حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری

رمضان شریف میں اللہ کے راستے میں نکلنا

حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضور ﷺ کے ساتھ غزوۂ بدر اور فتحِ مکہ کا سفر رمضان شریف میں کیا۔ 3 حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دو غز وں کا سفر حضور ﷺ کے ساتھ رمضان شریف میں کیا: ایک غزوۂ بدر کا، اور دوسرے فتح مکہ کا۔ اور ہم نے دونوں میں روزہ نہیں رکھا تھا ۔ 4 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ تین سو تیرہ تھے، جن میں مہاجرین چھہتّر تھے۔ اور کفار کو بدر میں سترہ رمضان کو جمعہ کے دن شکست ہوئی تھی۔5 امام بزّار نے بھی یہی روایت ذکر کی ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ اہلِ بدر تین سو دس سے کچھ زیادہ تھے اور ان میں اَنصار دو سو چھتّیس تھے۔ اور اس دن مہاجرین کا جھنڈاحضرت علی ؓ کے پاس تھا۔ 6 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ اپنے سفر میں تشریف لے گئے اور حضرت ابو رُہم کلثوم بن حصین بن عتبہ بن خَلَف غِفاری ؓ کو مدینہ میں اپنا خلیفہ بنا کر گئے اور دس رمضان کو حضور ﷺ نے یہ سفر شروع فرمایا۔ آپ نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا اور آپ کے ساتھ تمام لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا۔ جب آپ عُسْفان اور مقام ِ اُمج کے درمیان کدید چشمہ پر پہنچے تو آپ نے روزہ افطار فرما دیا۔ پھر وہاں سے چل کر آپ مرّالظہران جا کر ٹھہرے۔ آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ تھے۔ 1 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ فتحِ مکہ کے سال (فتحِ مکہ کے لیے) رمضان شریف میں تشریف لے گئے اور مقام ِ کدید پہنچنے تک آپ نے روزہ رکھا (اور وہاں پہنچ کر کھول دیا)۔ 2 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ فتحِ مکہ کے سال رمضان شریف میں تشریف لے گئے اور آپ نے روزہ رکھا ہوا تھا اور راستہ میں ٹھیک دوپہر کے وقت مقامِ قُدَید پر آپ کا گزر ہوا۔ لوگوں کو پیاس لگ گئی اور لوگ (پانی کی تلاش میں) گردنیں لمبی کرنے لگے اور وہ پانی پینے کے لیے بے تاب ہوگئے۔ اس پر حضور ﷺ نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا یہاں تک کہ سب لوگوں نے پیالہ دیکھ لیا، پھر آپ نے پانی پیا اور باقی سب لوگوں نے بھی پانی پیا ۔3