37. As-Saaffaatالصافات
Those drawn up in Ranks · Meccan · 182 ayahs · 5 rukus · مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ﴿1﴾
صف بستہ کھڑا ہونے والوں (فرشتوں) کی قسمفَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ﴿2﴾
پھر ان کی جو ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیںفَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ﴿3﴾
پھر ان کی جو ذکر (قرآن) کی تلاوت کرنے والے ہیںاِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ﴿4﴾
بلاشبہ تمہارا الٰہ ایک ہی ہےرَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ﴿5﴾
جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے اور ان چیزوں کا بھی جو ان دونوں کے درمیان ہیں اور مشرقوں کا بھی پروردگار ہےاِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ﴿6﴾
بلاشبہ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے مزین کیا ہے۔وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ﴿7﴾
اور اسے ہر سرکش شیطان سے محفوظ بنادیا ہےلَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ﴿8﴾
وہ عالم بالا کی باتیں سن ہی نہیں سکتے اور ہر طرف سے ان پر (شہاب) پھینکے جاتے ہیںدُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ﴿9﴾
تاکہ وہ بھاگ کھڑے ہوں اور ان کے لئے پیہم عذاب ہے۔اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ﴿10﴾
تاہم اگر کوئی شیطان کوئی بات لے اڑے تو ایک تیز شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ﴿11﴾
(اے نبی !) آپ ان سے پوچھئے کہ کیا ان کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا جو کچھ ہم پیدا کرچکے ہیں۔ ہم نے انہیں لیسدار گارے سے پیدا کیا ہے۔بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪﴿12﴾
آپ کو تو (اللہ کی ایسی قدرتوں پر) تعجب ہے اور یہ لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیںوَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪﴿13﴾
اور جب سمجھایا جائے تو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪﴿14﴾
اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو تمسخر کرتے ہیں۔وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ﴿15﴾
اور کہتے ہیں کہ : یہ تو صریح جادو ہےءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ﴿16﴾
بھلا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا پھر ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ﴿17﴾
اور کیا ہمارے آباء و اجداد بھی اٹھائے جائیں گے !قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ﴿18﴾
آپ ان سے کہئے : ہاں (ایسا ضرور ہوگا) اور تم بالکل بےبس ہوگے۔فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ﴿19﴾
وہ تو بس ایک ڈانٹ ہوگی جس پر وہ فوراً (سب کچھ) دیکھنے لگیں گےوَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ﴿20﴾
اور کہیں گے : ہائے ہماری بدبختی ! یہ تو جزا و سزا کا دن ہےهٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ع﴿21﴾
(پھر انہیں کہا جائے گا) یہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھےاُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ﴿22﴾
ان ظالموں کو اور ان کے ہم جنسوں کو اور (معبودوں کو) سب کو اکٹھا کرو جس کی یہ اللہ کے سوا عبادت کیا کرتے تھے۔مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ﴿23﴾
پھر انہیں جہنم کی راہ پر چلا دو۔وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ﴿24﴾
اور (دیکھو) انہیں ذرا ٹھہرائے رکھو، ان سے کچھ پوچھا جائے گامَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ﴿25﴾
تمہیں کیا ہوگیا (آج) تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ؟بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ﴿26﴾
بلکہ آج وہ بالکل مطیع و منقاد بن جائیں گے۔وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ﴿27﴾
اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باہم سوال کریں گےقَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ﴿28﴾
(کمزور لوگ بڑوں سے) کہیں گے : تم تو ہمارے پاس دائیں (اور بائیں) سے آتے تھےقَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ﴿29﴾
(بڑے لوگ) کہیں گے۔ (بات یوں نہیں) بلکہ تم خود ہی ایمان لانے والے نہیں تھےوَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ﴿30﴾
اور ہمارا تم پر کچھ زور بھی نہیں تھا بلکہ تم خود سرکش تھے۔فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ﴿31﴾
ہمارے پروردگار کا قول (آج) ہم پر صادق آگیا کہ ہم عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں۔فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ﴿32﴾
ہم نے تمہیں گمراہ کیا کیونکہ ہم خود بھی گمراہ تھے۔فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ﴿33﴾
آج کے دن وہ سب (کمزور اور بڑے لوگ) عذاب میں برابر کے شریک ہوں گےاِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ﴿34﴾
واقعی ہم مجرموں سے ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں۔اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ﴿35﴾
