صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا
شہادت کی تمنا اور اس کے لیے دعا کرنا
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر کچھ مؤمن ایسے نہ ہوتے جن کو میرے سے پیچھے رہ جانا بالکل پسند نہیں ہے، اور میرے پاس اتنی سواریا ں بھی نہیں ہیں جن پر میں اُن کو سوار کرا کر ہر سفر میں ساتھ لے جائوں، تو میں اللہ کے راستہ میں غزوہ کے لیے جانے والی کسی جماعت سے پیچھے نہ رہتا۔ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! میری یہ دلی آرزو ہے کہ مجھے اللہ کے راستہ میں شہید کیا جائے پھر مجھے زندہ کیا جائے، پھر شہید کیا جائے پھر مجھے زندہ کیا جائے، پھر شہید کیا جائے پھر مجھے زندہ کیا جائے، پھر مجھے شہید کیا جائے۔2
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے راستہ میں نکلے اللہ تعالیٰ اس کی ضمانت لیتے ہیں۔ چناںچہ فرماتے ہیں کہ اس کا یہ نکلنا صرف میرے راستہ میں جہاد کرنے اور مجھ پر ایمان رکھنے اور میرے رسولوں کی تصدیق کی وجہ سے ہو تو یہ میرے ذمہ ہے کہ یا تو میں اسے جنت میں داخل کروں گا یا اسے اَجر و ثواب اور مالِ غنیمت دے کر اس کے اس گھر کو واپس کروں گا جس میں سے اب نکل کر آیا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد(ﷺ) کی جان ہے! جو زخم بھی مسلمان کو اللہ کے راستہ میں لگتا ہے قیامت کے دن وہ زخم اسی حالت میں ہوگا جو حالت زخمی ہونے کے وقت تھی۔ اس کا رنگ تو خون والا ہوگا اور اس کی خوشبو مشک والی ہوگی۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! (سواری نہ ہونے کی وجہ سے پیچھے رہ جانے والے) مسلمانوں پر میرا (انھیں مدینہ چھوڑ کر) غزوہ میں جانا گراں نہ ہوتا تو میں اللہ کے راستہ میں جانے والی کسی جماعت سے پیچھے نہ رہتا، لیکن (کیا کروں؟) نہ تو میرے پاس اُن کو سواری دینے کی گنجایش ہے، اور نہ اس کی ان کے پاس گنجایش ہے، اورمیرے سے پیچھے رہ جانے پر انھیں بہت زیادہ گرانی ہوتی ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! یہ میری دلی آرزو ہے کہ میں اللہ کے راستہ میں جائوں اور مجھے قتل کر دیا جائے، پھر میں اللہ کے راستہ میں جائوں اور مجھے قتل کر دیا جائے، پھر میں اللہ کے راستہ میں جائوں اور مجھے قتل کر دیا جائے۔1
حضرت قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر ؓ نے لوگوں میں بیان فرمایا اور بیان میں یہ بات کہی کہ جنت ِعدن میں ایک محل ہے جس کے پانچ سو دروازے ہیں، اور ہر دروازے پر پانچ ہزار آہو چشم حوریں ہیں۔ اس میں (صرف تین قسم کے آدمی داخل ہوں گے: ایک تو) نبی داخل ہوگا۔ پھر حضور ﷺ کی قبر کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے قبر والے! آپ کو مبارک ہو۔ پھر فرمایا: یا صدّیق داخل ہوگا۔ پھر حضرت ابو بکر ؓ کی قبر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے ابوبکر! تمہیں مبارک ہو۔ پھر فرمایا: یا شہید داخل ہوگا۔ پھر اپنی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے عمر! تمہیں شہادت کا درجہ کہاں مل سکتا ہے؟ پھر فرمایا: جس اللہ نے مجھے مکہ سے نکال کر مدینہ کی ہجرت کی سعادت نصیب فرمائی، وہ اس بات پر قادر ہے کہ شہادت کو کھینچ کر میرے پاس لے آئے۔2
اور ایک روایت میں یہ ہے کہ اس کے بعد حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا کہ چناںچہ اللہ تعالیٰ نے اس بدترین انسان کے ہاتھوں آپ کو شہادت نصیب فرمائی جو کہ حضرت مغیرہ ؓ کا غلام تھا۔ 1
حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! مجھے اپنے راستے کی شہادت اور اپنے رسول ﷺ کے شہر کی موت نصیب فرما ۔2
