صحابۂ کرام ؓکا باہمی اتحاد اور اتفاق رائے کا اہتمام کرنا
خلافت لوگوں کو واپس کرنا
حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: اے لوگو! اگر تمہارا یہ گمان ہے کہ میں نے تمہاری یہ خلافت اس لیے لی ہے کہ مجھے اس کے لینے کا شوق تھا، یا میں تم پر اور مسلمانوںپر فوقیت حاصل کرنا چاہتاتھا تو ایسی بات ہر گز نہیں ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! میں نے یہ خلافت نہ تو اپنے شوق سے لی ہے، اور نہ تم پر اور نہ کسی مسلمان پر فوقیت حاصل کرنے کے لیے لی ہے، اور (زندگی بھر) نہ کسی رات میں، نہ کسی دن میں میرے دل میں اس کی طلب پیدا ہوئی، اور نہ کبھی چھپ کر اور نہ کبھی علی الاعلان میں نے اللہ سے اسے مانگا ہے۔ اور میں نے بڑی بھاری ذمہ داری اٹھا لی ہے جس کی مجھ میںطاقت نہیںہے،ہاں اگراللہ میری مدد فرمائے (تواوربات ہے)۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ حضور ﷺ کا کوئی صحابی اس خلافت کو سنبھال لے بشرطیکہ وہ اس میں انصاف سے کام لے۔ لہٰذا یہ خلافت میں تمہیں واپس کرتا ہوں اور تمہاری مجھ سے بیعت ختم۔ تم جسے چاہو اسے خلافت دے دو،میں تم میں کا ایک آدمی بن کر رہوں گا۔1
حضرت عیسیٰ بن عَطیّہ کہتے ہیں: حضرت ابو بکر ؓ نے اپنی بیعت سے اگلے دن کھڑے ہو کر لوگوںمیںبیان فرمایا: اے لوگو! (میرے خلیفہ بنانے کے بارے میں) تمہاری جو رائے ہے وہ میں نے تم کو واپس کر دی ہے، کیوںکہ میںتمہارا بہترین آدمی نہیں ہوں۔ تم اپنے بہترین آدمی سے بیعت ہوجائو۔ تمام لوگوںنے کھڑے ہو کر کہا: اے رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ! اللہ کی قسم! آپ ہمارے بہترین آدمی ہیں۔ پھر حضرت ابو بکر نے فرمایا: اے لوگو! لوگ اسلام میں خوشی اور ناخوشی (دونوںطرح) داخل ہوئے ہیں، لیکن اب وہ سب اللہ کی پناہ او ر اس کے پڑوس میں ہیں،اس لیے تم اس کی پوری کوشش کروکہ اللہ تعالیٰ تم سے اپنی ذمّہ داری کا کچھ بھی مطالبہ نہ کرے (یعنی کسی مسلمان کو کسی طرح کی تکلیف نہ پہنچائو)۔ میرے ساتھ بھی ایک شیطان رہتا ہے۔ جب تم دیکھو کہ مجھے غصہ آگیا ہے تو پھر تم مجھ سے الگ ہو جائو، کہیں میں تمہارے بالوں یا کھالوں کو تکلیف نہ پہنچا دوں۔ اے لوگو! اپنے غلاموں کی آمدن کی تحقیق کر لیا کرو ( کہ حلال ہے یا حرام) اس لیے کہ جس گوشت کی پرورش حرام مال سے ہو وہ جنت میں داخل ہو نے کے لائق نہیں ۔ غور سے سنو! اپنی نگاہوں سے میری نگرانی کرو۔ اگر میں سیدھاچلوںتوتم میری مدد کرو اور اگر میں ٹیڑھا چلوں تو تو تم مجھے سیدھا کردو۔ اگر میں اللہ کی اطاعت کروں تو تم میری بات مانو اور اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو تم میری بات نہ مانو۔1
حضرت ابو الجحّاف کہتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر ؓ سے لوگوں نے بیعت کرلی تو انھوں نے تین دن تک اپنادروازہ بند کیے رکھا اورروزانہ باہر آکر لوگوں سے کہتے تھے: اے لوگو! میں نے تم کو تمہاری بیعت واپس کر دی ہے، لہٰذا اب تم جس سے چاہوبیعت ہوجائو۔ اور ہر مرتبہ حضرت علی بن ابی طالب ؓکھڑے ہو کر کہتے: نہ ہم آپ کی بیعت واپس کرتے ہیں اور نہ آپ سے بیعت کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حضور ﷺ نے (اپنی زندگی میںمسلمانوںکی امامت کے لیے) آپ کو آگے بڑھا یاتھا، اب کون آپ کو پیچھے کر سکتا ہے۔2
حضرت زید بن علی اپنے آباء (یعنی بڑوں) سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے منبر پر کھڑے ہو کر تین مرتبہ فرمایا: کیا کوئی میری بیعت کو ناپسند سمجھنے والا ہے تاکہ میں اس کی بیعت واپس کر دوں؟ اور ہر مرتبہ حضرت علی بن ابی طالب ؓکھڑے ہو کر کہتے: نہ ہم آپ کی بیعت واپس کرتے ہیں اور نہ آپ سے بیعت کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ نے آپ کو آگے بڑھایا ہے تو اب آپ کو کون پیچھے کر سکتا ہے۔3