انہیں جب یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو وہ اکڑ بیٹھتے تھے۔وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ﴿36﴾
اور کہتے تھے : کیا ہم ایک دیوانہ شاعر کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ سکتے ہیں ؟بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ﴿37﴾
حالانکہ وہ (رسول) حق لے کر آیا اور اس نے رسولوں کی تصدیق کی تھیاِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ﴿38﴾
(پھر انہیں کہا جائے گا) آج تمہیں یقینا درد ناک عذاب چکھنا پڑے گا۔وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ﴿39﴾
اور تمہیں ایسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے تم کام کرتے رہےاِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ﴿40﴾
مگر اللہ کے مخلص بندے (اس انجام سے محفوظ رہیں گے)اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ﴿41﴾
ان کے لئے ایسا رزق ہوگا جو انہیں معلوم ہے۔فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ﴿42﴾
یعنی لذیذ میوے اور وہ وہاں معزز ہوں گےفِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ﴿43﴾
نعمتوں والے باغات میں،عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ﴿44﴾
ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گےیُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ﴿45﴾
ان کے لئے شراب خالص کے جام کا دور چلے گابَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ﴿46﴾
جو نہایت شفاف اور پینے والوں کے لئے لذیذ ہوگالَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ﴿47﴾
جس سے نہ انہیں سر درد ہوگا اور نہ وہ بدمست ہوں گےوَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ﴿48﴾
ان کے پاس نگاہیں نیچی رکھنے والی اور موٹی موٹی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی۔كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ﴿49﴾
(ایسی نازک) جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جھلّی۔فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ﴿50﴾
یہ لوگ بھی ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گےقَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ﴿51﴾
ان میں سے ایک کہے گا : (دنیا میں) میرا ایک ہم نشین تھایَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ﴿52﴾
جو مجھے کہا کرتا تھا : کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں شامل ہوگیا ؟ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ﴿53﴾
بھلا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا ہمیں سزا و جزا بھگتنا پڑے گی ؟قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ﴿54﴾
پھر کہے گا : کیا تم اس کا حال معلوم کرنا چاہتے ہو ؟فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ﴿55﴾
پھر جب وہ جھانکے گا تو اسے جہنم کے عین درمیان دیکھے گاقَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ﴿56﴾
اور کہے گا : اللہ کی قسم ! تم مجھے ہلاک کرکے ہی چھوڑتےوَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ﴿57﴾
اور اگر مجھ پر میرے اللہ کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی (مجرموں کی طرح) حاضر کئے ہوئے لوگوں میں شامل ہوتا۔اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ﴿58﴾
(پھر وہ خوشی سے اپنے دل میں کہے گا) کیا اب تو ہمیں موت نہیں آئے گی ؟اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ﴿59﴾
ہمیں پہلی بار ہی مرنا تھا (جو مرچکے) اور اب ہمیں عذاب بھی نہیں ہوگااِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ﴿60﴾
یقینا یہ بہت بڑی کامیابی ہےلِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ﴿61﴾
ایسی ہی کامیابی کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنے چاہئیں۔اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ﴿62﴾
(بتاؤ) ایسی مہمانی اچھی ہے یا تھوہر کے درخت کی ؟اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ﴿63﴾
جسے ہم نے ظالموں کے لئے ایک آزمائش بنادیااِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ﴿64﴾
وہ ایسا درخت ہے جو جہنم کی تہ سے نکلتا ہے۔طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ﴿65﴾
اس کے شگوفے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سرفَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ﴿66﴾
(اہل دوزخ) اسی کو کھائیں گے اور اس سے اپنے پیٹ بھریں گےثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ﴿67﴾
پھر اس پر انہیں پینے کو پیپ ملا کھولتا ہوا پانی ملے گاثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ﴿68﴾
پھر انہیں دوزخ کی طرف لوٹنا ہوگااِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَۙ﴿69﴾
انہوں نے اپنے آباء و اجداد کو گمراہ ہی پایافَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ﴿70﴾
تو انہیں کے نقش قدم پر دوڑنے لگےوَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ﴿71﴾
