حضورِ اکرم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کا عدل واِنصاف
حضرت عمر فاروق ؓ کا عدل واِنصاف
حضرت شَعبی ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر اور حضرت اُبی بن کعب ؓ کے درمیان (کھجور کے ایک درخت کے بارے میں) جھگڑا ہوگیا۔ حضرت عمر نے فرمایا: آؤ ہم آپس کے فیصلے کے لیے کسی کو ثالث مقرر کرلیتے ہیں۔ چناںچہ ان دونوں حضرات نے حضرت زید بن ثابت ؓ کو اپنا ثالث بنالیا۔ یہ دونوں حضرات حضرت زید کے پاس گئے اور حضرت عمر نے فرمایا: ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ آپ ہمارے درمیان فیصلہ کر دیں۔ (اور امیر المؤمنین ہو کر میں خود آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں کیوںکہ قاعدہ یہ ہے کہ) فیصلہ کروانے والے خود ثالث کے گھر آیا کرتے ہیں۔ جب دونوں حضرات حضرت زید کے پاس اندر داخل ہوئے تو حضرت زید نے حضرت عمر کو اپنے بستر کے سرہانے بٹھانا چاہا او ر یوں کہا: اے امیرالمؤمنین! یہاں تشریف رکھیں۔ حضرت عمر نے ان سے فرمایا: یہ پہلا ظلم ہے جو آپ نے اپنے فیصلہ میں کیا ہے، میں تو اپنے فریقِ مخالف کے ساتھ بیٹھوں گا۔ حضرت اُبی نے اپنا دعویٰ پیش کیا جس کا حضرت عمر نے انکار کیا۔ حضرت زید نے حضرت اُبی سے کہا: (قاعدہ کے مطابق اِنکار کرنے پر مُدَّعا علیہ کو قسم کھانی پڑتی ہے، لیکن میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ) آپ امیر المؤمنین کو قسم کھانے کی زحمت نہ دیں، اور میں امیر المؤمنین کے علاوہ کسی اور کے لیے یہ درخواست نہیں کرسکتا۔ حضرت عمر نے (اس رعایت کو قبول نہ کیا بلکہ) قسم کھائی۔ اور انھوں نے قسم کھا کر کہا: حضرت زید صحیح قاضی تب بن سکتے ہیں جب کہ ان کے نزدیک عمراور ایک عام مسلمان برابر ہو۔1
ابنِ عساکر نے اسی قصہ کو شعبی سے نقل کیا اور اس میں یہ ہے کہ کھجور کے ایک درخت کے کاٹنے میں حضرت اُبی بن کعب اور حضرت عمر بن خطّاب ؓ میں جھگڑا ہوگیا۔ اس پر حضرت اُبی رو پڑے اور فرمایا: اے عمر! کیا تمہاری خلافت میں ایسا ہو رہا ہے؟ حضرت عمر نے فرمایا: آؤ آپس کے فیصلے کے لیے کسی کو ثالث مقرر کرلیتے ہیں۔ حضرت اُبی نے کہا: حضرت زید کو ثالث بنالیتے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: مجھے بھی پسند ہیں۔ چناںچہ دونوں حضرات گئے اور حضرت زیدکے پاس اندر داخل ہوئے۔ آگے پیچھے جیسی حدیث ذکر کی۔2
حضرت زید بن اسلم ؓکہتے ہیں: حضرت عباس بن عبد المطلب ؓ کا ایک گھر مدینہ منوّرہ کی مسجدِ (نبوی) کے بالکل ساتھ تھا۔ حضرت عمر ؓ نے اسے مسجد میں شامل کرنا چاہا تو حضرت عباس سے فرمایا: آپ یہ گھر میرے ہاتھ بیچ دیں۔ حضرت عباس نے انکار کر دیا۔ حضرت عمر نے کہا: آپ یہ گھر مجھے ہدیہ ہی کر دیں۔ وہ یہ بھی نہ مانے۔ پھر حضرت عمر نے کہا: آپ خود ہی یہ گھر مسجد میں شامل کردیں۔ انھوں نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ حضرت عمر نے کہا: آپ کو ان تین کاموں میں سے کوئی ایک کام تو کرنا ہی پڑے گا، لیکن حضرت عباس پھر بھی تیار نہ ہوئے۔ حضرت عمر نے کہا: اچھا،پھر کسی کو آپ ثالث مقرر کرلیں جو ہمارا فیصلہ کردے۔انھوں نے حضرت اُبی بن کعب ؓ کو مقرر کیا۔ یہ دونوں حضرات اپنا مقدمہ ان کے پاس لے گئے۔ حضرت اُبی نے حضرت عمر سے کہا: میرا فیصلہ یہ ہے کہ آپ ان کی مرضی کے بغیر ان سے یہ گھر نہیں لے سکتے۔ حضرت عمر نے ان سے پوچھا: آپ کویہ فیصلہ اللہ کی کتاب یعنی قرآن میں ملا ہے یا حضور ﷺ کی حدیث میں؟ انھوں نے کہا: حضور ﷺ کی حدیث میں۔ حضرت عمر نے پوچھا: وہ حدیث کیا ہے؟ حضرت اُبی نے کہا: میںنے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت سلیمان بن داؤد ؑ نے جب بیت المقدس کی تعمیر شروع کی تو جب بھی وہ کوئی دیوار بناتے تو صبح کو وہ گری ہوئی ہوتی۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی بھیجی کہ اگر کسی کی زمین میں بنانا چاہتے ہیں تو پہلے اسے راضی کرلیں۔ یہ سن کر حضرت عمر نے حضرت عباس کو چھوڑ دیا۔ بعد میں حضرت عباس نے اپنی خوشی سے اس گھر کو مسجد میں شامل کر دیا۔1
حضرت سعید بن مُسیّب ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر ؓ نے ارادہ فرمایاکہ حضرت عباس بن عبد المطّلب ؓ کا گھر لے کر مسجدِ (نبوی) میں شامل کر دیں۔ حضرت عباس نے انھیں گھر دینے سے انکارکر دیا۔ حضرت عمر نے کہا: میں تو یہ گھر ضرور لوں گا۔ حضرت عباس نے کہا: حضرت اُبی بن کعب ؓ سے فیصلہ کروالو۔ حضرت عمر نے کہا: ٹھیک ہے۔ چناںچہ دونوں حضرات حضرت اُبی کے پاس آئے اور ان سے سارا قصہ بیان کیا۔ حضرت اُبی نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان بن داؤد ؑ کی طرف وحی بھیجی کہ وہ بیت المقدس کی تعمیر کریں۔ وہ زمین ایک آدمی کی تھی۔ حضرت سلیمان ؑ نے اس سے وہ زمین خریدی۔ جب اسے قیمت ادا کرنے لگے تو اس آدمی نے کہا: جو قیمت تم مجھے دے رہے ہو وہ زیادہ بہتر ہے یا جو زمین تم مجھ سے لے رہے ہو وہ زیادہ بہتر ہے؟ حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا: جو زمین میںتم سے لے رہا ہوں وہ زیادہ بہتر ہے۔ اس پر اس آدمی نے کہا: تو پھر میں اس قیمت پر راضی نہیں ہوں۔ پھر حضرت سلیمان ؑ نے اسے پہلے سے زیادہ قیمت دے کر خریدا۔
