38. Saadص
The letter Saad · Meccan · 88 ayahs · 5 rukus · مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ﴿1﴾
ص۔ قرآن کی قسم جو سراسر نصیحت ہے۔بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ﴿2﴾
بلکہ یہ کافر ہی تکبر اور مخالفت میں پڑے ہوئے ہیںكَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ﴿3﴾
ان سے پہلے ہم کئی قومیں ہلاک کرچکے ہیں (عذاب کے وقت) انہوں نے چیخ و پکار شروع کردی۔ حالانکہ تب مخلصی کا وقت نہ رہا تھاوَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ﴿4﴾
کافر اس بات پر متعجب ہیں کہ انہی میں سے ایک ڈرانے والا ان کے پاس آیا ہے اور کافر کہنے لگے کہ : یہ تو جادوگر ہے بڑا جھوٹااَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ﴿5﴾
اس نے تو سب خداؤں کو ایک ہی الٰہ بنا ڈالا۔ یہ کیسی عجیب بات ہےوَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ﴿6﴾
اور ان کے سردار چل کھڑے ہوئے (اور کہنے لگے کہ) چلو اور اپنے خداؤں کی عبادت پر ڈٹے رہو۔ یہ بات تو کسی اور ہی ارادہ سے کہی جارہی ہےمَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ﴿7﴾
جو ہم نے زمانہ قریب کے دین میں کبھی نہیں سنی۔ یہ تو بس ایک من گھڑت بات ہے۔ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ﴿8﴾
کیا ہم میں سے یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر ذکر نازل کیا گیا ؟ میرے ذکر کے بارے میں ہی شک میں پڑے ہیں اور یہ اس لیے کہ انہوں نے ابھی تک میرا عذاب نہیں چکھا۔اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ﴿9﴾
یا ان کے پاس آپ کے پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں جو ہر چیز پر غالب اور سب کو عطا کرنے والا ہےاَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ﴿10﴾
یا یہ آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کے مالک ہیں (اگر یہ بات ہے تو) یہ رسیاں تان کر اوپر چڑھ جائیںجُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ﴿11﴾
یہ تو بڑے بڑے لشکروں میں ایک معمولی سا لشکر ہے جو اسی جگہ شکست کھاجائے گا۔كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ﴿12﴾
ان سے پہلے قوم نوح، عاد اور میخوں والا فرعون جھٹلا چکے ہیںوَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ﴿13﴾
نیز ثمود، قوم لوط اور اصحاب ایکہ بھی (جھٹلا چکے) یہ واقعی بڑے لشکر تھے۔اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ع﴿14﴾
ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر میرا عذاب واجب ہوگیاوَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ﴿15﴾
یہ لوگ بس ایک دھماکہ کے منتظر ہیں جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگاوَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ﴿16﴾
اور کہتے ہیں : پروردگار ! ہمیں ہماری چارج شیٹ جلدی کرکے روز حساب سے پہلے ہی دے دےاِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴿17﴾
آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کیجئے۔ بلاشبہ وہ صاحب قوت اور (ہماری طرف) رجوع کرنے والا تھا۔اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ﴿18﴾
ہم نے پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا کہ وہ صبح و شام ان کے ساتھ (مل کر) تسبیح کرتے تھےوَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ﴿19﴾
اور پرندوں کو بھی جو جمع ہوجاتے تھے وہ سب ان کی تسبیح کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے۔وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ﴿20﴾
ہم نے ان کی سلطنت کو مضبوط بنادیا تھا، ہم نے انہیں حکمت عطا کی اور مقدمات کے فیصلہ کی استعداد بخشی تھی۔وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ﴿21﴾
بھلا آپ کے پاس ان مقدمہ والوں کی خبر پہنچی ہے جو دیوار پھاند کر محراب میں جا پہنچے تھے۔اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ﴿22﴾
جب وہ داؤد کے پاس آپہنچے تو وہ انہیں دیکھ کر گھبرا گئے۔ وہ کہنے لگے ڈرو نہیں۔ ہم مقدمہ کے دو فریق ہیں جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے لہذا ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کیجئے۔ اور زیادتی نہ کیجئے اور ہمیں سیدھی راہ بتائیے۔اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ﴿23﴾
