صحابۂ کرام ؓکا باہمی اتحاد اور اتفاق رائے کا اہتمام کرنا
کسی دینی مصلحت کی وجہ سے خلافت قبول کرنا
حضرت رافع بن ابو رافع کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے حضرت ابو بکر ؓ کو خلیفہ بنایا تو میں نے کہا: یہ تو میرے وہی ساتھی ہیں جنھوں نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں دو آدمیوں کا بھی امیر نہ بنوں (اور خود سارے مسلمانوں کے امیر بن گئے ہیں)۔ چناںچہ میں (اپنے گھر سے) چل کر مدینہ پہنچا اور میں نے حضرت ابو بکر کے سامنے آکر ان سے عرض کیا: اے ابو بکر! کیاآپ مجھ کو پہچانتے ہیں؟ حضرت ابو بکر نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: کیا آپ کو وہ بات یاد ہے جو آپ نے مجھے کہی تھی کہ میں دوآدمیوں کا بھی امیر نہ بنوں؟ اور آپ خود ساری امت کے امیر بن گئے ہیں۔ (یعنی آپ نے جو مجھے نصیحت کی تھی خود اس کے خلاف عمل کر رہے ہیں) حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے تھے اور لوگ زمانۂ کفر کے قریب تھے، (کچھ عرصہ پہلے ہی انھوں نے کفر چھوڑا تھا) مجھے اس بات کا ڈر ہوا کہ ( اگر میں خلیفہ نہ بنا تو) لوگ مرتد ہو جائیں گے اور اُن میں اختلاف ہو جائے گا۔ مجھے خلافت نا پسند تھی، لیکن میں نے(اُمّت کے فائدے کی وجہ سے) قبول کرلی اور میرے ساتھی برابر مجھ پر تقاضا کرتے رہے۔ حضرت ابو بکر اپنے اَعذار بیان فرماتے رہے یہاں تک کہ میر ادل مان گیا کہ واقعی یہ (خلافت کے قبول کرنے میں) معذورہیں۔1