حضورِ اکرم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کا عدل واِنصاف
حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا عدل واِنصاف
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں: حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے جمعہ کے دن کھڑے ہو کر فرمایا: جب صبح ہو تو تم صدقہ کے اونٹ ہمارے پاس لے آؤ ہم انھیں تقسیم کریں گے اور ہمارے پاس اجازت کے بغیر کوئی نہ آئے۔ ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا: یہ نکیل لے جاؤ شاید اللہ تعالیٰ ہمیں بھی کوئی اُونٹ دے دے۔ چناںچہ وہ آدمی گیا۔ اس نے دیکھا کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ؓ اونٹوں میں داخل ہو رہے ہیں، یہ بھی ان دونوں حضرات کے ساتھ داخل ہوگیا۔ حضرت ابو بکر نے اسے دیکھ کر فرمایا: تم ہمارے پاس کیوں آگئے؟ پھر اس کے ہاتھ سے نکیل لے کر اسے ماری۔ جب حضرت ابوبکراُونٹوں کی تقسیم سے فارغ ہوئے تو اس آدمی کو بلایا اور اسے نکیل دی اور فرمایا: تم اپنا بدلہ لے لو۔ تو حضرت عمر نے ان سے کہا: اللہ کی قسم! یہ آپ سے بدلہ بالکل نہیں لے گا، آپ اسے مستقل عادت نہ بنائیں (کہ امیر تنبیہ کرنے کے لیے کسی کو سزا دے تو اس سے بدلہ لیا جائے)۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: مجھے قیامت کے دن اللہ سے کون بچائے گا؟ (ان حضرات میں اللہ کا خوف بہت زیادہ تھا) حضرت عمر نے کہا: آپ (اسے کچھ دے کر) راضی کرلیں۔ حضرت ابو بکر نے اپنے غلام سے کہا: تم میرے پاس ایک اُونٹ، اس کا کجاوہ اور ایک کمبل اورپانچ دینار لاؤ۔ چناںچہ یہ سب کچھ اس آدمی کو دے کر اسے راضی کیا۔1