صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کا کھانا کھلانا

حضرت محمد بن قیس ؓ کہتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ صرف غریبوں کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے، (اور ان کا کھانا اکثر غریب لوگ ہی کھاجایا کرتے اور یہ بھوکے رہ جاتے) اس کی وجہ سے ان کا جسم کمزور ہوگیا تھا۔ تو اُن کی بیوی نے ان کے لیے کھجوروں کا کوئی شربت تیار کیا۔ جب یہ کھانے سے فارغ ہوجاتے تو وہ ان کو یہ شربت پلا دیتیں۔ اور حضرت ابوبکر بن حفص ؓ کہتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کھانا تب کھاتے جب ان کے دسترخوان پر کوئی یتیم ہوتا۔3 حضرت حسن ؓ کہتے ہیں: حضرت ابنِ عمر ؓ جب بھی دوپہر کا یا رات کا کھانا کھاتے تو اپنے آس پاس کے یتیموں کو بلا لیتے۔ ایک دن دوپہر کا کھانا کھانے لگے تو ایک یتیم کو بلانے کے لیے آدمی بھیجا لیکن وہ یتیم ملا نہیں (اس لیے یتیم کے بغیر کھانا شروع کر دیا)۔ حضرت ابنِ عمر کے لیے میٹھے ستّو تیار کیے جاتے تھے جسے وہ کھانے کے بعد پیا کرتے تھے۔ چناںچہ وہ یتیم آگیا اور یہ حضرات کھانے سے فارغ ہوچکے تھے۔ حضرت ابنِ عمر نے اپنے ہاتھ میں پینے کے لیے ستّو (کا پیالہ) پکڑا ہوا تھا تو وہ پیالہ اس یتیم کو دے دیا اور فرمایا: یہ لو، میرا خیال ہے تم نقصان میں نہیں رہے۔ حضرت میمون بن مہران ؓ کہتے ہیں: حضرت ابنِ عمر ؓ کی بیوی پر کچھ لوگ حضرت ابنِ عمر کے بارے میں ناراض ہوئے اور ان سے کہا کہ کیا تم ان بڑے میاں پر ترس نہیں کھاتی ہو کہ یہ کمزور ہوتے جا رہے ہیں؟ (انھیں کچھ کھلایا پلایا کرو) تو انھوں نے کہا: میں ان کا کیا کروں؟ جب بھی ہم ان کے لیے کھانا تیار کرتے ہیں تو وہ ضرور اور لوگوں کو بلا لیتے ہیں جو سارا کھانا کھاجاتے ہیں۔ ( یوں دوسروں کو کھلا دیتے ہیں خود کھاتے نہیں) حضرت ابنِ عمر جب مسجد سے نکلتے تو کچھ غریب لوگ ان کے راستہ میں بیٹھ جاتے تھے (جن کو حضرت ابنِ عمر ساتھ گھر لے آتے اور ان کو اپنے کھانے میں شریک کرلیتے)۔ ان کی بیوی نے ان غریبوں کے پاس مستقل کھانا پہلے سے بھیج دیا اور ان سے کہلا بھیجا کہ تم یہ کھانا کھالو اور چلے جائو اور حضرت ابنِ عمر کے راستہ میں نہ بیٹھو۔ حضرت ابنِ عمر مسجد سے گھر آگئے (انھیںراستہ میں کوئی غریب بیٹھا ہوا نہ ملا) تو فرمایا: فلاں اور فلاں کے پاس آدمی بھیجو (تاکہ وہ کھانے کے لیے آجائیں۔ آدمی ان کو بلانے گئے لیکن ان میں سے کوئی نہ آیا، کیوںکہ) ان کی بیوی نے ان غریبوں کو کھانے کے ساتھ یہ پیغام بھی بھیجا تھا کہ اگر تمہیں حضرت ابنِ عمر بلائیں تو مت آنا۔ (جب کوئی نہ آیا) تو حضرت ابنِ عمر نے کہا: تم لوگ چاہتے ہو کہ میں آج رات کھانا نہ کھائوں۔ چناںچہ اس رات کھانا نہ کھایا۔1 حضرت ابو جعفر قاری ؓ کہتے ہیں: مجھے میرے مالک (عبد اللہ بن عیّاش بن ابی ربیعہ المخزومی) نے کہا: تم حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے ساتھ سفر میں جائو اور ان کی خدمت کرو۔ (چناںچہ میں ان کے ساتھ سفر میں گیا) وہ جب بھی کسی چشمہ پر پڑائو ڈالتے تو چشمہ والوں کو اپنے ساتھ کھانے کے لیے بلاتے اور ان کے بڑے بیٹے بھی ان کے پاس آکر کھانا کھاتے۔ (تو کھانا کم اور آدمی زیادہ ہونے کی وجہ سے) ہر آدمی کو دو یا تین لقمے ملتے تھے۔ چناںچہ جحُفہ مقام پر بھی ان کا قیام ہوا تو وہاں کے لوگ بھی (ان کے بلانے پر) کھانے کے لیے آگئے۔ اتنے میں کالے رنگ کا ایک ننگا لڑکا بھی آگیا۔ حضرت ابنِ عمرنے اس کو بھی بلایا۔ اس نے کہا: مجھے تو بیٹھنے کی جگہ نظر نہیں آرہی ہے۔ یہ سب لوگ بہت مل مل کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ حضرت ابو جعفر ؓ کہتے ہیں: میںنے دیکھاکہ حضرت ابنِ عمر اپنی جگہ سے تھوڑاسا ہٹ گئے اور اس لڑکے کو اپنے سینے کے ساتھ لگا کر بٹھا لیا۔1 حضرت ابو جعفر قاری ؓ کہتے ہیں: میںحضرت ابنِ عمر ؓ کے ساتھ مکہ سے مدینہ کو چلا۔ ان کے پاس بہت بڑا پیالہ تھا جس میں ثرید تیار کیا جاتا تھا۔ پھر ان کے بیٹے، ان کے ساتھی اور جو بھی وہاں آجاتا وہ سب اکٹھے ہوکر اس پیالہ میں سے کھاتے۔ اور بعض دفعہ اتنے آدمی اکٹھے ہوجاتے کہ کچھ آدمیوں کو کھڑے ہو کر کھانا پڑتا۔ ان کے ساتھ ان کا ایک اُونٹ تھا جس پر نبیذ (وہ پانی جس میں کھجور کچھ دیر ڈال کر اسے میٹھا بنا لیا جائے) اور سادہ پانی سے بھرے ہوئے دو مشکیزے ہوتے تھے۔ کھانے کے بعد ہر آدمی کو ستّو اور نبیذ سے بھرا ہوا ایک پیالہ ملتا جس کے پینے سے خوب اچھی طرح پیٹ بھر جاتا۔2 حضرت معن ؓ کہتے ہیں: حضرت ابنِ عمر ؓ جب کھانا تیار کرلیتے اور ان کے پاس سے کوئی اچھی وضع قطع والا آدمی گزرتا تو حضرت ابنِ عمر اسے نہ بلاتے، لیکن ان کے بیٹے یا بھتیجے اسے بلا لیتے۔ اور جب کوئی غریب آدمی گزرتا توحضرت ابنِ عمر اسے بلا لیتے، لیکن ان کے بیٹے یا بھتیجے اسے نہ بلاتے۔ توحضرت ابنِ عمر فرماتے: جو کھانا کھانا نہیں چاہتا اسے یہ لوگ بلاتے ہیں اور جو کھانا چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتے ہیں۔3