حالانکہ ان سے پہلے بہت سے گزشتہ لوگ گمراہ ہوچکے تھے۔وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ﴿72﴾
بلاشبہ ہم نے ان میں ڈرانے والے بھیجے تھے۔فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ﴿73﴾
پھر دیکھ لو، جنہیں ڈرایا گیا تھا ان کا انجام کیا ہوا۔اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ع﴿74﴾
(ان میں سے) صرف اللہ کے مخلص بندے ہی محفوظ رہے۔وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ﴿75﴾
اور ہمیں نوح نے پکارا تو (دیکھو) ہم کیا خوب دعا قبول کرنے والے ہیںوَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ﴿76﴾
اور انہیں اور ان کے گھر والوں کو شدید بےچینی سے نجات دی۔وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ﴿77﴾
اور صرف انہی کی اولاد کو باقی رکھاوَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ﴿78﴾
اور بعد میں آنے والی نسلوں میں ان کا ذکر خیر چھوڑ دیا۔سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ﴿79﴾
ساری دنیا میں نوح پر سلام ہواِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ﴿80﴾
ہم نیکی کرنے والوں کو ایسے ہی صلہ دیا کرتے ہیںاِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ﴿81﴾
بلاشبہ وہ ہمارے ایماندار بندوں سے تھے۔ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ﴿82﴾
پھر ہم نے باقی لوگوں کو غرق کردیا۔وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ﴿83﴾
اور اسی (نوح) کے پیروؤں میں سے ابراہیم بھی تھےاِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ﴿84﴾
جبکہ وہ اپنے پروردگار کے ہاں صاف دل لے کر آئےاِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ﴿85﴾
جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا : تم کن چیزوں کی عبادت کرتے ہو ؟اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ﴿86﴾
کیا تم اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ موٹ گھڑے ہوئے الٰہ چاہتے ہو ؟فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿87﴾
پھر تمہارا پروردگار عالم کی نسبت کیا خیال ہے ؟فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ﴿88﴾
پھر (ایک دفعہ) انہوں نے ستاروں میں نظر ڈالی۔فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ﴿89﴾
تو کہا کہ میری طبیعت کچھ خراب ہےفَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ﴿90﴾
چناچہ وہ لوگ انہیں پیچھے چھوڑ کر چلے گئےفَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ﴿91﴾
تو ابراہیم چپکے سے ان کے معبودوں کی طرف جاگھ سے اور کہنے لگے : تم کھاتے کیوں نہیں ؟مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ﴿92﴾
تمہیں کیا ہوگیا، تم تو بولتے بھی نہیںفَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ﴿93﴾
پھر ان پر پل پڑے اور دائیں ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیںفَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ﴿94﴾
(واپس آکر انہوں نے جو یہ صورت حال دیکھی) تو دوڑتے ہوئے ابراہیم کے پاس آئےقَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ﴿95﴾
انہوں نے کہا : کیا تم ایسی چیزوں کو پوجتے ہو جنہیں تم خود ہی تراشتے ہووَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ﴿96﴾
حالانکہ اللہ ہی نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور ان چیزوں کو بھی جو تم بناتے ہوقَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ﴿97﴾
وہ کہنے لگے : اس کے لئے ایک الاؤ تیار کرو اور اسے آگ میں پھینک دوفَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ﴿98﴾
انہوں نے تو ابراہیم کے خلاف تدبیر کی تھی۔ مگر ہم نے انہیں ہی نیچا دکھا دیا۔وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ﴿99﴾
نیز ابراہیم نے کہا : میں اپنے پروردگار کی طرف جاتا ہوں وہی میری رہنمائی کرے گارَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿100﴾
اے میرے پروردگار ! مجھے ایک صالح (بیٹا) عطا فرمافَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ﴿101﴾
چناچہ ہم نے انہیں ایک بردبار بیٹے کی بشارت دیفَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ﴿102﴾
پھر جب وہ بیٹا ان کے ہمراہ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک دن) ابراہیم نے کہا : بیٹے ! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں اب بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے ؟ بیٹے نے جواب دیا : ابا جان ! وہی کچھ کیجئے جو آپ کو حکم ہوا ہے آپ انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والا ہی پائیں گےفَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ﴿103﴾
پھر جب دونوں نے سر تسلیم خم کردیا اور ابراہیم نے بیٹے کو پیشانی کے بل گرا دیاوَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ﴿104﴾
تو ہم نے اسے پکارا : ابراہیمقَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ﴿105﴾
تم نے خواب کو سچ کر دکھایا ہم یقینا نیکی کرنے والوں کو ایسے ہی صلہ دیا کرتے ہیںاِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ﴿106﴾
