صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
حضرت سعد بن عبادہ ؓ کا کھاناکھلانا
ایک مرتبہ حضرت سعد بن عبادہ ؓ مغزسے بھرا ہوا ایک بڑا پیالہ حضور ﷺ کی خدمت میں لائے۔ حضور ﷺ نے دریافت فرمایا: اے ابو ثابت! یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! میں نے چالیس اونٹ ذبح کیے تھے، تو میرا دل چاہا کہ میں آپ کو پیٹ بھر کر مغز کھلائوں۔ چناںچہ حضور ﷺ نے اسے نوش فرمایا اور حضرت سعد کے لیے دعائے خیر فرمائی۔1
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے حضور ﷺ کو (اپنے گھر آنے کی) دعوت دی۔ (جب حضور ﷺ ان کے گھر تشریف لے آئے تو) وہ حضور ﷺ کی خدمت میں کھجوریں اور کچھ روٹی کے ٹکڑے لائے جنھیں حضور ﷺ نے نوش فرمایا۔ پھر دودھ کا ایک پیالہ لائے جسے حضور ﷺ نے پی لیا اور پھر ان کے لیے یہ دعا فرمائی: تمہارا کھانا نیک آدمی کھائیں اور روزہ دار تمہارے یہاں اِفطار کریں اور فرشتے تمہارے لیے دعائے رحمت کریں۔ اے اللہ! سعد بن عبادہ کی اولاد پراپنی رحمتیں نازل فرما۔2
دوسری لمبی حدیث میں حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے حضور ﷺ کے سامنے کچھ تِل اور کچھ کھجوریں پیش کیں۔3
حضرت عُروہ ؓ کہتے ہیں: میں نے حضرت سعد بن عبادہ ؓ کو دیکھا کہ وہ اپنے قلعہ پر کھڑے ہوئے یہ اعلان کر رہے ہیں کہ جو چربی یا گوشت کھانا چاہتا ہے وہ سعد بن عبادہ کے ہاں آجائے۔ پھر میں نے (ان کے انتقال کے بعد) ان کے بیٹے کو اسی طرح اعلان کرتے ہوئے دیکھا۔ (پھر ان دونوں باپ بیٹے کے انتقال کے بعد) ایک دن میں مدینہ کے راستہ پر جا رہا تھا، اس وقت میں نوجوان تھا کہ اتنے میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ عالیہ محلہ میں اپنی زمین پر جاتے ہوئے میرے پاس سے گزرے تو انھوں نے فرمایا: اے جوان! جائو اور دیکھ کر آئو کہ سعد بن عبادہ کے قلعہ پر کیا کوئی آدمی کھانے پر بلانے کے لیے اعلان کر رہا ہے؟ میں نے دیکھ کر انھیں بتایاکہ کوئی نہیںہے۔ تو انھوں نے فرمایا: تم نے سچ کہا۔ (اتنی زیادہ سخاوت تو ان باپ بیٹے کی ہی خصوصیت تھی، اب وہ بات نہ رہی) 1