یہ میرا بھائی ہے۔ اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دنبی ہے۔ اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی مجھے دے دے اور گفتگو میں بھی اس نے مجھے دبا لیا ہے۔قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩۩﴿24﴾
داؤد نے جواب دیا کہ اس شخص نے تیری دنبی کو اپنی دنبیوں میں ملانے کے لئے اس کا سوال کرکے تجھ پر ظلم کیا ہے۔ اور اکثر خلیط ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہی رہتے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایماندار ہوں اور نیک عمل کرتے ہوں اور ایسے لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ اب داؤد کو خیال آیا کہ (اس مقدمہ سے) دراصل ہم نے اس کی آزمائش کی ہے۔ چناچہ انہوں نے اپنے پروردگار سے معافی مانگی اور رکوع میں گرگئے اور اس کی طرف رجوع کیا۔فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ﴿25﴾
تب ہم نے ان کی یہ غلطی معاف کردی اور ہمارے ہاں یقینا اسے بڑا قرب ملے گا اور اچھی باز گشت ہوگییٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ع﴿26﴾
(ہم نے ان سے کہا) اے داؤد ! ہم نے تمہیں زمین میں نائب بنایا ہے لہذا لوگوں میں انصاف سے فیصلہ کرنا اور خواہش نفس کی پیروی نہ کرنا ورنہ یہ بات تمہیں اللہ کی راہ سے بہکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بہک جاتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے کیونکہ وہ روز حساب کو بھول گئے۔وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ﴿27﴾
اور ہم نے آسمان، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے یہ چیزیں فضول ہی پیدا نہیں کردیں۔ یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جو کافر ہیں اور ایسے کافروں کے لئے دوزخ کی آگ سے ہلاکت ہےاَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ﴿28﴾
کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان لوگوں کی طرح کردیں گے جو زمین میں فساد کرتے پھرتے ہیں ؟ یا ہم پرہیزگاروں اور بدکاروں کو یکساں کردیں ؟كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ﴿29﴾
جو کتاب ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے بڑی برکت والی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور اہل عقل و دانش اس سے سبق حاصل کریں۔وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ﴿30﴾
اور داؤد کو ہم نے سلیمان عطا کیا۔ وہ بہت اچھا بندہ اور (اپنے پروردگار کی طرف) بکثرت رجوع کرنے والا تھا۔اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ﴿31﴾
جب پچھلے پہر ان کے سامنے عمدہ نسل کے تیز رفتار گھوڑے پیش کئے گئےفَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ﴿32﴾
تو کہا : میں نے اس مال کو اپنے پروردگار کی یاد کی بنا پر پسند کیا ہے۔ حتیٰ کہ وہ رسالہ آپ کے سامنے سے اوجھل ہوگیا۔رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ﴿33﴾
(آپ نے حکم دیا کہ) کہ ان گھوڑوں کو میرے پاس واپس لاؤ تو آپ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ﴿34﴾
نیز ہم نے سلیمان کو آزمائش میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک جسد لا کر ڈال دیا پھر اس نے رجوع کرلیاقَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ﴿35﴾
آپ نے کہا : اے میرے پر ورگار : مجھے معاف کر دے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے شایاں نہ ہو، بلاشبہ تو ہی سب کچھ عطا کرنے والا ہے۔فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ﴿36﴾
چناچہ ہم نے ہوا کو ان کے تابع کردیا۔ جہاں آپ کو پہنچنا ہوتا وہ آپ کے حکم پر نرمی کے ساتھ چلتی تھی۔وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ﴿37﴾
اور شیطان بھی مسخر کردیئے تھے جو سب معمار اور غوطہ زن تھے۔وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ﴿38﴾
اور کچھ دوسرے جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھےهٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ﴿39﴾