اس آدمی نے حضرت سلیمان ؑ کے ساتھ دو تین مرتبہ اسی طرح کیا (ایک قیمت مقرر کر کے پھر اس سے زیادہ کا مطالبہ کر دیتا)۔ آخر حضرت سلیمان ؑ نے اس پر یہ شرط لگائی کہ تم جتنی قیمت کہہ رہے ہو میں اُتنے میں خریدتا ہوں، لیکن تم بعد میں یہ نہ پوچھنا کہ زمین اور قیمت میں سے کون سی چیز بہترہے۔ چناںچہ اس کی بتائی ہوئی قیمت پر خریدنے لگے تو اس نے بارہ ہزار قِنْطار سونا قیمت لگائی۔ (ایک قِنْطار چار ہزار دینار کو کہتے ہیں) حضرت سلیمان ؑ کو یہ قیمت بہت زیادہ معلوم ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اگر تم اسے یہ قیمت اپنے پاس سے دے رہے ہو تو پھر تو تم جانو، اور اگر تم ہمارے دیے ہوئے مال میں سے دے رہے ہو توپھراسے اتنا دو کہ وہ راضی ہوجائے۔ چناںچہ حضرت سلیمان ؑ نے ایسا ہی کیا۔ اور پھر حضرت اُبی نے فرمایا: میرا فیصلہ یہ ہے کہ حضرت عباس اپنے گھر کے زیادہ حق دار ہیں۔ اگر ان کا گھر مسجد میں شامل کرنا ہی ہے تو پھر وہ جس طرح راضی ہوں انھیں راضی کیا جائے۔ اس پر حضرت عباس نے کہا: جب آپ نے میرے حق میں فیصلہ کر دیا ہے تو میں اب یہ گھر مسلمانوں کے لیے صدقہ کرتا ہوں۔1
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر ؓ کے زمانۂ خلافت میں مصر میں میرے بھائی عبد الرحمن نے اور ان کے ساتھ ابو سِرْوَعَہ عقبہ بن حارث نے نبیذ پی۔ (پانی میں کھجوریں ڈال دی جاتی تھیں، کچھ دیر کھجوریں پڑی رہتی تھیں جس سے وہ پانی میٹھا ہوجاتا تھا، اسے نبیذ کہا جاتا تھا۔ زیادہ دیر پڑے رہنے سے اس میں نشہ بھی پید اہوجاتا تھا) جس سے انھیں نشہ ہوگیا۔
صبح کو یہ دونوں مصر کے امیر حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس گئے اور ان سے کہا: (سزا دے کر) ہمیں پاک کر دیں، کیوںکہ ہم نے ایک مشروب پیا تھا جس سے ہمیں نشہ ہوگیا۔ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں: مجھ سے میرے بھائی نے کہا: مجھے نشہ ہوگیا تھا۔ میں نے ان سے کہا: گھر چلو میں تمہیں (سزا دے کر) پاک کر دوں گا۔ مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ دونوں حضرات حضرت عمرو کے پاس جاچکے ہیں۔ پھر میرے بھائی نے مجھے بتایا کہ وہ امیرِ مصر کو یہ بات بتاچکے ہیں۔ تو میں نے کہا: تم گھر چلو میں تمہارا سر مونڈ دوں گا تاکہ تمام لوگوں کے سامنے تمہارا سر نہ مونڈا جائے۔ اس زمانے کا دستور یہ تھا کہ حد لگانے کے ساتھ سر بھی مونڈ دیتے تھے۔ چناںچہ وہ دونوں گھر چلے گئے۔ میں نے اپنے بھائی کا سر اپنے ہاتھ سے مونڈا، پھر حضرت عمر و نے ان پر شراب کی حد لگائی۔ حضرت عمر ؓ کو اس قصہ کا پتہ چلا تو انھوں نے حضرت عمرو کو خط لکھا کہ عبد الرحمن کو میرے پاس بغیر کجاوہ کے اُونٹ پر سوار کرکے بھیج دو۔ چناںچہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔
جب وہ حضرت عمر کے پاس پہنچے تو انھوںنے اسے کوڑے لگائے اور اپنا بیٹا ہونے کی وجہ سے اسے سزا دی پھر اسے چھوڑ دیا۔ اس کے بعد وہ ایک مہینہ تو ٹھیک رہے پھر تقدیرِ الٰہی غالب آگئی اور ان کا انتقال ہوگیا۔ عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عمر کے کوڑے لگانے سے ان کا انتقال ہوا ہے، حالاںکہ ان کا انتقال حضرت عمر کے کوڑے لگانے سے نہیںہوا (بلکہ طبعی موت مرے ہیں)۔1
حضرت حسن ؓ کہتے ہیں: ایک عورت کا خاوند غائب تھا، اس کے پاس کسی کی آمد ورفت تھی۔ حضرت عمر ؓ کو اس سے کھٹک ہوئی۔ حضرت عمر نے بلانے کے لیے اس کے پاس آدمی بھیجا۔ اس آدمی نے اس عور ت سے کہا: حضرت عمرکے پاس چلو، حضرت عمر تمہیں بلا رہے ہیں۔ اس نے کہا: ہائے میری ہلاکت! مجھے عمر سے کیا واسطہ۔ وہ گھر سے چلی (وہ حاملہ تھی) ابھی وہ راستہ ہی میں تھی کہ گھبرا گئی جس سے اسے دردِزِہ شروع ہوگیا۔ وہ ایک گھرمیں چلی گئی جہاں اس کا بچہ پیدا ہوا۔ بچہ دو دفعہ رویا اور مرگیا۔ حضرت عمر نے حضور ﷺ کے صحابہ سے مشور ہ کیا (کہ میرے ڈر کی وجہ سے وہ عورت گھبرا گئی اور بچہ قبل از وقت پیدا ہوگیا اس وجہ سے وہ مرگیا۔ توکیا اس بچہ کے یوںمرجانے کی وجہ سے مجھ پر کوئی چیز شرعاً لازم آتی ہے؟) بعض صحابہ نے کہا: آپ پر کچھ لازم نہیں آتا، کیوںکہ آپ مسلمانوں کے والی ہیں اور (اس وجہ سے) آپ کے ذمہ ہے کہ آپ ان کو ادب سکھائیں، کوئی کمی دیکھیں تو انھیں بلا کر تنبیہ کریں۔
