25. Al-Furqaanالفرقان

The Criterion · Meccan · 77 ayahs · 6 rukus · مولانا عبد الرحمٰن کیلانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ﴿1﴾

    متبرک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان (قرآن) نازل کیا تاکہ وہ کل اہل عالم کے لئے (برے انجام سے) ڈرانے والا بن جائے۔
  2. اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا﴿2﴾

    وہی ذات جو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک ہے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا اور نہ ہی اس کی حکومت میں کوئی شریک ہے۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا تو اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کیا
  3. وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا﴿3﴾

    اور (لوگوں نے) اللہ کے سوا کئی اور الٰہ بنا ڈالے جو کوئی چیز پیدا تو کیا خاک کریں گے وہ تو خود پیدا کئے گئے ہیں، انھیں خود اپنے نفع و نقصان کا بھی کچھ اختیار نہیں اور نہ ہی انھیں کسی کو مارنے، زندہ کرنے اور مردہ کو اٹھا سکنے کا کچھ اختیار ہے۔
  4. وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ﴿4﴾

    کافر لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) تو محض جھوٹ ہے جسے اس نے خود بنا ڈالا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس کام میں اس کی مدد کی ہے۔ کتنا بڑا جھوٹ اور ظلم ہے جس پر یہ لوگ اتر آئے ہیں۔
  5. وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا﴿5﴾

    نیز وہ کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کی داستانیں ہیں جنہیں اس نے نقل کرالیا ہے سو وہی داستانیں صبح و شام اس کے پاس پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔
  6. قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴿6﴾

    آپ ان سے کہئے کہ قرآن کو اس ذات نے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین کے بھید جانتا ہے اور وہ یقینا بہت بخشنے والا، رحم والا ہے۔
  7. وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ﴿7﴾

    نیز کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا جو اس کے ساتھ رہتا اور لوگوں کو ڈرایا کرتا
  8. اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا﴿8﴾

    اس پر کوئی خزانہ ہی اتار دیا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہی ہوتا، جس سے یہ (اطمینان کی) روزی کھا سکتا۔ اور ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک جادو شدہ آدمی کے پیچھے لگ گئے ہو
  9. اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ع﴿9﴾

    اے نبی ! غور کیجئے یہ لوگ آپ کے لئے کس طرح کی مثالیں بیان کرتے ہیں۔ یہ ایسے گمراہ ہوئے ہیں کہ راہ راست پر آ ہی نہیں سکتے۔
  10. تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا﴿10﴾

    وہ بڑی برکت والی ذات ہے۔ وہ چاہے تو آپ کو ان چیزوں سے بھی بہتر چیزیں دے سکتا ہے (ایک نہیں) کئی باغ جن میں نہریں جاری ہوں اور کئی محل دے سکتا ہے۔
  11. بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ﴿11﴾

    لیکن بات یہ نہیں بلکہ یہ لوگ دراصل قیامت تک جھٹلا رہے ہیں اور جو قیامت کو جھٹلائے ہم نے اس کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے۔
  12. اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا﴿12﴾

    جب وہ دور سے انھیں (اپنے شکار کو) دیکھے گی تو یہ اس کے جوش و خروش کی آوازیں خود ہی سن لیں گے
  13. وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ﴿13﴾

    اور جب اس میں دست و پابستہ ایک تنگ جگہ سے پھینکے جائیں گے تو اس وقت موت کو پکاریں گے۔
  14. لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا﴿14﴾

    (اس وقت انھیں کہا جائے گا) آج ایک نہیں بہت سی موتوں کو پکارو۔
  15. قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا﴿15﴾

    آپ ان پوچھئے : کیا یہ انجام اچھا ہے یا ہمیشہ کی جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے جو ان کے عملوں کا بدلہ اور ان کی آخری منزل ہوگی۔
  16. لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا﴿16﴾

    وہاں انھیں جو کچھ چاہیں گے ملے گا وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہ تمہارے پروردگار کے ذمہ ایسا وعدہ ہے جو۔۔۔ کیا جاسکتا ہے
  17. وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ﴿17﴾

    اور جس دن اللہ تعالیٰ انھیں اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں اکٹھا کرے گا تو ان معبودوں سے سوال کرے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود ہی راہ سے بہک گئے تھے ؟
  18. قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا﴿18﴾