(ہم نے ان سے کہا) یہ ہماری بخشش ہے۔ اب کسی پر احسان کرو یا اپنے پاس رکھو، کوئی حساب نہیں۔وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ع﴿40﴾
بلاشبہ انہیں ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ﴿41﴾
اور ہمارے بندے ایوب کا ذکر کیجئے۔ جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ : شیطان نے مجھے سخت تکلیف اور عذاب میں ڈال دیا ہےاُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ﴿42﴾
(تو ہم نے انہیں حکم دیا کہ) اپنا پاؤں (زمین پر) مارو۔ یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے کے لیے اور پینے کے لیےوَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ﴿43﴾
اور ہم نے انہیں ان کے اہل و عیال عطا کئے اور اپنی مہربانی سے ان کے ساتھ اتنے اور بھی دیئے اور یہ اہل عقل و خرد کے لئے ایک نصیحت ہے۔وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴿44﴾
اور (ہم نے انہیں کہا کہ) اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا لے، اس سے مار لو اور قسم نہ توڑ۔ ہم نے ایوب کو صابر پایا، بہترین بندے جو ہر وقت (اپنے پروردگار کی طرف) رجوع کرنے والے ہیں۔وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ﴿45﴾
اور ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو یاد کیجئے جو بڑی قوت عمل رکھنے والے اور صاحبان بصیرت تھے۔اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ﴿46﴾
ہم نے انہیں ایک خاص صفت کی بنا پر برگزیدہ کیا تھا وہ دارآخرت کی یاد تھی۔وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ﴿47﴾
ہمارے ہاں وہ یقینا نیک اور برگزیدہ لوگوں میں سے تھے۔وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ﴿48﴾
اور اسمٰعیل، الیسع اور ذوالکفل کا بھی ذکر کیجئے۔ ان میں سے ہر ایک نیک تھا۔هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ﴿49﴾
یہ تو ان کا ذکر ہے (جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سب) پرہیزگاروں کے لئے اچھا ٹھکانہ ہے۔جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ﴿50﴾
(یعنی) ہمیشہ رہنے والے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گےمُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ﴿51﴾
وہ ان میں تکیہ لگائے ہوں گے اور وہاں بہت سے لذیذ میوے اور مشروب طلب کریں گے۔وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ﴿52﴾
نیز ان کے پاس نگاہیں جھکائے رکھنے والی ہم عمر بیویاں بھی ہوں گی۔هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ﴿53﴾
یہ وہ چیزیں ہیں جن کا روز حساب کے لئے تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ﴿54﴾
بلاشبہ یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ﴿55﴾
یہ (تو تھا پرہیزگاروں کا انجام) اور سرکشوں کے لئے بہت برا ٹھکانا ہوگاجَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ﴿56﴾
یعنی دوزخ، جس میں وہ داخل ہوں گے جو بہت بری جگہ ہے۔هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ﴿57﴾
یہ ہے ان کا انجام اب وہ مزا چکھیں کھولتے ہوئے پانی کا اور پیپ کاوَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ﴿58﴾
اور ایسی ہی کئی قسم کی دوسری چیزوں کاهٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴿59﴾
(دیکھو) یہ ایک اور لشکر (تمہارے پیرو وں کا) تمہارے ساتھ گھسا چلا آرہا ہے انہیں کوئی خوش آمدید نہیں یہ بھی دوزخ میں آرہے ہیںقَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ﴿60﴾
(آنے والے پہلوں کو) کہیں گے۔ نہیں بلکہ تمہارے لئے ہی خوش آمدید نہ ہو۔ تم ہی ہمارے لیے اس (عذاب) کے پیش رو بنے جو اتنی بری قرار گاہ ہے۔قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ﴿61﴾
پھر وہ دعا کریں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہمارے لئے جو اس عذاب کا پیش رو بنا اسے دوزخ میں دگنا عذاب دےوَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ﴿62﴾
نیز وہ کہیں گے : کیا بات ہے کہ ہمیں وہ آدمی نظر نہیں آرہے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے۔اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ﴿63﴾