بلاشبہ یہ ایک صریح آزمائش تھی۔وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ﴿107﴾
اور ہم نے ایک بڑی قربانی بطور فدیہ دے کر اسے (بیٹے کو) چھڑا لیاوَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ﴿108﴾
اور پچھلے لوگوں میں اس کا ذکر خیر چھوڑ دیاسَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ﴿109﴾
ابراہیم پر سلام ہوكَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ﴿110﴾
ہم نیکی کرنے والوں کو ایسے ہی بدلہ دیا کرتے ہیںاِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ﴿111﴾
بلاشبہ وہ ہمارے ایماندار بندوں سے تھےوَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿112﴾
اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق کی بشارت دی جو صالح لوگوں میں سے نبی ہوگاوَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ع﴿113﴾
اور ہم نے ابراہیم اور اسحاق دونوں پر برکت نازل کی۔ اور ان دونوں کی نسل میں کچھ تو نیک لوگ ہوئے اور کچھ اپنے آپ پر صریح ظلم کرنے والے تھےوَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَۚ﴿114﴾
نیز ہم نے موسیٰ اور ہارون پر بھی بڑا احسان کیا۔وَ نَجَّیْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ﴿115﴾
اور انہیں اور ان کی قوم کو شدید بےچینی سے نجات دی۔وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَۚ﴿116﴾
اور ان کی مدد کی تو با لآخر وہی غالب ہوئےوَ اٰتَیْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَۚ﴿117﴾
اور انہیں نہایت واضح کتاب دیوَ هَدَیْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۚ﴿118﴾
اور انہیں راہ راست پر چلایاوَ تَرَكْنَا عَلَیْهِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَۙ﴿119﴾
اور ان کا ذکر خیر پچھلی نسلوں میں چھوڑ دیاسَلٰمٌ عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ﴿120﴾
موسیٰ اور ہارون پر سلام ہو۔اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ﴿121﴾
ہم نیکو کاروں کو ایسے ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ﴿122﴾
وہ دونوں ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے۔وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ﴿123﴾
اور الیاس بھی بلاشبہ رسولوں میں سے تھےاِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ﴿124﴾
جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیںاَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ﴿125﴾
تم بعل کو تو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑ دیتے ہو ؟اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ﴿126﴾
اس اللہ کو جو تمہارا اور تمہارے پہلے آباء و اجداد کا پروردگار ہے ؟فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ﴿127﴾
مگر ان لوگوں نے انہیں جھٹلا دیا لہذا وہ سب (عذاب کے لئے) حاضر کئے جائیں گےاِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ﴿128﴾
بجز اللہ کے مخلص بندوں کےوَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ﴿129﴾
اور پچھلی نسلوں میں اس کا ذکر خیر چھوڑ دیاسَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ﴿130﴾
الیاسین پر سلام ہواِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ﴿131﴾
ہم نیکو کاروں کو ایسے ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ﴿132﴾
یقینا وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے۔وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ﴿133﴾
اور لوط بھی بلاشبہ ہمارے رسولوں میں سے تھےاِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ﴿134﴾
جب ہم نے انہیں اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دیاِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ﴿135﴾
سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ﴿136﴾
پھر باقی لوگوں کو ہم نے تباہ کردیاوَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ﴿137﴾
اور تم تو ان (کی اجڑی بستی) پر شب و روز گزرتے ہی رہتے ہو۔وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ع﴿138﴾
پھر کیا تمہیں سمجھ نہیں آتی ؟وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ﴿139﴾
اور یونس بھی بلاشبہ رسولوں سے تھےاِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ﴿140﴾
جب وہ ایک بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگ نکلےفَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ﴿141﴾
پھر قرعہ ڈالا تو انہوں نے زک اٹھائی۔فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ﴿142﴾
چناچہ مچھلی نے انہیں نگل لیا اور وہ ملامت زدہ تھےفَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ﴿143﴾
اب اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتےلَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ﴿144﴾
تو تا روز قیامت مچھلی کے پیٹ میں ہی پڑے رہتےفَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ﴿145﴾
پھر ہم نے انہیں ایک چٹیل میدان میں پھینک دیا جبکہ وہ بیمار تھے۔وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ﴿146﴾
