صحابۂ کرام ؓ کا اپنے وطن کو چھوڑنا

حضرت جعفر بن ابی طالب اور صحابۂ کرام ؓ کا پہلے حبشہ پھر مدینہ ہجرت کرنا

حضرت محمد بن حاطب ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے خواب میں ایک کھجوروں والی سرزمین دیکھی ہے، تم لوگ وہاں چلے جاؤ۔ چناںچہ حضرت حاطب اور حضرت جعفر ؓ سمندر کے راستے سے روانہ ہوئے۔ حضرت محمد فرماتے ہیں کہ میں اسی کشتی میں پیدا ہوا (جس میں یہ حضرات روانہ ہوئے تھے)۔ 2 حضرت عمیر بن اِسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت جعفر ؓ نے (حضور ﷺ کی خدمت میں) عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے اجازت دیںکہ میں کسی ایسی سر زمین میں چلا جاؤں جہاں میںبے خوف و خطر اللہ کی عبادت کر سکوں۔ حضور ﷺ نے آپ کو اِجازت دے دی اور وہ نجاشی کے پاس چلے گئے۔پھر انھوں نے پوری حدیث ذکر کی جیسے کہ عنقریب آئے گی۔ 3 حضرت اُمّ سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب سر زمینِ مکہ (مسلمانوں پر) تنگ ہوگئی، اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓکو طرح طرح ستایاگیا، اور اُن کو بڑی آزمایشوں میں ڈالا گیا، اور انھوں نے دیکھا کہ دین کی وجہ سے ان پر آزمایش اور مصیبتیں آرہی ہیں، اور یہ بھی دیکھ لیا کہ حضور ﷺ اُن کو ان آزمایشوں اور مصیبتوں سے بچا نہیں سکتے ہیں، اور خود حضور ﷺ اپنی قوم اور اپنے چچاکی وجہ سے حفاظت میں ہیں جس کی وجہ سے حضور ﷺ کو کوئی ناگوار بات پیش نہیں آتی ہے اور نہ آپ کو صحابہ والی تکلیفیں پہنچتی ہیں۔ تو حضور ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ ملک ِحبشہ میں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے ہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتاہے، لہٰذا تم اس کے ملک میں چلے جاؤ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس تنگی سے نجات دے اور جن مصیبتوں میں تم مبتلا ہو ان سے نکلنے کا راستہ بنادے۔ چناںچہ ہم لوگ جماعتیں بن بن کر حبشہ جانے لگے اور وہاں جاکر ہم اِکٹھے ہوگئے اور وہاں رہنے لگے۔ بڑا اچھا علاقہ تھا، وہاں کے لوگ بہترین پڑوسی تھے۔ ہم اطمینان سے اپنے دین پر چلنے لگے۔ وہاں ہمیں کسی قسم کے ظلم کا اندیشہ نہ تھا۔ جب قریش نے یہ دیکھا کہ ہمیں رہنے کو ایک علاقہ مل گیاہے جہاں ہم اَمن سے رہ رہے ہیں تو انھیں یہ بہت برا لگا اور انھیں ہم پر بڑا غصہ آیا۔ اور انھوں نے جمع ہوکر یہ فیصلہ کیا کہ وہ ہمارے بارے میں نجاشی کے پاس ایک وفد بھیجیں گے جو ہمیں نجاشی کے ملک سے نکال کر اُن کے پاس (مکہ) واپس لے آئے۔ چناںچہ انھوں نے عمرو بن عاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ کو بطور وفد بھیجنا طے کیا۔ اور نجاشی اور اس کے جرنیلوںکے لیے بہت سے تحفے جمع کیے اور ان میں سے ہر ایک کے لیے الگ الگ تحفہ تیار کیا۔ اور ان دونوں سے کہا کہ صحابہ کے بارے میں بات کرنے سے پہلے ہر جرنیل کو اس کا تحفہ دے دینا، پھر نجاشی کو اس کے تحفے دینا اورکوشش کرناکہ صحابہ سے نجاشی کی بات ہونے نہ پائے اور پہلے ہی وہ اُن کو تمہارے حوالے کردے۔ چناںچہ وہ دونوں حبشہ نجاشی کے ہاں گئے اور ہر جرنیل کو اس کا تحفہ پیش کیا۔ پھرانھوں نے ہر جرنیل سے یہ بات کی کہ ہم اپنے چند بے وقوفوں کی وجہ سے اس بادشاہ کے پاس آئے ہیں۔ یہ بے وقوف اپنی قوم کا دین چھوڑ چکے ہیں اور تمہارے دین میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔ تو اُن کی قوم نے ہمیں اس لیے بھیجا ہے تاکہ بادشاہ ان لوگوں کو ان کی قوم کے پاس واپس بجھوادے۔ جب ہم بادشاہ سے یہ بات کریں تو تم سب اسے ایساکرنے کا (یعنی واپس بھیجنے کا) مشورہ دینا۔سب نے کہا: ہم ایسا ہی کریں گے۔ پھر انھوں نے جاکر نجاشی کو تحفے پیش کیے۔ اور مکہ والے اسے جو تحفے بھیجتے تھے ان میں سے اسے سب سے زیادہ پسند رنگی ہوئی کھال تھی۔ جب وہ اسے تحفے دے چکے تو انھوں نے نجاشی سے کہاکہ اے بادشاہ! ہمارے چندبے وقوف نوجوانوں نے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیاہے اور آپ کے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہیں اور ایک نیا گھڑا ہوا دین انھوں نے اختیار کیا ہے جسے ہم نہیں جانتے ہیں۔ اور اب انھوں نے تمہارے ملک میں آکر پناہ لے لی ہے۔ اور آپ کی خدمت میںاُن کے بارے میںبات کرنے کے لیے اُن کے خاندان، اُن کے والدین، اُن کے چچا اور اُن کی قوم نے ہم لوگوں کو بھیجا ہے تاکہ اُن کو اُن کی قوم کے پاس واپس بھیج دیں، کیوں کہ اُن کی قوم والے ان کو آپ سے زیادہ جانتے ہیں۔ اور یہ لوگ آپ کے دین میں کبھی بھی داخل نہیںہوں گے کہ آپ اس وجہ سے اُن کی حمایت اور حفاظت کریں۔ (یہ سن کر) نجاشی کو غصہ آگیا اور اس نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں، ایسے نہیں ہوسکتا۔ اور جب تک میں اُن کو بلا کر ان سے بات نہ کرلوں اور ان کے معاملہ میں غور نہ کرلوں اس وقت تک میں انھیں واپس نہیں کرسکتا ہوں۔ (کیوں کہ) انھوں نے میرے ملک میں آکر پناہ لی ہے اور کسی اور کا پڑوس اختیار کرنے کی بجائے انھوں نے میر اپڑوس اختیارکیا ہے۔ اگروہ ایسے ہی نکلے جیسے اُن کی قوم والے کہہ رہے ہیں تو میں انھیں اُن کی قوم کے پاس واپس بھیج دوں گا۔ اور اگر وہ ویسے نہ ہوئے تو میں اُن کی ہر طرح حفاظت کروں گا، اور ان کے اور ان کی قوم کے درمیان نہیں پڑوں گا، (اور اُن کو واپس بھیج کر) اُن کی قوم کی آنکھیں ٹھنڈی نہیں کر وں گا۔ (چناںچہ نجاشی نے مسلمانوں کو بلالیا) جب مسلمان اس کے پاس آئے تو انھوں نے اسے سلام کیا اور سجدہ نہ کیا تو اس نے کہا: اے جماعتِ(مہاجرین!) تم لوگ مجھے یہ بتاؤ کہ جس طرح تمہاری قوم کے آدمیوں نے آکر (سجدہ کرکے) مجھے سلام کیا تم لوگوں نے اس طرح مجھے سلام نہیں کیا؟ اوریہ بھی بتاؤ کہ تم حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ اورتمہارا دین کیا ہے؟ کیا تم عیسائی ہو؟ مسلمانوں نے کہا: نہیں۔ نجاشی نے کہا: کیا تم یہودی ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا تم اپنی قوم کے دین پر ہو ؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: پھر تمہارا دین کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اِسلام۔ اس نے کہا: اِسلام کیاہے؟ انھوںنے کہا: ہم اللہ کی عبادت کرتے ہیں، اس کے ساتھ کسی چیز کوشریک نہیں ٹھہراتے ہیں۔ اس نے کہا: یہ دین تمہارے پاس کون لایا؟ انھوں نے کہا: یہ دین ہمارے پاس ہم میں کا ہی ایک آدمی لے کر آیا ہے جسے ہم اچھی طرح جانتے ہیں، اس کے حسب نسب سے ہم خوب واقف ہیں۔ انھیں اللہ نے ہماری طرف ایسے ہی بھیجا ہے جیسے اللہ نے اور رسولوںکو ہم سے پہلوں کی طرف بھیجا۔ انھوں نے ہمیں نیکی اور صدقہ کرنے کا، وعدہ پورا کرنے، امانت ادا کرنے کا حکم دیا، بتوں کی عبادت سے انھوں نے ہمیں روکا اور اللہ وحدہٗ لاشریک لہٗ کی عبادت کا ہمیں حکم دیا۔ ہم نے انھیں سچا مان لیا اور اللہ کے کلام کو پہچان لیا۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ جو کچھ لائے ہیں وہ سب اللہ کے پاس سے آیا ہے۔ ہمارے ان کاموں کی وجہ سے ہماری قوم ہماری دشمن ہوگئی اور اس سچے نبی کی بھی دشمن بن گئی، اور انھوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کو قتل کرنا چاہا، اور ہم سے بتوں کی عبادت کروانا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے دین اور اپنی جان کو لے کر اپنی قوم سے بھاگ کر آپ کے پاس آئے ہیں۔ نجاشی نے کہا: اللہ کی قسم! یہ بھی اسی نور سے نکلا ہے جس سے موسیٰ ؑ کا دین نکلا تھا۔ حضرت جعفر ؓ نے فرمایا: باقی رہی سلام کرنے کی بات، تورسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایا کہ جنت والوں کا سلام’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ ‘‘ہے، آپ نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ چناںچہ ہم نے آپ کو ویسے ہی سلام کیا جیسے ہم آپس میں کرتے ہیں۔ جہاں تک حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کا تعلق ہے تو وہ اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں، اور وہ اللہ کا وہ کلمہ ہیں جس کو اللہ نے مریم کی طرف اِلقا فرمایا تھا، اور اللہ کی (پیدا کی ہوئی) روح ہیں، اور وہ اس کنواری عورت کے بیٹے ہیں جو الگ تھلگ رہنے والی تھی۔ نجاشی نے ایک تنکا اُٹھا کر کہا: اللہ کی قسم! تم نے جو کچھ بتایاہے حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ اس سے اتنے بھی (یعنی اس تنکے کے برابر بھی) زیادہ نہیں ہیں۔ یہ سن کر حبشہ کے معزّزسرداروں نے کہا:ا للہ کی قسم! اگر حبشہ کے لوگوں نے (تمہاری اس بات کو ) سن لیا تو وہ تمہیں (بادشاہت سے)ہٹا دیں گے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں کبھی بھی اس کے علاوہ اورکچھ نہیں کہوں گا۔ جب اللہ نے میرا ملک مجھے واپس کیا تھا تو اللہ نے میرے بارے میں لوگوں کی بات نہیں مانی تھی، تو اب میں اللہ کے دین کے بارے میں ان لوگوں کی بات کیوں مانوں؟