صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا

جہاد کے لیے اللہ کے راستہ میں نکل کر بیماریاں برداشت کرنا

حضرت ابو سعید ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: جب بھی مسلمان کے جسم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ (یہ فضیلت سن کر) حضرت اُبی بن کعب ؓ نے یہ دعا مانگی: اے اللہ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو اُبی بن کعب کے جسم پر ایسا بخار چڑھا دے جو تیری ملاقات کے وقت تک یعنی موت تک چڑھا رہے (یعنی ساری زندگی بخار چڑھا رہے)، لیکن بخار اتنا کم ہو کہ ان کو نماز، روزے، حج، عمرہ اور تیرے راستہ میں جہادسے نہ روکے۔ چناںچہ اُن کو اسی وقت بخار چڑھ گیا جو مرتے دم تک چڑھا رہا اُتر ا نہیں، اور وہ اس بخار کی حالت میں ہی نماز با جماعت پڑھا کرتے تھے، روزے رکھا کرتے تھے، اور حج اور عمرے کیاکرتے تھے اور سفرِ غزوہ میں جایا کرتے تھے ۔ 3 حضرت ابو سعید ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! آپ یہ بتائیں کہ یہ بیماریا ں جو ہمارے اوپر آتی ہیں ہمیں اُن کے بدلے میں کیا ملے گا؟ آپ نے فرمایا: یہ بیماریاں گناہوں کو مٹانے والی ہیں۔ اس پر حضرت اُبی نے حضور ﷺ سے پوچھا: اگرچہ وہ بیماری بہت تھوڑی ہو؟ آپ نے فرمایا: ہاں! اگرچہ وہ کانٹا (لگنا) ہی ہو، یا اس سے بھی کم درجہ کی تکلیف ہو۔ چناںچہ حضرت اُبی نے اپنے لیے یہ دعا مانگی کہ اُن کو ایسا بخار چڑھے جو اُن کو موت تک نہ چھوڑے (ہمیشہ چڑھا ہی رہے)، لیکن اُن کو حج اور عمرہ اور جہاد فی سبیل اللہ اور نماز با جماعت سے بھی نہ روکے۔ (اُن کی یہ دعا قبول ہوئی اور) موت تک اُن کی یہ کیفیت رہی کہ جو انسان بھی انھیں ہاتھ لگا تا وہ بخار کی حرارت محسوس کرتا۔ 1