حضرت علی ؓ خاموش تھے۔ حضرت عمر نے ان کی طرف متوجہ ہو کر کہا: اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ حضرت علی نے کہا: اگر ان لوگوں نے یہ بات بغیر کسی دلیل کے محض اپنی رائے سے کہی ہے تو ان کی رائے غلط ہے، اور اگر انھوں نے آپ کو خوش کرنے کے لیے یہ بات کہی ہے تو انھوں نے آپ کے ساتھ خیر خواہی نہیں کی ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ اس بچہ کی دیت یعنی خُون بَہَا آپ کو دینا پڑے گا، کیوںکہ آپ کے بلانے کی وجہ سے وہ عورت گھبرائی ہے اس لیے یوں بچے کے قبل از وقت پیدا ہوجانے کا سبب آپ ہی ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے حضرت علی کو حکم دیا کہ اس بچہ کا خون بَہَا سارے قریش سے وصول کریں، اس لیے کہ یہ قتل ان سے خطا کے طور پر صادر ہوا ہے۔1
حضرت عطاء ؓکہتے ہیں: حضرت عمر ؓ اپنے گورنروں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ حج کے موقع پر ان کے پاس آیا کریں۔ جب سارے گورنر آجاتے تو (عام مسلمانوں کو جمع کر کے) فرماتے:
اے لوگو! میں نے اپنے گورنر تمہارے ہاں اس لیے نہیں بھیجے ہیںکہ وہ تمہاری کھال اُدھیڑیں، یا تمہارے مال پر قبضہ کریں، یا تمہیں بے عزّت کریں، بلکہ میں نے تو صرف اس لیے ان کو بھیجا ہے تاکہ تمہیں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنے دیں اور تمہارے درمیان مالِ غنیمت تقسیم کریں۔ لہٰذا جس کے ساتھ اس کے خلاف کیاگیا ہو وہ کھڑا ہوجائے (اور اپنی بات بتائے)۔
(چناںچہ ایک مرتبہ انھوںنے گورنروں کو جمع کر کے لوگوں میں یہی اعلان کیا تو) صرف ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کے فلاں گورنر نے مجھے (ظُلماً) سو کوڑے مارے ہیں۔ حضرت عمر نے (اس گورنر سے) کہا: تم نے اسے کیوں مارا؟ (اور اس آدمی سے کہا:) اُٹھ اور اس گورنر سے بدلہ لے۔ اس پر حضرت عمرو بن عاص ؓ نے کھڑے ہو کر کہا: اگر آپ نے اس طرح گورنروں سے بدلہ دلانا شروع کر دیا تو پھر آپ کے پاس بہت زیادہ شکایات آنے لگ جائیں گی اور یہ گورنروں سے بدلہ لینا ایسا دستور بن جائے گا کہ جو بھی آپ کے بعد آئے گا اسے یہ اختیار کرنا پڑے گا (حالاںکہ اپنے گورنروں سے بدلہ دلوانا ہر امیر کے بس میں نہیں ہے)۔ حضرت عمر نے فرمایا: جب میں نے حضور ﷺ کو اپنی ذاتِ اَقدس سے بدلہ دلوانے کے لیے تیار رہتے ہوئے دیکھا ہے تو میں (اپنے گورنر سے) کیوں نہ بدلہ دلواؤں؟ حضرت عمرو نے کہا: آپ ہمیں اس آدمی کو راضی کرنے کا موقع دیں۔ حضرت عمر نے کہا: اچھا، چلو تم اسے راضی کرلو۔ چناںچہ اس گورنر نے ہر کوڑے کے بدلہ دو دینار کے حساب سے دو سو دینار اس آدمی کو بدلہ میں دیے۔2
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: مصر سے ایک آدمی حضرت عمر بن خطّاب ؓ کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! مجھ پر ظلم ہواہے، میں آپ کی پناہ لینا چاہتا ہوں۔ حضرت عمر نے کہا: ہاں! تم میری مضبوط پناہ میں ہو۔ تو اس نے کہا: میں نے حضرت عمرو بن عاص ؓ کے بیٹے (محمد) سے دوڑنے میں مقابلہ کیا تو میں اُن سے آگے نکل گیا، تو وہ مجھے کوڑے مارنے لگے اور کہنے لگے: میں بڑے اور کریم لوگوں کی اولاد ہوں۔ اس پر حضرت عمر نے حضرت عمرو کو خط لکھا کہ وہ خود بھی (مصر سے مدینہ منوّرہ) آئیں اور اپنے ساتھ اپنے اس بیٹے کو بھی لائیں۔ چناںچہ حضرت عمر و (مدینہ) آئے تو حضرت عمر نے کہا: وہ (شکایت کرنے والا) مصری کہاں ہے؟ کوڑا لو اور اسے مارو۔ وہ مصری کوڑے مارے جا رہا تھا اور حضرت عمر فرماتے جا رہے تھے: کمینوں کے بیٹے کو مارو۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں: اس مصری نے حضرت عمرو کے بیٹے کو خوب پیٹا اور ہم چاہتے تھے کہ وہ انھیں خوب پیٹے، اور اس نے مارنا تب چھوڑا جب ہمیں بھی تقاضا ہوگیا کہ وہ اب اور نہ مارے یعنی اس نے مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
پھر حضرت عمر نے اس مصری سے فرمایا: اب حضرت عمرو کی چندیا پر بھی مار۔ (حضرت عمر ؓ کا مقصد اس پر تنبیہ کرنا تھا کہ حضرت عمرو کو اپنے بیٹے کی ایسی تربیت کرنی چاہیے تھی جس سے اس میں کسی پربھی ظلم کرنے کی جرأت پیدا نہ ہوتی) اس مصری نے کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے تو ان کے بیٹے نے مارا تھا اور میں نے ان سے بدلہ لے لیا ہے (اس لیے میں حضرت عمرو کو نہیں ماروں گا)۔ اس پر حضرت عمر نے حضرت عمرو سے فرمایا: کب سے تم نے لوگوں کو اپنا غلام بنا رکھا ہے؟ حالاںکہ ان کو ان کی ماؤںنے آزاد جنا ہے۔ حضرت عمرو نے کہا: مجھے اس قصہ کا بالکل پتہ نہیں چلا اور نہ یہ مصری میرے پاس شکایت لے کر آیا (ورنہ میں اپنے بیٹے کو خود سزا دیتا)۔1