حضرت حفصہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت عمر ؓکو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: اے اللہ! مجھے اپنے راستے کی شہادت اور اپنے نبی ﷺ کے شہر کی موت نصیب فرما۔ میں نے کہا: یہ (ان دو باتوں کا جمع ہونا) کیسے ہو سکتا ہے؟ تو حضرت عمر نے فرمایا: اللہ چاہے گا تو ایسے کر دے گا۔3
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن جحش ؓ نے اُن سے جنگ ِاُحد کے دن کہا: کیا تم اللہ سے دعا نہیں مانگتے ہو؟ اس پر وہ دونوں حضرات ایک کونے میں گئے اور پہلے حضرت سعد نے یہ دعا مانگی: اے میرے ربّ! کل کو جب میں دشمن سے لڑنے جائوں تو میرے مقابلہ میں ایسے بہادر کو مقرر فرما جو سخت حملہ والا ہو اور بہت غصہ والا ہو۔ میں اس پر زور دار حملہ کروں اور وہ مجھ پر سخت حملہ کرے۔ پھر مجھے اس پر فتح نصیب فرمایہاں تک کہ میں اسے قتل کر کے اس کا مالِ غنیمت لے لوں۔ حضرت عبد اللہ بن جحش نے آمین کہی۔ پھر انھوں نے دعا مانگی: اے اللہ! کل کو میدانِ جنگ میں ایک بہادر سے میرا مقابلہ کرا جوبہت غصہ والا اور سخت حملہ والاہو۔ میں اس پر تیری وجہ سے حملہ کروں اور وہ مجھ پر زور دار حملہ کرے، پھر وہ مجھے پکڑ کر میرے ناک اور کان کاٹ دے۔ پھر کل جب تیرے حضورمیں میری پیشی ہو تو تُو کہے کہ تیرے ناک اور کان کیوں کاٹے گئے؟ تو میں کہوں: تیری اور تیرے رسول کی وجہ سے۔ پھر تو کہے کہ ہاں! تم نے ٹھیک کہا۔ حضرت سعد فرماتے ہیں:ا ے میرے بیٹے! حضرت عبدا للہ بن جحش کی دعا میری دعا سے بہتر تھی۔ چناںچہ میں نے دن کے آخری حصہ یعنی شام کو دیکھا کہ اُن کے ناک اور کان ایک دھاگے میں پروئے ہوئے ہیں۔ 1
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن جحش ؓ نے یہ دعا مانگی: اے اللہ! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ کل جب میں دشمن سے ملوں تو وہ مجھے قتل کر کے میرے پیٹ کو پھاڑ دے، اور میرے ناک اور کان کاٹ دے، پھر تو مجھ سے پو چھے: یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ تو میں کہوں: (یہ سب کچھ) تیرے لیے ہوا۔حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ جیسے اللہ نے اُن کی قسم کا شروع والا حصہ پورا کر دیا ایسے ہی قسم کا آخری حصہ بھی ضرور پورا کریں گے۔ 2
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہت سے دو پرانی چادروں والے ایسے ہیں کہ اُن کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں کرتا، (لیکن) اگر وہ اللہ پر قسم کھالیں تو اللہ اُن کی قسم کو ضرور پورا کر دے، اوراُن لوگوں میں سے ایک حضرت براء بن مالک (ؓ) بھی ہیں۔ چناںچہ جب جنگِ تُسْتَر کے دن مسلمانوں کو شکست ہونے لگی تو لوگوں نے کہا: اے براء! اللہ کو قسم دے کر (فتح کی) دعا کرو۔ چناںچہ حضرت براء نے کہا: اے میرے ربّ! میں تجھے قسم دے کر کہتا ہوں کہ تو دشمن کے کندھے ہمارے ہاتھوں میں دے دے اور مجھے اپنے نبی ﷺ سے ملا دے (یعنی مجھے شہادت کی موت نصیب فرما اور مسلمانوں کو فتح عطا فرما)۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت براء اسی دن شہید ہو گئے۔ 3
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو خود بھی کمزور ہوتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی اُن کو کمزور سمجھتے ہیں۔ اُن کے پاس اوڑھنے کے لیے صرف دو پرانی چادریں ہوتی ہیں، لیکن اگر وہ اللہ پر قسم کھالیں تو اللہ اُن کی قسم کو ضرور پورا کر دے، اور اُن لوگوں میں سے حضرت براء بن مالک بھی ہیں۔ چناںچہ حضرت براء ؓ کا مشرکین کی ایک جماعت کے ساتھ مقابلہ ہوا اور اس دن مشرکوں نے مسلمانوں کو سخت جانی نقصان پہنچایا تھا۔ تو مسلمانوں نے کہا: اے براء! