حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری
اللہ کے راستہ سے بھاگ جانے والے پر نکیر
حضرت اُمِّ سلمہ ؓ نے حضرت سلمہ بن ہشام بن مغیرہ کی بیوی سے کہا: کیا ہوا حضرت سلمہ حضور ﷺ اور عام مسلمانوں کے ساتھ نماز (باجماعت) میں شریک ہوتے ہوئے مجھے نظر نہیں آتے؟ اُن کی بیوی نے کہا کہ اللہ کی قسم! وہ (گھر سے) باہر نکل نہیں سکتے، کیوں کہ جب بھی وہ باہر نکلتے ہیں لوگ شور مچا دیتے ہیں: اے بھگوڑے! کیا تم اللہ عزّوجل کے راستے سے بھاگے تھے؟ اس وجہ سے وہ اپنے گھر ہی میں بیٹھ گئے اور باہر نہیں نکلتے تھے۔ اور یہ غزوۂ موتہ میں حضرت خالد بن ولید ؓ کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔2
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میرے اور میرے چچا زاد بھائی کے درمیان بات بڑھ گئی۔ اس نے کہا: کیا تم غزوۂ موتہ میں بھاگے نہیں تھے؟ مجھے کچھ سمجھ نہ آیا میں اسے کیا جواب دوں؟ 1