صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا
صحابۂ کرام ؓ کے اللہ کے راستہ میں شوق شہادت کے قصے
حضرت ابو البَخْترِی اور حضرت مَیْسَرہ فرماتے ہیں کہ جنگِ صِفّین کے دن حضرت عمار بن یاسر ؓ لڑ رہے تھے لیکن شہید نہیں ہو رہے تھے۔ وہ حضرت علی ؓ کی خدمت میں جا کر کہتے: اے امیر المؤمنین! یہ فلاں دن ہے (یعنی حضور ﷺ نے مجھے جس دن شہید ہونے کی خوش خبری دی تھی وہ دن یہی ہے)۔ حضرت علی جواب میں فرماتے: ارے! اپنے اس خیال کو جانے دو۔ اس طرح تین مرتبہ ہوا۔ پھر اُن کے پاس دودھ لایا گیا جسے انھوں نے پی لیا پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ دودھ ہی وہ چیز ہے جسے میں دنیا سے جاتے وقت سب سے آخر میں پیوں گا۔ پھر کھڑے ہو کر جنگ کی یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔2
رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت ابو سنان دُوَلی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمار بن یاسر ؓ کو دیکھا کہ انھوں نے اپنے غلام سے پینے کی کوئی چیز منگوائی۔ وہ اُن کے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا۔ چناںچہ انھوں نے وہ دودھ پیا اور پھر فرمایا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا۔ آج میں اپنے محبوب دوستوں حضرت محمد ﷺ اور اُن کی جماعت سے (شہید ہو کر) ملوں گا۔ آگے مزید حدیث ذکر کی۔3
حضرت ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمار بن یاسر ؓ کو جنگ ِصفّین کے دن جس دن وہ شہید ہوئے اُونچی آواز سے یہ کہتے ہوئے سنا: میں جبار یعنی اللہ تعالیٰ سے ملوں گا اور حورِ عین سے شادی کروں گا۔ آج ہم اپنے محبوب دوستوں حضرت محمد ﷺ اور اُن کی جماعت سے ملیں گے۔ حضور ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ دنیا میں تمہارا آخری توشہ دودھ کی لسی ہوگی (اور وہ میں پی چکا ہوں اور میںاب دنیا سے جانے والا ہوں)۔1
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت براء بن مالک ؓ کے پاس آیا وہ کچھ گنگنا رہے تھے۔ میں نے اُن سے کہا: اللہ نے تمہیں ان اشعار کے بدلے ان سے بہتر چیز یعنی قرآن عطا فرمایا ہوا ہے (تم قرآن پڑھو )۔ا نھوں نے کہا: کیا تمہیں اس بات کا ڈر ہے کہ میں اپنے بستر پر مر جائوں گا؟ نہیں۔ اللہ کی قسم! اللہ مجھے اس (نعمتِ شہادت) سے محروم نہیں فرمائیں گے۔ میں اکیلا سو کافروں کو قتل کر چکا ہوں، اور جن کو میں نے دوسروں کے ساتھ مل کر قتل کیا ہے وہ ان کے علاوہ ہیں۔ 2
حاکم نے حضرت انس ؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ جب جنگ ِعَقَبہ کے دن فارس میں مسلمان شکست کھا کر ایک کونے میں سمٹ آئے تھے تو حضرت براء بن مالک ؓ کھڑے ہوکر اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور ایک آدمی اسے پیچھے سے ہانک رہا تھا۔ پھر انھوں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: تم نے اپنے مقابلہ والوں کو بری عادت ڈال دی ہے (کہ ہر دفعہ اُن سے شکست کھا لیتے ہو)۔ یہ کہہ کر انھوں نے دشمن پر ایسا حملہ کیا کہ اس سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرما دی اور وہ خود اس دن شہید ہو گئے۔
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ انھیں یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ جب حضرت عثمان بن مظعون ؓ کا طبعی موت سے انتقال ہوا اور انھیں شہادت کی موت نہ ملی تو اُن کا مقام میری نگاہ میں بہت کم ہو گیا۔ اور میں نے کہا کہ اس آدمی کو دیکھو کہ یہ دنیا سے بہت زیادہ کنارہ کش تھا اور یوں مر گیا ہے اور اسے شہادت نصیب نہیں ہوئی ہے۔ تو اُن کا درجہ یوں ہی میری نگاہ میں کم رہا یہاں تک کہ حضور ﷺ کا بھی وصال ہو گیا (اور انھیں شہادت نہ ملی) تو میں نے کہا کہ تیرا ناس ہو! ہمارے بہترین لوگ یوںہی (شہادت کے بغیر) وفات پا رہے ہیں۔ پھر حضرت ابو بکر ؓ کا بھی یوںہی انتقال ہوا تو میں نے کہا کہ تیر ا ناس ہو! ہمارے بہترین لوگ یوںہی وفات پا رہے ہیں۔چناںچہ حضرت عثمان ؓ کا میری نگاہ میں وہی درجہ ہو گیا جو اُن کا پہلے تھا ۔1