حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری

حضرت مُعاذ بن عمرو بن جموح اور حضرت مُعاذ بن عضراء ؓ کی بہادری

حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ فرماتے ہیں کہ غزوۂ بدر کے دن میں (لڑنے والوں کی) صف میں کھڑا تھا۔ میں نے دیکھا کہ میرے دائیں اور بائیں جا نب اَنصار کے دو کم عمر لڑکے کھڑے ہیں۔ مجھے خیال ہوا کہ میں قوی اور مضبوط لوگوں کے درمیان ہوتا تو اچھا تھا (کہ ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کرسکتے، میرے دونوں جانب بچے ہیں یہ میری کیا مدد کرسکیں گے)۔ اتنے میں ان دونوں لڑکوں میں سے ایک نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: چچا جان! تم ابو جہل کو بھی جانتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں! پہچانتا ہوں۔ تمہاری کیا غرض ہے؟ اس نے کہا کہ مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گالیاں بکتا ہے۔ اس پاک ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر میں اسے دیکھ لوں تو اس وقت تک اس سے جدا نہ ہوں گا جب تک وہ نہ مر جائے یا میں نہ مرجائوں۔ مجھے اس کے سوال اور جواب پر تعجب ہوا۔ اتنے میں دوسرے نے بھی ہاتھ پکڑ کر یہی سوال کیا اور جو پہلے نے کہا تھا وہی اس نے بھی کہا۔ اتنے میں میدان میں ابو جہل دوڑتا ہوا نظر آیا۔ میں نے ان دونوں سے کہا کہ تمہارا مطلوب جس کے بارے میں تم سوال کر رہے تھے وہ جارہا ہے۔ دونوں یہ سن کر تلواریں ہاتھ میں لیے ہوئے ایک دم بھاگے چلے گئے اور جا کر اس پر تلوار چلانی شروع کر دی یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ دونوں حضور ﷺ کے پاس واپس آئے اور حضور ﷺ کو قصہ سنایا۔ حضور ﷺ نے فرمایا:ـ تم دونوں میں سے اسے کس نے قتل کیا ہے؟ دونوں میں سے ہر ایک نے کہا کہ میں نے اسے قتل کیا ہے۔ حضور ﷺ نے پوچھا: کیا تم دونوں نے اپنی تلواریں پونچھ لی ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ پھر حضور ﷺ نے ان دونوں کی تلواریں دیکھیں اور فرمایا کہ تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے۔ اور ابو جہل کے سامان کا حضرت معاذ بن عمروبن جموح ؓ کو دینے کا فیصلہ فرمایا۔ اور دوسرے نوجوان حضرت معاذ بن عفراء ؓ تھے۔ 1 ’’بخاری‘‘ میں ہے کہ حضرت عبد الرحمن ؓ فرماتے ہیں کہ میں غزوۂ بدر میں صف میں کھڑا ہوا تھا۔ جب میں نے دیکھا کہ میرے دائیں اور بائیں دو نو عمر لڑکے کھڑے ہوئے ہیں تو میں اُن کے یہاں ہونے سے مطمئن نہ ہوا۔ اتنے میں ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے چھپ کر مجھ سے کہا: اے چچا جان! مجھے ابو جہل دکھا دیں (کہ وہ کہاں ہے؟) میں نے کہا: اے میرے بھتیجے! تم اس کا کیا کرو گے؟ اس نے کہا: میں نے اللہ سے عہد کیا ہوا ہے کہ اگر میں اس کو دیکھ لوں تو میں اسے قتل کر دوں گا یا خود قتل ہو جائوں گا۔ دوسرے نے بھی اپنے ساتھی سے چھپ کر مجھے وہی بات کہی۔ (میں ان دونوں کی بہادری والی باتوں سے بڑا متأثر ہوا) اور میری یہ تمنا نہ رہی کہ میں ان دونوں کی بجائے دو اور مضبوط آدمیوں کے درمیان ہوتا۔ پھر میں نے ان دونوں کو ابو جہل کی طرف اشارہ کر کے بتایا۔ پھر ان دونوں نے شِکرے کی طرح ابوجہل پر حملہ کیا اور اس پر تلوار کے وار کیے۔ یہ دونوں عفراء کے بیٹے (معاذاور معوّذ) تھے (بظاہر ان دونوں کے ساتھ حضرت معاذ بن عمرو بن جموح ؓ بھی ابوجہل کے قتل میں شریک ہوئے ہیں )۔ حضرت ابنِ عباس اور حضرت عبداللہ بن ابی بکر ؓ فرماتے ہیں کہ بنو سَلِمہ کے حضرت معاذ بن عمرو بن جموح ؓ نے فرمایا کہ ابو جہل (غزوۂ بدر کے دن) درختوں کے جھنڈ جیسے لشکر میں تھا (اس کے چاروں طرف کافر ہی کافر تھے وہ بالکل محفوظ تھا)۔ میں نے لوگوں کو سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ ابو الحکم (یعنی ابو جہل) تک کوئی آدمی نہیں پہنچ سکتا ہے۔ جب میں نے یہ بات سنی تو اس تک پہنچ کر اسے قتل کرنے کو میں نے اپنا مقصد بنا لیا اور میں ابو جہل کے ارادے سے چل پڑا۔ جب وہ میرے نشانے پر آگیا تو میں نے اس پر حملہ کیا اور اسے ایسی تلوار ماری کہ اس کا پائوں آدھی پنڈلی سے اُڑ گیا۔ اللہ کی قسم! وہ پائوں ایسے اُڑ گیا جیسے کوٹتے ہوئے پتھر کے نیچے سے گٹھلی اُڑ جاتی ہے۔ ابو جہل کے بیٹے عکرمہ نے میرے کندھے پر تلوار مار کر اسے کاٹ دیا، لیکن بازو کھال میں لٹکا ہوا رہ گیا۔ لڑائی کے زور میں مجھے ہاتھ کی یہ تکلیف محسوس نہ ہوئی اور سارا دن میں ہاتھ پیچھے لٹکائے ہوئے لڑتا رہا، لیکن جب اس کے لٹکے رہنے سے تکلیف ہونے لگی تو میں نے اس کو پائوں کے نیچے دبا کر زور سے کھینچا جس سے وہ کھال ٹوٹ گئی جس سے وہ اٹک رہا تھا اور میں نے اس کو پھینک دیا ۔ 1