حضرت یزید بن ابی منصور ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ کو یہ خبر ملی کہ بحرین میں ان کے مقررہ کردہ گورنر حضرت ابنِ جارود یا ابنِ ابی جارود کے پاس ایک شخص لایا گیا جس کا نام اَدرِیاس تھا۔ اس نے مسلمانوں کے دشمن کے ساتھ خفیہ خط وکتابت کر رکھی تھی اور ان دشمنوں کے ساتھ مل جانے کا اس کا ارادہ بھی تھا اور اس کے ان جرائم پر گواہ بھی موجود تھے۔ اس پر اس گورنر نے اسے قتل کر دیا۔ وہ شخص قتل ہوتے ہوئے کہہ رہا تھا: اے عمر! میں مظلوم ہوں، میری مدد کو آئیں۔ اے عمر! میں مظلوم ہوں، میری مدد کو آئیں۔ حضرت عمر نے اپنے اس گورنر کو خط لکھا کہ میرے پاس آؤ۔ چناںچہ وہ آگئے۔ حضرت عمر ان کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹا نیزہ تھا۔ جب وہ حضرت عمر کے پاس اندر آئے تو حضرت عمر نے وہ چھوٹا نیزہ اس کے جبڑوں پر مارنا چاہا (لیکن مارا نہیں۔ حضرت جارود نے اجتہادی غلطی کی وجہ سے اس آدمی کو قتل کیا تھا اس لیے چھوڑ دیا) اورحضرت عمرکہتے جا رہے تھے: اے اَدرِیاس! میں تیری مدد کو حاضر ہوں۔ اے اَدرِیاس! میں تیری مدد کو حاضر ہوں۔ اور حضرت جارود کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! اس نے مسلمانوں کی خفیہ باتیں دشمن کو لکھی تھیں اور دشمن سے جا ملنے کا اس نے ارادہ بھی کر رکھا تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا: صرف برائی کے ارادہ پر ہی تم نے اسے قتل کر دیا؟ ہم میں ایسا کون ہے جس کے دل میں ایسے برے ارادے نہیں آتے؟ اگر گورنروں کے قتل کا مستقل دستور بن جانے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں تمہیں اس کے بدلہ میں ضرور قتل کر دیتا۔1
حضرت زید بن وہب ؓ کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ دونوں کانوں میں اُنگلیاں ڈالے ہوئے باہر نکلے اور آپ کہہ رہے تھے: یَا لَبـَّیْکَاہْ! میں مدد کو حاضر ہوں، میں مدد کو حاضر ہوں۔ لوگوں نے ان سے پوچھاکہ انھیںکیا بات پیش آئی ہے؟ حضرت عمر نے بتایا کہ ان کے مقررکردہ ایک امیر کی طرف سے قاصد یہ خبر لایا ہے کہ ان کے علاقہ میں مسلمانوں کے راستہ میں ایک نہر پڑتی تھی جسے پار کرنے کے لیے مسلمانوں کو کوئی کشتی نہ مل سکی، تو ان کے امیر نے کہا: کوئی ایسا آدمی تلاش کرو جو نہر کی گہرائی معلوم کرنا جانتا ہو۔ چناںچہ ان کے پاس ایک بوڑھے کو لایا گیا۔ اس بوڑھے نے کہا: مجھے سردی سے ڈر لگتا ہے۔ اور وہ موسم سردی کا تھا، لیکن اس امیر نے انھیں مجبور کر کے اس نہر میں داخل کر دیا۔ تھوڑی دیر میں ہی اس پر سردی کا بہت زیادہ اثر ہوگیا اور وہ زور زور سے پکارنے لگا: اے عمر! میری مدد کو آؤ۔ اور وہ بوڑھا ڈوب گیا۔ (اس بوڑھے کی فریاد کے جواب میں حضرت عمر ؓ کانوں میں انگلیاں ڈالے ہوئے یَالَبَّیْکَاہْ!کہتے ہوئے نکلے تھے)
چناںچہ حضرت عمر نے اس امیر کو خط لکھا جس پر وہ مدینہ منوّرہ آگئے۔ ان کو آئے ہوئے کئی دن ہوگئے لیکن حضرت عمر نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائی۔ اور یہ حضرت عمر کی عادتِ شریفہ تھی کہ جب اُن کو کسی پرغصہ آتا تھا تو اس سے اِعراض فرما لیتے تھے اس کی طرف توجہ نہ فرماتے تھے۔ پھر اس امیر کو کہا: جس آدمی کو تم نے مار ڈالا اس کا کیا بنا؟ اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرا ارادہ اسے قتل کرنے کا نہیں تھا۔ ہمیں نہر پار کرنے کے لیے کوئی بھی چیز نہیں مل رہی تھی۔ ہم تو صرف یہ چاہتے تھے کہ یہ پتہ چل جائے کہ نہر کے پانی کی گہرائی کتنی ہے؟ پھر بعد میں ہم نے اللہ کے فضل سے فلاں فلاں علاقے فتح کیے۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا: تم جو کچھ (فتوحات کی خبر وغیرہ) لے کر آئے ہو مجھے ایک مسلمان اس سے زیادہ محبوب ہے۔ اگر مستقل دستور بن جانے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں تیری گردن اُڑا دیتا۔ تم اس کے رشتہ داروں کو خون بَہَا دو، اور میرے پاس سے چلے جاؤ، آیندہ تمہیں کبھی نہ دیکھوں۔1
حضرت جریر ؓ کہتے ہیں: حضرت ابو موسیٰ ؓ کے ساتھ (جہاد میں) ایک آدمی تھا۔ (اس لڑائی میں) مسلمانوں کو بڑ امالِ غنیمت حاصل ہوا۔ حضرت ابو موسیٰ نے اسے مالِ غنیمت میں سے اس کا حصہ تو دیا لیکن پورا نہ دیا۔ اس نے کہا: لوں گا تو پورا لوں گا، نہیں تو نہیں لوں گا۔ حضرت ابو موسیٰ نے اسے بیس کوڑے مارے اور اس کا سر مونڈ دیا۔ وہ اپنے بال جمع کر کے حضرت عمر ؓ کے پاس لے گیا۔ (وہاں جا کر) اس نے اپنی جیب سے بال نکالے اور حضرت عمر کے سینے پر دے مارے۔ حضرت عمر نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ اس نے اپنا سارا قصہ سنایا۔ حضرت عمر نے حضرت ابوموسیٰ کو یہ خط لکھا:
سلامٌ علیک! اَما بعد! فلاں بن فلاں نے مجھے اپنا سارا قصہ اس اس طرح سنایا۔ میں آپ کو قسم دے کر کہتاہوں! اگریہ کام (اس کے ساتھ) آپ نے بھرے مجمع میں لوگوں کے سامنے کیا ہے تو آپ اس کے لیے بھرے مجمع میں لوگوں کے سامنے بیٹھ جائیں اور پھر وہ آپ سے اپنا بدلہ لے۔ اور اگر یہ کام اس کے ساتھ آپ نے تنہائی میں کیا ہے تو آپ اس کے لیے تنہائی میں بیٹھ جائیں اور پھر وہ آپ سے اپنا بدلہ لے۔
چناںچہ جب حضرت ابو موسیٰ کو یہ خط ملا تو وہ بدلہ دینے کے لیے (اس آدمی کے سامنے) بیٹھ گئے۔ اس پر اس آدمی نے کہا: میں نے ان کو اللہ کے لیے معاف کر دیا۔1
