صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا

اللہ کے راستہ میں نیزے یا کسی اور چیز سے زخمی ہونا

حضرت جندب بن سفیان ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور ﷺ پیدل جا رہے تھے کہ اچانک ایک پتھر سے آپ کو ٹھو کر لگی جس سے آپ کی اُنگلی مبارک خون آلود ہو گئی۔ آپ نے یہ شعر پڑھا: ھَلْ أَنْتِ إِلاَّ إِصْبَعٌ دَمِیْتٖ وَفِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَا لَقِیْتٖ تو ایک انگلی ہی تو ہے جو خون آلود ہوگئی ہے اور تجھے جو تکلیف آئی ہے یہ اللہ کے راستہ میں ہی آئی ہے۔2 اورصفحہ ۳۷۹ پرحضور ﷺ کے سختیوں اور تکلیفوں کے برداشت کرنے کے باب میں حضرت انس ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ جنگِ اُحد کے دن حضور ﷺ کا رباعی دندان مبارک شہید ہوگیا تھا، اور آپ کا سر مبارک زخمی ہوگیا تھا۔ آگے اور حدیث بھی ذکر کی ہے۔3 اور صفحہ ۳۷۹ پر حضرت عائشہ ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ جب حضرت ابو بکر ؓ جنگ ِاُحد کا ذکر فرماتے تو یہ ارشادفرماتے کہ یہ دن سارے کا سارا حضرت طلحہ ؓ کے حساب میں ہے پھر تفصیل سے بیان کرتے۔ آگے اور حدیث بھی ہے جس میں یہ مضمون بھی ہے کہ ہم دونوں حضور ﷺ کے پاس پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ آپ کا رباعی دندان مبارک شہید ہوچکا ہے اور آپ کا چہرۂ مبارک زخمی ہے اور خَود کی دو کڑیا ں آپ کے رُخسار مبارک میں گھس گئی ہیں۔ آپ نے فرمایا: اپنے ساتھی طلحہ کی خبر لو جو زیادہ خون نکلنے کی وجہ سے کمزور ہو چکے تھے۔ آگے اور حدیث بھی ہے جس میں یہ ہے کہ ہم حضور ﷺ کی خدمت سے فارغ ہوکر حضرت طلحہ کے پاس آئے وہ ایک گڑھے میں پڑے ہوئے تھے اور اُن کے جسم پر نیزے اور تیر اور تلوار کے ستّر سے زیادہ زخم تھے اور اُن کی انگلی بھی کٹ گئی تھی۔ ہم نے اُن کی دیکھ بھال کی۔ حضرت ابراہیم بن سعد کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کو جنگ ِاُحد کے دن اِکّیس زخم آئے تھے اور اُن کا ایک پائوں بھی زخمی ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ لنگڑا کر چلا کرتے تھے۔1 حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میرے چچا حضرت انس بن نضرؓ بدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے مشرکین سے جو سب سے پہلے لڑائی لڑی میں اس میں شریک نہیں ہو سکا۔ اب آیندہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے مشرکین سے لڑائی میں شریک ہونے کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ دیکھ لیں گے کہ میں کیا کرتا ہوں۔ چناںچہ جنگ ِاُحد کے دن جب مسلمانوں کو شکست ہونے لگی تو انھوں نے کہا: اے اللہ! صحابہ نے جو کچھ کیا میں تجھ سے اس کی معذرت چاہتا ہوں، اور مشرکین نے جو کچھ کیا ہے میں اس سے برأ ت کا اظہار کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھے تو سامنے سے حضرت سعد بن معاذ ؓ اُن کو آتے ہوئے ملے تو انھوں نے کہا: اے سعد بن معاذ! (میرے باپ) نضر کے ربّ کی قسم! اُحد پہاڑ کے پیچھے سے مجھے جنت کی خوش بو آرہی ہے۔ حضرت سعد نے (بعد میں یہ قصہ بیان کرتے ہوئے) حضور ﷺ سے کہا: یا رسول اللہ! حضرت انس نے جو کر دکھایا (اور جس بہادری سے وہ لڑے) وہ میں نہ کر سکا۔ حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے اُن کے جسم پر تلوار اور نیزے اور تیر کے اَسّی سے زیادہ زخم پا ئے۔ ہم نے دیکھا کہ وہ شہید ہو چکے ہیں اور مشرکوں نے اُن کے کان، ناک وغیرہ بھی کاٹ رکھے ہیں جس کی وجہ سے کوئی اُن کو نہ پہچان سکا۔ صرف اُن کی بہن نے اُن کو اُن کے ہاتھ کے پوروں سے پہچانا۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ یہ آیت حضرت انس اور ان جیسے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے: {مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ}1 ایمان والوں میں کتنے مرد ہیں کہ سچ کر دکھلایا جس بات کا عہد کیا تھا اللہ سے۔2 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میرے چچا (حضرت انس بن نضر) جن کے نام پر میرا نام انس رکھا گیا۔ وہ غزوۂ بدر میں حضور ﷺ کے ساتھ شریک نہیں ہوئے تھے اور یہ شریک نہ ہونا اُن پر بڑا گراں تھا، اس لیے انھوں نے کہا کہ حضور ﷺ کا یہ پہلا غزوہ ہوا ہے اور میں اس میں شریک نہیں ہوسکا۔ اگر آیندہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حضور ﷺ کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک ہونے کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ دیکھ لیں گے کہ میں کیا کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ مزید کچھ اور کہنے کی اُن کو ہمت نہ ہوئی۔چناںچہ وہ حضور ﷺ کے ساتھ غزوۂ اُحد میں شریک ہوئے۔ (جنگ کے دوران) اُن کو حضرت سعد بن معاذ ؓ سامنے سے آتے ہوئے ملے تو حضرت انس نے اُن سے کہا: اے ابو عمرو! تم کہاں ہو؟ واہ واہ، جنت کی خوش بو دار ہوا کیا ہی عمدہ ہے جو مجھے اُحد کے پیچھے سے آرہی ہے۔ پھر انھوں نے کافروں سے جنگ شروع کر دی یہاں تک کہ شہید ہوگئے اور اُن کے جسم میں تلوار اور نیزے اور تیر کے اَسّی سے زیادہ زخم پائے گئے۔ اُن کی بہن میری پھوپھی ربیع بنت نضر ؓ فرماتی ہیں کہ میں اپنے بھائی کو صرف اُن کے پوروں سے ہی پہچان سکی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: {مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِج فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُز وَمَا بَدَّلُوْْا تَبْدِیْلًا O}3 ایمان والوں میں کتنے مرد ہیں کہ سچ کر دکھلایا جس بات کا عہد کیا تھا اللہ سے،پھر کوئی تو اُن میں پورا کر چکا اپنا ذمہ، اور کوئی ہے اُن میں راہ دیکھ رہا اور بدلا نہیں ذرہ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ کا خیال یہ تھا کہ یہ آیت حضرت انس بن نضر اور اُن کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ 1 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے غزوۂ موتہ میں حضرت زید بن حارثہ ؓ کو امیر بنا کر بھیجا اور آپ نے فرمایا: اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر امیر ہوں گے ، اور اگر جعفر شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ امیر ہوں گے۔ حضرت عبد اللہ (بن عمر) فرماتے ہیں: میں بھی اس غزوہ میں مسلمانوں کے ساتھ گیا تھا۔ (لڑائی کے بعد) ہم نے حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کو تلاش کرنا شروع کیا تو ہم نے اُن کو شہیدوں میں پایا اور ہم نے اُن کے جسم میں تلوار اور تیر کے نوّے سے زیادہ زخم پائے۔ اور ان کی ایک روایت میں یہ ہے کہ اُن میں سے ایک بھی زخم ان کی پشت پر نہیںتھا (بلکہ سارے زخم اُن کے اگلے حصہ میں تھے)۔ 2 حضرت عمرو بن شُرَحْبِیل ؓ فرماتے ہیں کہ جب غزوۂ خندق کے دن حضرت سعد بن معاذ ؓ کو تیر لگا تو اُن کا خون حضور ﷺ پر گرنے لگا۔ حضرت ابو بکر ؓ آکر کہنے لگے: ہائے کمر ٹوٹ گئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا: خاموش رہو۔ پھر حضرت عمر ؓ آئے اور انھوں نے (حضرت سعد کی حالت دیکھ کر) کہا: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ 3 حضرت سعید بن عبید ثقفی ؓ فرماتے ہیں کہ غزوۂ طائف کے دن میں نے حضرت ابو سفیان بن حرب ؓکو ابو یعلیٰ کے باغ میں دیکھا کہ بیٹھے ہوئے کچھ کھا رہے ہیں۔ میں نے اُن کو تیر مارا جو اُن کی آنکھ میں لگا۔ چناںچہ وہ حضور ﷺ کی خدمت میں گئے اور عرض کیا: یارسول اللہ! یہ میری آنکھ ہے جو اللہ کے راستے میں ضائع ہوگئی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کر دوں جس سے تمہاری آنکھ تمہیں واپس مل جائے، اور اگر تم چاہو تو (تم صبر کرلو اور) تمہیں جنت مل جائے۔ حضرت ابو سفیان نے عرض کیا: مجھے تو جنت چاہیے (آنکھ نہیں چاہیے)۔ 1 حضرت قتادہ بن نعمان ؓ فرماتے ہیں کہ جنگِ بدر کے دن اُن کی آنکھ زخمی ہوگئی اور آنکھ کی پُتلی اُن کے رخسار پر لٹک گئی۔ لوگوں نے اسے کاٹنا چاہا۔ آگے پوری حدیث بیان کی جو آگے صحابہ ؓ کی تائید غیبی کے باب میں آئے گی اِن شاء اللہ۔ 2 حضرت رِفاعہ بن رافع ؓ فرماتے ہیں کہ جنگِ بدر کے موقع پر لوگ اُمیّہ بن خلف کے پاس جمع ہوگئے۔ ہم بھی اس کے پاس گئے۔میں نے دیکھا کہ اس کی زرہ کا ایک ٹکڑا اس کی بغل کے نیچے سے ٹوٹا ہوا ہے۔ میں نے اس پر تلوار زور سے مار ی۔ جنگِ بدر کے دن مجھے ایک تیر لگا جس سے میری آنکھ پھوٹ گئی۔ حضور ﷺ نے اس پر لعابِ مبارک لگایا اور میری آنکھ کے لیے ٹھیک ہونے کی دعا فرمائی، اس کے بعد مجھے کوئی تکلیف نہ رہی ۔ 3 صفحہ ۴۴۱ پر یحییٰ بن عبد الحمید کی حدیث گزر چکی ہے کہ اُن کی دادی بیان کرتی ہیں کہ حضرت رافع بن خدیج ؓ کو چھاتی میں ایک تیر لگا۔ اور صفحہ ۴۳۹ پر حضرت ابو السائب ؓ کی حدیث دعوت الی اللہ کی وجہ سے زخموں اور بیماریوں کے برداشت کرنے کے باب میں گزر چکی ہے کہ بنو عبد الاشہل کے ایک آدمی نے کہا کہ میں اور میرا بھائی غزوۂ اُحد میں شریک ہوئے، ہم دونوں (وہاں سے) زخمی ہوکر واپس ہوئے۔ پھر آگے حدیث بیان کی جس میں یہ ہے کہ اللہ کی قسم! ہمارے پاس سوار ہونے کے لیے کوئی سواری نہیں تھی اور ہم دونوں بھائی بہت زیادہ زخمی اور بیمار تھے۔ بہر حال ہم دونوں حضور ﷺ کے ساتھ چل دیے۔ میں اپنے بھائی سے کم زخمی تھا۔ جب چلتے چلتے میرا بھائی ہمت ہار جاتا تھا تو میں کچھ دیر کے لیے اسے اُٹھا لیتا پھر کچھ دیر وہ پیدل چلتا۔ (ہم دونوں اس طرح چلتے رہے اور میں بھائی کو بار بار اُٹھاتا رہا) یہاں تک کہ ہم بھی وہاں پہنچ گئے جہاں باقی مسلمان پہنچے تھے۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت براء ؓ نے مُسَیْلمہ (کذّ اب) سے جنگ کے دن اپنے آپ کو باغ والوں پر پھینک دیا۔ ( مُسَیْلمہ کے ساتھی ایک باغ میں داخل ہوگئے اور اندر سے انھوں نے دروازہ بن کرلیا تھا۔ باغ کے چاروں طرف دیوار تھی۔ حضرت براء اس دیوار کو پھلانگ کر اندر داخل ہوئے تھے) چناںچہ اندر جا کر انھوں نے اکیلے ہی لڑنا شروع کیا (اور اتنے زور سے حملہ کیا کہ دروازہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے) اور انھوں نے دروازہ کھول دیا۔ انھیں تیر اور تلوار کے اَسّی سے زیادہ زخم آچکے تھے۔ پھر اُن کو اُٹھا کر علاج کے لیے اُن کی قیام گاہ پر پہنچایا گیا، اور حضرت خالد ؓ (اُن کی تیمار داری اور علاج کے لیے) ایک مہینہ اُن کے پاس ٹھہرے رہے۔ 1 حضرت اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک ؓ اور اُن کے بھائی ملکِ عراق میں حریق مقام پر دشمن کے ایک قلعہ کے پاس تھے۔ دشمن کے آدمی گرم زنجیروں میں آنکڑے باندھ کر پھینک رہے تھے۔ (مسلمانوں میں سے) جو آدمی اس آنکڑے میں پھنس جاتا اسے وہ اپنی طرف کھینچ لیتے۔ چناںچہ انھوں نے حضرت انس کے ساتھ بھی ایسے ہی کیا ( انھیں آنکڑے میں پھنسا لیا) تو حضرت براء ؓ آگے بڑھے اور دیوار کی طرف دیکھتے رہے (جیسے ہی انھیں موقع ملا) انھوں نے ہاتھ سے اس زنجیر کو پکڑ لیا اور جب تک اس آنکڑے کی (پیچھے والی) رسی نہ کاٹ لی اس وقت تک اس گرم زنجیر کو ہاتھ سے پکڑے رکھا۔ اس کے بعد جب انھوں نے اپنے ہا تھوں کو دیکھا تو ہاتھوں کی ہڈیاں نظر آرہی تھیں اور گوشت جل کر ختم ہو چکا تھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت انس بن مالک ؓ کو بچا لیا۔ 2 ایک روایت میں اس طرح ہے کہ ایک آنکڑا حضرت انس بن مالک ؓ پر آگرا (جس میں وہ پھنس گئے)۔ دشمن نے حضرت انس کو کھینچنا شروع کیا یہاں تک کہ اُن کو زمین سے اٹھا لیا۔ (اُن کے بھائی) حضرت براء ؓ دشمن سے لڑ رہے تھے تو اُن کو لوگوں نے آکر کہا کہ اپنے بھائی کو بچا لو۔ چناںچہ وہ دوڑتے ہوئے آئے اور دیوار پر کُود کے چڑھ گئے، پھر اپنے ہاتھ سے اس گرم زنجیر کو پکڑ لیا وہ زنجیر گھوم رہی تھی۔ زنجیر کو پکڑ کر اسے کھینچتے رہے اور (گرم زنجیر کی وجہ سے اُن کے ہاتھوں کی کھال اور گوشت جلنے لگا اور پھر) اُن کے ہاتھو ں سے دھواں نکلتا رہا یہاں تک کہ انھوں نے (زنجیر کی) رسی کاٹ ڈالی۔ پھر انھوں نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا۔ آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا ہے۔ 1