    وہ کہیں گے : تیری ذات پاک ہے ہماری مجال نہ تھی کہ تیرے سوا کسی کو کارساز بناتے مگر تو نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو خوب سامان زیست دیا۔ یہاں تک کہ وہ تیری یاد کو بھول گئے اور یہ لوگ تھے ہی ہلاک ہونے کے قابل۔
  19. فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا﴿19﴾

    گویا (اے کافرو) ! جو تم آج کہتے ہو، اس دن تمہارے معبود تمہیں جھٹلا دیں گے۔ پھر نہ تم (عذاب کو) ٹال سکو گے اور نہ تمہیں کہیں سے مدد مل سکے گی۔ اور جو بھی تم سے ظلم کر رہا ہے اسے ہم سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے۔
  20. وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ع﴿20﴾

    اور (اے نبی) ! ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے وہ سب کھانا کھاتے اور بازروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اور ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لئے آزمائش کا ذریعہ بنادیا ہے۔ تو کیا (اے مسلمانو) ! تم کفار کے (طعن وتشنیع پر) صبر کرو گے ؟ اور آپ کا پروردگار سب کچھ دیکھ رہا ہے۔
  21. وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا﴿21﴾

    اور جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں، ہم پر فرشتے کیوں نہیں اترے یا ہم ہی اپنے پروردگار کو (آنکھوں سے) دیکھ لیں ؟ یہ اپنے دل میں بہت بڑے بن بیٹھے ہیں اور بہت بری سرکشی میں مبتلا ہوچکے ہیں۔
  22. یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا﴿22﴾

    جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں وہ دن ایسے مجرموں کے لئے کوئی خوشی کا دن نہ ہوگا اور وہ پکار اٹھیں گے کہ ہم تو تم سے پناہ مانگتے ہیں
  23. وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا﴿23﴾

    اور جو کچھ انہوں نے کیا دھرا ہوگا ہم ادھر توجہ کریں گے تو اسے اڑتا ہوا غبار بنادیں گے۔
  24. اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا﴿24﴾

    اس دن اہل جنت کا ہی ٹھکانا اور دوپہر کو آرام کرنے کا مقام بہتر ہوگا۔
  25. وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا﴿25﴾

    اس دن آسمان کو چیرتے ہوئے ایک بادل نمودار ہوگا اور فرشتوں کو پرے کے پرے اتار دیئے جائیں گے
  26. اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا﴿26﴾

    اس دن حقیقی بادشاہی رحمٰن کی ہوگی اور یہ دن کافروں کے لئے بڑا سخت دن ہوگا۔
  27. وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا﴿27﴾

    اس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا اور کہے گا : کاش ! میں نے رسول کے ساتھ ہی اپنی روشن اختیار کی ہوتی۔
  28. یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا﴿28﴾

    کاش ! میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔
  29. لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا﴿29﴾

    اس نے تو میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد مجھے بہکا دیا اور شیطان تو انسان کو مصیبت پڑنے پر چھوڑ جانے والا ہے۔
  30. وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا﴿30﴾

    اور رسول اللہ کہیں گے : پروردگار ! میری قوم کے یہی لوگ ہیں جنہوں نے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنا رکھا تھا۔
  31. وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا﴿31﴾

    اسی طرح (اے نبی) ! ہم نے مجرموں کو ہر نبی کا دشمن کا بنایا ہے اور آپ کا پروردگار رہنمائی کرنے اور مدد دینے کو کافی ہے۔
  32. وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا﴿32﴾

    کافر (یہ بھی) کہتے ہیں کہ : یہ سارا قرآن یکبارگی ہی رسول پر کیوں نہ اتار دیا گیا ؟ بات ایسی ہی ہے اور یہ اس لئے کہ ہم آپ کی ڈھارس بندھاتے جائیں اور اس لیے بھی کہ ہم آپ کو (ایک خاص ترتیب اور وقفوں سے) پڑھ کر سناتے جائیں
  33. وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ﴿33﴾

    اور اس لئے بھی کہ جب بھی یہ کافر آپ کے پاس کوئی مثال (اعتراض) لائیں تو اس کا ٹھیک اور برجستہ جواب اور بہترین توجیہ ہم نے آپ کو بتلا دیں۔
  34. اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ع﴿34﴾

    ایسے لوگ اوندھے منہ جہنم کی طرف لائے جائیں گے، ان کا ٹھکانا بہت برا ہے اور یہی سب سے زیادہ گمراہ ہیں۔
  35. وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ﴿35﴾

    اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو مددگار بنادیا
  36. فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ﴿36﴾

    اور ان سے کہا : اس قوم کی طرف جاؤ، جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے بالاخر ہم نے انھیں تہس نہس کردیا۔
  37. وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ﴿37﴾