ایسے کام سے اللہ کی پناہ۔1 اِمام احمد نے حضور ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت اُمّ سلمہ ؓ سے لمبی حدیث نقل کی ہے۔اس میں یہ مضمون بھی ہے کہ نجاشی نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ کے پاس آدمی بھیج کراُن کو بلایا۔ جب اس کا قاصد مسلمانوں کے پاس آیا تو وہ سب جمع ہوکر ایک دوسرے سے مشورہ کرنے لگے کہ جب تم اس نجاشی کے پاس جاؤگے تو اس آدمی یعنی حضرت عیسٰی ؑ کے بارے میں کیا کہو گے؟ تو انھوں نے کہا:ہم وہیں کہیں گے جو حضور ﷺ نے ہمیںسکھایا اور جس کا حضور ﷺ نے ہمیں حکم دیا، پھر جو چاہے ہو۔جب یہ حضرات نجا شی کے پاس گئے تو اس نے اپنے بڑے پادریوں کو بلا رکھا تھا اور وہ اپنی کتابیں کھول کر نجاشی کے چاروں طرف بیٹھے ہوئے تھے۔ نجاشی نے ان حضرات سے پوچھا: یہ دین کیا ہے جس کی وجہ سے تم نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا، اور نہ میرے دین میں داخل ہوئے اور نہ موجودہ دینوںمیں سے کسی دین میں؟ حضرت اُمّ سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ نجاشی سے بات کرنے والے حضرت جعفر ؓ تھے۔ انھوں نے فرمایا: اے بادشاہ! ہم لوگ جاہل تھے، بتوں کو پوجتے تھے، مردار کھالیتے تھے، بے حیائی کے کام کرتے تھے اور رشتے ناتوں کو توڑتے تھے، پڑوسی سے برا سلوک کرتے تھے، ہمارا طاقت ور کمزور کو کھا جاتا تھا۔ ہم اس حال میں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے ایک آدمی کو رسول بنا کر ہمارے پاس بھیجاجس کے حسب و نسب کو، سچائی اورامانت داری کو ، اس کی پاک دامنی کو ہم پہلے سے جانتے تھے۔ انھوں نے ہمیں اللہ عزّوجل کی طرف بلایا کہ ہم اسے ایک مانیں اور اسی کی عبادت کریں، ہم اور ہمارے باپ دادا اللہ کے علاو ہ جن پتھروں اور بتوں کی عبادت کرتے تھے ہم انھیں چھوڑ دیں۔ اورانھوں نے ہمیں سچ بولنے، اَمانت اد اکرنے، صلہ رحمی کرنے، پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے، حرام کاموں اور ناحق کے خون بہانے سے رک جانے کا حکم دیا۔ اور ہمیں بے حیائی کے کاموں،جھوٹی گواہی دینے، یتیم کا مال کھا جانے سے اور پاک دامن عورت پر تہمت لگانے سے روکا۔ اور ہمیں اس بات کاحکم دیا کہ ہم اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ اسی طرح حضرت جعفر نے دین کے اور احکام کابھی ذکر کیا۔ ہم نے اُن کی تصدیق کی اور اُن پر ایمان لائے اور جو کچھ وہ لے کر آئے اس میں (اس کی تعمیل میں) ان کا اتباع کیا۔ چناںچہ ہم نے ایک اللہ کی عبادت شروع کردی کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہیں ٹھہراتے ہیں۔ اور اللہ نے ہم پر جو کچھ حرام کیاہم نے اسے حرام سمجھا، اور اس نے جو ہمارے لیے حلال کیا ہم نے اسے حلال سمجھا۔ ہماری قوم نے ہم پر ظلم شروع کردیا۔ انھوں نے ہمیں طرح طرح کے عذاب دیے، اور ہمیں ہمارے دین سے ہٹانے کے لیے ہمیں بڑی آزمایشوں میں ڈالا تاکہ ہم اللہ کی عبادت چھوڑ کر دوبارہ بتوں کی عبادت شروع کردیں اور جن برے کاموں کو ہم پہلے حلال سمجھتے تھے اب پھر ان کاموں کو حلال سمجھنے لگ جائیں۔ جب انھوں نے ہمیںبہت دبایااور ہم پر بڑے ظلم ڈھائے اور ہمیں بڑی مشقتیں اٹھانی پڑیں اور دین پر عمل کرنے میںوہ لوگ رکاوٹ بن گئے تو اے بادشاہ! ہم آپ کے ملک میں آگئے اور دوسروںکوچھوڑکرآپ کاانتخاب کیا اورآپ کے پڑوس میں رہنا پسند کیااور ہمیں اُمید ہے کہ آپ کے ہاں ہم پر ظلم نہیں ہوگا۔ نجاشی نے کہا: تمہارے نبی جو کلام، اللہ کے ہاں سے لے کر آئے ہیں کیا تمہیں اس میںسے کچھ یاد ہے؟ حضرت جعفر نے کہا:ہاں! یاد ہے۔ نجاشی نے ان سے کہا: پڑھ کر سناؤ۔ انھوں نے {کٰہٰیٰعٓصٓ} (سورۂ مریم)کی ابتدائی آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ یہ سن کر نجاشی اتنا رویاکہ اس کی ڈاڑھی تر ہوگئی۔ حضرت جعفر کی تلاوت سن کر نجاشی کے بڑے پادری بھی اتنے روئے کہ اُن کی کتابیں گیلی ہوگئیں۔ پھر نجاشی نے کہا کہ یہ کلام اور وہ کلام جو موسیٰ ؑ لے کر آئے تھے دونوں ایک ہی نور سے نکلے ہوئے ہیں۔ اور (قریش کے دونوں قاصدوں سے) نجاشی نے کہا: تم دونوں یہاں سے چلے جاؤ، میں ان لوگوں کو تمہارے حوالے نہیں کرسکتا بلکہ اسے سوچ بھی نہیں سکتا۔ جب وہ دونوں نجاشی کے دربار سے باہر گئے توعمرو بن عاص نے (اپنے ساتھی سے )کہا: (آج تو بات ہوچکی) اللہ کی قسم! میںکل نجاشی کے پاس جاکر ان مسلمانوں کا ایسا عیب بیان کروں گا جس سے مسلمانوںکی جماعت کی جڑ کٹ جائے گی۔ ان دونوں میں سے عبداللہ بن ابی ربیعہ ہمارے بارے میں ذرا محتاط اور نرم تھے، اس لیے اس نے کہا: ایسے نہ کرو، کیوں کہ اگرچہ یہ ہمارے مخالف ہیں لیکن ہیں تو ہمارے رشتہ دار۔ عمرو بن عاص نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو نجاشی کو ضرور بتاؤں گا کہ یہ مسلمان حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کو (اللہ کا) بندہ سمجھتے ہیں۔ چناںچہ اگلے دن حضرت عمرو بن عاص نے نجاشی کے ہاں جاکر کہا: اے بادشاہ ! یہ مسلمان حضرت عیسٰی بن مریم ؑ کے بارے میں (گستاخی کی) بہت بڑی بات کہتے ہیں ۔ آپ آدمی بھیج کر ان کو بلائیں اور ان سے پوچھیں کہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ چناں چہ نجاشی نے مسلمانوں کے پاس آدمی بھیجا کہ بادشاہ مسلمانوں سے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے۔ حضرت اُمّ سلمہ فرماتی ہیں: ایسی پریشانی ہم پرکبھی نہیں آئی تھی۔ چناںچہ سارے مسلمان جمع ہوئے اور وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: جب نجاشی تم سے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں پوچھے گا تو تم اُن کے بارے میں کیاکہو گے؟ تو مسلمانوں نے طے کیا کہ اللہ کی قسم! ہم وہی کہیں گے جو اُن کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے اورجو ہمارے نبی ﷺ ہمارے پاس لے کر آئے ہیں، (ہم تو سچی بات بتائیں گے) چاہے کچھ ہوجائے۔ چناںچہ جب مسلمان نجاشی کے پاس گئے تو اس نے ان سے کہا: تم لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے نجاشی کو یہ جواب دیا کہ ہم اُن کے بارے میں وہی کہتے ہیں جو ہمارے نبی ﷺ ہمارے پاس لے کر آئے۔ وہ اللہ کے بندے اور اُس کے رسول اور اُس کی (پیدا کردہ) روح ہیں، اور وہ اللہ کا وہ کلمہ ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے کنواری اور مردوں سے الگ تھلگ رہنے والی مریم کی طرف اِلقا فرمایا تھا۔ نجاشی نے اپنا ہاتھ زمین کی طرف بڑھایا اور ایک تنکا اٹھا کر کہنے لگا: اللہ کی قسم! تم نے جو کہا ہے حضرت عیسیٰ ؑ اس سے اس تنکے کے برابر بھی بڑھے ہوئے نہیں ہیں۔ (یہ سن کر) نجاشی کے اِردگرد بیٹھے ہوئے اس کے کمانڈر غصہ میں بڑبڑانے لگے۔ نجاشی نے کہا: چاہے تم کتنا بڑ بڑاؤ، اللہ کی قسم! (بات تو یہی ہے۔ اور پھر مسلمانوں سے کہا:) تم جاؤ، تمہیں ہمارے ملک میں ہر طرح کا اَمن ہے۔جو تمہیں گالی دے گا اسے تاوان دینا پڑے گا، جو تمہیں گالی دے گا اسے تاوان دینا پڑے گا، جو تمہیں گالی دے گا اسے تاوان دینا پڑے گا۔ مجھے یہ بات ہرگز پسند نہیں ہے کہ میں تم میں سے ایک آدمی کو بھی (ذرا سی) تکلیف پہنچاؤں اور مجھے سونے کا ایک پہاڑ مل جائے۔ (اور اپنے آدمیوں سے کہا: ) ان دونوں کے تحفے انھیں واپس کردو، مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! جب اللہ نے میراملک مجھے واپس کیا تھاتو اس نے مجھ سے کوئی رشوت نہیں لی تھی، تو میں اب اللہ کے معاملہ میں کیسے رشوت لے لوں؟ اور اللہ نے میرے بارے میں لوگوں کی بات نہیں مانی تھی تو اب میں اللہ کے بارے میں لوگوں کی بات کیوں مانوں؟ چناںچہ (قریش کے) دونوںقاصد اپنے تحفے لے کر ذلیل و خوار ہو کر اس کے دربار سے باہر آئے اور ہم لوگ اس کے ہاں اطمینان سے رہنے لگے۔ علاقہ بہترین تھا اور وہاںکے لوگ اچھے پڑوسی تھے۔ نجاشی کے حالات ٹھیک چل رہے تھے کہ اچانک ایک دشمن نے اس سے ملک چھیننے کے لیے اس پرچڑھائی کردی۔ اللہ کی قسم! اس وقت جتنا ہمیں غم ہوا اس سے زیادہ غم ہمیں کبھی نہیں ہوا۔ اور وہ اس ڈر کی وجہ سے کہ یہ دشمن کہیں نجاشی پر غالب نہ آجائے، تو پھر ایسا آدمی بادشاہ بن جائے گا جو ہمارے حقوق کو بالکل نہ پہچانتا ہوگا۔ نجاشی تو ہمارے حقوق کوخوب پہچانتا ہے۔ چناںچہ نجاشی (دشمن کے مقابلہ کے لیے) چل پڑا۔ اس کے اور دشمن کے درمیان دریائے نیل پڑتا تھا۔ (نجاشی نے اپنا لشکر لے کر دریائے نیل پار کیا اور وہاں محاذِ جنگ قائم ہوا) حضور ﷺ کے صحابہ ؓ نے آپس میںکہا: کون آدمی ایسا ہے جو اس لڑائی کا حال اپنی آنکھوں سے جا کر دیکھے اور پھر ہمیں آکر ساری خبر بتا دے؟ حضرت زُبیر بن عوّ ام ؓ نے فرمایا: میں تیار ہوں۔ لوگوں نے کہا: ہاں! تم ٹھیک ہو۔ اور وہ صحابہ میں سب سے کم عمر تھے۔چناںچہ مسلمانوں نے (دریائے نیل پار کرنے کے لیے) ایک مشک میں ہوا بھر کر اُن کو دی۔ انھوں نے اپنے سینے سے وہ مشک باندھ لی اور اس پر تیرتے ہوئے دریائے نیل کے اس کنارے پر پہنچ گئے جہاں جنگ ہو رہی تھی۔ پھر کچھ دیر وہ چلے اور پھر وہ لشکر کے پاس پہنچ گئے اور ہم لوگوں نے نجاشی کے لیے اللہ سے دعا کی کہ اللہ اسے دشمن پر غالب فرمائے اور پو رے ملک میں اس کی حکومت کو مضبوط کرے۔ ہم لوگ دعا مانگتے رہے اور جنگ کانتیجہ معلوم کرنے کے منتظر تھے کہ اچانک حضرت زُبیر سامنے سے دوڑتے ہوئے نظر آئے جو کہ کپڑا ہلا کر یہ کہہ رہے تھے کہ تمہیں خوش خبری ہو! نجاشی کامیاب ہوگیا اوراللہ نے اس کے دشمن کو ہلاک کردیا اور اس کی حکومت کو اس کے ملک میں مضبوط کر دیا۔ حضرت اُمّ سلمہؓفرماتی ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ ہمیں کبھی اتنی خوشی ہوئی ہو جتنی ہمیں اس خبر سے ہوئی۔ نجاشی بھی واپس آگیا۔ اللہ نے اس کادشمن ہلاک کر دیا تھا اور اس کی حکومت کو ملک میں مضبوط کر دیااورحبشہ کی سلطنت اس کے حق میں مستحکم ہوگئی تھی۔ چناںچہ ہم اس کے پاس بڑے آرام واطمینان سے رہے۔ پھر ہم لوگ مکہ حضور ﷺ کی خدمت میں واپس آگئے۔1 حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نجاشی کے ہاں بھیجا۔ ہم تقریباً اسّی(۸۰) مردتھے جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت جعفر، حضرت عبداللہ بن عُرفُطَہ، حضرت عثمان بن مَظْعُون اور حضرت ابو موسیٰ ؓبھی تھے۔ یہ حضرات نجاشی کے ہاں پہنچ گئے۔ قریش نے عمرو بن عاص اور عُمارہ بن ولیدکو تحفے دے کربھیجا۔ جب دونوں نجاشی کے دربار میں پہنچے تو دونوں نے اسے سجدہ کیا، اور پھر جلدی سے بڑھ کر اس کے دائیں بائیںبیٹھ گئے، اور اس سے کہا کہ ہمارے کچھ چچا زاد بھائی ہمیں اور ہمارے دین کو چھوڑ کر تمہارے ملک میں آگئے ہیں۔ نجاشی نے کہا: وہ کہاں ہیں؟ دونوں نے کہا: وہ یہاں تمہارے ملک میں (فلاں جگہ) ہیں، آدمی بھیج کر اُن کو بلا لو۔ چناںچہ نجاشی نے مسلمانوں کے پاس بلانے کے لیے آدمی بھیجا۔ حضرت جعفر ؓ نے(اپنے ساتھیوں سے) کہا: آج میں تمہاری طرف سے (بادشاہ کے سامنے)بات کروں گا۔ چناں چہ سارے مسلمان حضرت جعفر کے پیچھے چل پڑے۔ حضرت جعفر نے (دربار میں پہنچ کر) سلام کیا اور سجدہ نہیں کیا۔ لوگوںنے اُن سے کہا: تمہیں کیا ہواتم بادشاہ کو سجدہ نہیںکرتے ہو؟انھوں نے کہا: ہم صرف اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اس کے علاوہ کسی کو نہیں کرتے۔ نجاشی نے کہا: یہ کیا بات ہے؟ حضرت جعفر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول بھیجاجس نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ نہ کریں، اور اس نے ہمیں نماز اور زکوٰۃ کا حکم بھی دیا۔ عمروبن عاص نے نجاشی سے کہا: یہ لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کے بارے میں آپ کے مخالف ہیں۔ تونجاشی نے (حضرت جعفرسے) کہا: تم لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم اور اُن کی والدہ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ حضرت جعفر نے کہا: ہم بھی وہی کہتے ہیں جو اُن کے بارے میں اللہ نے کہا ہے ۔ وہ اللہ کی (پیدا کردہ) رُوح اوراس کا وہ کلمہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کنواری اور مردوں سے الگ تھلگ رہنے والی اس عورت کی طرف اِلقا فرمایا تھا جن کو کسی بشر نے ہاتھ نہیں لگایا، اور نہ (حضرت عیسیٰ ؑکی ولادت سے) اُن کا کنوارا پن ختم ہوا۔ نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھاکر کہا: اے حبشہ والو! اے عیسائی مذہب کے عُلمَا اور پادریو! اے رہبانیت اختیار کرنے والو! ہم حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جو کہتے ہیں یہ مسلمان اس سے اس تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں کہتے ہیں۔ (اورپھر مسلمانوں سے نجاشی نے کہا:) خوش آمدید ہو تمہیں اور اس ذاتِ اَقدس کو جس کے پاس سے تم آئے ہو! اورمیں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور یہ وہی ہیں جن کا تذکرہ ہم انجیل میں پاتے ہیں، اور یہ وہی رسول ہیںجن کی حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نے بشارت دی تھی۔ تم (میرے ملک میں) جہاں چاہو رہو۔ اللہ کی قسم! اگر بادشاہت کی ذمہ داری مجھ پر نہ ہوتی تو میں اُن کی خدمت میں حاضرہوکرخوداُن کے دونوں جوتے اٹھاتا۔ اور پھرنجاشی نے حکم دیا تو (قریش کے) ان دونوں (قاصدوں) کے تحفے واپس کر دیے گئے۔ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود جلدی سے (مدینہ کوگئے)یہاں تک کہ بدر میں شریک ہوگئے۔