حضرت حِرمازی ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے حضرت فیروز دَیلمی ؓ کو یہ خط لکھا :
اَما بعد ! مجھے یہ اطلا ع ملی ہے کہ آپ میدے کی روٹی شہد کے ساتھ کھانے میں مشغول ہوگئے ہو، لہٰذا جب آپ کے پاس میرا یہ خط پہنچے تو آپ اللہ کا نام لے کر میرے پاس آجائیں اور اللہ کے راستہ میں جہاد کریں۔
چناںچہ حضرت فیروز (خط ملتے ہی مدینہ) آگئے۔ انھوں نے حضرت عمر کے پاس اندر آنے کی اجازت مانگی، حضرت عمر نے ان کو اجازت دے دی۔ (وہ اندر جانے لگے تو) ایک قریشی نوجوان بھی اندر جانے لگا جس سے ان کا راستہ تنگ ہوگیا۔ انھوں نے اس قریشی کی ناک پر (اس زور سے) تھپڑ مارا (کہ خون نکل آیا)۔ وہ قریشی نوجوان اسی حالت میں حضرت عمر ؓ کے پاس اندر چلا گیا کہ اس کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔ حضرت عمر نے اس نوجوان سے پوچھا: تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ اس نے کہا: حضرت فیروز نے، اور وہ اس وقت دروازے پرہی ہیں۔ حضرت عمر نے حضرت فیروز کو اندرآنے کی اجازت دی، وہ اندر آگئے۔ حضرت عمر نے کہا: اے فیروز! یہ کیا ہے؟ حضرت فیروز نے کہا: اے امیر المؤمنین! ہم نے کچھ عرصہ قبل ہی بادشاہت چھوڑی ہے (جس کا اثر ابھی ہماری طبیعتوں میں باقی ہے)۔ بات یہ ہوئی کہ آپ نے مجھے خط بھیج کر بلوایا، اسے آپ نے کوئی خط نہیں لکھا۔ اور (اجازت مانگنے پر) آپ نے مجھے تو اندر آنے کی اجازت دی، اس نے نہ اجازت مانگی اور نہ آپ نے اسے اجازت دی۔ اس نے (قاعدہ کے خلاف کرتے ہوئے بلا اجازت) مجھ سے پہلے میری اجازت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اندر داخل ہونا چاہا، (اس پر مجھے غصہ آگیا) اس لیے مجھ سے وہ حرکت سرزد ہوگئی جو یہ آپ کو بتا رہا ہے۔
حضرت عمر نے کہا: آپ کو بدلہ دینا ہوگا۔ حضرت فیروز نے پوچھا: کیا بدلہ ضرور دینا پڑے گا؟ حضرت عمر نے کہا: ہاں! ضرور دینا پڑے گا۔ حضرت فیروز گھٹنوں کے بل بدلہ دینے کے لیے بیٹھ گئے اور وہ نوجوان بدلہ لینے کھڑ اہوگیا۔ حضرت عمر نے اس سے کہا: اے نوجوان! ذرا ٹھہرنا، میں تمہیں وہ بات سناتا ہوں جو میں نے حضور ﷺ سے سنی ہے۔ ایک دن صبح کے وقت میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جھوٹے نبی اَسْود عَنسی کو آج رات قتل کر دیا گیا ہے اور اس کو اللہ کے نیک بندے فیروزدَیلمی نے قتل کیا ہے۔ جب تم نے ان کے بارے میں حضور ﷺ کی یہ حدیث سن لی ہے تو کیا اس کے بعد بھی تم ان سے بدلہ لینا چاہتے ہو؟ اس نوجوان نے کہا: جب آپ نے ان کے بارے میں مجھے حضور ﷺ کی یہ حدیث سنائی ہے تو میں نے ان کو معاف کر دیا ہے۔ حضرت فیروز نے کہا: میں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور اس نے خوشی خوشی مجھے معاف کر دیا، تو کیا ا س کے بعد میں اپنی اس غلطی پر (اللہ کی پکڑ سے) بچ جاؤں گا؟ حضرت عمر نے کہا: ہاں۔ اس پر حضرت فیروز نے کہا: میں آپ کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میری تلوار، میرا گھوڑا اور میرے مال میں سے تیس ہزار اس نوجوان کو ہدیہ ہیں۔ حضرت عمر نے کہا: اے قریشی! تم نے معاف کر کے ثواب بھی لے لیا اور تم کو اتنا مال بھی مل گیا۔1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: ایک باندی نے حضرت عمر بن خطّاب ؓ کی خدمت میں آکر کہا: میرے آقا نے پہلے مجھ پر تہمت لگائی، پھر مجھے آگ پر بٹھا دیا جس سے میری شرمگاہ جل گئی۔ حضرت عمر نے اس سے پوچھا: کیا تمہارے آقا نے تم کو وہ براکام کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ اس باندی نے کہا: نہیں۔ حضرت عمر نے پوچھا: کیا تم نے کسی برائی کا اس کے سامنے اقرار کیا تھا؟ اس باندی نے کہا: نہیں۔ حضر ت عمر نے کہا: اسے میرے پاس لاؤ۔ (چناںچہ وہ آدمی آگیا) جب حضرت عمر نے اس آدمی کو دیکھا تو فرمایا: کیا تم انسانوں کو وہ عذاب دیتے ہو جو اللہ کے ساتھ خاص ہے؟ اس آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے اس پر شبہ ہوا تھا۔ حضرت عمر نے پوچھا: کیا تم نے اسے وہ کام کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ اس نے کہا: نہیں۔ حضرت عمر نے پھر پوچھا: کیا اس باندی نے تمہارے سامنے اس جرم کا اعتراف کیا تھا؟ اس نے کہا: نہیں۔ حضرت عمر نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ مالک سے اس کے غلام کو اور والد سے اس کے بیٹے کو بدلہ نہیں دلوایا جائے گا تو میں تجھ سے اس باندی کو بدلہ دلواتا۔ اور پھر حضرت عمر نے اس آدمی کو سو کوڑ ے مارے اور اس باندی سے فرمایا: توجا، تو اللہ کے لیے آزادہے، تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی آزاد کردہ ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جسے آگ میں جلایا گیا یاجس کی شکل آگ سے جلا کر بگاڑ ی گئی وہ آزاد ہے۔ اور وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا آزاد کردہ ہے۔1
