صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا

صحابۂ کرام کا اللہ کے راستہ میں گردو غبار برداشت کرنے کا شوق

حضرت رَبیع بن زید ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ راستہ کے درمیان میں درمیانی رفتار سے تشریف لے جا رہے تھے کہ اتنے میں آپ نے ایک قریشی نوجوان کو دیکھا جو راستہ سے ہٹ کر چل رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: کیا یہ فلاں آدمی نہیں ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں! وہی ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے بلائو۔ چناںچہ وہ آئے۔ حضور ﷺ نے اس سے پو چھا: تمہیں کیا ہوگیا تم راستہ سے ہٹ کر چل رہے ہو؟ اس نوجوان نے کہا: مجھے یہ گرد وغبار اچھا نہیں لگتا۔ آپ نے فرمایا: ارے! اس گردو غبار سے خود کو نہ بچائو، کیوںکہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! یہ غبار تو جنت کی (خاص قسم کی) خوش بو ہے۔ 1 حضرت ابو المُصَبّح مَقْرئی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم لوگ روم کے علاقہ میں ایک جماعت کے ساتھ چلے جا رہے تھے، جس کے امیر حضرت مالک بن عبد اللہ خثعمی ؓ تھے کہ اتنے میں حضرت مالک حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ کے پاس سے گزرے جو کہ اپنے خچر کو آگے سے پکڑے ہوئے چلے جا رہے تھے۔ ان سے حضرت مالک نے کہا: اے عبد اللہ! آپ سوار ہوجائیں، اللہ نے آپ کو سواری دی ہے۔ حضرت جابر نے کہا: میں نے اپنی سواری کو ٹھیک حالت میں رکھا ہوا ہے اور مجھے اپنی قوم سے سواری لینے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس آدمی کے دونوں قدم اللہ کے راستہ میں غبار آلود ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کی آگ پر حرام کر دیں گے۔ حضرت مالک وہاں سے آگے چل دیے۔ جب اتنی دور پہنچ گئے جہاں سے حضرت کو جابر کو آواز سنائی دے، تو حضرت مالک نے بلندآواز سے کہا: اے ابو عبد اللہ! آپ سوار ہوجائیں کیوں کہ اللہ نے آپ کو سواری دی ہے۔ حضرت جابر حضرت مالک کامقصد سمجھ گئے (کہ حضرت مالک چاہتے ہیں کہ حضرت جابر بلند آواز سے جواب دیں تاکہ جماعت کے تمام لوگ سن لیں )۔ اس پر حضرت جابر نے بلند آواز سے جواب دیا کہ میں نے اپنی سواری کو ٹھیک حالت میں رکھا ہوا ہے اور مجھے اپنی قوم سے سواری لینے کی ضرورت نہیں، لیکن میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس آدمی کے دونوں قدم اللہ کے راستہ میں غبار آلود ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کی آگ پر حرام کر دیں گے۔ یہ سنتے ہی تمام لوگ اپنی سواریوں سے کود کر نیچے اُتر آئے۔ میں نے کبھی لوگوں کو اس دن سے زیادہ تعداد میں پیدل چلتے ہوئے نہیں دیکھا۔ 1 ابو یعلیٰ کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت جابر ؓ نے فرمایا: میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس بندے کے دونوں قدم اللہ کے راستے میں غبار آلود ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ اُن دونوں قدموں پر آگ کو حرام فرما دیں گے۔یہ سنتے ہی حضرت مالک بھی اور تمام لوگ بھی اپنی سواریوں سے نیچے اُتر کر پیدل چلنے لگ پڑے اور کسی دن بھی لوگوں کو اس دن سے زیادہ تعداد میں پیدل چلتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ 2