1 حضرت ابو موسیٰ ؓفرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس بات کا حکم دیا کہ ہم حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کے ساتھ نجاشی کے پاس چلے جائیں۔ جب قریش کو نجاشی کے پاس ہمارے چلے جانے کی خبرہوئی توانھوںنے عمروبن عاص اورعُمارہ بن ولید کوقاصدبنا کر بھیجا۔ پھرانھوںنے حضرت ابنِ مسعودکی پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔اور اس حدیث میں یہ مضمون بھی ہے (کہ نجاشی نے کہا:) اگر بادشاہت کی مجھ پر ذمہ داری نہ ہوتی تو میں اُن کی (حضورﷺکی) خدمت میں حاضر ہو کر اُن کی جوتیوں کو چُومتا۔ (اور مسلمانوں سے کہا:) تم میرے ملک میں جتناچاہو رہو، اور اس نے ہمارے لیے کھانے اور کپڑے کا حکم دیا۔ 1 حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیںکہ قریش نے عمرو بن عاص اور عُمارہ بن ولید کو ابو سفیان کی طرف سے تحفہ دے کر نجاشی کے پاس بھیجا اور ہم لوگ اِن دنوں نجاشی کے ملک میں تھے۔ انھوں نے نجاشی سے کہا کہ ہمارے کچھ گھٹیا اور بے وقوف لوگ آپ کے ہاں آگئے ہیں، وہ آپ ہمیں دے دیں۔ نجاشی نے کہا: جب تک میں اُن کی بات سن نہ لوں اُن کو تمہارے حوالہ نہیں کر سکتا ہوں۔ چناںچہ آدمی بھیج کر ہمیں بلایا۔ (ہم لوگ اس کے دربار میں آئے) تو اس نے ہم سے کہا: یہ لوگ (عمرو بن عاص اور عُمارہ بن ولید) کیا کہہ رہے ہیں؟ ہم نے کہا: یہ لوگ بتوں کی عبادت کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول بھیجا ہم اس پرایمان لے آئے اور اس کی تصدیق کی۔ نجاشی نے اُن سے پوچھا کہ کیا یہ لوگ تمہارے غلام ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ پھراس نے کہا: کیا ان پر تمہارا کچھ قرضہ ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ تو نجاشی نے کہا: تم لوگ ان کا راستہ چھوڑ دو۔ چناںچہ ہم نجاشی کے دربارسے باہر آگئے، تو عمرو بن عاص نے کہا: حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں تم جو کہتے ہو یہ لوگ اس کے علاوہ کچھ اور کہتے ہیں۔ نجاشی نے کہا: اگر انھوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں وہ نہ کہا جو میں کہتا ہوں تو میں اُن کواپنے ملک میں ایک منٹ رہنے نہیں دوں گا۔ اور اس نے ہمارے پاس بلانے کے لیے آدمی بھیجا۔ یہ اس کا دوبارہ بلانا ہمارے لیے پہلی دفعہ کے بلانے کی نسبت زیادہ پریشانی کا سبب بنا۔ (ہم دوبارہ اس کے پاس گئے) اس نے کہا: تمہارے حضرت، حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ ہم نے کہا: وہ کہتے ہیںکہ وہ یعنی حضرت عیسیٰ ؑ اللہ(کی پیدا کردہ) رُوح ہیں، اور وہ اللہ کا وہ کلمہ ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے کنواری اور مردوں سے الگ تھلگ رہنے والی عورت (یعنی حضرت مریم ؓ )کی طرف اِلقا فرمایاتھا۔ حضرت جعفر فرماتے ہیں کہ نجاشی نے قاصد بھیج کر کہا کہ فلاں فلاں بڑے پادری اور فلاں فلاں راہب کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔ چناںچہ ان میں سے کچھ لوگ نجاشی کے پاس آگئے۔ نجاشی نے ان (پادریوں اور راہبوں) سے کہا: تم لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم کے بارے میں کیا کہتیہو؟ انھوں نے جواب دیا: آپ ہم میں سب سے بڑے عالم ہیں، آپ کیا کہتے ہیں؟ نجاشی نے زمین سے کوئی چھوٹی سی چیز اُٹھا کر کہا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں ان مسلمانوں نے جو کچھ کہا ہے حضرت عیسیٰ اس سے اس چھوٹی سی چیز کے برابر بھی بڑھے ہوئے نہیں ہیں۔ پھر نجاشی نے (مسلمانوں سے) کہا: کیا تمہیں کوئی تکلیف پہنچاتا ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں۔ (چناںچہ نجاشی کے کہنے پر اس کے) منادی نے یہ اِعلان کیا کہ جو اِن (مسلمانوں) میں سے کسی کو تکلیف پہنچائے اسے چار درہم کا جرمانہ کر دو۔ پھر نجاشی نے مسلمانوں سے پوچھا کہ اتنا جرمانہ تمہیں کافی ہے؟ ہم نے کہا: نہیں۔ چناںچہ اس نے جرمانہ دُ گنا یعنی آٹھ درہم کر دیا۔ جب حضور ﷺ ہجرت فرماکر مدینہ تشریف لے گئے اور آپ کا وہاں غلبہ ہوگیا تو ہم نے نجاشی سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ غالب آگئے ہیں، اور ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے گئے ہیں، اورجن کافروں کے (ستانے کے) بارے میں ہم آپ کو بتایاکرتے تھے حضور ﷺ نے ان سب کو قتل کردیا ہے۔ اس لیے ہم اب حضورﷺ کے پاس جانا چاہتے ہیں، آپ ہمیں واپس جانے کی اجازت دے دیں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ اس نے ہمیں سواریاںبھی دیں اور زادِ سفربھی۔ پھر کہا: اپنے حضرت کو وہ سب کچھ بتادینا جو میں نے آپ لوگوں کے ساتھ کیا ہے، اوریہ میرا نمایندہ تمہارے ساتھ جائے گا۔ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور اُن کی خدمت میںعرض کرنا کہ وہ میرے لیے دعائے مغفرت کریں۔ حضرت جعفر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم وہاں سے چلے اور پھر مدینہ پہنچے تو حضور ﷺ نے میرا استقبال کیا اورمجھے اپنے گلے لگا لیا اورفرمایا کہ میںنہیں کہہ سکتاکہ مجھے فتحِ خیبرکی زیادہ خوشی ہے یاجعفرکے واپس آنے کی۔ اورحضرت جعفرکی واپسی فتحِ خیبر کے موقع پر ہوئی تھی۔ پھر حضور ﷺ بیٹھ گئے تو نجاشی کے قاصد نے کہا:یہ حضرت جعفر ہیں، آپ ان سے پوچھ لیں کہ ہمارے بادشاہ نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ تو حضرت جعفر نے کہا: جی ہاں، اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور یہ کیا اور واپسی پر ہمیں سواریاں دیں اور اور زادِ سفر بھی۔ اور اس نے کلمۂ شہادت بھی پڑھاتھاکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور مجھ سے کہا تھا کہ حضورﷺ سے عرض کرنا کہ وہ میرے لیے دعائے مغفرت کریں۔ چناںچہ حضور ﷺ نے کھڑے ہو کر وضو فرمایا اور پھر تین مرتبہ یہ دعا فرمائی: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلنَّجَاشِيْ اے اللہ! نجاشی کی مغفرت فرما۔ تمام مسلمانوں نے اس دعا پر آمین کہی۔ پھر حضر ت جعفر فرماتے ہیں کہ میں نے اس قاصد سے کہا کہ تم واپس جاؤ اور تم نے حضور ﷺ کو جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا ہے وہ اپنے بادشاہ کوبتا دینا۔1 حضرت اُمّ ِ عبداللہ بنتِ ابی حَثْمہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم! ہم لوگ حبشہ جانے کی تیاری کر رہے تھے اور(میرے خاوند) حضرت عامر ہماری کسی ضرورت کی وجہ سے گئے ہوئے تھے کہ اچانک سامنے سے حضرت عمر (ؓ) آئے۔ وہ میرے پاس آکر کھڑے ہوگئے۔ وہ ابھی تک مشرک ہی تھے اور ہمیں اُن کی طرف سے بڑی تکلیفیں اور سختیاں اٹھانی پڑتی تھیں۔ حضرت عمر نے کہا: اے اُمّ عبد اللہ! کیا تم لوگ جارہے ہو؟ حضرت اُمّ عبداللہ نے کہا: ہاں! جب تم ہمیں ستاتے ہو اور ہر وقت ہمیں دباتے ہو تو ہم جا رہے ہیں، اور اللہ کی زمین میںکہیں رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہی ان مصیبتوں سے نکلنے کی کوئی صورت پیدا فرما دے۔ حضرت عمر نے کہا: اللہ تمہارے ساتھ رہے۔ حضرت اُمّ عبداللہ فرماتی ہیں: حضرت عمر پر کچھ ایسی رِقّت طاری ہوئی جو میں نے ان میں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اور پھر حضرت عمر واپس چلے گئے اور میرے خیال میں یوں ہمارے وطن چھوڑ کر چلے جانے کا انھیں بڑا غم ہو رہا تھا۔ پھرحضرت عامر ہماری وہ ضرورت پوری کر کے آئے تو میں نے کہا: اے ابوعبداللہ! اگرتم ذرا پہلے آجاتے تو دیکھتے کہ ہمارے جانے کی وجہ سے حضرت عمر پر کیسی رِقّت طاری تھی اور وہ کیسے غمگین تھے۔ حضرت عامر نے کہا: کیا تمہیں ان کے اِسلام لانے کی کچھ اُمید ہوگئی ہے؟ حضرت اُمّ عبداللہ نے کہا: ہاں۔ حضرت عامر نے کہا کہ جب تک خطّاب کا گدھا مسلمان نہیں ہوگا یہ آدمی جسے تم نے دیکھا ہے، یعنی عمر مسلمان نہیں ہوگا۔ (یعنی جیسے گدھے کا اِسلام لانا ناممکن ہے ایسے ہی عمر کا اِسلام لانا ناممکن ہے) حضرت اُمّ عبداللہ فرماتی ہیں کہ حضرت عامر چوں کہ دیکھ رہے تھے کہ عمر اِسلام کے خلاف بہت سخت دل ہے اس وجہ سے انھوںنے اُن کے اِسلام سے مایوس ہوکر یہ بات کہی تھی۔ 1 اُمّ عبداللہ کا نام لیلیٰ ہے۔ حضرت خالد بن سعید بن العاص اوراُن کے بھائی حضرت عمرو ؓ دونوںان صحابہ میں سے ہیں جو ہجرت کرکے حبشہ گئے تھے۔ حضرت خالد بیان کرتے ہیں کہ جنگ ِبدر کے ایک سال بعد جب یہ مہاجرینِ حبشہ حضور ﷺ کی خدمت میں واپس آئے اورحضورﷺ کی مجلس کے قریب پہنچے تو حضور ﷺ نے ان کا استقبال فرمایا۔ غزوۂ بدر میں شریک نہ ہونے کا ان حضرات کو بڑا غم تھا۔ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا: تم کس بات کا غم کرتے ہو؟ اور ان لوگوں کی تو ایک ہی ہجرت ہوئی اورتمہاری تودوہجرتیں ہوئی ہیں: ایک دفعہ تو تم حبشہ کے بادشاہ کے پاس ہجرت کرکے گئے، اور دوبارہ تم اس کے پاس سے میرے پاس ہجرت کرکے آئے ہو۔ 2 حضرت ابو موسیٰ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ یمن میں تھے کہ ہمیں حضور ﷺ کے مدینہ ہجرت کرنے کی خبر ملی۔ چناںچہ میں اور میرے دو بھائی حضور ﷺ کی طرف ہجرت کے اِرادے سے چلے۔ میں سب میں چھوٹا تھا۔ ان میں سے ایک حضرت ابوبُردہ اور دوسرے حضرت ابو رُہم تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے یا تو یہ فرمایا کہ ہم اپنی قوم کے پچاس سے کچھ اوپر آدمیوں میں تھے، یا فرمایا کہ ہم تریپن آدمیوں میں تھے، یا یہ فرمایا کہ ہم باون آدمیوں میں تھے۔ ہم ایک کشتی پر سوار ہوئے، اس کشتی نے ہمیں نجاشی کے پاس حبشہ پہنچا دیا۔ وہاں ہمیں حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ ملے۔ ہم اُن کے ساتھ وہاں ٹھہر گئے یہاں تک کہ ہم اکھٹے ہی مدینہ آئے۔ جب ہم حضور ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے تو آپ خیبر فتح فرما چکے تھے۔ ہم کشتی والوں کو بہت سے لوگ کہا کرتے تھے کہ ہم ہجرت میں تم سے آگے نکل گئے (یعنی ہم ہجرت کرکے پہلے مدینہ آئے تم مدینہ بہت دیر سے پہنچے)۔ حضرت اَسماء بنتِ عُمَیسؓ بھی ہمارے ساتھ آنے والوں میںسے تھیں۔ وہ حضور ﷺ کی زوجہ حضرت حفصہؓ کو ملنے گئیں۔ حضرت اسماء مسلمانوں کے ساتھ ہجرت کرکے حبشہ گئی تھیں۔ اتنے میں حضرت عمر ؓ حضرت حفصہ کے پاس آئے، حضرت اسماء وہاں ہی تھیں۔ جب حضرت عمر نے حضرت اسماء کو دیکھا تو پوچھا: یہ کون ہے؟حضرت حفصہ نے کہا: یہ اسماء بنتِ عمیس ہے۔ حضر ت عمر نے کہا: یہ وہی حبشہ والی ہے؟ یہ وہی سمندر کاسفر کرنے والی ہے؟ حضرت اسماء نے کہا: جی ہاں! وہی ہے۔ حضرت عمر نے کہا: ہم ہجرت میں تم سے آگے نکل گئے، لہٰذا ہم تم سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے حق دار ہیں۔ حضرت اسماء کو غصہ آگیا،کہنے لگیں: ایسا ہرگزنہیں ہوسکتا۔ اللہ کی قسم! آپ لوگ تو حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ لوگوں میں سے جسے بھوک لگتی اسے حضور ﷺ کھلاتے، اور جسے نہ آتا اسے آپ سکھا دیتے۔ ہم لوگ حبشہ میں ایسی سر زمین میں تھے جہاں کے لوگ دین سے دو راوردین سے بغض رکھنے والے تھے، اور ہمیں یہ سب کچھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی وجہ سے برداشت کرنا پڑا۔ اللہ کی قسم! میںاس وقت تک نہ کچھ کھاؤں گی اورنہ کچھ پیوںگی جب تک تم نے جو کچھ کہا ہے وہ حضور ﷺ کو بتا کر پوچھ نہ لوں۔ اور اللہ کی قسم! نہ میں جھوٹ بولوں گی اور نہ میں اِدھر اُدھر کی باتیں کروں گی اور نہ میں اپنی طرف سے بات بڑھاؤں گی۔ جب حضور ﷺ تشریف لائے تو حضرت اسماء نے عرض کیا: یانبی اللہ! حضرت عمر نے ایسے اور ایسے کہا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: پھر تم نے اُن کو کیا جواب دیا؟ میں نے کہا کہ جواب میں میں نے یہ اور یہ کہا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: وہ تم سے زیادہ حق دار نہیںہیں۔ عمر اور اُن کے ساتھیوں کی ایک ہجرت ہے اور تم کشتی والوں کی دوہجرتیں ہیں۔ حضرت اسماء فرماتی ہیںکہ حضرت ابوموسیٰ اور کشتی والوںکو میں نے دیکھا کہ وہ جماعتیں بن بن کر میرے پاس آتے اور مجھ سے یہ حدیثِ ِنبوی پوچھتے۔ اور حضور ﷺ نے اُن کے بارے میں جو یہ فضیلت اِرشاد فرمائی تھی اُن کو اس سے زیادہ نہ کسی چیز سے خوشی تھی اور نہ اُن کے نزدیک اس سے زیادہ کوئی چیز بڑی تھی۔ حضرت اسماء کہتی ہیں کہ میں نے حضرت ابو موسیٰ کو دیکھا کہ وہ (خوشی کی وجہ سے) بار بار مجھ سے یہ حدیث سنتے۔حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: اَشعری ساتھی جب رات کو قرآن پڑھتے ہیں تو میں اُن کی آواز کو پہچان لیتا ہوں اور رات کو اُن کے قرآن پڑھنے کی آواز سن کر اُن کی قیام گاہوں کو معلوم کرلیتا ہوں، چاہے میں نے دن میں ان کی قیام گاہیں نہ دیکھی ہوںکہ کہاںہیں؟ان اَشعری ساتھیوں میں سے حضرت حکیم بھی ہیں۔ یہ (اتنے بہادرتھے کہ) جب ان کا دشمن سے سامنا ہوتا (اور وہ بھاگنا چاہتے ) تو ( لڑنے پر آمادہ کرنے کے لیے) ان سے کہتے کہ میرے ساتھی کہہ رہے ہیں کہ تم ان کا انتظار کرلو (ابھی مت جاؤ)، یا مسلمانوں کے شہسواروں سے کہتے کہ میرے ساتھی کہہ رہے ہیں کہ تم ان کا انتظار کرو (اکھٹے مل کر دشمن پر حملہ کریں گے)۔ 1 حضرت شعبی کہتے ہیں کہ حضرت اَسماء بنتِ عمیس ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کچھ لوگ ہم پر فخر کرتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم مہاجرینِ اَوّلین میں سے نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تمہاری دو ہجرتیں ہیں: پہلے تم ہجرت کرکے حبشہ گئے، اور پھر تم ہجرت کر کے (مدینہ) آئے ۔ 2