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر آپ اللہ پر قسم کھائیں تو اللہ آپ کی قسم کو ضرور پورا کر دیں گے، اس لیے (آج مسلمانوں کو شکست سے بچانے اور فتح دلوانے کے لیے) آپ اپنے ربّ پر قسم کھائیں۔ تو حضرت براء نے کہا: اے میرے ربّ! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو دشمن کے کندھے ہمارے ہاتھوں میں دے دے۔ (چناںچہ اس دن مسلمانوں کو فتح ہو گئی) اس کے بعدپھر سُوس کے شہر کے پل پر مسلمانوں کا مشرکوں سے مقابلہ ہوا۔ مشرکوں نے اس دن بھی مسلمانوں کو سخت جانی نقصان پہنچایا۔ اس پر مسلمانوں نے حضرت براء سے کہا: اے براء! آپ اپنے ربّ پر قسم کھائیں۔ چناںچہ انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! میں تجھے اس بات کی قسم دیتا ہوں کہ تو دشمن کے کندھے ہمارے ہاتھوں میں دے دے اور مجھے اپنے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ملا دے۔چناںچہ مسلمانوں کو مشرکوں پر فتح ہوئی اور حضرت براء خود شہید ہو گئے ۔ 1
حضرت حُمَیْد بن عبد الرحمن حِمیرِی کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے ایک صحابی کا نام حُممَہؓ تھا۔ وہ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں اَصفہان کے جہاد میں شریک ہوئے تو انھوں نے دعا مانگی: اے اللہ! حُممَہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ تیری ملاقات کو یعنی مرنے کو بہت زیادہ پسند کرتا ہے۔ اے اللہ! اگر وہ (اپنے اس دعوے میں) سچا ہے تو تو اس کی سچائی کی وجہ سے اسے اس کی ہمت و قوت نصیب فرما (کہ وہ خو شی خوشی تیرے راستہ میں شہادت کو گلے لگا لے)۔ اور اگر وہ (اپنے اس دعوے میں) جھوٹا ہے تو چاہے وہ اسے پسند نہ کرے لیکن تو اسے اپنے راستہ کی موت دے۔ آگے حدیث اور بھی ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ وہ اس دن شہید ہوگئے اور حضرت ابو موسیٰ ؓ نے فرمایا کہ بے شک یہ شہید ہیں۔ 1
اِمام احمد کی اسی روایت میں یہ مضمون بھی مزید ہے کہ حضرت حُممَہ کی دعا میں یہ بھی تھا کہ اگر یہ حُممَہ تیری ملاقات یعنی تیرے راستے کی موت کو ناگوار سمجھتا ہے تو چاہے یہ ناگوار سمجھے، تُواسے اپنے راستہ کی موت دے دے۔ اے اللہ! حُممَہ اپنے سفر سے اپنے گھر واپس نہ جاسکے۔ چناںچہ انھیں اسی سفر میں اللہ کے راستہ میں موت آگئی۔ حضرت عفان (راوی) نے ایک مرتبہ یوں بیان کیا کہ اُن کو پیٹ کی بیماری ہوگئی تھی جس سے وہ اَصفہان میں فوت ہو گئے تھے۔ (ان کے انتقال کے بعد) حضرت ابو موسیٰ ؓ نے کھڑے ہو کر فرمایا: اے لوگو! جو کچھ ہم نے تمہارے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے اور جہاں تک ہمارا علم ہے اس کے مطابق حضرت حُممَہ شہید ہی ہیں۔ 2
حضرت مَعقِل بن یسار ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے ہُرْمُزان (ایرانی لشکر کا سپہ سالار جو مسلمانوں سے شکست کھا کر حضرت عمر کے ہاتھ پر مسلمان ہو گیا تھا) سے مشورہ فرمایا کہ میں جہاد کہاں سے شروع کروں؟ فارس سے یا آذربائیجان سے یا اَصفہان سے؟ تو ہُرْمُزان نے کہا کہ فارس اور آذربائیجان تو دو پَر ہیں اور اَصفہان سر ہے، اگر تم ایک پَر کاٹ دو گے تو دوسرا کام دیتا رہے گا، اور اگر تم سر کاٹ دو گے دونوں پَر بے کار ہوجائیں گے اس لیے آپ سر سے یعنی اَصفہان سے شروع کریں۔ چناںچہ حضرت عمر مسجد میں تشریف لے گئے وہاں حضرت نعمان بن مقرِّ ن ؓ نماز پڑھ تھے، حضرت عمر اُن کے پاس جاکر بیٹھ گئے۔ جب انھوں نے اپنی نماز پوری کرلی تو ان سے حضرت عمر نے فرمایا کہ میں تم کو اپنا عامل بنانا چاہتا ہوں۔ تو حضرت نعمان نے فرمایا کہ مال جمع کرنے والا عامل تو میں بننا نہیں چاہتا ہوں، البتہ جان دینے والا عامل بننے کو تیار ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا: جان دینے والا عامل بنانا چاہتا ہوں۔ چناںچہ حضرت عمر نے اُن کو اَصفہان (لشکر کا امیر بنا کر)بھیجا۔ آگے اور حدیث ذکر کی۔
