صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا
اللہ کے راستہ میں تین چلّے کے لیے جانا
حضرت ابنِ جریج فرماتے ہیں کہ یہ بات مجھے ایسے شخص نے بتائی جسے میں سچا سمجھتا ہوں کہ حضرت عمر ؓ ( ایک رات مدینہ کی گلیوں میں) گشت کر رہے تھے کہ آپ نے ایک عورت کو یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا:
تَطَاوَلَ ھٰذَا اللَّیْلُ وَاسْوَدَّ جَانِبُہٗ
وَأَرَّقَنِيْ أَنْ لَّا حَبِیْبَ أُلَاعِبُہٗ
یہ رات لمبی ہوگئی ہے اور اس کے کنارے کالے پڑگئے، اور مجھے اس وجہ سے نیند نہیں آرہی ہے کہ میرا کوئی محبوب نہیں جس سے میں کھیلوں۔
فَلَوْلَا حِذَارُ اللّٰہِ لَا شَيْئَ مِثْلُہٗ
لَزُعْزِعَ مِنْ ھٰذَا السَّرِیْرِ جَوَانِبُہٗ
اگر اس اللہ کا ڈر نہ ہوتا جس کے مثل کوئی چیز نہیں ہے، تو اس تخت کے تمام کنارے حرکت کر رہے ہوتے۔
حضرت عمرنے اس سے پوچھا: تجھے کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا کہ چند مہینوں سے میرا خاوند سفر میں گیا ہوا ہے اور میں اس کی بہت زیادہ مشتاق ہوچکی ہوں۔ حضرت عمر نے کہا: تیرا برائی کا ارادہ تو نہیں؟ اس عورت نے کہا: اللہ کی پناہ! حضرت عمر نے کہا: اپنے آپ کو قابو میں رکھو، میں ابھی اس کے پاس ڈاک کا آدمی بھیج دیتا ہوں۔ چناںچہ حضرت عمر نے اسے بلانے کے لیے آدمی بھیج دیا اور خود (اپنی بیٹی) حضرت حفصہ ؓ کے پاس آئے اور ان سے کہا: میں تم سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں جس نے مجھے پریشان کر دیا ہے، تم میری وہ پریشانی دور کر دو۔ اور وہ یہ ہے کہ کتنے عرصہ میں عورت اپنے خاوند کی مشتاق ہوجاتی ہے؟ حضرت حفصہ نے اپنا سر جھکا لیا اور اُن کو شرم آگئی۔ حضرت عمر نے فرمایا: حق بات کو بیان کرنے سے اللہ نہیں شرماتے ہیں۔ حضرت حفصہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ تین مہینے ورنہ چار مہینے۔ اس پر حضرت عمر نے (تمام علاقوں میں) یہ خط بھیجا کہ لشکروں کو (گھر سے باہر) چار مہینے سے زیادہ نہ روکا جائے (اگر اِجازت لیں )۔ 1
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ ایک دفعہ رات کے وقت باہر نکلے۔ انھوں نے ایک عورت کو یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا:
تَطَاوَلَ ھٰذَا اللَّیْلُ وَاسْوَدَّ جَانِبُہٗ
وَأَرَّقَنِيْ أَنْ لاَّ حَبِیْبَ أُلَاعِبُہٗ
یہ رات لمبی ہوگئی ہے اور اس کے کنارے کالے پڑ گئے، اور مجھے اس وجہ سے نیند نہیں آ رہی ہے کہ میرا کوئی محبوب نہیں ہے جس سے میں کھیلوں۔
حضرت عمر نے (اپنی بیٹی) حضرت حفصہ بنتِ عمر ؓ سے پوچھا کہ عورت زیادہ سے زیادہ کتنے عرصہ تک اپنے خاوند سے صبر کر سکتی ہے؟ حضرت حفصہ نے کہا: چھ مہینے تک یا چار مہینہ تک۔ حضرت عمر نے فرمایا: میں آیندہ کسی لشکر کو اس سے زیادہ (گھر سے باہر) نہیں روکوں گا۔ 2