حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری

حضرت عمر بن خطابؓ کی بہادری

حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میرے علم کے مطابق ہر ایک نے ہجرت چھپ کر کی، صرف حضرت عمر بن خطاب ؓ ایسے ہیں جنھوں نے علی الاعلان ہجرت کی۔ چناںچہ جب انھوں نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو اپنی تلوار گلے میں لٹکائی اور اپنی کمان کندھے پر ڈالی اور کچھ تیر (ترکش سے) نکال کر اپنے ہاتھ میں پکڑلیے اور بیت اللہ کے پاس آئے، وہاں صحن میں قریش کے کچھ سردار بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت عمر نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے، پھر مقام ِ ابراہیم کے پاس جا کر دو رکعت نماز پڑھی، پھر مشرکین کی ایک ایک ٹولی کے پاس آئے اور فرمایا: یہ تمام چہرے بد شکل ہوجائیں۔ جو آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کی ماں اس سے ہاتھ دھو بیٹھے اور اس کی اولاد یتیم ہو جائے اور اس کی بیوی بیوہ ہو جائے، وہ مجھ سے اس وادی کی پرلی جانب آکر ملے۔ (پھر آپ وہاں سے چل پڑے) ایک بھی آپ کے پیچھے نہ جا سکا ۔ 1