نبوت

نبوت محمد کا ثبوت

ذرا ایک ہزار چارسو برس پیچھے پلٹ کر دیکھو، دنیامیں نہ تار برقی تھی، نہ ٹیلیوفون تھے، نہ ریل تھی، نہ چھاپے خانے تھے، نہ اخبار اور رسالے شائع ہوتے تھے، نہ کتابیں چھپتی تھیں،نہ سفر اور سیاحت کی وہ آسانیاں تھی جو آج کل پائی جاتی ہیں۔ ایک ملک سے دوسرے ملک تک جانے میں مہینوں کی مسافت طے کرنی پڑتی تھی۔ ان حالات میں دنیا کے درمیان عرب کا ملک سب سے الگ تھلگ پڑا ہوا تھا۔ اس کے گرد ایران ، روم، اور مصر کے ملک تھے جن میں کچھ علوم و فنون کا چرچا تھا۔ مگر ریت کے بڑے بڑے سمندروں نے عرب کو ان سب سے جدا کررکھا تھا۔ عرب سوداگر اونٹوں پر مہینوں کی راہ طے کرکے ان ملکوں میں تجارت کے لیے جاتے تھے ۔ مگر یہ تعلق صرف مال کی خرید و فروخت کی حد تک تھا۔ خود عرب میں کوئی اعلیٰ درجہ کا تمدن نہ تھا، نہ کوئی مدرسہ تھا، نہ کوئی کتب خانہ تھا۔ نہ لوگوں میں تعلیم کا چرچا تھا، تمام ملک میں گنتی کے لوگ تھےجن کو کچھ لکھنا پڑھنا آتا تھا۔ مگر وہ بھی اتنا نہیں کہ اس زمانے کے علوم و فنون سے آشنا ہوتے۔ وہاں کوئی باقاعدہ حکومت بھی نہ تھی۔کوئی قانون بھی نہ تھا۔ ہر قبیلہ اپنی جگہ خود مختار تھا۔ آزادی کے ساتھ لوٹ مار ہوتی تھی۔ آئے دن خون ریز لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں۔ آدمی کی جان کوئی قیمت ہی نہ رکھتی تھی۔ جس کا جس پر بس چلتا اسے مارڈالتا اور اس کے مال پر قبضہ کرلیتا۔ اخلاق اور تہذیب کی ان کو ہوا تک نہ لگی تھی۔ بدکاری اور شراب خوری اور جوئے بازی کا بازار گرم تھا۔لوگ ایک دوسرے کے سامنے بے تکلف برہنہ ہوجاتے تھے۔ عورتیں تک خانہ کعبہ میں ننگی ہوکر طواف کرتی تھیں۔ حرام و حلال کی کوئی تمیز نہ تھی۔ عربوں کی آزادی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ کوئی شخص کسی قاعدے ، کسی قانون، کسی ضابطہ کی پابندی کے لیے تیار نہ تھا، نہ کسی حاکم کی اطاعت قبول کرسکتا تھا۔ اس پر جہالت کی یہ کیفیت کہ ساری قوم پتھر کے بتوں کو پوجتی تھی۔ راستہ چلتے کوئی اچھا سا چکنا پتھر مل جاتا تو اسی کو سامنے رکھ کر پرستش کرلیتے تھے۔ یعنی جو گردنیں کسی کے سامنے نہ جھکتی تھیں وہ پتھروں کے سامنے جھک جاتی تھیں، اور یہ سمجھا جاتاتھا کہ یہ پتھر ان کی حاجت روائی کریں گے۔ ایسی قوم اور ایسے حالات میں ایک شخص پیدا ہوتا ہے۔ بچپن ہی میں ماں باپ اور دادا کا سایہ سر سے اٹھ جاتا ہے۔ اس لیے اس گئی گزری حالت میں جو تربیت مل سکتی تھی وہ بھی اس کو نہیں ملتی ہوش سنبھالتا ہے تو عرب لڑکوں کے ساتھ بکریان چرانے لگتا ہے، جوان ہوتا ہے تو سوداگری میں لگ جاتا ہے۔ اٹھنا ، بیٹھنا، ملنا جلنا، سب انہی عربوں کے ساتھ ہے جن کی حالت تم نے اوپر دیکھی ہے۔ تعلیم کا نام تک نہیں حتی کہ پڑھنا بھی نہیں آتا مگر اس کے باوجود اس کی عادتیں، اس کے اخلاق، اس کے خیالات سب سے جدا ہیں۔ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا کسی سے بدکلامی نہیں کرتا، اس کی زبان میں سختی کے بجائے شیرینی ہے۔اور وہ بھی ایسی کہ لوگ اس کے گرویدہ ہوجاتے ہیں۔ وہ کسی کا ایک پیسہ بھی ناجائز طریقہ سے نہیں لیتا۔ اس کی ایمانداری کا حال یہ ہے کہ لوگ اپنے قیمتی مال اس کے پاس حفاظت کے لیے رکھواتے ہیں اور وہ ہر ایک کے مال کی حفاظت اپنی جان کی طرح کرتا ہے۔ ساری قوم اس کی دیانت بھروسہ کرتی ہے۔ اور اسے امین کے سام نے پکارتی ہے، اس کی شرم و حیا کا یہ حال ہے کہ ہوش سنبھالنے کے بعد کسی نے اس کو برہنہ نہیں دیکھا۔ اس کی شائستگی کا یہ حال ہے کہ بدتمیز اور گندے لوگوں میں پلنے اور رہنے کے باوجود ہر بدتمیزی اور ہر گندگی سے نفرت کرتا ہے اور اس کے ہر کام میں صفائی اور ستھرائی پائی جاتی ہے۔ اس کے خیالات اتنے پاکیزیہ ہیں کہ اپنی قوم کو لوٹ مار اور خوں ریزی کرتے دیکھ کر اس کا دل دکھتا ہے اور وہ لڑائیوں کے موقع پر صلح و صفائی کرانے کی کوشش کرتا ہے ۔ دل ایسا نرم ہے کہہ ایک کے دکھ درد میں شریک ہوتا ہے۔ یتیموں اور بیواؤں کی مدد کرتا ہے۔ بھوکوں کو کھانا کھلاتا ہے ۔ مسافروں کی میزبانی کرتا ہے۔ کسی کو اس سے دکھ نہیں پہنچتا، وہ خود دوسروں کی خاطر دکھ اٹھاتا ہے۔ پھر عقل ایسی صحیح ہے کہ بت پرستوں کی اس قوم میں وہ کر بھی وہ بتوں سے نفرت کرتا ہے، کبھی کسی مخلوق کے آگے سر نہیں جھکاتا۔ اس کے اندر سے خود بخود آواز آتی ہے کہ زمین و آسمان میں جتنی چیزیں نظر آتی ہیں، ان میں سے کوئی پوجنے کے لائق نہیں ۔ اس کا دل آپ سے آپ کہتا ہے کہ خدا تو ایک ہی ہوسکتا ہے اور ایک ہی ہے۔ اس جاہل قوم میں یہ شخص ایسا ممتاز نظر آتا ہے ، گویا پتھروں کے ڈھیر میں ایک ہیرا چمک رہا ہے۔ یا گھٹاٹوپ اندھیرے میں ایک شمع روشن ہے۔ چالیس برس کے قریب اس طرح پاک صوف اور اعلی درجہ کی شریفانہ زندگی بسر کرنے کے بعد یہ شخص اس تاریکی سے جو اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی، گھبرا اٹھتا ہے۔ جہالت، بداخلاقی، بدکرداری، بدنظمی اور شرک و بت پرستی کا یہ ہولناک سمندر جو اس کو گھیرے ہوئے تھا اس سے وہ نکل جانا چاہتا ہے کیونکہ یہاں کوئی چیز بھی اس کی طبیعت کے مناسب نہیں۔ آخر وہ آبادی سے دور ایک پہاڑ کے غار میں جا جا کر تنہائی اور سکون کے عالم میں کئی کئی دن گزارنے لگتا ہے۔ فاقے کرکرکے اپنی روح اور اپنے دل و دماغ کو اور زیادہ پاک و صاف کرتا ہے۔ سوچتا ہے، غورفکر کرتا ہےاور کوئی روشنی ڈھونڈتا ہے جس سے وہ اس چاروں طرف پھیلی ہوئی تاریکی کو دور کردے۔ ایسی طاقتور چیز حاصل کرنا چاہتا ہے جس سے وہ اس بگڑی ہوئی دنیا کو توڑ پھوڑ کر پھرسے سنواردے۔ یکا یک اس کی حالت میں ایک عظیم الشان تغیر رونما ہوتا ہے۔ ایک دم سے اس کے دل میں وہ روشنی آجاتی ہے جس کو اس کی فطرت مانگ رہی تھی۔