نبوت

ختم نبوت پر دلائل

پیغمبری کی حقیقت ہم نے تم کو پہلے بتادی ہے، اس کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے سے تم کو خود معلوم ہوجائے گا کہ پیغمبر روز بروز پیدا نہیں ہوتے، نہ یہ ضروری ہے کہ ہر قوم کے لیے ہر وقت ایک پیغمبر ہو۔ پیغمبر کی زندگی دراصل اس کی تعلیم ہدایت کی زندگی ہے۔ جب تک اس کی تعلیم اور ہدایت زندہ ہے، اس وقت تک گویا وہ خود زندہ ہے۔ پچھلے پیغمبر مرگئے، کیونکہ جو تعلیم انھوں نے دی تھی، دنیا نے اس کو بدل ڈالا۔ جو کتابیں وہ لائے تھے، ان میں سے ایک بھی آج اصلی صورت میں موجود نہیں ۔خود ان کے پیرو بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ہمارے پاس پیغمبروں کی دی ہوئی اصلی کتابیں موجود ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغمبروں کی سیرتوں کو بھی بھلادیا۔ پچھلے پیغمبروں میں سے ایک کے بھی صحیح اور معتبر حالات آج کہیں نہیں ملتے۔ یہ بھی یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کس زمانہ میں پیدا ہوئے؟ کہاں پیدا ہوئے؟ کیا کام انھوں نے کیے؟ کس طرح زندگی بسر کی؟ کن باتوں کی تعلیم دی اور کن باتوں سے روکا؟ یہی ان کی موت ہے۔ مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں، کیونکہ ان کی تعلیم و ہدایت زندہ ہے۔ جو قرآن انھوں نے دیا تھا وہ اپنے اصلی الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔ اس میں ایک حرف، ایک نقطہ، ایک زیر و زبر کا بھی فرق نہیں آیا۔ ان کی زندگی کے حالات، ان کے اقوال، ان کے افعال سب کے سب محفوظ ہیں۔ اور تیرہ سو برس سے زیادہ مدت گزر جانے کے بعد بھی تاریخ میں ان کا نقشہ ایسا صاف نظر آتا ہے کہ گویا ہم خود آنحضرت کو دیکھ رہے ہیں۔دنیا کے کسی شخص کی زندگی بھی اتنی محفوظ نہیں جتنی آنحضرت کی زندگی محفوظ ہے۔ ہم اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں ہر وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے سبق لے سکتے ہیں۔ یہی اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت کے بعد کسی دوسرے پیغمبر کی ضرورت نہیں۔ ایک پیغمبر کے بعد دوسرا پیغمبر آنے کی صرف تین وجہیں ہوسکتی ہیں: 1. یا تو پہلے پیغمبر کی تعلیم و ہدایت مٹ گئی ہو اور اس کو پھر پیش کرنے کی ضرورت ہو۔ 2. یا پہلے پیغمبر کی تعلیم مکمل نہ ہو اور اس میں ترمیم یا اضافہ کی ضرورت ہو۔ 3. یا پہلے پیغمبر کی تعلیم ایک خاص قوم تک محدود ہو اور دوسری قوم یا قوموں کے لیے پیغمبر کی ضرورت ہو یہ تینوں وجہیں اب باقی نہیں رہیں۔ 1. حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و ہدایت زندہ ہے اور وہ ذرائع پوری طرح محفوظ ہیں، جن سے ہر وقت یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ حضور کا دین کیا تھا۔ کیا ہدایت لے کے آئے تھے۔ کس طریق زندگی کو آپ نے رائج کیا اور کن طریقوں کو آپ نے مٹانے اور بند کرنے کی کوشش فرمائی۔ پس جب کہ آپ کی تعلیم و ہدایت مٹی ہی نہیں تو اس کو ازسرنو پیش کرنے کے لیے کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ 2. آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے دنیا کو اسلام کی مکمل تعلیم دی جاچکی ہے۔ اب نہ اس میں کچھ گھٹانے بڑھانے کی ضرورت ہے اور نہ کوئی ایسا نقص باقی رہ گیا ہے جس کی تکمیل کے لیے کسی نبی کے آنے کی حاجت ہو۔ لہذا دوسری وجہ دور ہوگئی۔ 3. آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی خاص قوم کے لیے نہیں ، بلکہ تمام دنیا کے لیے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ اور تمام انسانوں کے لیے آپ کی تعلیم کافی ہے۔ لہذا اب کسی خاص قوم کے لیے الگ نبی آنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اس طرح تیسری وجہ بھی دور ہوگئی۔ اسی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ختم النبین کہا گیا ہے، یعنی سلسلۂ نبوت کو ختم کردینے والا۔ اب دنیا کو کسی دوسرے نبی کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ صرف ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر خود چلیں اور دوسروں کو چلائیں۔ آپ کی تعلیمات کو سمجھیں ، ان پر عمل کریں اور دنیا میں اس قانون کی حکومت قائم کریں جس کو لے کر آنحضرت تشریف لائے تھے۔