نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا
حضور ﷺ کا حضرت خالد بن سعید بن العاص ؓ کو دعوت دینا
حضرت خالد بن سعید بن العاصؓ شروع میں مسلمان ہوئے تھے اور اپنے بھائیوں میں سب سے پہلے اسلام لائے تھے۔ اور اُن کے اسلام لانے کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ انھوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک آگ کے کنارے پر کھڑے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس آگ کی لمبائی چوڑائی اتنی زیادہ ہے کہ اللہ ہی جانتے ہیں۔ اور انھوں نے خواب میں یہ بھی دیکھا کہ اُن کے والد اُن کو آگ میں دھکیل رہے ہیں اور یہ بھی دیکھا کہ حضورﷺ اُن کی کمر کو پکڑے ہوئے ہیں تاکہ وہ آگ میں نہ گرجائیں ۔ وہ گھبرا کر نیند سے اٹھے اور کہنے لگے کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں یہ بالکل سچا خواب ہے۔ اس کے بعد اُن کی حضرت ابوبکرؓ سے ملاقات ہوئی اور اُن کو اپنا خواب سنایا ۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا: تمہارے ساتھ (من جانب اللہ ) بھلائی کا ارادہ کیا گیا ہے۔ یہ اللہ کے رسول(ﷺ) ہیں تم ان کا اتباع کرو، (تمہارے خواب کی تعبیر یہی ہے) کہ تم اُن کا اتباع ضرور کروگے اور اُن کے ساتھ اسلام میں داخل ہوجاؤگے اور اسلام ہی تم کو آگ میں داخل ہونے سے بچائے گا اور تمہارا باپ آگ میں جائے گا۔
حضورﷺ اَجیاد محلہ میں تشریف فرما تھے۔ حضرت خالد نے وہاں آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے محمد! آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں تم کو ایک اللہ کی دعوت دیتا ہوں جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اور اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔اور اُن پتھروں کی عبادت چھوڑدو جو نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں، اور نہ نقصان پہنچاسکتے ہیں اور نہ نفع، اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کون اُن کی پوجا کرتا ہے اور کون نہیں کرتا ہے۔ حضرت خالد نے فوراً کلمہ شہادت پڑھ لیا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اس بات کی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اُن کے اسلام لانے سے حضورﷺ کو بہت خوشی ہوئی۔ اس کے بعد حضرت خالد اپنے گھر سے غائب ہوگئے اور اُن کے والد کو اُن کے مسلمان ہونے کا پتہ چل گیا ۔ اس نے اُن کی تلاش میں آدمی بھیجے جو اُن کو اُن کے والد کے پاس لے کر آئے۔ والد نے ان کو خوب ڈانٹا اور جو کوڑا اس کے ہاتھ میں تھا اس سے اُن کی اس قدر پٹائی کی کہ وہ کوڑا ان کے سر پرتوڑ دیا اور کہا کہ اللہ کی قسم ! میں تمہارا کھانا پینا بند کردوںگا۔ حضرت خالد نے کہا کہ اگر تم بند کردوگے تو اللہ تعالیٰ مجھے ضرور اتنی روزی دے دیں گے جس سے میں اپنی زندگی گزار لوںگا۔ یہ کہہ کر حضورﷺ کے پاس چلے آئے۔ حضورﷺ اُن کا ہر طرح کاخیال رکھتے اور یہ حضورﷺکے ساتھ رہتے ۔ 1
دوسری روایت میں یہ مضمون ہے کہ ُان کے والد نے ان کی تلاش میں اپنے غلام رافع اور اپنے اُن بیٹوں کو بھیجا جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ انھوں نے ان کو تلاش کرلیا اور ان کو ان کے والد ابواُحیحہ کے پاس لے آئے۔ ان کے والد نے ان کو خوب ڈانٹا اور جھڑکا، اور اس کے ہاتھ میں ایک قمچی تھی جس سے ان کو اس قدر مارا کہ وہ قمچی ان کے سر پر ٹوٹ گئی۔ پھر کہنے لگا کہ تم محمد کے پیچھے لگ گئے ہو حالاں کہ تمہیں معلوم ہے کہ وہ اپنی قوم کی مخالفت کررہے ہیں اور اپنی قوم کے خداؤںمیں اور اُن کے آباء واَجداد جو جاچکے ہیں، ان میں عیب نکال رہے ہیں۔ حضرت خالدؓ نے کہا :اللہ کی قسم ! وہ سچ کہتے ہیں اور میں نے اُن کا اتباع کرلیا ہے ۔ اس پر ان کے والد ابواُحیحہ کو بڑا غصہ آیا اور ان کو بہت برُا بھلا کہا اور گالیاں دیں ا ور کہا: اوکمینے! جہاں تیرا دل چاہتا ہے چلا جا۔ اللہ کی قسم ! میں تمہارا کھانا پینا بند کردوں گا۔ حضرت خالد نے کہا: اگر تم بند کردوگے تو اللہ عزّوجل مجھے اتنی روزی ضرور دے دیں گے جس سے میں گزارا کرلوں گا۔ اس پر اُن کے والد نے ان کو گھر سے نکال دیا اور اپنے بیٹوں سے کہا: تم میں سے کوئی اس سے بات نہ کرے ورنہ میں اس کے ساتھ وہی معاملہ کروں گا جو میں نے اس کے ساتھ کیا ہے۔ چناں چہ حضرت خالد حضورﷺ کے پاس چلے آئے۔ حضورﷺ اُن کا ہر طرح کا خیال فرماتے اور یہ حضورﷺ کے ساتھ رہا کرتے تھے۔1
اور ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت خالد مکہ کے گردو نواح میں جاکر اپنے والد سے چھپ گئے اور جب حضورﷺ کے صحابہؓ حبشہ کی طرف دوبارہ ہجرت کرنے لگے تو اس وقت انھوں نے سب سے پہلے ہجرت کی ۔2
اُن کا باپ سعید بن العاص بن اُمیہ جب بیمار ہوا تو کہنے لگا: اگر اللہ نے مجھے اس بیماری سے شفا دی تو ابنِ ابی کبشہ (یعنی حضورﷺ ) کے خدا کی میں مکہ میں کبھی عبادت نہ ہونے دوںگا ۔ اس پر حضرت خالدؓ نے یہ دعا مانگی :اے اللہ !اسے بیماری سے شفا نہ دے۔ چناں چہ وہ اسی بیماری میں مرگیا ۔3