خُلَفَا اور اُمرَا کا احترام کرنا اور اُن کے احکامات کی تعمیل کرنا

رعایا پر امیر کے حقوق

حضرت سَلَمہ بن شہاب عبدی ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے فرمایا: اے رعایا کے لوگو! ہمارے تم پر کچھ حقوق ہیں۔ ہماری غیر موجودگی میں بھی تم ہمارے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرو (ہماری موجودگی میں تو کرنا ہی ہے) اور خیر کے کاموں میں ہماری مدد کرو۔ اور اللہ کے نزدیک امام کی بُرد باری اور نرمی سے زیادہ محبوب، اور لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند کوئی چیز نہیں ہے۔ اور امام کے جہالت والے رویے سے زیادہ کوئی مبغوض اللہ کے نزدیک کوئی چیزنہیں ہے۔1 حضرت عبد اللہ بن عکیم ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک کوئی بُردباری امام کی بُردباری اور نرمی سے زیادہ محبوب نہیں ہے، اور اللہ کے نزدیک کوئی جہالت امام کی جہالت سے زیادہ مبغوض نہیںہے۔ اور اپنے ساتھ پیش آنے والے معاملات میں جو آدمی عفو ودرگزر سے کام لے گا اسے عافیت ملے گی۔ اور جو اپنی ذات کے بارے میں لوگوں سے انصاف کرے گا اسے اپنے کام میں کامیابی ملے گی۔ اور اِطاعت میں ذلّت برداشت کرنا گنا ہوں میں ظاہری عزت ملنے سے نیکی کے زیادہ قریب ہے۔2