حضرت مکحول کہتے ہیں: حضرت عبادہ بن صامت ؓ نے ایک دیہاتی کو بلایا تاکہ وہ بیت المقدس کے پاس ان کی سواری کو پکڑ کر کھڑا رہے۔ اس نے انکار کردیا۔ اس پر حضرت عبادہ نے اسے مارا جس سے اس کا سر زخمی ہوگیا۔ اس نے ان کے خلاف حضرت عمر بن خطّاب ؓ سے مدد طلب کی۔ حضرت عمر نے ان سے پوچھا : آپ نے اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میںنے اسے کہاکہ میری سواری پکڑ کر کھڑا رہے، لیکن اس نے انکار کر دیا۔ اور مجھ میں ذرا تیزی ہے اس لیے میں نے اسے مار دیا۔ حضرت عمر نے فرمایا: آپ بدلہ دینے کے لیے بیٹھ جائیں۔ حضرت زید بن ثابت ؓ نے کہا: کیا آپ اپنے غلام کو اپنے بھائی سے بدلہ دلوا رہے ہیں؟ حضرت عمر نے بدلہ دلوانے کا ارادہ چھوڑ دیا اور یہ فیصلہ کیا کہ حضرت عبادہ اسے اس زخم کے بدلہ میں مقررہ رقم دیں ۔2
حضرت سُوَید بن غَفَلہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر ؓ ملکِ شام تشریف لے گئے تو اہلِ کتاب میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا جس کا سر زخمی تھا اور اس کی پٹائی ہوچکی تھی۔ اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ میری جو حالت دیکھ رہے ہیں یہ سب کچھ ایک مسلمان نے میرے ساتھ کیا ہے۔ اس پر حضرت عمر کو بہت غصہ آیا اور حضرت صُہَیب ؓ سے کہا: جاؤ اور دیکھو کس نے اس کے ساتھ ایسا کیا ہے، اسے میرے پاس لاؤ۔ حضرت صُہَیب نے جا کر پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ نے کیا ہے۔ حضرت صُہَیب نے ان سے کہا: امیر المؤمنین کو تم پر بہت زیادہ غصہ آیا ہواہے۔ تم حضرت معاذ بن جبل ؓ کے پاس جاکر ان سے کہو کہ وہ حضرت عمر سے تمہارے بارے میں بات کریں۔ ( اور وہ تمہارے لیے ان سے سفارش کریں) کیوںکہ مجھے ڈر ہے کہ حضرت عمر تمہیں دیکھتے ہی فوراً سزا دینے لگ جائیں گے۔ چناںچہ جب حضرت عمر نماز سے فارغ ہوئے تو انھوں نے پوچھا: صُہَیب کہاں ہیں؟ کیا تم اس آدمی کو لے آئے ہو؟ حضرت صُہَیب نے کہا: جی ہاں۔ حضرت عوف جاکر حضرت معاذ کو اپنا سارا قصہ بتاچکے تھے اور حضرت معاذ اس وقت وہاں آئے ہوئے تھے۔ چناںچہ حضرت معاذ نے کھڑے ہو کر کہا: اے امیر المؤمنین! وہ مارنے والے عوف بن مالک (جیسے قابلِ اعتماد انسان) ہیں۔ آپ ان کی بات سن لیں اور انھیں سزا دینے میں جلدی نہ کریں۔
اس پر حضرت عمر نے حضرت عوف سے کہا: تمہیں اس آدمی کے ساتھ کیا بات پیش آئی؟ انھوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں نے دیکھا کہ ایک مسلمان عورت گدھے پر سوار ہے یہ پیچھے سے اس گدھے کو ہانک رہا ہے، اتنے میں اس نے اس عورت کو گرانے کے لیے اسے لکڑی سے چوکا مارا لیکن وہ نہ گری۔ پھر اس نے اسے ہاتھ سے دھکا دیا جس سے وہ عورت گرگئی اور یہ اس کے اوپر چڑھ گیا (اور اس کی عصمت لُوٹ لی۔ میں یہ منظر برداشت نہ کرسکا اور میں نے اس کے سر پر مار دیا) حضرت عمر نے اس سے کہا: تم اس عورت کو لاؤ تاکہ وہ تمہاری بات کی تصدیق کرے۔
حضرت عوف اس عورت کے پاس گئے تو اس کے باپ اور خاوند نے ان سے کہا: تم ہماری عورت کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو؟ تم نے تو (یہ سارا واقعہ سنا کر) ہمیں رسوا کردیا۔ لیکن اس عورت نے کہا: نہیں، میں توان کے ساتھ (حضرت عمر ؓ کو خود بتانے) ضرور جاؤں گی۔ تو اس کے والد اور خاوند نے کہا: (تم ٹھہرو) ہم جاکر تمہاری طرف سے ساری بات پہنچا آتے ہیں۔
چناںچہ وہ دونوں حضرت عمرکے پاس آئے اور بالکل ویسا ہی قصہ بتایا جیسا حضرت عوف نے بتایا تھا۔ چناںچہ حضرت عمرکے حکم دینے پر اس یہودی کو سولی دی گئی اور حضرت عمر نے فرمایا: (اے یہودیو!) ہم نے تم سے اس پر صلح نہیں کی تھی (کہ تم ہماری عورتوں کے ساتھ زنا کرو اور ہم کچھ نہ کہیں)۔ پھر فرمایا: اے لوگو! حضرت محمد ﷺ کی امان کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، لیکن ان میں سے جو کسی مسلمان عورت کے ساتھ زنا کرے گا اس کے لیے کوئی امان نہیںہوگی۔ حضرت سُوَید کہتے ہیں: یہ پہلا یہودی ہے جسے میں نے اسلام میں سولی چڑھتے ہوئے دیکھا۔1
حضرت عبد الملک بن یعلیٰ لیثی کہتے ہیں: حضرت بکیر بن شدّاخ ؓان صحابہ میں سے ہیں جو بچپن سے ہی حضور ﷺ کی خدمت کیاکرتے تھے۔ جب یہ بالغ ہوئے تو انھوںنے حضور ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کے گھر آتا جاتا تھا، لیکن اب میں بالغ ہوگیا ہوں۔ حضور ﷺ نے (خوش ہو کر) یہ دعا دی: اے اللہ! اس کی بات کو سچا کردے اور اسے کامیابی نصیب فرما۔ جب حضرت عمر ؓ کا زمانۂ خلافت آیا تو ایک یہودی مقتول پایا گیا۔ حضرت عمر نے اسے بہت بڑا حادثہ سمجھا اور آپ گھبرا گئے اور منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے خلیفہ بنایا ہے تو کیا میرے زمانۂ خلافت میں لوگوں کو یوں اچانک قتل کیا جائے گا؟ جس آدمی کو اس قتل کے بارے میں کچھ علم ہے میں اسے اللہ کی یاد دلاکر کہتا ہوں کہ وہ مجھے ضرور بتائے۔
