صحابۂ کرام ؓکی دینِ اسلام کی نصرت کے لئے کوشش کرنا

بنو قریظہ کا واقعہ

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ غزوۂ خندق کے دن میں باہر نکلی اور میں لوگوں کے پیچھے چل رہی تھی کہ اتنے میں میں نے اپنے پیچھے زمین پر پیروں کی چاپ سنی۔ میں نے دیکھا کہ حضرت سعد بن معاذ ؓ اور اُن کے بھتیجے حضرت حارث بن اَوس ؓ چلے آرہے ہیں اور حضرت سعد نے ڈھال اٹھا رکھی تھی۔ میں زمین پر بیٹھ گئی۔ چناںچہ حضرت سعد گزرے اور انھوں نے لوہے کی زرہ پہن رکھی تھی ( قد کے لمبے ہونے کی وجہ سے) اُن کے جسم کاکچھ حصہ اس زرہ میں سے ظاہر ہو رہا تھا۔ مجھے خطرہ ہوا کہ ان کے جسم کے کھلے ہوئے حصہ پر دشمن وار نہ کردے۔ حضرت سعد ؓ بھاری بھرکم ،بڑے قد آور انسان تھے وہ یہ شعر پڑھتے جارہے تھے: لَبِّثْ قَلِیْلاً یُدْرِکِ الْھَیْجَا حَمَلْ مَا أَحْسَنَ الْمَوْتَ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ ذرا تھوڑی دیر ٹھہر جا تا کہ حمل (نامی آدمی ) بھی لڑائی میں پہنچ جائے، اور جب موت کا وقت آجائے تو وہ کتنی حسین معلوم ہوتی ہے۔ پھر میں کھڑی ہوئی اور ایک باغ میں داخل ہوئی۔ وہاں دیکھا تو چند مسلمان وہاں بیٹھے ہوئے تھے جن میں حضرت عمر بن خطّاب ؓ بھی تھے اور ان میں ایک مسلمان خود پہنے ہوئے بھی تھے۔ (مجھے دیکھ کر) حضرت عمر نے فرمایا: تم کیوں آئی ہو؟ اللہ کی قسم! تم بڑی جرأت والی ہو۔ تمہیں اس بات کا خطرہ نہیں ہے کہ کوئی مصیبت پیش آجائے یا شکست ہوجائے اور بھگدڑ مچ جائے (تمہیں اس جنگ کے دوران گھر میںرہنا چاہیے تھا) باہر نہیں نکلنا چاہیے تھا۔ حضرت عمر مجھے ملامت کرتے رہے یہاں تک کہ میرا دل چاہنے لگا کہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں چلی جاؤں ۔ اتنے میں خود والے آدمی نے اپنا خود سر سے اٹھایا تو وہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ تھے۔ انھوں نے کہا: اے عمر! تمہارا بھلا ہو، آج تو تم نے حد کردی (اس بے چاری کو) بہت کچھ کہہ ڈالا۔ ہم لوگ شکست کھا کر یا بھاگ کر اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کہاں جاسکتے ہیں؟ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ (مجھے جس کا اندیشہ تھا وہی ہوا) کہ قریش کے ابن العرقہ نامی ایک آدمی نے حضرت سعد کو تیر مارا اور کہا: لے میرا تیر، اور میں ابن العَرِقہ ہوں۔ چناںچہ اس کا ایک تیر رگ ِبازو پر آکر لگا جس سے وہ رگ کٹ گئی۔ حضرت سعد نے اللہ سے دعا کی کہ جب تک میری آنکھیں بنو قریظہ کے(اَنجام کے) بارے میں ٹھنڈی نہ ہوجائیں اس وقت تک مجھے موت نہ دے۔ بنو قریظہ حضرت سعد کے جاہلیت میں دوست اور حلیف تھے۔ چناںچہ (ان کی دعا کی وجہ سے) ان کے زخم سے خون نکلنا بند ہوگیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر زور دار آندھی بھیجی اور اللہ تعالیٰ کی مدد ایسی آئی کہ مسلمانوں کو لڑنا نہ پڑا اور اللہ تعالیٰ بڑے قوی اور غالب ہیں۔ چناںچہ ابو سفیان اور اس کے ساتھی تہامہ، اور عُیَیْنہ بن بدر اور اس کے ساتھی نجد چلے گئے۔ اور بنو قریظہ واپس آکر اپنے قلعوں میں قلعہ بند ہوگئے، اور حضور ﷺ مدینہ واپس تشریف لے آئے۔ اور آپ کے حکم دینے پر حضرت سعد کے لیے مسجد میں چمڑے کا خیمہ لگایا گیا۔ پھر حضرت جبرائیل ؑ تشریف لائے اور ان کے دانت غبار آلود تھے۔ انھوں نے حضور ﷺ سے عرض کیا: کیا آپ نے ہتھیار رکھ دیے ؟’’ نہیں‘‘۔ اللہ کی قسم! فرشتوں نے تو ابھی تک ہتھیار نہیں رکھے ہیں۔ آپ بنو قریظہ کی طرف چلیں اور ان سے لڑیں۔ چناںچہ حضور ﷺ نے اپنے ہتھیار پہن لیے اور لوگوں میں کوچ کا اِعلان کروایا کہ چلو۔ بنو غنم مسجد کے پڑوسی تھے اس کے اِردگرد رہتے تھے۔ آپ ان کے پاس سے گزرے تو ان سے پوچھا: ابھی تمہارے پاس سے کون گزر کرگیا ہے؟ انھوں نے کہا: ہمارے پاس سے حضرت دِحیہ کلبی ؓ گزر کرگئے ہیں۔ (حضرت جبرائیل ؑ بعض دفعہ حضرت دِحیہ کی شکل میں آیا کرتے تھے اس لیے) حضرت جبرائیل ؑکی ڈاڑھی اور عمر اور چہرہ سب کچھ حضرت دحیہ کلبی جیسا ہوتا تھا۔ حضور ﷺ نے جاکر بنو قریظہ کا پچیس دن محاصرہ کیا، شدید محاصرہ کی وجہ سے جب بنو قریظہ تنگ آگئے اور اُن کی مصیبت اور پریشانی بہت زیادہ ہوگئی تو ان سے کہا گیا کہ حضور ﷺ کا فیصلہ قبول کرلو۔ انھوں نے ابو لبابہ بن عبد المنذر سے مشورہ کیا۔ ابو لبابہ نے انھیں اشارے سے بتا دیا کہ تم ذبح کردیے جاؤگے ۔ آخر بنو قریظہ نے کہا کہ ہمیں اپنے بارے میں سعد بن معاذ کا فیصلہ منظور ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: چلو اچھا ہے تم سعد بن معاذ کے فیصلہ کو مان لو۔ چناںچہ حضرت سعد بن معاذ ؓ کو ایک گدھے پر سوار کراکر لایا گیا جس پر کھجور کی چھال کا پالان رکھا ہوا تھا۔ (راستہ میں) اُن کی قوم نے ان کو ہر طرح سے گھیرا ہوا تھا اور سب ان سے (بنو قریظہ کی سفارش کرتے ہوئے) کہہ رہے تھے کہ یہ تمہارے حلیف اور دوست ہیں اور مصیبت میں کام آنے والے ہیں اور انھیں تم خود اچھی طرح جانتے ہو۔ حضرت سعد ؓ (سب کی سنتے رہے اور خاموش رہے اور انھوں ) نے اُن کی کسی بات کا کوئی جواب نہ دیا، اور نہ اُن کی طرف متوجہ ہوئے۔ جب بنوقریظہ کے محلہ کے قریب پہنچے تو اپنی قوم کی طرف متوجہ ہوکر ان سے کہا کہ میرے لیے اب اس بات کا وقت آچکا ہے کہ میں اللہ کے بارے میں کسی کی ملامت کی پروا نہ کروں۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت ابو سعید ؓ نے بیان کیا کہ جب حضرت سعد سامنے سے ظاہر ہوئے تو حضور ﷺ نے فرمایا: کھڑے ہوکر اپنے سردار کو (احتیاط سے سواری سے) اُتارو۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ ہمارے سردار تو اللہ ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: انھیں اُتارو۔ چناںچہ صحابہ نے ان کو اُتارا۔ (حضور ﷺ نے یہ سارا اہتمام اُن کے زخمی ہونے کی وجہ سے کروایا)آپ نے فرمایا: بنو قریظہ کے بارے میں اپنا فیصلہ سنادو۔ حضرت سعدنے فرمایا: ان کے بارے میں میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ (انھوں نے بڑی غدّاری کی ہے اس لیے) ان میں جو مرد لڑائی کے قابل ہے اسے قتل کردیا جائے اور ان کے بچوں کو قید کرلیا جائے اور ان کا مال (مسلمانوں میں ) تقسیم کر دیا جائے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: تم نے ان کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول والا فیصلہ کیا ہے۔ پھر حضرت سعدنے دعا مانگی: اے اللہ! اگر تونے اپنے نبی کے لیے قریش سے کوئی لڑائی باقی رکھی ہے تو مجھے اس (میں شرکت) کے لیے باقی رکھ، اور اگر تونے اپنے نبی اور قریش کے درمیان لڑائی کا سلسلہ ختم کردیا ہے تو مجھے اٹھالے۔ یہ دعا کرتے ہی ان کے زخم سے پھر خون بہنے لگا حالاں کہ یہ زخم بالکل ٹھیک ہوگیا تھا۔ کان کی بالی کی طرح چھوٹا سا نشان نظر آتا تھا۔ اور حضور ﷺ نے اُن کو جو خیمہ لگا کر دیا تھا یہ اس میں واپس آگئے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: (چند دنوں کے بعد ان کا اِنتقال ہوگیا اور) اِنتقال کے وقت حضور ﷺ اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر اُن کے پاس موجود تھے (اور یہ سب رو رہے تھے)۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! میں اپنے حجرہ میں تھی اور حضرت عمر اور حضرت ابوبکر ؓ کے رونے کی آوازوں کو الگ الگ پہچان رہی تھی۔ اور حضور ﷺ کے صحابہ ؓ آپس میں بڑے نرم دل تھے جیسے کہ اللہ پاک نے ان کے بارے میں (قرآن میں) فرمایا ہے: {رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ}۔1 حضرت علقمہ ؓ نے عرض کیا: اے اماں جان! (غم کے ایسے موقع پر ) حضور ﷺ کیا کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ کی آنکھوں میں آنسو تو نہیں آتے تھے ،لیکن جب کسی کے بارے میں بڑا غم ہوتا تو آپ اپنی ڈاڑھی مبارک کو پکڑ لیا کرتے تھے۔2 (اکثر تو یہی حالت ہوتی تھی لیکن کبھی آنسو بھی آجاتے تھے) حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب حضرت سعد بن معاذ ؓ کا انتقال ہوا تو حضور ﷺ بھی روئے اور آپ کے صحابہ ؓ بھی روئے حالاں کہ آپ کی عام عادت یہ تھی کہ جب آپ کو بہت زیادہ رنج ہوتا آپ اپنی ڈاڑھی کو پکڑ لیا کرتے تھے۔ اور میں اس وقت اپنے والد کے رونے کی آواز کو اور حضرت عمر ؓ کے رونے کی آواز کو الگ الگ پہچان رہی تھی۔ 1 حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ حضرت سعد بن معاذ ؓ کے جنازے سے واپس تشریف لائے تو آپ کے آنسو آپ کی ڈاڑھی پر بہہ رہے تھے۔2