ایمان اور اطاعت

ایمان کی تعریف

اوپر کے بیان میں جس چیز کو ہم نے علم اور یقین سے تعبیر کیا ہے اسی کا نام ایمان ہے۔ ایمان کے معنی جاننے اور ماننے کے ہیں۔ جو شخص خدا کی وحدانیت اور اس کی حقیقی صفات اور اس کے قانون اور اس کی جزا و سزا کو جانتا ہو اور دل سے اس پر یقین رکھتا ہو اس کو مومن کہتے ہیں۔ اور ایمان کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان مسلم یعنی خدا کا مطیع و فرماں بردار ہوجاتا ہے۔ ایمان کی اس تعریف سے تم خود سمجھ سکتے ہو کہ ایمان کے بغیر کوئی انسان مسلم نہیں ہوسکتا۔ اسلام اور ایمان کا تعلق وہی ہے جو درخت کا تعلق بیج سے ہوتا ہے۔ بیج کے بغیر تو درخت پیدا ہی نہیں ہوتا۔ البتہ ہوسکتا ہے کہ بیج زمین میں بویا جائے مگر زمین خراب ہونے کی وجہ سے، یا آب و ہوا اچھی نہ ملنے کی وجہ سے درخت ناقص نکلےر۔ بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص سرے سے ایمان ہی نہ رکھتا ہو تو یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ وہ “مسلم” ہو۔ البتہ یہ ضرور ممکن ہے کہ کسی شخص کے دل میں ایمان ہو مگر اپنے ارادے کی کمزوری یا ناقص تعلیم و تربیت اور بری صحبت کے اثر سے وہ پورا اور پکا مسلم نہ ہو۔ ایمان اور اسلام کے لحاظ سے تمام انسانوں کے چار درجے ہیں: 1 جو ایمان رکھتے ہیں اور ان کا ایمان انھیں خدا کے احکام کا پورا مطیع بنادیتا ہے۔ جس بات کو خدا ناپسند کرتا ہے، وہ اس سے اس طرح بچتے ہیں جیسے کوئی شخص آگ کو ہاتھ لگانے سے بچتا ہے اور جس بات کو خدا پسند کرتا ہے وہ اس کو ایسے شوق سے کرتے ہیں جیسے کوئی شخص دولت کمانے کے لیے شوق سے کام کرتا ہے۔ 2 جو ایمان تو رکھتے ہیں مگر ان کا ایمان اتنا طاقتور نہیں ہے کہ انھیں پوری طرح خدا کا فرماں بردار بنادے۔ یہ اگرچہ کمتر درجہ کے لوگ ہیں لیکن بہرحال مسلم ہیں۔ یہ اگر نافرمانی کرتے ہیں تو اپنے جرم کے لحاظ سے سزا کے مستحق ہیں۔ مگر ان کی حیثیت مجرم کی ہے، باغی کی نہیں ہے۔اس لیے کہ یہ بادشاہ کو مانتے ہیں اور اس کے قانون کو قانون تسلیم کرتے ہیں۔ 3 وہ جو ایمان نہیں رکھتے مگر بظاہر ایسے عمل کرتے ہیں جو خدائی قانون کے مطابق نظر آتے ہیں۔ یہ دراصل باغی ہیں، ان کا ظاہری نیک عمل حقیقت میں خدا کی اطاعت اور فرماں برداری نہیں ہے۔ اس لیے اس کا کچھ اعتبار نہیں۔ ان کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جو بادشاہ کو بادشاہ نہیں مانتا اور اس کے قانون کو قانون ہی نہیں تسلیم کرتا۔ یہ شخص اگر بظاہر ایسا عمل کررہا ہو جو قانون کے خلاف نہ ہو تو تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ بادشاہ کا وفادار اور اس کے قانون کا پیرو ہے۔ اس کا شمار تو بہرحال باغیوں ہی میں ہوگا۔ 4 وہ جو ایمان بھی نہیں رکھتے اور عمل کے لحاظ سے بھی شریر اور بدکار ہیں۔ یہ سب سے بدتر درجہ کے لوگ ہیں، کیونکہ یہ باغی بھی ہیں اور مفسد بھی۔ انسای طبقہ کی اس تقسیم سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ ایمان ہی پر دراصل انسان کی کامیابی کا انحصار ہے۔ اسلام خواہ وہ کامل ہو یا ناقص ، صرف ایمان کے بیج سے پیدا ہوتا ہے۔ جہاں ایمان نہ ہوگا وہاں ایمان کی جگہ کفر ہوگا۔ جس کے دوسرے معنی خدا سے بغاوت کے ہیں، خواہ وہ بدتر درجہ کی بغاوت ہو یا کم تر درجہ کی ۔