اس پر حضرت بکیر بن شدّاخ نے کھڑے ہو کر کہا: میں نے اسے قتل کیا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ۔ تم نے اس کے قتل کا اقرار کرلیا ہے، تو اب ایسی وجہ بتاؤ جس سے تم سزا سے بچ سکو۔ انھوں نے کہا: ہاں! میں بتاتا ہوں۔ فلاں مسلمان اللہ کے راستہ میں جہاد کے لیے گیا اور اپنے گھر والوں کی دیکھ بھال میرے ذمہ کر گیا۔ میں اس کے گھر گیا تو میں نے اس یہودی کو وہاں پایا اور وہ یہ شعر پڑھ رہا تھا:
وَأَشْعَثَ غَرَّہٗ الإِسْلَامُ حَتّٰی
خَلَوْتُ بِعِرْسِہٖ لَیْلَ التَّمَامِ
اَشعث (اس عورت کے خاوند کا نام ہے) کو تو اسلام نے دھوکہ میں ڈالا ہوا ہے، (وہ اسلامی جذبہ سے گھر چھوڑ کر خدا کے راستہ میں گیا ہوا ہے اور میں نے اس دھوکہ سے یہ فائدہ اُٹھایا کہ) میں نے ساری رات اس کی بیوی کے ساتھ تنہائی میں گزاری ہے۔
أَبِیْتُ عَلٰی تَرَائِبِھَا وَیُمْسِيْ
عَلٰی جَرْدَائَ لَاحِقَۃِ الْحِزَامِ
میں تو ساری رات اس کی بیوی کے سینہ پرگزار رہا ہوں اور وہ خود چھوٹے بالوں والی اُونٹنی کی پشت پر شام گزارتا ہے جس کا تنگ بندھا ہوا ہے۔
کَأَنَّ مَجَامِعَ الرَّبَلَاتِ مِنْھَا
فِئَامٌ یَنْھَضُوْنَ إِلٰی فِئَامِ
(عربوں کو عورت کا موٹا ہونا اور مرد کا دبلا ہونا پسند تھا، اس لیے کہہ رہا ہے کہ اس کی بیوی اتنی موٹی ہے کہ) اس کے رانوں کے ملنے کی جگہ یعنی سرین تہہ بہ تہہ ہے، وہاں گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑے ہیں۔
یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے حضرت بکیر کی بات کو سچا مان لیا اور اس یہودی کے خون کو معاف کر دیا (اور ان سے بدلہ یاخون بہا نہ لیا)۔ اورحضرت بکیرکے ساتھ یہ سب کچھ حضور ﷺ کی دعا کی برکت سے ہوا (کہ بغیرگواہ کے ان کی بات سچی مان لی گئی)۔1
حضرت قاسم بن ابی بزّہ کہتے ہیں: شام میں ایک مسلمان نے ایک ذمّی کافر کو قتل کردیا۔ حضرت ابو عبیدہ بن جرّ اح ؓ کے سامنے یہ مقدمہ پیش کیا گیا تو انھوں نے یہ قصہ لکھ کر حضرت عمر ؓ کو بھیجا۔ حضرت عمر نے جواب میں یہ لکھا کہ یوںذمّیوں کو قتل کرنا اگر اس مسلمان کی مستقل عادت بن گئی ہے پھر تو اسے آگے کر کے اس کی گردن اُڑا دو۔ اور اگر وہ طیش میں آکر اچانک ایسا کربیٹھا ہے تو اس پر چار ہزار کی دیت کا جرمانہ لگادو۔2
کوفہ کے ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے ایک لشکر بھیجا تھا۔ اس کے امیر کو یہ خط لکھا کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ تمہارے کچھ ساتھی کبھی موٹے تازے کافر کا پیچھا کر رہے ہوتے ہیں، وہ کافر دوڑ کر پہاڑ پر چڑھ جاتا ہے اور خود کو محفوظ کرلیتا ہے تو پھر اس سے تمہارا ساتھی (فارسی میں) کہتا ہے: مَتَرس یعنی مت ڈرو۔ (یہ کہہ کر اسے امان دے دیتا ہے وہ کافر خود کو اس مسلمان کے حوالہ کر دیتا ہے) پھر یہ مسلمان اس کافر کو پکڑ کر قتل کر دیتا ہے۔ (یہ قتل دھوکہ دے کر کیا ہے) اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! آیندہ اگر مجھے کسی کے بارے میں پتہ چلا کہ اس نے ایسا کیا ہے تو میں اس کی گردن اڑادوں گا۔1
حضرت ابوسَلَمہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کسی نے انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے کسی مشرک کو امان دے دی اور وہ مشرک اس وجہ سے اس مسلمان کے پاس آگیا اور پھر مسلمان نے اسے قتل کر دیا تو (یوں دھوکہ سے قتل کرنے پر) میں اس مسلمان کو ضرور قتل کروں گا۔2
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: ہم نے تُسْتَر کا محاصرہ کیا۔ (آخر محاصرہ اور جنگ سے تنگ آکر تُسْتَر کے حاکم) ہُرمُزان نے اپنے بارے میں حضرت عمر ؓ کے فیصلہ پر اُترنا قبول کیا۔ میں اس کو لے کر حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جب ہم حضرت عمر کے پاس پہنچے تو آپ نے اس سے کہا: کہو کیا کہتے ہو؟ اس نے کہا: زندہ رہنے والے کی طرح بات کروں یا مرجانے والے کی طرح؟ حضرت عمر نے کہا: لاَ بَاْسَیعنی تم اپنے بارے میں مت ڈرو، بات کرو۔ ہُرمُزان نے کہا: اے قوم ِ عرب! جب تک اللہ تعالیٰ خود تمہارے ساتھ نہ تھے، بلکہ اللہ نے معاملہ ہمارے اور تمہارے درمیان چھوڑ رکھا تھا اس وقت تک تو ہم تمہیں اپنا غلام بناتے تھے، تمہیں قتل کرتے تھے اور تم سے سارا مال چھین لیا کرتے تھے، لیکن جب سے اللہ تمہارے ساتھ ہوگیا ہے اس وقت سے ہم میں تم سے مقابلہ کی بھی طاقت باقی نہیں رہی۔ حضرت عمر نے (مجھ سے) پوچھا: (اے انس!) تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں اپنے پیچھے بڑی تعداد میں دشمن اور اُن کا بڑا دبدبہ چھوڑ کر آیا ہوں۔ اگر آپ اسے قتل کر دیں گے تو پھر اس کی قوم اپنی زندگی سے نااُمید ہو کر مسلمانوں سے لڑنے میں اور زیادہ زور لگائے گی (اس لیے آپ اس کو قتل نہ کریں)۔ حضرت عمر نے کہا: میں حضرت براء بن مالک اور حضرت حجزأ بن ثور ؓ (جیسے بہادرصحابہ) کے قاتل کو کیسے زندہ چھوڑ دوں ؟ (اس نے ان دونوں کو قتل کیا ہے)