کیا ہم یونہی ان کا مذاق اڑاتے رہے ؟ یا اب ہماری نگاہیں ہی ان سے پھر گئی ہیں ؟اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ع﴿64﴾
یہ بات یقینا سچی ہے کہ دوزخی باہم ایسے ہی جھگڑتے ہوں گےقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ﴿65﴾
آپ ان سے کہئے کہ : میں تو محض ایک ڈرانے والا ہوں : اللہ کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ یکتا ہے اور سب کو دبا کر رکھنے والا ہے۔رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ﴿66﴾
وہ آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے، غالب ہے ، معاف کرنے والا ہےقُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ﴿67﴾
آپ ان سے کہئے کہ : یہ ایک بہت بڑی خبر ہےاَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ﴿68﴾
جس سے تم اعراض کر رہے ہومَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ﴿69﴾
مجھے تو عالم بالا کے متعلق کچھ علم نہ تھا جب وہ جھگڑ رہے تھے۔اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ﴿70﴾
مجھے تو صرف اس لیے وحی کردی جاتی ہے کہ میں کھلا کھلا ڈرانے والا ہوںاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ﴿71﴾
جبکہ آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں مٹی سے ایک انسان بنانے والا ہوںفَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ﴿72﴾
تو جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کردوں اور اس میں اپنی (پیدا کی ہوئی) روح پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا۔فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ﴿73﴾
چناچہ سب فرشتوں نے مل کر اسے سجدہ کیا۔اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ﴿74﴾
سوائے ابلیس کے، جو اکڑ بیٹھا اور کافروں سے ہوگیا۔قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ﴿75﴾
اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا : اے ابلیس ! جس انسان کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کس بات نے روک دیا ؟ کیا تو بڑا بننا چاہتا ہے یا تو ہے ہی اونچا درجہ رکھنے والوں میں سے ؟قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ﴿76﴾
کہنے لگا : میں اس سے بہتر ہوں (کیونکہ) مجھے تو تو نے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سےقَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ﴿77﴾
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : نکل جا یہاں سے یقینا تو مردود ہےوَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ﴿78﴾
اور روز قیامت تک تجھ پر میری لعنت رہے گیقَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ﴿79﴾
وہ کہنے لگا : میرے پروردگار ! پھر مجھے اس وقت تک مہلت دے دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گےقَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ﴿80﴾
فرمایا : اچھا ! تمہیں مہلت دی جاتی ہے۔اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ﴿81﴾
اس دن تک جس کا وقت (مجھے) معلوم ہے۔قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ﴿82﴾
وہ کہنے لگا : تیری عزت کی قسم ! میں سب (انسانوں) کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ﴿83﴾
بجز تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے خالص کرلیا ہے۔قَالَ فَالْحَقُّ١٘ وَ الْحَقَّ اَقُوْلُۚ﴿84﴾
فرمایا : حق بات یہ ہے اور میں حق ہی کہا کرتا ہوںلَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِیْنَ﴿85﴾
کہ میں جہنم کو تجھ سے اور ان سب لوگوں سے بھر دوں گا جو تیری پیروی کریں گےقُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ﴿86﴾
آپ ان سے کہہ دیجئے کہ : میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔ نہ ہی میں تکلف کر (کے نبی بن) رہا ہوںاِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ﴿87﴾
یہ قرآن تو جملہ اہل عالم کے لئے نصیحت ہے۔وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ۠ع﴿88﴾
کچھ مدت بعد تمہیں (خود ہی) اس خبر (کی صداقت) معلوم ہوجائے گی۔