرے گا اور فرشتے آگے بڑھ کر ان سے ملیں گے (اور کہیں گے) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا تھا۔یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ﴿104﴾
اس دن ہم آسمان کو یوں لپیٹ دیں گے جے سے تحریروں کا طرہ لپیٹ دیا جاتا ہے۔ جس طرح ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتداء کی تھی اسی طرح اس کا اعادہ کریں گے۔ یہ ہمارے ذمہ ایک وعدہ ہے اور ہم یہ کرکے رہیں گےوَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ﴿105﴾
اور زبور میں ہم نے نصیحت کے بعد یہ لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ﴿106﴾
بلاشبہ اس (ارشاد الٰہی) میں عبادت گزاروں کے لئے ایک بڑی خبر ہے۔وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ﴿107﴾
اور ہم نے آپ کو تمام دنیا والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ﴿108﴾
آپ ان سے کہہ دیجئے کہ : میری طرف جو وحی کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے۔ پھر کیا تم سر تسلیم خم کرتے ہو ؟فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ﴿109﴾
پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو ان سے کہئے کہ : میں نے تم سب کو علی الاعلان خبردار کردیا ہے۔ اور میں نہیں جانتا کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ نزدیک ہے یا دور۔اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ﴿110﴾
اللہ تعالیٰ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو باواز بلند کی جاتی ہیں اور وہ بھی جنہیں تم چھپا کر کرتے ہو۔وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ﴿111﴾
اور میں نہیں جانتا کہ شاید یہ (عذاب میں تاخیر) تمہارے لئے ایک فتنہ ہو اور تمہیں ایک معینہ مدت تک مزے اڑانے کا موقع دیا جاتا ہے۔قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ع﴿112﴾
(آخر کار) پیغمبر نے کہا : اے میرے پروردگار ! حق کے ساتھ فیصلہ کردے۔ اور لوگو ! جو کچھ تم بیان کرتے ہو اس کے مقابلہ میں ہمارا پروردگار رحمن ہی ہے جس سے مدد طلب کی جاسکتی ہے