اچانک اس کے اندر وہ طاقت بھرجاتی ہےجس کا ظہور اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ وہ غار کی تنہائی سے نکل آتا ہے۔ اپنی قوم کے پاس آتا ہے۔ اس سے کہتا ہے کہ بت کسی کام کے نہیں ۔ انھیں چھوڑدو۔ یہ زمین ، یہ چاند، یہ سورج ، یہ تارے، یہ زمین و آسمان کی ساری قوتیں ایک خدا کی مخلوق ہیں، وہی تمہارا پیدا کرنے والا ہے۔ وہی رزق دینے والا ہے۔ وہی مارنے اور جلانے والا ہے۔ سب کو چھوڑ کر اسی کو پوجو۔ سب کو چھوڑ کر اسی سے اپنی حاجتیں طلب کرو۔ یہ چوری، یہ لوٹ مار، یہ شراب خوری، یہ جوا، یہ بدکاریاں جو تم کرتے ہو، سب گناہ ہیں، انھیں چھوڑدو۔ خدا انھیں پسند نہیں کرتا۔ سچ بولو، انصاف کرو۔ نہ کسی کی جان لو، نہ کسی کا مال چھینو، جو کچھ لو حق کے ساتھ لو۔ جو کچھ دو حق کے ساتھ دو۔ تم سب انسان ہو، انسان اور انسان سب برابر ہیں، بزرگی اور شرافت انسان کی نسل اور نسب میں نہیں، رنگ و روپ اور مال و دولت میں نہیں، خدا پرستی ، نیکی اور پاکیزگی میں ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا ہے اور نیک اور پاک ہے وہی اعلی درجہ کا انسان ہے اور جو ایسا نہیں وہ کچھ بھی نہیں۔ مرنے کے بعد تم سب کو اپنے خدا کے پاس حاضر ہونا ہے۔ اس عادل حقیقی کے ہاں نہ کوئی سفارش کام آئے گی، نہ رشوت چلے گی، نہ کسی کا نسب پوچھا جائے گا۔ وہاں صرف ایمان اور نیک عمل کی پوچھ ہوگی، جس کے پاس یہ سامان ہوگا، وہ جنت میں جائے گا اور جس کے پاس ان میں سے کچھ نہ ہوگا وہ نامراد دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ جاہل قوم نے اس نیک انسان کو محض اس قصور میں ستانا شروع کیا کہ وہ ایسی باتیں کو برا کیوں کہتا ہے جو باپ دادا کے وقتوں سے ہوتی چلی آرہی ہیں۔ اور ان باتوں کی تعلیم کیوں دیتا ہے جو بزرگوں کے طریقے کے خلاف ہیں۔ اسی قصور میں انھوں نے اسے گالیاں دیں، پتھر مارے، اس کے لیے جینا مشکل کردیا۔ اس کے قتل کی سازشیں کیں۔ ایک دن نہیں دو دن نہیں، اکٹھے تیرہ برس تک سخت سے سخت ظلم توڑے، یہاں تک کہ اسے وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ اور پھر وطن سے نکال کر بھی دم نہ لیا۔ جہاں اس نے پناہ لی تھی وہاں بھی کئی برس تک اس کو پریشان کرتے رہے۔ یہ سب تکلیفیں اس نیک انسان نے کس لیے اٹھائیں؟ صرف اس لیے کہ وہ اپنی قوم کو سیدھا راستہ بتانا چاہتا تھا۔اس کی قوم اسے بادشاہی دینے کے لیے تیار تھی، دولت کے ڈھیر اس کے قدموں میں ڈالنے پر آمادہ تھی۔ بشرطیکہ وہ اپنی تعلیم سے باز آجائے۔ مگر اس نے سب چیزوں کو ٹھکرادیا۔ اور اپنی بات پر قائم رہا۔ کیا اس سے بڑھ کر نیک دلی اور صداقت تمہارے خیال میں آسکتی ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی فائدے کی خاطر نہیں محض دوسروں کے بھلے کی خاطر تکلیفیں اٹھائے؟ وہی لوگ جن کے فائدے کے لیے وہ کوشش کررہا ہے اس کو پتھر سے مارتے ہیں اور وہ ان کے لیے دعائے خیر کرتا ہے۔ انسان تو کیا فرشتے بھی اس نیکی پر قربان جائیں۔ پھر دیکھو، جب یہ شخص اپے غار سے یہ تعلیم لے کر نکلا تو اس میں کتنا بڑا انقلاب ہوگیا۔ اب جو کلام وہ سنارہا تھا، وہ ایسا فصیح و بلیغ تھا کہ کسی نے نہ اس سے پہلے ایسا کلام کہا نہ اس کے بعد کوئی کہہ سکا۔ عرب والوں کو اپنی شاعری ، اپنی خطابت، اپنی فصاحت پر بڑا ناز تھا۔ اس نے عربوں سے کہا کہ تم ایک ہی سورت اس کلام کی مانند بنا لاؤ۔ مگر سب کی گردنیں عاجزی سے جھک گئیں۔ حد یہ ہے کہ خود اس شخص کی عام بول چال اور تقریر کی زبان بھی اتنی اعلی درجہ کی نہ تھی جتنی اس خاص کلام کی تھی۔ چنانچہ آج بھی جب ہم اس کی دوسری تقریروں کا مقابلہ اس کلام سے کرتے ہیں تو دونوں میں نمایاں فرق محسوس ہوتا ہے۔ اس نے، اس ان پڑھ صحرا نشین انسان نے حکمت اور دانائی کی ایسی باتیں کہنی شروع کیں کہ نہ اس سے پہلے کسی انسان نے کہی تھیں ، نہ اس کے بعد آج تک کوئی کہہ سکا۔ نہ چالیس برس کی عمر سے پہلے خود اس کی زبان سے وہ کبھی سنی گئی تھیں۔ اس امی نے اخلاق، معاشرت، معیشت، سیاست، اور انسانی زندگی کے تمام معاملات کے متعلق ایسے قانون بنائے کہ بڑے بڑے عالم اور عاقل برسوں کے غور و خوض اور ساری عمر کے تجربات کے بعد بمشکل ان کی حکمتوں کو سمجھ سکتے ہیں، اور دنیا کے تجربات جتنے بڑھتے جاتے ہیں ان کی حکمتیں اور زیادہ کھلتی جاتی ہیں۔ تیرہ سو برس سے زیادہ مدت گزر چکی ہے مگر آج بھی اس کے بنائے ہوئے قانون میں کسی ترمیم کی گنجائش نظر نہیں آتی۔ دنیا کے قانون ہزاروں مرتبہ بنے اور بگڑے ، ہر آزمائش میں ناکام ہوئے اور ہر بان ان میں ترمیم کرنی پڑی۔ مگر اس صحرا نشین امی نے تن تنہا بغیر کسی دوسرے انسان کی مدد کے جو قانون بنادیے ان کی کوئی ایک دفعہ بھی ایسی نہیں جو اپنی جگہ سے ہٹائی جاسکتی ہو۔ اس نے تیئیس برس کی مدت میں اپنے اخلاق ، اپنی نیکی و شرافت اور اپنی اعلی تعلیم کے زور سے اپنے دشمنوں کو دوست بنایا، اپنے مخالفوں کو موافق بنایا، بڑی بڑی طاقتیں اس کے مقابلہ میں اٹھیں اور آخر شکست کھاکر اس کے قدموں میں آرہیں۔ اس نے جب فتح پائی تو کسی دشمن سے بدلہ نہ لیا۔ کسی پر سختی نہ کی، جنہوں نے اس کے حقیقی چچا کو قتل کیا اور اس کا کلیجہ نکال کر چبا گئے تھے ان کو بھی فتح پاکر اس نے معاف کردیا۔ جنہوں نے اس کے پتھر مارے تھے،اس کو وطن سے نکالا تھا، ان کو فتح پاکر اس نے بخش دیا۔ اس نے کبھی کسی سے دغا نہ کی، عہد کرکے کبھی نہ توڑا، جنگ میں بھی کسی پر زیادتی نہ کی، اس کے سخت سے سخت دشمن بھی کبھی اس پر گناہ یا ظلم کا الزام نہ رکھ سکے۔ یہی نیکی تھی جن نے بالآخر تمام عرب کا دل موہ لیا۔ پھر اس نے اپنی تعلیم و ہدایت سے انہی عربوں کو جن کا حال تم اوپر پڑھ چکے ہو، وحشت اور جہالت سے نکال کر اعلی درجہ کی مہذب قوم بنادیا۔ جو عرب کسی قانون کی پابندی پر تیار نہ تھے، ان کو اس نے ایسا پابند قانون بنادیا کہ دنیا کی تاریخ میں کوئی قوم ایسی پابند قانون نظر نہیں آتی۔ جو عرب کسی کی اطاعت پر آمادہ نہ تھے، اس نے ان کو ایک عظیم الشان سلطنت کا تابع بنادیا۔ جن لوگوں کو اخلاق کی ہوا تک نہ لگی تھی، ان کے اخلاق ایسے پاکیزہ بنادیے کہ آج ان کے حالات پڑھ کر دنیا دنگ رہ جاتی ہے۔ جو عرب اس وقت دنیا کی قوموں میں سب سے زیادہ پست تھے وہ اس تنہا انسان کے اثر سے تیئیس برس کے اندر یکایک ایسے زبردست ہوگئے کہ انھوں نے ایران، روم اور مصر کی عظیم الشان سلطنتوں کے تختے الٹ دیے، دنیا کو تمدن ، تہذیب، اخلاق اور انسانیت کا سبق دیا اور اسلام کی ایک تعلیم اور ایک شریعت کو لے کر ایشیا ، افریقہ اور یورپ کے دور دراز گوشوں تک پھیلتے چلے گئے۔ یہ تو وہ اثرات تھے جو عرب قوم پر ہوئے۔اس سے زیادہ حیرت انگیز اثرات اس امی کی تعلیم سے تمام دنیا پر ہوئے۔ اس نے ساری دنیا کے خیالات، عادات اور قوانین میں انقلاب پیدا کردیا۔ ان کو چھوڑو جنہوں نے اس کو اپنا رہنما ہی مان لیا ہے ۔ مگر حیرت یہ ہے کہ جنہوں نے اس کی پیروی سے انکار کیا، جو اس کے مخالف ہیں، اس کے دشمن ہیں، وہ بھی اس کے اثرات سے نہ بچ سکے۔ دنیا توحید کا سبق بھول گئی تھی۔ اس نے یہ سبق پر سے یاد دلایا اور اپنے زور کے ساتھ اس کا صور پھونکا کہ آج بت پرستوں اور مشرکوں کے مذہب بھی توحید کا دعوی کرنے پر مجبور ہرگئے ہیں۔ اس سے اخلاق کی ایسی زبردست تعلیم دی کہ اس کے بنائے ہوئے اصول تمام دنیا کے اخلاقیات میں پھیل گئے اور پھیلتے چلے جارہے ہیں۔ اس نے قانون اور سیاست اور تہذیب و معاشرت کے جو اصول بتائے وہ ایسے پکے اور سچے اصول تھے کہ مخالفوں نے بھی چپکے چپکے ان کی خوشہ چینی شروع کردی اور آج تک کیے جاہے ہیں۔ جیسا کہ تم کو اوپر بتایا جاچکا ہے، یہ شخص ایک جاہل قوم اور ایک نہایت تاریک ملک میں پیدا ہوا تھا۔چالیس برس کی عمر تک گلہ بانی اور سوداگری کے سوا اس نے کوئی کام نہ کیا تھا، کسی قسم کی تعلیم و تربیت بھی اس نے نہ پائی تھی، مگر غور کرو، چالیس برس کی عمر کو پہنچنے کے بعد کہاں سے اس کے اندر یکایک اتنے کمالات جمع ہوگئے؟ کہاں سے اس کے پاس ایسا علم آگیا ، کہاں سے اس میں یہ طاقت پیدا ہوگئی؟ ایک اکیلا انسان ہے اور ایک ہی وقت میں بے نظیر سپہ سالار بھی ہے، ایک اعلی درجہ کا جج بھی ہے، ایک زبردست مقنن بھی ہے، ایک بے مثل فلاسفر بھی ہے، ایک لاجواب مصلح اخلاق و تمدن بھی ہے، ایک حیرت انگیز ماہر سیاست بھی ہے۔ پھر اتنی مصروفیتوں کے باوجود وہراتوں کو گھنٹوں اپنے خدا کی عبادت بھی کرتا ہے۔ اپنی بیویوں اور بچوں کے حقوق بھی ادا کرتا ہے۔ غریبوں اور مصیبت زدوں کی خدمت بھی کرتا ہے۔ ایک بڑے ملک کی بادشاہی مل جانے پر بھی وہ ایک فقیر کی سی زندگی بسر کرتا ہے۔ بوریے پر سوتا ہے۔ موٹا جھوٹا پہنتا ہے غریبوں کی سی غذا کھاتا ہے۔ بلکہ کبھی کبھی فاقے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ یہ حیرت انگیز کمالات دکھا کر اگر وہ کہتا کہ میں انسان سے بالاتر ہستی ہوں تب بھی کوئی اس کے دعوی ٰکی تردید نہ کرسکتا تھا، مگر جانتے ہو کہ اس نے کیا کہا؟ اس نے یہ نہیں کہا کہ یہ سب میرے اپنے کمالات ہیں۔ اس ہمیشہ یہی کہا کہ میرے پاس کچھ بھی اپنا نہیں، سب کچھ خدا کا ہے اور خدا کی طرف سے ہے۔ میں نے جو کلام پیش کیا ہے، جس کی نظیر لانے سے سب انسان عاجز ہیں، یہ میرا کلام نہیں ہے، نہ میرے دماغ کی قابلیت کا نتیجہ ہے۔ یہ خدا کا کلام ہے اور اس کی ساری تعریف خدا کے لیے ہے۔ میرے جتنے کام ہیں یہ بھی میری اپنی قابلیت سے نہیں ہیں۔ محض خدا کی ہدایت سے ہیں، ادھر سے جو کچھ اشارہ ہوتا ہے وہی کرتا ہوں اور کہتا ہوں۔ اب بتاؤ کہ ایسے سچے انسان کو خدا کا پیغمبر کیسے نہ مانا جائے، اس کے کمالات ایسے ہیں کہ تمام دنیا میں ابتدا سے لے کر آج تک ایک انسان بھی اس کے مانند نہیں ملتا۔ مگر اس کی سچائی ایسی ہے کہ وہ ان کمالات پر فخر نہیں کرتا۔ ان کی تعریف خود حاصل نہیں کرنا چاہتا۔ بلکہ جس نے یہ سب کچھ دیا ہے صاف صاف اسی کا حوالہ دیتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم اس کی تصدیق نہ کریں؟ جب وہ خود اپنی خوبیوں کے متعلق کہتا ہے کہ یہ خدا کی دی ہوئی ہیں۔ تو ہم کیوں کہیں کہ نہیں یہ سب تیرے اپنے دماغ کی پیداوار ہیں؟ جھوٹا آدمی تو دوسروں کی خوبیوں کو بھی اپنی طرف منسوب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ شخص ان خوبیوں کو بھی اپنی طرف منسوب نہیں کرتا جنہیں وہ آسانی کے ساتھ اپنی خوبیاں کہہ سکتا تھا۔ جن کے حاصل ہونے کا ذریعہ کسی کو معلوم بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ جن کی بنا پر اگر وہ انسان سے بالاتر ہونے کا بھی دعویٰ کرتا تو کوئی اس کی تردید نہ کرسکتا تھا، پھر بتاؤ کہ اس سے زیادہ سچا انسان کون ہوگا۔ دیکھو یہ ہیں ہمارے سرکار، تمام جہان کے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ان کی پیغمبری کی دلیل خود ان کی سچائی ہے۔ ان کے عظیم الشان کارنامے، ان کے اخلاق، ان کی پاک زندگی کے واقعات، سب تاریخوں سے ثابت ہیں۔ جو شخص صاف دل سے، حق پسندی اور انصاف کےساتھ ان کو پڑھے گا، اس کا دل خود گواہی دے گا کہ وہ ضرور خدا کے پیغمبر ہیں۔ وہ کلام جو انھوں نے پیش کیا وہ یہی قرآن ہے جسے تو پڑھتے ہو۔ اس بے نظیر کتاب کو جو شخص بھی سمجھ کر کھلے دل سے پڑھے گا، اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ یہ ضرور خدا کی کتاب ہے۔ کوئی انسان ایسی کتاب تصنیف نہیں کرسکتا۔