خُلَفَا اور اُمرَا کا احترام کرنا اور اُن کے احکامات کی تعمیل کرنا
ظاہری اعمال کے مطابق فیصلہ کرنا
حضرت عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود ؓکہتے ہیں: میں نے حضرت عمر بن خطّاب ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں لوگوں کے ساتھ وحی کے مطابق معاملہ کیا جاتا تھا (جس میں بعض دفعہ ان کے چھپے ہوئے کاموں کے مطابق اللہ تعالیٰ فیصلہ کیا کرتے تھے)۔ اور اب وحی کا سلسلہ بند ہوگیا ہے، اب ہم تمہارے ظاہری اعمال کے مطابق معاملہ کریں گے۔ جو ہمارے سامنے اچھے کام کرے گا ہم اسے امین سمجھ کر اپنے قریب کریں گے، ہمیں اس کے اندرونی اعمال سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا، اس کے اندرونی اعمال کا اللہ ہی محاسبہ فرمائیں گے۔ اور جو ہمارے سامنے برے کام کرے گا نہ ہم اسے امین سمجھیں گے اور نہ اسے سچا مانیں گے اگرچہ وہ یہ کہتا رہے کہ اس کا اندرون بہت اچھا ہے۔1
حضرت حسن ؓ کہتے ہیں: (خلیفہ بننے کے بعد) حضرت عمر ؓ نے سب سے پہلے جو بیان فرمایا وہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنابیان کی اس کے بعدفرمایا:
اَما بعد! (اب میرا تم سے واسطہ پڑگیا ہے) میری آزمایش تمہارے ذریعہ سے ہوگی اور تمہاری میرے ذریعہ سے۔ اور میرے دونوں ساتھیوں (حضور ﷺ اور حضرت ابو بکر ؓ) کے بعد مجھے تم لوگوں کا خلیفہ بنا دیا گیا ہے۔ جو ہمارے پاس موجود ہوگا اس سے تو ہم خود معاملہ کرلیں گے، اور جو ہم سے غائب ہوگا اس پر ہم طاقت ور اور امانت دار آدمی کو امیر بنائیں گے۔ لہٰذا اب جو شخص اچھی طرح چلے گا اس کے ساتھ ہم اچھا سلوک کریں گے، اور جو غلط چلے گا اسے ہم سزا دیں گے۔ اللہ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے۔2