حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری
حضرت عباس بن عبد المطّلب ؓ کی بہادری
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حنظلہ بن ربیع ؓ کو غزوۂ طائف کے دن طائف والوں کے پاس بھیجا۔ چناںچہ حضرت حنظلہ نے اُن طائف والوں سے بات کی۔ طائف والے انھیں پکڑ کر اپنے قلعہ میں لے جانے لگے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو اُن آدمیوں سے حضرت حنظلہ کو چھڑا کر لائے؟ جو چھڑا کر لائے گا اسے ہمارے اس غزوے جیسا پورا اَجر ملے گا۔ اس پر صرف حضرت عباس بن عبد المطّلب ؓ کھڑے ہوئے اور طائف والے حضرت حنظلہ کو لے کر قلعہ میں داخل ہونے والے ہی تھے کہ حضرت عباس اُن تک پہنچ گئے۔ حضرت عباس بڑے طاقت ور آدمی تھے۔ ان لوگوں سے چھین کر انھوں نے حضرت حنظلہ کو گود میں اُٹھا لیا۔ ان لوگوں نے قلعہ سے حضرت عباس پر پتھروں کی بارش شروع کردی۔ حضور ﷺ حضرت عباس کے لیے (خیریت سے واپس پہنچ جانے کی) دعا کر نے لگے۔ آخر حضرت عباس حضرت حنظلہ کو لے کر حضور ﷺ تک پہنچ گئے۔ 1