حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری

حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ کی بہادری

حضرت عروہ بن زُبیرؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت معاویہ ؓ کا اِنتقال ہو گیا تو حضرت عبد اللہ بن زُبیر نے یزید بن معاویہ کی اِطاعت سے اِنکار کر دیا اور یزید کو علی الاعلان برا بھلا کہنے لگے۔ یہ بات یزید کو پہنچی تو اس نے قسم کھائی کہ حضرت عبد اللہ بن زُبیر کو میرے پاس گلے میں طوق ڈال کر لایا جائے ورنہ میں اُن کی طرف لشکر بھیجوں گا۔ حضرت ابنِ زُبیر سے عرض کیا گیا (کہ آپ یزید کی قسم پوری کر دیں اور آپ کے مرتبہ کے مطابق اس کی صورت یہ ہے کہ) ہم آپ کے لیے چاندی کے طوق بنا لیتے ہیں اُن کو آپ کے گلے میں ڈال دیں گے، اور اُن کے اوپر آپ کپڑے پہن لیں۔ اس طرح آپ اس کی قسم پوری کر لیں گے اور پھر آپ کی اس سے صلح ہو جائے گی اور اس سے صلح کر لینا ہی آپ کے شان کے زیادہ مناسب ہے۔ حضرت عبد اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا: اللہ اس کی قسم کبھی پوری نہ کرے۔ اور یہ شعر پڑھا: وَلَا أَلِیْنُ لِغَیْرِ الْحَقِّ أُسْأَلُہٗ حَتّٰی یَلِیْنَ لِضِرْسِ الْمَاضِغِ الْحَجَرٗ اور جس ناحق بات کا مجھ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے میں اس کے لیے اس وقت تک نرم نہیں ہو سکتا ہوں جب تک چبانے والے کی ڈاڑھ کے لیے پتھر نرم نہ ہو جائے یعنی میرانرم پڑ جانا محال ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کی قسم! عزّت کے ساتھ تلوار کی مار مجھے ذلت کے ساتھ کوڑے کی مار سے زیادہ پسند ہے۔ پھر انھوں نے مسلمانوں کو اپنی خلافت پر بیعت کرنے کی دعوت دی اور یزید بن معاویہ کی مخالفت کا اظہار کیا۔ اس پر یزید بن معاویہ نے اہلِ شام کا لشکر دے کر مسلم بن عقبہ مُرِّی کو بھیجا اور اسے اہلِ مدینہ سے جنگ کرنے کا حکم دیا اور یہ بھی کہا کہ مسلم جب اہلِ مدینہ سے جنگ سے فارغ ہو جائے تو مکہ کی طرف روانہ ہو جائے۔ چناںچہ مسلم بن عقبہ لشکر لے کر مدینہ داخل ہوا اور حضور ﷺ کے جتنے صحابہ وہاں باقی تھے وہ سب مدینہ سے چلے گئے۔ مسلم نے مدینہ والوں کی توہین کی اور انھیں خوب قتل کیا۔ وہاں سے مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ ابھی راستہ میں ہی تھا کہ مسلم مر گیا۔ مسلم نے حصین بن نمیر کندی کو مرنے سے پہلے اپنا نائب مقرر کیا اور کہا: اے گدھے کی پالان والے! قریش کی مکاریوں سے بچ کر رہنا اور پہلے اُن سے لڑنا اور پھر انھیں چن چن کر قتل کرنا۔ چناںچہ وہاں سے حصین چلا اور مکہ پہنچ گیا اور کئی دن تک حضرت ابنِ زبیر ؓ سے مکہ میں لڑتا رہا۔ آگے مزید حدیث بھی ہے جس میں یہ مضمون بھی ہے کہ حصین بن نمیر کو یزید بن معاویہ کے مرنے کی خبر ملی تو حصین بن نمیر بھاگ گیا۔ جب یزید بن معاویہ کا انتقال ہو گیا تو مروان بن حکم خلیفہ بن گیا اور اس نے لوگوں کو اپنی خلافت کی اور اپنے سے بیعت ہو نے کی دعوت دی۔ آگے حدیث اور ہے جس میں یہ مضمون بھی ہے کہ پھر مروان بھی مر گیا اور عبد الملک خلیفہ بن گیا اور اس نے اپنے سے بیعت ہو نے کی دعوت دی۔ اس کی دعوت کو شام والوں نے قبول کر لیا۔ اور اس نے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور اس نے کہا: تم میں سے کون ابنِ زُبیر کو ختم کرنے کے لیے تیار ہے؟ حجاج نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں۔ عبد الملک نے اسے خاموش کر دیا۔ پھر حجاج کھڑا ہوا تو اسے عبد الملک نے پھر خاموش کر دیا۔ پھر تیسری مرتبہ حجاج نے کھڑے ہو کر کہا: اے امیر المؤمنین! میں تیارہوں، کیوںکہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں نے عبد اللہ بن زُبیر سے جُبَّہ چھین کر پہن لیا ہے۔ اس پر عبد الملک نے حجاج کو لشکر کا سپہ سالار مقرر کیا اور اسے لشکر دے کر مکہ بھیجا۔ اس نے مکہ پہنچ کر حضرت عبد اللہ بن زُبیر سے جنگ شروع کر دی۔ حضرت ابنِ زُبیر نے مکہ والوں کو ہدایت کی اور اُن سے فرمایا کہ ان دو پہاڑوں کو اپنی حفاظت میں رکھو، کیوںکہ جب تک وہ ان دو پہاڑوں پر چڑھ نہیں جاتے اس وقت تک تم خیریت کے ساتھ غالب رہو گے۔ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد حجاج اور اس کے ساتھی ابو قبیس پہاڑ پر چڑھ گئے اوراس پر انھوں نے مَنْجنِیق نصب کر دی، اور اس سے حضرت ابنِ زُبیر اور ان کے ساتھیوں پر مسجدِ حرام میں پتھر پھینکنے لگے۔ جس دن حضرت ابنِ زُبیر شہید ہوئے اس دن صبح کو وہ اپنی والدہ حضرت اسماء بنتِ ابی بکر ؓ کے پاس گئے۔ اس وقت حضرت اسماء کی عمر سو سال تھی لیکن نہ اُن کا کوئی دانت گرا تھا، نہ اُن کی نگاہ کمزورہوئی تھی۔ انھوں نے اپنے بیٹے حضرت ابنِ زُبیر کو یہ نصیحت فرمائی کہ اے عبد ا للہ! تمہاری جنگ کا کیا بنا ہے؟ انھوں نے بتایا کہ وہ فلاں فلاں جگہ پہنچ چکے ہیں اور وہ ہنس کر کہنے لگے کہ موت سے راحت ملتی ہے۔ حضرت اسماء نے کہا: اے بیٹے! ہو سکتا ہے کہ تم میرے لیے موت کی تمنا کر رہے ہو؟ لیکن میں چاہتی ہو ں کہ مرنے سے پہلے تمہاری محنت کا نتیجہ دیکھ لوں کہ یا تو تم بادشاہ بن جائو اور اس سے میرے آنکھیں ٹھنڈی ہوں، یا تمہیں قتل کر دیا جائے اور میں اس پر صبر کر کے اللہ سے ثواب کی اُمید رکھوں۔ پھر حضرت ابنِ زُبیر اپنی والدہ سے رخصت ہو نے لگے تو اُن کو والدہ نے یہ وصیت کی کہ قتل کے ڈر سے کسی دینی معاملہ کو ہاتھ سے نہ جانے دینا۔ پھر حضرت ابنِ زُبیر مسجدِ حرام تشریف لے گئے اور منجنیق سے بچنے کے لیے انھوں نے حجرِ اسود پر دو کواڑ لگا لیے۔ وہ حجرِ اسود کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے آکر اُن سے عرض کیا: کیا ہم آپ کے لیے کعبہ کا دروازہ نہ کھول دیں تاکہ آپ (سیڑھی کے ذریعہ) چڑھ کر اس کے اندر داخل ہو جائیں (اور یوں منجنیق کے پتھروں سے بچ جائیں)۔ حضرت ابنِ زُبیر نے اس پر ایک نگاہ ڈال کر فرمایا: تم اپنے بھائی کو موت کے علاوہ ہر چیز سے بچا سکتے ہو (اگر اس کی موت کا وقت آگیا ہے تو کعبہ کے اندر بھی آجائے گی)۔ اور کیا کعبہ کی حرمت اس جگہ سے زیادہ ہے؟ (یعنی جب وہ اس جگہ کا احترام نہیں کر رہے ہیں تو کعبہ کے اندر کا احترام بھی نہیں کریں گے)۔ اللہ کی قسم! وہ تم کو کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا بھی پائیں گے تو بھی تمہیں ضرور قتل کر دیں گے۔ پھر ان سے عرض کیا گیا :کیا آپ ان سے صلح کے بارے میں گفتگونہیں فرماتے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: کیا یہ صلح کی بات کرنے کا وقت ہے؟ اگر تم اُن کو کعبہ کے اندر بھی مل گئے تو وہ تم سب کو ذبح کر دیں گے۔ اور یہ شعر پڑھے: وَلَسْتُ بِمُبْتَاعِ الْحَیَاۃِ بِسُبَّۃٍ وَلَا مُرْتَقٍ مِنْ خَشْیَۃِ الْمَوْتِ سُلَّمًا اور میں کوئی عار والی چیز اختیار کر کے اس کے بدلے میں زندگی کو خریدنے والا نہیں ہوں، اور نہ موت کے ڈر سے کسی سیڑھی پر چڑھنے والا ہوں۔ أُنَافِسُ سَھْمًا إِنَّہٗ غَیْرُ بَارِحٍ مُلَا قِي الْمَنَایَا أَيَّ حَرْفٍ تَیَمَّمَا مجھے ایسے تیر کا شوق ہے جو اپنی جگہ سے نکل نہ سکے، اور کیا موت سے ملاقات کو چاہنے والا کسی اور طرف کا ارادہ کر سکتا ہے؟ اور پھر آلِ زُبیر کی طرف متوجہ ہوکر اُن کو نصیحت فرمانے لگے اور کہنے لگے کہ ہر آدمی اپنی تلوار کی ایسے حفاظت کرے جیسے اپنے چہرہ کی حفاظت کرتا ہے کہ کہیں وہ ٹوٹ نہ جائے، ورنہ عورت کی طرح ہاتھ سے اپنا بچائو کرے گا۔ میں نے ہمیشہ اپنے لشکر کے اگلے حصہ میں شامل ہو کر دشمن سے مقابلہ کیا ہے۔ اور مجھے زخم لگنے سے کبھی درد نہیں ہوا، اگر ہوا ہے تو زخم پر دوا لگانے سے ہوا ہے۔ یہ لوگ آپس میں اس طرح باتیں کر رہے تھے کہ اچانک کچھ لوگ باب بنی جمح سے اندر داخل ہوئے جن میں کالے رنگ کا ایک آدمی تھا۔ حضرت ابنِ زُبیر نے پوچھا: یہ لوگ کون ہیں؟ کسی نے کہا: یہ حمص والے ہیں۔ اس پر حضرت ابنِ زُبیر نے دو تلواریں لے کر اُن پر حملہ کر دیا۔ مقابلہ میں سب سے پہلے وہ کالا آدمی ہی آیا۔ انھوں نے تلوار مار کر اس کی ٹانگ اُڑا دی۔ اس نے تکلیف کی شدت کی وجہ سے کہا: ہائے، اے بدکار عورت کے بیٹے! (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ!) حضرت ابنِ زُبیر نے فرمایا: دفع ہو اے حام کے بیٹے! (کالے لوگ حضرت نوح ؑ کے بیٹے حام کی نسل میں شمار ہوتے ہیں) کیا حضرت اسماء بدکار ہو سکتی ہیں؟ پھر ان سب کو مسجد سے نکال کر واپس آئے۔ اتنے میں کچھ لوگ بابِ بنی سہم سے داخل ہوئے۔ انھوں نے پوچھا :یہ لوگ کون ہیں؟ کسی نے کہا: یہ اُردن والے ہیں۔ تو یہ شعر پڑھتے ہوئے اُن پر حملہ کیا: لَا عَھْدَ لِيْ بِغَارَۃٍ مِّثْلِ السَّیلِ لَا یَنْجَلِيْ غُبَارُھَا حَتَّی اللَّیْلِ میں نے سیلاب جیسی غارت گری نہیں دیکھی کہ جس کا غبار رات تک صاف نہ ہو۔ اور اُن کو مسجد سے نکال دیا۔ اتنے میں کچھ لوگ بابِ بنی مخزوم سے داخل ہوئے تو اُن پر یہ شعر پڑھتے ہوئے حملہ کیا: لَوْکَانَ قِرْنِيْ وَاحِدًا کَفَیْتُہٗ اگر میرا مقابل ایک ہوتا تو میں اس سے نمٹنے کے لیے کافی تھا۔ مسجد الحرام کی چھت پر اُن کے مدد گار کھڑے تھے جو (داخل ہونے والے) اُن کے دشمن پر اوپر سے اینٹیں وغیرہ پھینک رہے تھے۔ جب حضرت ابنِ زُبیر نے ان داخل ہونے والوں پر حملہ کیا تو اُن کے سر کے بیچ میں ایک اینٹ آکر لگی جس سے اُن کا سر پھٹ گیا تو کھڑے ہو کر یہ شعر پڑھا: وَلَسْنَا عَلَی الْأَعْقَابِ تُدْمٰی کُلُوْمُنَا وَلٰکِنْ عَلٰی أَقْدَامِنَا تَقْطُرُ الدِّمَا ہمارے زخموں کا خون ہماری ایڑیوں پر نہیں گرا کر تا ہے بلکہ ہمارے قدموں پر گرا کرتا ہے یعنی ہم بہادر ہیں، ہمیں جسم کے اگلے حصے پر زخم آتا ہے پچھلے حصے پر نہیں آتا ہے۔ اس کے بعد وہ گر گئے تو اُن کے دو غلام ان پر یہ کہتے ہوئے جھکے کہ غلام اپنے آقا کی حفاظت کرتا ہے اور اپنی بھی حفاظت کرتا ہے۔ پھر دشمن کے لوگ چل کر اُن کے قریب آگئے اور انھوں نے اُن کاسر کاٹ لیا۔ 1 حضرت اسحاق بن ابی اسحاق فرماتے ہیں کہ جس دن حضرت ابنِ زُبیر ؓ مسجدِ حرام میں شہید کیے گئے، میں وہاں موجود تھا۔ (میں نے دیکھا کہ) لشکر مسجدِ حرام کے دروازے سے داخل ہونے لگے۔ جب بھی کسی دروازے سے کچھ لوگ داخل ہوتے تو اُن پر حضرت ابنِ زُبیر اکیلے حملہ کر کے اُن کو مسجد ِحرام سے نکال دیتے۔ وہ اسی طرح بہادری سے لڑ رہے تھے کہ اتنے میں مسجد کے کنگروں میں سے ایک کنگر ااُن کے سر پر آگرا جس سے نڈھال ہو کر وہ زمین پر گر پڑے اور وہ یہ اَشعار پڑ ھ رہے تھے: أَسْمَائُ إِنْ قُتِلْتُ لَا تَبْکِیْنِيْ لَمْ یَبْقَ إِلَّا حَسَبِيْ وَدِیْنِيْ وَصَارِمٌ لَا نَتْ بِہٖ یَمِیْنِي اے میری اماں جان حضرت اسماء! اگر مجھے قتل کر دیا جائے تو آپ مجھے بالکل نہ روئیں، کیوںکہ میری خاندانی شرافت اور میرا دین محفوظ اور باقی ہے، اور وہ کاٹنے والی تلوار باقی رہ گئی ہے جس کو پکڑنے سے میرا دایاں ہاتھ کمزور اور نرم پڑتا جارہا ہے۔ 1