ایمان اور اطاعت
علم حاصل ہونے کا ذریعہ
اطاعت کے لیے ایمان کی ضرورت تو تم کو معلوم ہوگئی۔ اب سوال یہ ہے کہ خدا کی صفات اور اس کے پسندیدہ قانون اور آخرت کی زندگی کے متعلق صحیح علم اور ایسا علم جس پر یقین کیا جاسکے۔ کس ذریعہ سے حاصل ہوسکتا ہے؟
پہلے ہم بیان کرچکے ہیں کہ کائنات میں ہر طرف خدا کی کاریگری کے آثار پھیلے ہوئے ہیں، جو اس بات پر گواہی دے رہے ہیں کہ کارخانے کو ایک ہی کاریگر نے بنایا ہے اور وہی اس کو چلا رہا ہے۔ ان آثار میں اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کے جلوے نظر آتے ہیں۔ اس کی حکمت، اس کا علم، اس کی قدرت، اس کا رحم، اس کی پروردگاری، اس کا قہر، غرض کون سی صفت ہے جس کی شان اس کے کاموں میں نمایاں نہیں ہے۔ مگر انسان کی عقل اور اس کی قابلیت نے ان چیزوں کے دیکھنے اور سمجھنے میں اکثر غلطی کی ہے۔ یہ سب آثار آنکھوں کے سامنے موجود ہیں اور ان کے باوجود کسی نے کہا خدا دو ہیں۔ اور کسی نے کہا کہ تین ہیں ، کسی نے بے شمار خدا مان لیے، کسی نے خدائی کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور کہا ایک بارش کاخدا ہے، ایک ہوا کا خدا ہے، ایک آگ کا خدا ہے غرض ایک ایک قوت کے الگ الگ خدا ہیں اور ایک خدا ان سب کا سردار ہے۔ اس طرح خدا کی ذات و صفات کو سمجھنے میں لوگوں کی عقل نے بہت دھوکے کھائے ہیں جن کی تفصیل کا یہا ں موقع نہیں۔
آخرت کی زندگی کے متعلق بھی لوگوں نے بہت سے غلط خیالات قائم کیے۔ کسی نے کہا کہ انسان مرکر مٹی ہوجائے گا، پھر اس کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ کسی نے کہا کہ انسان بار بار اسی دنیا میں جنم لے گا اور اپنے اعمال کی سزا یا جزا پائے گا۔
خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے جس قانون کی پابندی ضروری ہے اس کو تو خود اپنی عقل سے بنانا اور بھی زیادہ مشکل ہے۔
اگر انسان بہت صحیح عقل رکھتا ہو اور اس کی علمی قابلیت نہایت اعلی درجہ کی ہو، تب بھی سالہا سال کے تجربے اور غور و خوض کے بعد وہ کسی حد تک ان باتوں کے متعلق رائے قائم کرسکے گا اور پھر بھی اس کو کامل یقین نہ ہوگا کہ اس نے پورا پورا حق معلوم کرلیا ہے۔ اگرچہ علم اور عقل کا پورا امتحان تو اسی طرح ہوسکتاتھا کہ انسان کو بغیر کسی ہدایت کے چھوڑ دیا جاتا۔ پھر جو لوگ اپنی کوشش اور قابلیت سے حق اور صداقت تک پہنچ جاتے ، وہی کامیاب ہوتے اور جو نہ پہنچتے وہ ناکام رہتے۔لیکن اللہ تعالی ٰ نے انسانوں کو ایسے سخت امتحان میں نہیں ڈالا۔ اس نے اپنی مہربانی سے خود انسانوں ہی میں سے ایسے انسان پیدا کیے جن کو اپنی صفات کا صحیح علم دیا۔ وہ طریقہ بھی بتایا جس سے انسان دنیا میں خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرسکتا ہے۔ آخرت کی زندگی کے متعلق بھی صحیح واقفیت بخشی اور ان کو ہدایت کی کہ دوسرے انسانوں کو یہ حکم پہنچادیں، یہ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ جس ذریعہ سے خدا نے ان کو علم دیا ہے اس کا نام وحی ہے، اور جس کتاب میں ان کو یہ علم دیا گیا ہے اس کو اللہ کی کتاب اور اللہ کا کلام کہتے ہیں۔ اب انسان کی عقل اور اس کی قابلیت کا امتحان اس میں ہے کہ وہ پیغمبر کی پاک زندگی کو دیکھنے اور اس کی اعلی تعلیم پر غور کرنے کے بعد اس پر ایمان لاتا ہے یہ نہیں۔ اگر وہ حق شناس اور حق پرست ہے تو سچی بات اور سچے انسان کی تعلیم کو مان لے گا اور امتحان میں کامیاب ہوجائے گا۔ اور اگر اس نے نہ مانا تو انکار کے معنی یہی ہوں گے کہ اس نے حق اور صداقت کو سمجھنے اور قبول کرنے کی صلاحیت کھودی ہے۔ یہ انکار اس کو امتحان میں ناکام کردے گا۔ اور خد اور اس کے قانون اور آخرت کی زندگی کے متعلق وہ کبھی کوئی صحیح علم حاصل نہ کرسکے گا۔