حضرت انس ؓ کہتے ہیں: جب مجھے خطرہ ہوا کہ حضرت عمر ؓ تو اسے ضرور قتل کر ہی دیں گے تو میں نے ان سے کہا: آپ اسے قتل نہیں کرسکتے، کیوںکہ آپ اس سے لَا بَأْسَتم مت ڈرو اور بات کرو کہہ چکے ہیں۔ (اور لَا بَأْسَکہنے سے جان کی امان مل جاتی ہے، لہٰذا آپ تو اسے امان دے چکے ہیں) حضرت عمر نے فرمایا: معلوم ہوتا ہے تم نے اس سے کوئی رشوت لی ہے اور اس سے کوئی مفاد حاصل کیا ہے؟ حضرت انس نے کہا: اللہ کی قسم! میںنے اس سے نہ رشوت لی ہے اور نہ کوئی مفاد۔ (میں تو ایک حق بات کہہ رہا ہوں) حضرت عمر نے کہا: تم اپنے اس دعویٰ (کہ لاَ بَأْسَ کہنے سے کافر کو امان مل جاتی ہے) کی تصدیق کرنے والا کوئی اور گواہ اپنے علاوہ لاؤ، ورنہ میں تم سے ہی سزا کی ابتدا کروں گا۔ چناںچہ میں گیا۔ مجھے حضرت زُبیر بن عوّام ؓ ملے، میں ان کو لے کر آیا۔ انھوں نے میری بات کی تصدیق کی، جس پر حضرت عمر ہُرمُزان کے قتل سے رک گئے۔ اور ہُرمُزان مسلمان ہوگیا اور حضرت عمر ؓ نے اس کے لیے بیت المال میں سے وظیفہ مقرر کیا۔1
حضرت عبد اللہ بن ابی حَدْرَد اسلمی ؓ فرماتے ہیں: جب ہم حضرت عمر ؓ کے ساتھ (دمشق کی بستی) جابیہ پہنچے تو آپ نے ایک بوڑھے ذمی کو دیکھا کہ وہ لوگوں سے کھانا مانگ رہا ہے۔ حضرت عمر نے اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھا (کہ یہ کیوں مانگ رہا ہے؟) کسی نے کہا: یہ ذمی آدمی ہے جو کمزور اور بوڑھا ہوگیا ہے۔ حضرت عمر نے اس کے ذمہ جو جزیہ تھا وہ معاف کر دیا اور فرمایا: پہلے تم نے اس پر جزیہ لگایا (جسے وہ دیتا رہا) اب جب وہ کمزور ہوگیا ہے تو تم نے اسے کھانا مانگنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ پھر آپ نے اس کے لیے بیت المال میں سے دس درہم وظیفہ مقرر کیا۔ وہ بوڑھا عیال دار تھا۔2
ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ کا ایک بوڑھے ذِمی پر گزر ہوا جولوگوں سے مسجد وں کے دروازوں پر مانگتا پھر رہا تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا: (اے ذمی!) ہم نے تم سے انصاف نہیں کیا۔ جوانی میں تو ہم تم سے جزیہ لیتے رہے اور بڑھاپے میں ہم نے تمہارا کوئی خیال نہ رکھا۔ پھر آپ نے اس کے لیے بیت المال میں سے بقدرِ گزارہ وظیفہ جاری کر دیا۔1
حضرت یزید بن ابی مالک ؓ کہتے ہیں: مسلمان جابیہ بستی میں ٹھہرے ہوئے تھے، حضرت عمر ؓ بھی ان کے ساتھ تھے۔ ایک ذمی نے آکر حضرت عمر کو بتایا کہ لوگ اس کے انگوروں کے باغ پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ چناںچہ حضرت عمر باہر نکلے تو ان کی اپنے ایک ساتھی سے ملاقات ہوئی جس نے اپنی ڈھال پر انگور اٹھا رکھے تھے۔ حضرت عمر نے ان سے فرمایا: ارے میاں! تم بھی؟ اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! ہمیں بہت زیادہ بھوک لگی ہوئی ہے۔ (کھانے کا اور سامان ہے نہیں) یہ سن کر حضرت عمرواپس آگئے اور حکم دیا کہ اس ذمی کو اس کے انگوروں کی قیمت ادا کی جائے ۔2
حضرت سعید بن مسیب ؓکہتے ہیں: ایک مسلمان اور یہودی اپنے جھگڑے کا فیصلہ کروانے حضرت عمر ؓ کے پاس آئے۔ آپ نے دیکھا کہ یہودی حق پر ہے، تو آپ نے اس کے حق میں فیصلہ کردیا۔ اس پر اس یہودی نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے حق کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پر حضرت عمر نے اسے (خوشی میں ہلکا سا) کوڑا مارا اور فرمایا: تجھے کس طرح پتہ چلا (کہ حق کیا ہوتا ہے؟) اس یہودی نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں تورات میں یہ لکھا ہوا ملتا ہے کہ جو قاضی حق کا فیصلہ کرتا ہے اس کے دائیں جانب ایک فرشتہ اور بائیں جانب ایک فرشہ ہوتا ہے جو اسے صحیح راستہ پر چلاتے ہیں اور اسے حق بات کا اِلہام کرتے ہیں، جب تک وہ قاضی حق کا فیصلہ کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ جب وہ یہ عزم چھوڑدیتا ہے تو دونوں فرشتے اسے چھو ڑ کر آسمان پر چڑھ جاتے ہیں۔3
حضرت اِیاس بن سَلَمہ اپنے والد (حضرت سلمہ) سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ بازار سے گزرے، ان کے ہاتھ میں کوڑا بھی تھا۔ انھوں نے آہستہ سے وہ کوڑا مجھے مارا جو میرے کپڑے کے کنارے کو لگ گیا اور فرمایا: راستہ سے ہٹ جاؤ۔ جب اگلا سال آیا تو آپ کی مجھ سے ملاقات ہوئی۔ مجھ سے کہا: اے سَلَمہ! کیا تمہارا حج کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور مجھے چھ سو درہم دیے اور کہا: انھیں اپنے سفرِ حج میں کام لے آنا اور یہ اس ہلکے سے کوڑے کے بدلہ میں ہیں جو میں نے تم کو مارا تھا۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے تو وہ کوڑا یاد بھی نہیں رہا۔ فرمایا: لیکن میں تو اسے نہیں بھولا (یعنی میں نے مار تو دیا لیکن سارا سال کھٹکتا رہا)۔ 1