حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری

حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی بہادری

حضرت علی ؓ نے فرمایا: اے لوگو! مجھے بتائو لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟ لوگوں نے کہا: اے امیرالمؤمنین! آپ ہیں۔ حضرت علی نے فرمایا کہ میں جس دشمن کے مقابلہ کے لیے نکلا ہوں اس سے میں نے اپنا حق پورا لیا ہے (یعنی ہمیشہ اپنے دشمن کو شکست دی ہے میں پورا بہادر نہیں ہوں)، لیکن تم مجھے بتائو کہ لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟ لوگوں نے کہا کہ پھر ہم تو نہیں جانتے، آپ ہی بتائیں کہ کون ہے؟ انھوں نے کہا کہ وہ حضرت ابو بکر ؓ ہیں۔ چناںچہ جنگِ بدر کے موقع پر جب ہم نے رسول اللہ ﷺ کے لیے چھپّر بنایا تو ہم نے کہا کہ کون حضور ﷺ کے ساتھ رہے گا تاکہ کوئی مشرک آپ کی طرف نہ آسکے؟ اللہ کی قسم! اس وقت کوئی بھی حضور ﷺ کے ساتھ رہنے کی ہمت نہ کر سکا (دشمن کا خوف بہت ہی زیادہ تھا) بس ایک حضرت ابو بکر ہی ایسے تھے جو تلوار سونت کر حضور ﷺ کے سر ہانے کھڑے تھے۔ جب کوئی بھی حضور ﷺ کی طرف آنے کا ارادہ کرتا حضرت ابو بکر فوراً لپک کر اس کی طرف جاتے۔ یہ (حضرت ابو بکر ؓ) ہی تمام لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر ہیں۔ آگے اور حدیث بھی ذکر کی ہے۔1