خُلَفَا اور اُمرَا کا احترام کرنا اور اُن کے احکامات کی تعمیل کرنا

باری باری لشکر بھیجنا

حضرت عبد اللہ بن کعب بن مالک ؓ فرماتے ہیں: اَنصار کا ایک لشکر اپنے امیر کے ساتھ ملکِ فارس میں تھا۔ ہر سال حضرت عمر ؓ باری باری لشکر بھیجا کرتے تھے، (دوسرا لشکر بھیج کر پہلے لشکر کو بلا لیا کرتے تھے) لیکن اس سال حضرت عمر اور کاموں میں مشغول رہے جس کی وجہ سے بعد میں دوسرا لشکر نہ بھیج سکے۔ جب مقرر کردہ وقت پورا ہوگیا تو اس سرحد والا (اَنصار کا) لشکر واپس آگیا۔ (حضرت عمر ؓ نے ان کی جگہ پر کام کرنے والا لشکر ابھی بھیجا نہیں تھا اس لیے) حضرت عمر ان سے ناراض ہوئے اور انھیں خوب دھمکایا اور یہ سب حضور ﷺ کے صحابہ تھے۔ تو انھوں نے کہا: اے عمر! آپ تو ہمیں بھول گئے اور حضور ﷺ نے ہمارے بارے میں آپ کو یہ حکم دیا تھا کہ باری باری لشکر بھیجتے رہنا ، آپ نے اس پر عمل نہیںکیا۔1