پھر یہ مضمون ہے کہ حضرت مغیرہ ؓ نے حضرت نعمان سے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے! لوگوں پر (دشمن کی طرف سے) تیزی سے (تیر) آرہے ہیں اس لیے آپ (دشمن پر جوابی) حملہ کردیں۔ حضرت نعمان نے فرمایا: اللہ کی قسم! آپ تو بہت سے فضائل و مناقب والے ہیں، میں کئی جنگوں میں حضور ﷺ کے ساتھ شریک ہوا ہوں (تو آپ کی عادت شریفہ یہ تھی) کہ جب دن کے شروع میں لڑائی شروع نہ فرماتے تو پھر لڑائی کو مؤخر فرماتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا، ہوائیں چل پڑتیں اور مدد اُترنے لگتی۔ پھر حضرت نعمان نے فرمایا: میں اپنے جھنڈے کو تین مرتبہ ہلاؤں گا، جب پہلی مرتبہ ہلاؤںتو ہر آدمی قضائے حاجت سے فارغ ہوکر وضو کرلے، اور جب دوسری مرتبہ ہلائوں تو ہر آدمی اپنے ہتھیار اور تسمے وغیرہ کو دیکھ کر ٹھیک کر لے، پھر جب تیسری مرتبہ ہلائوں تو تم سب حملہ کر دینا اور کوئی بھی کسی دوسرے کی طرف متوجہ نہ ہو حتیٰ کہ اگر نعمان بھی قتل ہو جائے تو کوئی اس کی طرف متوجہ نہ ہو۔ اور اب میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا تم میں سے ہر آدمی اس پر ضرور آمین کہے، اس کی میری طرف سے پوری تاکید ہے۔
پھر یہ دعا مانگی: اے اللہ! آج نعمان کو شہادت کی موت نصیب فرما اور مسلمانوں کی مدد فرما اور انھیں فتح نصیب فرما۔ پھر اپنا جھنڈا پہلی مرتبہ ہلایا، تھوڑی دیر کے بعد دوسری مرتبہ ہلایا، اس کے تھوڑی دیر بعد تیسری مرتبہ ہلایا۔ پھر اپنی زرہ پہنی، پھر انھوں نے حملہ کر دیا اور سب سے پہلے زخمی ہو کر زمین پر گرے۔
حضرت مَعقِل فرماتے ہیں کہ میں اُن کے پاس گیا، لیکن مجھے ان کی تاکید یاد آگئی اس لیے میں ان کی طرف متوجہ نہیں ہوا، البتہ ان کے پاس ایک نشانی رکھ کر چلا گیا۔ اور جب ہم (دشمن کے) کسی آدمی کو قتل کرتے تو اس کے ساتھی ہم سے لڑنا چھوڑ کر اسے اٹھا کر لے جانے میں لگ جاتے اور دشمن کا سردار ذُوالحاجبین اپنے خچر سے بری طرح گرا اور اس کا پیٹ پھٹ گیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دے دی۔ پھر میں حضرت نعمان کے پاس آیا، ابھی کچھ جان ان میں باقی تھی۔ اور میرے پاس ایک برتن میں پانی تھا جس سے میں نے ان کے چہرے سے مٹی کو دھویا۔ تو انھوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: مَعقِل بن یسار۔ پھر انھوں نے پوچھا: مسلمانوں کا کیا ہوا؟ میںنے کہا: اللہ نے اُن کو فتح نصیب فرما دی۔ انھوں نے کہا: الحمد اللہ! (اللہ کا شکر ہے) یہ بات حضرت عمر ؓ کو لکھ کر بھیج دو۔ اور پھر اُن کی روح پر واز کر گئی۔1
حضرت جبیر ؓ جنگ ِنہاوند کا واقعہ تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت نعمان ؓ نے فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ سفرِ جہاد میں تشریف لے جاتے اور شروع دن میں لڑائی نہ شروع فرماتے تو پھر جلدی نہ فرماتے (بلکہ انتظار فرماتے) یہاں تک کہ نماز کا وقت ہوجاتا اور ہوائیںچلنے لگ پڑتیں، اور جنگ عمدہ شکل اختیار کر سکتی (تو پھر آپ لڑائی شروع فرماتے)۔ میں اب حضور ﷺ کی اس عادت شریفہ کی وجہ سے لڑائی شروع نہیں کر رہا ہوں۔ پھر یہ دعا مانگی: اے اللہ! میں تجھ سے اس بات کا سوال کرتا ہوں کہ میری آنکھوں کو آج ایسی فتح سے ٹھنڈا فرما جس میں اِسلام کی عزّت ہو اور کافروں کی ذلت ہو۔ پھر اس کے بعد مجھے شہادت دے کر اپنے پاس بلا لے۔ (لوگوں سے مخاطب ہوکر کہا:) تم سب آمین کہو، اللہ تم سب پر رحم فرمائے! چناںچہ ہم سب نے آمین کہی اور ہم سب رو پڑے ۔ 2