اور ان پر ایک بیل دار درخت اگا دیاوَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ﴿147﴾
اور (اس کے بعد) انہیں ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف بھیجافَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ﴿148﴾
چناچہ وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں کچھ مدت زندگی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا۔فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَۙ﴿149﴾
آپ ان لوگوں سے پوچھئے : کیا آپ کے پروردگار کے لئے تو بیٹیاں ہوں اور ان کے لئے بیٹے ؟اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ﴿150﴾
یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں ہی پیدا کیا تھا اور یہ اس وقت موجود تھے ؟اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَیَقُوْلُوْنَۙ﴿151﴾
یاد رکھو ! یہ لوگ جھوٹ گھڑ کر یہ بات کہتے ہیںوَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ﴿152﴾
کہ اللہ کی اولاد ہے اور یہ لوگ یقینا جھوٹے ہیںاَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِیْنَؕ﴿153﴾
کیا اللہ نے بیٹوں کے بجائے بیٹیوں کو پسند کیا ؟مَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ﴿154﴾
تمہیں کیا ہوگیا۔ یہ تم کیسا فیصلہ کرتے ہو ؟اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَۚ﴿155﴾
کچھ بھی ہوش نہیں کرتے ؟اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌۙ﴿156﴾
یا تمہارے پاس کوئی صریح سند ہے ؟فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿157﴾
اگر تم سچے ہو تو ایسی تحریر لا کر دکھاؤوَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ﴿158﴾
نیز ان لوگوں نے اللہ اور جنوں کے درمیان رشتہ داری بنا ڈالی۔ حالانکہ جن خوب جانتے ہیں کہ وہ (مجرم کی حیثیت سے) پیش کئے جائیں گےسُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ﴿159﴾
اللہ تعالیٰ ان سب باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیںاِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ﴿160﴾
سوائے اللہ کے مخلص بندوں کے (جو ایسے اتہام نہیں لگاتے)فَاِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَۙ﴿161﴾
بلاشبہ وہ اور جن کی تم پوجا کرتے ہومَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ بِفٰتِنِیْنَۙ﴿162﴾
ان (مخلص بندوں) کو اللہ کے خلاف فتنہ میں نہیں ڈال سکتے۔اِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِیْمِ﴿163﴾
سوائے اس کے جو جہنم میں داخل ہونے والا ہو۔وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌۙ﴿164﴾
اور ہم (فرشتوں) میں سے ہر ایک کا ایک معلوم مقام ہےوَّ اِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَۚ﴿165﴾
اور ہم صف بستہ رہنے والےوَ اِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ﴿166﴾
اور تسبیح کرنے والے ہیںوَ اِنْ كَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَۙ﴿167﴾
اور یہ لوگ تو کہا کرتے تھے کہ :لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ﴿168﴾
اگر ہمارے پاس پہلے لوگوں کی کتاب (الٰہی) ہوتیلَكُنَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ﴿169﴾
تو ہم اللہ کے مخلص بندے ہوتےفَكَفَرُوْا بِهٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ﴿170﴾
(اور جب قرآن آگیا) تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ اب جلد ہی انہیں (اس کا نتیجہ) معلوم ہوجائے گاوَ لَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿171﴾
اور ہمارے بندے جو رسول ہیں ان کے حق میں پہلے ہی حکم صادر ہوچکا ہےاِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ۪﴿172﴾
کہ یقینا ان کی مدد کی جائے گیوَ اِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ﴿173﴾
اور یقینا ہمارا لشکر ہی غالب رہے گافَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ﴿174﴾
سو آپ کچھ مدت ان سے اعراض کیجئےوَّ اَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ﴿175﴾
اور انہیں دیکھتے رہئے، یہ خود بھی جلد ہی دیکھ لیں گےاَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ﴿176﴾
کیا یہ ہمارے عذاب کے لئے جلدی مچا رہے ہیں ؟فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَآءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ﴿177﴾
جب وہ عذاب ان کے آنگنوں میں اترے گا تو وہ صبح ان کے لئے بہت بری ہوگی جنہیں ڈرایا گیا ہے۔وَ تَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ﴿178﴾
اور ان سے کچھ مدت اعراض کیجئےوَّ اَبْصِرْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ﴿179﴾
اور دیکھتے رہئے وہ بھی جلد ہی دیکھ لیں گےسُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ﴿180﴾
آپ کا پروردگار جو عزت کا مالک ہے ان باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں۔وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ﴿181﴾
اور رسولوں پر سلام ہووَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ع﴿182﴾
اور سب تعریف اللہ رب العالمین کے لئے (ہی سزاوار) ہے۔