    اور نوح کی قوم نے جب رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے انھیں غرق کردیا اور انھیں تمام لوگوں کے لئے ایک نشانی بنادیا۔ علاوہ ازیں ہم نے ایسے ظالموں کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
  38. وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا﴿38﴾

    اور (اسی طرح) قوم عاد، قوم ثمود، کنوئیں والے اور درمیانی پشتوں میں سے بہت سے لوگ (تباہ کردیئے گئے۔
  39. وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا﴿39﴾

    ان میں ہر ایک کے لئے ہم نے (پہلے تباہ شدہ قوموں کی) مثالیں بیان کرکے سمجھایا آخر ان سب کا نام و نشان تک مٹا دیا
  40. وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا﴿40﴾

    اور اس بستی پر تو ان کا گزر ہوچکا ہے جس پر بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ کیا انہوں نے اس بستی کا حال نہ دیکھا ہوگا ؟ لیکن (اصل معاملہ یہ ہے کہ) یہ لوگ موت کے بعد دوسری زندگی کی توقع ہی نہیں رکھتے۔
  41. وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا﴿41﴾

    اور جب یہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے مذاق سے سوا انھیں کچھ سوجھتا ہی نہیں (کہتے ہیں) کیا یہی وہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟
  42. اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا﴿42﴾

    اگر ہم اپنے معبودوں کی عقیدت پر ڈٹے نہ رہتے تو یہ تو ہمیں ان سے برگشتہ کرکے چھوڑتا جلد ہی انھیں معلوم ہوجائے گا جب یہ عذاب دیکھیں گے کہ کون راہ سے بھٹکا ہوا تھا۔
  43. اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ﴿43﴾

    بھلا آپ نے اس شخص کے حال پر غور کیا جس نے اپنی خواہش کو ہی الٰہ بنا رکھا ہے ؟ ایسے شخص کو (راہ راست پر لانے) کے آپ ذمہ دار بن سکتے ہیں ؟
  44. اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ع﴿44﴾

    یا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں اکثر سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو مویشیوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔
  45. اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ﴿45﴾

    آپ دیکھتے نہیں کہ تمہارا پروردگار ! کسی طرح سایہ پھیلا دیتا ہے اگر وہ چاہتا تو اسے وہیں ساکن ہی رہنے دیتا پھر ہم نے سورج کو اس پر رہنمائی کرنے والا بنادیا۔
  46. ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا﴿46﴾

    پھر (جیسے جیسے سورج بلند ہوتا جاتا ہے) ہم اس سائے کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹتے جاتے ہیں۔
  47. وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا﴿47﴾

    اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات کو لباس، نیند کو آرام اور دن کو جی اٹھنے کا وقت بنایا ہے۔
  48. وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ﴿48﴾

    اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت (بارش) سے پیشتر ہواؤں کو بشارت بناکر بھیجتا ہے اور ہم نے ہی آسمان سے صاف ستھرا پانی اتارا ہے۔
  49. لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا﴿49﴾

    تاکہ ہم اس پانی سے مردہ علاقے کو زندہ کردیں اور اپنی مخلوق میں سے بہت سے جانوروں کو انسانوں کو سیراب کریں۔
  50. وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا﴿50﴾

    ہم نے یہ بات مختلف طریقوں سے ان کے سامنے بیان کی ہے تاکہ وہ کچھ سبق حاصل کریں۔ لیکن اکثر لوگ کے سوا کوئی اور بات تسلیم ہی نہیں کرتے
  51. وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ﴿51﴾

    اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرانے والا (پیغمبر) بھیج دیتے۔
  52. فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا﴿52﴾

    لہٰذا آپ کافروں کا بات نہ مانئے اور اس قرآن کی ہدایات کے مطابق ان سے زبردست جہاد کیجئے۔
  53. وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا﴿53﴾

    اور وہی تو ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے جن میں سے ایک کا پانی لذیذ و شیریں ہے اور دوسرے کا کھاری کڑوا۔ پھر ان کے درمیان ایک پردہ اور سخت روک کھڑی کردی ہے۔
  54. وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا﴿54﴾

    اور وہی ہے جس نے پانی (نطفہ) سے انسان کو پیدا کیا پھر (میاں بیوی) سے نسب اور سسرال کا سلسلہ چلایا اور آپ کا پروردگار بڑی ہی قدرت والا ہے۔
  55. وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا﴿55﴾

    یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو پوجتے ہیں جو نہ انھیں کچھ فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان۔ اور کافر اپنے پروردگار کے مقابلہ پر (باغی کا) مددگار بنا ہوا ہے۔
  56. وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا﴿56﴾

    اور (اے نبی) ہم نے تو آپ کو بس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے۔
  57. قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا﴿57﴾

    آپ ان سے کہئے : کہ میں اس (تبلیغ) پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میری اجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے اپنے پروردگار کا راستہ اختیار کرے۔
  58. وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ﴿58﴾

    اور اس ذات پر توکل کیجئے۔ جو (ہمیشہ سے) زندہ ہے اور اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجئے۔ وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کو کافی ہے۔
  59. اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا﴿59﴾

    جس نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کچھ چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر قرار پکڑا وہی رحمن ہے، اس کا حال کسی باخبر سے پوچھ لیجئے۔
  60. وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩۩ع﴿60﴾

    اور جب انھیں کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں کہ رحمن کیا ہوتا ہے ؟ کیا ہم اس کو سجدہ کریں جس کا تو ہمیں حکم دیتا ہے ؟ اور (یہ دعوت) ان کی نفرت میں مزید اضافہ کردیتی ہے۔
  61. تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا﴿61﴾

    بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس (آسمان) میں چراغ (سورج) اور چمکتا ہوا چاند پیدا کیا۔
  62. وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا﴿62﴾

    اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو بار بار ایک دوسرے کے بعد آنے والا بنایا۔ اب جو چاہے اس سے سبق حاصل کرے اور جو چاہے شکرگزار بنے
  63. وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا﴿63﴾

    اور رحمن کے (حقیقی) بندے وہ ہیں جو زمین پر انکساری سے چلتے ہیں اور اگر جاہل ان سے مخاطب ہوں تو بس سلام کہہ کر (کنارہ کش رہتے ہیں)
  64. وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا﴿64﴾

    اور جو اپنے پروردگار کا حضور سجدہ اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں
  65. وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ﴿65﴾

    اور دعا کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! جہنم کے عذاب سے ہمیں بچائے رکھنا، کیونکہ اس کا عذاب ٹلنے والا نہیں۔
  66. اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا﴿66﴾

    بلاشبہ وہ جائے قرار بھی بری ہے اور مقام بھی برا ہے۔
  67. وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا﴿67﴾

    اور جو خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل بلکہ ان کا خرچ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے۔
  68. وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ﴿68﴾

    اور اللہ کے ساتھ کسی اور الٰہ کو نہیں پکارتے نہ ہی اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق قتل کرتے ہیں اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو شخص ایسے کام کرے گا ان کی سزا پاکے رہے گا۔
  69. یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ﴿69﴾

    قیامت کے دن اس کا عذاب دگنا کردیا جائے گا اور ذلیل ہو کر اس میں ہمیشہ کے لئے پڑا رہے گا۔
  70. اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴿70﴾

    ہاں جو شخص توبہ کرلے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
  71. وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا﴿71﴾

    اور جو شخص توبہ کرے اور نیک عمل کرے تو وہ گویا اللہ کی طرف یوں رجوع کرتا ہے جیسا کہ رجوع کرنے کا حق ہے۔
  72. وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا﴿72﴾

    اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب کسی لغو کام پر ان کا گزر ہو تو (شریف آدمیوں کی طرح) وقار سے گزر جاتے ہیں۔
  73. وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا﴿73﴾

    اور جب انھیں اپنے رب کی آیات سے نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے (بلکہ ان کا گہرا اثر قبول کرتے ہیں)
  74. وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا﴿74﴾

    اور جو دعا کرتے ہیں کہ : پروردگار ! ہمیں اپنی بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔
  75. اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ﴿75﴾

    یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے صبر کا بدلہ (بہشت کے) بالا خانوں کی صورت میں پائیں گے، وہاں دعائے حیات اور سلام کے ساتھ ان کا استقبال ہوگا۔
  76. خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا﴿76﴾

    جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے کیا ہی اچھی جائے قرار اور قیام گاہ ہے۔
  77. قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ع﴿77﴾

    (اے نبی ! آپ لوگوں سے) کہہ دیجئے کہ اگر تم اسے نہیں پکارتے تو میرے پروردگار کو تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔ تم تو (حق کو) جھٹلا چکے اب جلد ہی اس کی ایسی سزا پاؤ گے جس سے جان چھڑانا محال ہوگی۔