نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا
حضور ﷺ کا حضرت عمرو بن عبَسہ ؓ کو دعوت دینا
حضرت شداد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو اُمامہ نے حضرت عمرو بن عبسہ سے پوچھا کہ آپ کس بنیاد پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام لانے میں آپ کا چوتھا نمبر ہے؟ انھوں نے فرمایا: میں زمانہ ٔجاہلیت میں لوگوں کو سراسر گمراہی پر سمجھتا تھا اور بُت میرے خیال میں کوئی چیز ہی نہ تھے۔ پھر میں نے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ مکہ میں (غیب کی) خبریں بتلاتا ہے اور نئی نئی باتیں بیان کرتا ہے ۔ چناں چہ میں اونٹنی پر سوار ہوکر فوراً مکہ پہنچا، وہاں پہنچتے ہی معلوم ہوا کہ حضورﷺ چھپ کر رہتے ہیں اور آپ کی قوم آپ کے درپۂ آزار اور بہت بے باک ہے۔ اور میں بڑی حیلہ جوئی کے بعد آپ تک پہنچا اور میں نے عرض کیا : آپ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں اللہ کا نبی ہوں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کا نبی کسے کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی طرف سے پیغام لانے والے کو۔ پھر میں نے عرض کیا : کیا واقعی اللہ نے آپ کو پیغام دے کر بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا :ہاں! میں نے عرض کیا :اللہ نے کیا پیغام دے کر بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ نے مجھے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ اللہ کو ایک مانا جائے اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ کیا جائے اور بتوں کو توڑ دیا جائے اور صلہ رحمی کی جائے یعنی رشتہ داروں سے اچھا سلوک کیا جائے ۔
میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا :اس دین کے معاملے میں آپ کے ساتھ کون ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ایک آزاد اور ایک غلام ۔ میں نے دیکھا تو آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر بن ابی قُحافہؓ اور حضرت ابوبکر کے غلام حضرت بلال ؓتھے۔ میں نے عرض کیا: میں آپ کا اِتّباع کرنا چاہتا ہوں یعنی اسلام کو ظاہر کرکے یہاں مکہ میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: فی الحال تمہارا میرے ساتھ رہنا تمہاری طاقت سے باہر ہے، اس لیے اب تم اپنے گھر چلے جاؤ اور جب تم سنو کہ مجھے غلبہ ہوگیا ہے تو میرے پاس چلے آنا۔ حضرت عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ مسلمان ہوکر میں اپنے گھر واپس آگیا اور حضورﷺ ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے گئے۔ میں آپ کی خبریں اور آپ کے حالات معلوم کرتا رہتا تھا یہاں تک کہ مدینہ سے ایک قافلہ آیا ۔ میں نے اُن لوگوں سے پوچھا کہ وہ مکی آدمی جو مکہ سے تمہارے ہاں آیا ہے، اس کا کیا حال ہے؟ اُن لوگوں نے کہا کہ اُن کی قوم نے اُن کو قتل کرنا چاہا لیکن وہ قتل نہ کرسکے اور نصرتِ الہٰی اُن کے اور قوم کے درمیان رکاوٹ بن گئی۔ اور ہم لوگوں کو اس حال میں چھوڑ کر آئے ہیں کہ سب آپ کی طرف لپک رہے ہیں۔
حضرت عمرو بن عبسہ کہتے ہیں کہ میں اپنے اونٹ پر سوار ہوکر مدینہ پہنچا اور حاضر ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ!کیا آپ مجھ کو پہچانتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : ہاں! کیا تم وہی نہیں ہو جو مکہ میں میرے پاس آئے تھے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! میں وہی ہوں۔ اس کے بعد میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا ہے اور میں نہیں جانتا ہوں، اس میں سے کچھ آپ مجھے سکھادیں ۔ اس کے بعد حدیث کا کافی حصہ ابھی باقی ہے ۔ 1
حضرت عمر و بن عبسہ کی ایک حدیث اور بھی ہے جس میں یہ مضمون ہے کہ میںنے عرض کیا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو کیا پیغام دے کر بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ صلہ رحمی کی جائے ، اور انسانی جانوں کی حفاظت کی جائے، اور راستوں کو پُراَمن رکھاجائے، اور بتوں کو توڑا جائے، اور ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ میں نے عرض کیا: یہ احکامات جو اللہ نے آپ کو دے کر بھیجا ہے بہت اچھے ہیں، اور میںآپ کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں آپ پر ایمان لاچکا ہوں اور میں آپ کو سچا مانتا ہوں۔ کیا میں آپ کے ساتھ ٹھہرجاؤں یا آپ جو مناسب سمجھیں؟ آپ نے فرمایا :تم خود دیکھ رہے ہو کہ جس دین کو لے کر میں آیا ہوں لوگ اسے کتنا برا سمجھ رہے ہیں، لہٰذا اب تم اپنے گھر جاکر رہو ،اور جب تم میرے متعلق یہ سن لو میں اپنی ہجرت والی جگہ پر پہنچ گیا ہوں تو اس وقت میرے پاس آجانا ۔ 1