صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

مدینہ طیبہ میں آنے والے مہمانوں کی مہمانی کا بیان

حضرت طلحہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں: جب بھی کوئی آدمی مدینہ منوّرہ حضور ﷺ کی خدمت میں آتا اور مدینہ میں اس کا کوئی جاننے والا ہوتا تو وہ اس کا مہمان بن جاتا، اور اگر کوئی جاننے والا نہ ہوتا تووہ حضراتِ اہلِ صُفّہ کے ساتھ ٹھہر جاتا۔ چناںچہ میں بھی صُفّہ میں ٹھہرا ہوا تھا اور میں نے وہاں ایک آدمی کے ساتھ جوڑی بنالی۔ حضور ﷺ کی طرف سے روزانہ دو آدمیوں کو ایک مد یعنی چودہ چھٹانک کھجوریں ملا کرتی تھیں۔ (اس طرح فی کس سات چھٹانک کھجوریں ملا کرتیں) ایک دن حضور ﷺ نے نماز سے سلام پھیرا تو ہم اہلِ صُفّہ میں سے ایک آدمی نے پکار کر کہا: یارسول اللہ! ان کھجوروں نے ہمارے پیٹ جلا ڈالے اور ہماری چادریں پھٹ گئیں۔ یہ سن کر حضور ﷺ منبر کی طرف چلے اور اس پر چڑھ کر اللہ کی حمد وثنا بیان کی۔ پھر آپ کو اپنی قوم قریش کی طرف سے جو تکلیفیں اٹھانی پڑیں ان کا تذکرہ فرمایا، پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ایک مرتبہ مجھ پر اور میرے ساتھی پر دس سے زیادہ راتیں ایسی گزریں کہ ہمارے پاس پیلو کے پھل کے علاوہ کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ پھر ہم ہجرت کر کے اپنے انصاری بھائیوں کے پاس آئے۔ ان کے ہاں عام غذا کھجور ہے اور وہی زیادہ کھائی جاتی ہے۔ چناںچہ یہ کھجوریں کھلا کر ہی ہمارے ساتھ غم خواری کا معاملہ کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر میرے پاس روٹی اور گوشت ہوتا تو میں تمہیں ضرور کھلاتا۔ (آج تم تنگی سے گزارا کر رہے ہو) لیکن ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ تم کعبہ کے پردوں جیسے قیمتی کپڑے پہنو گے، اور صبح اور شام تمہارے سامنے کھانے کے بڑے بڑے پیالے لائے جائیں گے۔1 حضرت فضالہ لیثی ؓ فرماتے ہیں: ہم حضور ﷺ کی خدمت میں (مدینہ منوّرہ) حاضر ہوئے۔ وہاں کا دستور یہ تھا کہ جس آنے والے کا وہاں کوئی جاننے والا ہوتا وہ اس کا مہمان بن جاتا اور اس کے ہاں ٹھہر جاتا اور جس کا کوئی جاننے والا نہ ہوتا تو وہ صفّہ میں ٹھہر جاتا۔ چوںکہ میراکوئی جاننے والا نہیں تھا اس لیے میں صفّہ میں ٹھہر گیا۔ (صفّہ میں اور حضراتِ مہاجرین بھی تھے) ایک دفعہ جمعہ کے دن ایک آدمی نے پکار کر کہا: یا رسول اللہ! کھجوروں نے ہمارے پیٹ جلا ڈالے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ تم میں سے جوزندہ رہا اس کے سامنے صبح اور شام کھانے کے بڑے بڑے پیالے لائے جائیں گے اور جیسے کعبہ پر پردے ڈالے جاتے ہیں ایسے قیمتی کپڑے تم پہنو گے۔2 حضرت سلمہ بن اکوع ؓ فرماتے ہیں: حضور ﷺ اپنے صحابہ کو نماز پڑھاتے اور نماز سے فارغ ہو کر اپنے صحابہ سے فرماتے: ہر آدمی کے پاس جتنے کھانے کا انتظام ہے اتنے مہمان اپنے ساتھ لے جائے۔ چناںچہ کوئی آدمی ایک مہمان لے جاتا، کوئی دو اور کوئی تین، اور جتنے مہمان بچ جاتے ان کو حضور ﷺ اپنے ساتھ لے جاتے۔1 حضرت محمد بن سِیرین ؓکہتے ہیں: جب شام ہوجاتی تو حضور ﷺ اصحابِ صفّہ کو اپنے صحابہ میں تقسیم فرما دیتے۔ کوئی ایک آدمی لے جاتا، کوئی دو اور کوئی تین، یہاں تک کہ کوئی آدمی دس مہمان لے جاتا۔ اور حضرت سعد بن عبادہ ؓ ہر رات اپنے گھر اَسّی مہمان لے جاتے اور انھیں کھانا کھلاتے۔2 حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضور ﷺ کا میرے پاس سے گزر ہوا۔ آپ نے فرمایا: اے ابو ہِر! میں نے عرض کیا: لبیک یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: جائو اہلِ صفّہ کو بلا لائو۔ اہلِ صفّہ اسلام کے مہمان تھے، نہ ان کے اہل وعیال تھے اور نہ ان کے پاس مال تھا۔ جب حضور ﷺ کے پاس صدقہ آتا تو وہ سارا ان کے پاس بھیج دیتے اور اس میں سے خود کچھ بھی استعمال نہ فرماتے۔ اور جب آپ کے پاس ہدیہ آتا تو اسے خود بھی استعمال فرماتے، اور ان کو بھی اس میں اپنے ساتھ شریک فرمالیتے اور ہدیہ میں سے کچھ ان کے پاس بھی بھیج دیتے۔3 حضرت ابو ذر ؓ فرماتے ہیں: میں اہلِ صفّہ میں سے تھا۔ جب شام ہوتی تو ہم لوگ حضور ﷺ کے دروازے پر حاضر ہوجاتے۔ آپ صحابۂ کرام کو فرماتے تو ہر آدمی اپنے ساتھ ہم میں سے ایک آدمی اپنے گھر لے جاتا۔ آخر میں اہلِ صفّہ میں سے دس یا کم وبیش آدمی بچ جاتے۔ پھر حضور ﷺ کا رات کا کھانا آتا تو ہم (باقی بچ جانے والے) حضور ﷺ کے ساتھ کھانا کھاتے۔ جب ہم کھانے سے فارغ ہوجاتے تو حضور ﷺ فرماتے: جائو مسجدِ (نبوی) میں سوجائو ۔ ایک دن حضور ﷺ میرے پاس سے گزرے میں چہرے کے بَل سو رہا تھا، آپ نے مجھے پائوں سے ٹھوکر مار کر فرمایا: اے جُندب! یہ کیسے لیٹے ہو؟ اس طرح تو شیطان لیٹتا ہے۔1 حضرت طِخْفہ بن قیس ؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضور ﷺ نے اپنے صحابہ سے (اہلِ صفّہ کو اپنے ساتھ لے جانے کے بارے میں)فرمایا، کوئی ایک آدمی لے گیا اور کوئی دو۔ آخر میں ہم پانچ آدمی بچ گئے۔ میرے علاوہ چار آدمی اور تھے۔ حضور ﷺ نے ہم سے فرمایا: چلو۔ چناںچہ ہم حضور ﷺ کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ کے ہاں گئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! ہمیں کھلائو اور پلائو۔ تو حضرت عائشہ گندم کا گوشت والادلیا لے آئیں۔ ہم نے وہ کھا لیا تو پھر کھجور کا حلوہ لے آئیں جس کا رنگ فاختہ جیسا تھا۔ ہم نے وہ بھی کھا لیا توآپ نے فرمایا: اے عائشہ! ہمیں کچھ پلائو۔ تو حضرت عائشہ دودھ کا ایک چھوٹا پیالہ لے آئیں، ہم نے وہ دودھ بھی پی لیا۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو یہاں ہی رات گزار لو، اور اگر چاہو تو مسجد میں چلے جائو۔ ہم نے کہا: ہم مسجد جانا چاہتے ہیں۔ (چناںچہ ہم لوگ مسجد جا کر سوگئے) میں مسجد میں پیٹ کے بل لیٹا ہواتھا کہ ایک آدمی نے مجھے پائوں سے ہلایا اور کہا کہ اس طرح لیٹنا تو اللہ کو پسند نہیں ہے۔ میںنے دیکھا تو وہ حضور ﷺ تھے۔2 حضرت جَہْجاہ غِفاری ؓ فرماتے ہیں: میں اپنی قوم کے چند لوگوں کے ساتھ (مدینہ منوّرہ) آیا۔ ہمارا ارادہ اسلام لانے کا تھا۔ ہم لوگوں نے مغرب کی نماز حضور ﷺ کے ساتھ پڑھی۔ سلام پھیر نے کے بعد آپ نے فرمایا: ہر آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کا ہاتھ پکڑ لے (اور اسے اپنے گھر کھانے کے لیے لے جائے۔ چناںچہ تمام لوگوں کو صحابہ لے گئے) اور مسجد میں میرے اور حضور ﷺ کے علاوہ اور کوئی نہ بچا۔ چوںکہ میں لمبا تڑنگاآدمی تھا اس لیے مجھے کوئی نہ لے گیا اور حضور ﷺ مجھے اپنے گھر لے گئے۔ پھر حضور ﷺ میرے لیے ایک بکری کا دودھ نکال کر لائے، میں وہ دودھ سارا پی گیا، یہاں تک کہ حضور ﷺ سات بکریوں کا دودھ نکال کر لائے اور میں وہ سارا پی گیا۔ پھر حضور ﷺ پتھر کی ایک ہنڈیا میں سالن لائے میں وہ بھی ساراکھا گیا۔ یہ دیکھ کر حضرت اُمّ ایمن ؓ نے کہا: (یہ آدمی تو سب کچھ کھاپی گیا، حضور ﷺ بھوکے رہ گئے، اس لیے) جو آج رات حضورﷺ کے بھوکا رہ جانے کا ذریعہ بنا ہے اللہ اسے بھوکا رکھے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے اُمّ ایمن! خاموش رہو۔ اس نے اپنی روزی کھائی ہے اور ہماری روزی اللہ کے ذمہ ہے۔ صبح کو حضور ﷺ کے صحابہ اور یہ باہر سے آئے ہوئے مہمان سب اِکٹھے ہوگئے اور ہر مہمان کے پاس رات جو کھانا لایا گیا وہ بتانے لگا۔ میں نے کہا: مجھے سات بکریوں کا دودھ لا کر دیا گیا میں وہ سارا پی گیا۔ پھر ایک ہنڈیا میں سالن لایا گیا وہ بھی سارا کھا گیا۔ ان سب نے پھر حضورﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی۔ (نماز کے بعد) پھر حضور ﷺ نے فرمایا: ہر آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کا ہاتھ پکڑ لے (اور اپنے گھر لے جا کر کھانا کھلا دے)۔ آج بھی مسجد میں میرے اور حضور ﷺ کے علاوہ اور کوئی نہ بچا۔ میں لمبا تڑنگا آدمی تھا اس لیے مجھے کوئی نہ لے گیا۔ چناںچہ حضور ﷺ مجھے لے گئے اور مجھے ایک بکری کا دودھ نکال کر دیا۔ آج میں اسی سے سیراب ہوگیا اور میرا پیٹ بھرگیا۔ یہ دیکھ کر حضرت اُمّ ایمن نے کہا: یا رسول اللہ! کیا یہ ہمارا کل والا مہمان نہیں ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں! وہی ہے، لیکن آج رات اس نے مؤمن کی آنت میں کھایا ہے اور اس سے پہلے یہ کافر کی آنت میں کھاتا تھا۔ کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے اور مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے۔ (یعنی مؤمن کو زیادہ کھانے پینے کا فکر اور شوق نہیں ہوتا اور کافر کو ہوتا ہے) 1 حضرت واثلہ بن اسقع ؓ فرماتے ہیں: ہم اہلِ صفّہ میں تھے۔ رمضان کا مہینہ آگیا، ہم نے روزے رکھنے شروع کر دیے۔ جب ہم افطار کرلیتے تو جن لوگوں نے حضور ﷺ سے بیعت کی ہوئی تھی وہ لوگ آتے اور ان میں سے ہر آدمی ہم میں سے ایک آدمی کو اپنے ساتھ لے جاتا اور اسے رات کا کھانا کھلاتا۔ ایک رات ہمیں لینے کوئی نہ آیا، پھر صبح ہوگئی، پھر اگلی رات آگئی اور ہمیں لینے کوئی نہ آیا۔ پھر ہم لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی حالت حضور ﷺ کو بتائی۔ حضور ﷺ نے اپنی ازواجِ مطہّرات میں سے ہر ایک کے پاس آدمی بھیجا کہ ان سے پوچھ کر آئے کہ ان کے پاس کچھ ہے؟ تو ان میں سے ہر ایک نے قسم کھا کر یہی جواب بھیجا کہ اس کے گھر میں ایسی کوئی چیزنہیں ہے جسے کوئی جان دار کھا سکے۔ حضور ﷺ نے ان اَصحابِ صفّہ سے فرمایا: تم سب جمع ہوجائو۔ جب وہ لوگ جمع ہوگئے تو حضور ﷺ نے ان کے لیے یہ دعا فرمائی: اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل اور تیری رحمت مانگتا ہوں، اس لیے کہ تیری رحمت تیرے ہی قبضہ میں ہے، تیرے علاوہ کوئی اور اس کا مالک نہیں ہے۔ ابھی آپ نے یہ دعا مانگی ہی تھی کہ ایک آدمی نے اندر آنے کی اجازت مانگی (آپ نے اسے اجازت دی) تو وہ ایک بھنی ہوئی بکری اور روٹیاں لے کر آیا۔ حضور ﷺ کے فرمانے پر وہ بکری ہمارے سامنے رکھ دی گئی۔ ہم نے اس میں سے کھایا اور خوب سیر ہوگئے تو حضور ﷺ نے ہم سے فرمایا: ہم نے اللہ سے اس کا فضل اور اس کی رحمت مانگی تھی، تو یہ کھانا اللہ کا فضل ہے اور اللہ نے اپنی رحمت ہمارے لیے ذخیرہ کر کے (آخرت کے لیے) رکھ لی ہے۔1 حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر ؓ فرماتے ہیں: اصحابِ صفّہ غریب فقیر لوگ تھے۔ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ اعلان فرمایا: جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہے تو وہ (اصحابِ صفّہ میں سے) تیسرے کو لے جائے، اور جس کے پاس چار آدمیوں کا کھانا ہے وہ پانچویں یا چھٹے کو لے جائے۔ چناںچہ حضور ﷺ خود دس آدمیوں کو لے گئے۔ اور (میرے والد) حضرت ابو بکر ؓ تین آدمی گھر لے آئے، اور گھر میں خود میں تھا اور میرے والد اور والدہ تھیں۔ راوی کہتے ہیں: مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ بھی کہا تھا کہ اور میری بیوی تھی اور مزید ایک خادم تھا جو ہمارے اور حضرت ابوبکر دونوں کے گھروں میں کام کرتا تھا۔ (گھر کے افراد کل چار یا پانچ تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ چار ہوں تو ایک یا دو لے جانا، لیکن حضرت ابو بکر شوق میںتین آدمی لے آئے) خود حضرت ابوبکر نے حضور ﷺ کے ہاں رات کا کھانا کھایا اور پھر عشاء تک وہاں ہی ٹھہرے رہے۔ پھر نمازِ عشاء کے بعد اور ٹھہر گئے یہاں تک کہ حضور ﷺ نے کھا لیا۔ رات کا کافی حصہ گزرنے کے بعد حضرت ابو بکر گھر آئے۔ (وہ سمجھے کہ مہمانوں نے کھانا کھا لیا ہوگا) ان کی بیوی نے ان سے کہا: آپ اپنے مہمانوں کے پاس کیوں نہیں آئے؟ حضرت ابوبکر نے کہا: کیا تم نے ان مہمانوں کو کھانا نہیں کھلایا؟ انھوں نے کہا: ہم نے تو ان سے کہا تھا کہ کھانا کھالو لیکن انھوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ جب ابو بکر آئیں گے تب کھائیں گے۔ ہم نے بہت زور لگایا لیکن بالکل نہ مانے اور ہم پر غالب آگئے۔ میں یہ سن کر اندر جا کر چھپ گیا (کہ مجھ پر ناراض ہوں گے)۔ حضرت ابو بکر نے مجھے ناراض ہوتے ہوئے کہا: او بے وقوف! (تم نے ان کو کھانا کیوں نہیں کھلایا؟) اور مجھے خوب برا بھلا کہا۔ (پھر حضرت ابو بکر نے غصہ میں قسم کھالی کہ وہ کھانا نہیں کھائیں گے) اور حضرت ابو بکر نے مہمانوں سے کہا: تم کھانا کھائو میں یہ کھانا کبھی نہیں کھائوں گا۔ (اس پر مہمانوں نے بھی قسم کھالی کہ اگر ابو بکر نہیں کھائیں گے تو وہ بھی نہیں کھائیں گے۔ آخر حضرت ابو بکر کا غصہ ٹھنڈا ہوا، انھوں نے اپنی قسم توڑی اور مہمانوں کے ساتھ کھانا شروع کر دیا۔ اس پر) حضرت عبد الرحمن کہتے ہیں: ہم کھانا کھا رہے تھے، اللہ کی قسم! ہم جو لقمہ بھی اٹھاتے اس کے نیچے کھانا اس سے بھی زیادہ بڑھ جاتا، یہاں تک کہ سب مہمان سیر ہوگئے اور کھانا پہلے سے بھی زیادہ ہوگیا۔ حضرت ابو بکر نے جب دیکھا کہ کھانا پہلے سے بھی زیادہ ہوگیا ہے تو اپنی بیوی سے کہا: اے قبیلہ بنو فِراس والی خاتون! ( دیکھو یہ کیا ہو رہا ہے؟) بیوی نے کہا: کوئی بات نہیں، میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی قسم! یہ کھاناتو پہلے سے تین گناہوگیا ہے۔ پھر حضرت ابو بکر نے بھی وہ کھانا کھایا اور کہا: میری (نہ کھانے کی) قسم تو شیطان کی طرف سے تھی۔ پھر انھوں نے اس میں سے ایک لقمہ اور کھایا، پھر وہ اٹھا کر یہ کھانا حضور ﷺ کی خدمت میں لے گئے۔ ہم مسلمانوں کا ایک قوم سے معاہدہ ہوا تھا جس کی مدت ختم ہوگئی تھی اس وجہ سے ہم مسلمانوں نے ان کی طرف بھیجنے کے لیے ایک لشکر تیار کیا تھا۔ جس میں بارہ آدمیوں کو ذمہ دار بنا کر ہر ایک کے ساتھ بہت سے مسلمان کر دیے تھے۔ ذمہ داروں کی تعداد تومعلوم ہے کہ بارہ تھے لیکن ہر ایک کے ساتھ کتنے مسلمان تھے؟ یہ تعداد اللہ ہی جانتے ہیں۔ بہرحال اس سارے لشکر نے اس کھانے میں سے کھایا تھا۔ بعض راویوں نے بارہ ذمّہ دار بنانے کے بجائے بارہ جماعتیں بنانے کا تذکرہ کیا ہے۔1 حضرت یحییٰ بن عبد العزیز ؓ کہتے ہیں: ایک سال حضرت سعد بن عبادہ ؓ غزوہ میں جاتے اور ایک سال ان کے بیٹے حضرت قیس ؓ جاتے۔ چناںچہ ایک مرتبہ حضرت سعد مسلمانوں کے ہمراہ غزوہ میں گئے ہوئے تھے، ان کے پیچھے مدینہ میں حضور ﷺ کے پاس بہت سے مسلمان مہمان آگئے۔ حضرت سعد کو وہاں لشکر میں یہ بات معلوم ہوئی تو انھوں نے کہا: اگر قیس میرا بیٹاہوا تووہ (میرے غلام نِسْطاس سے) کہے گا: اے نِسْطاس! چابیاں لائو تاکہ میں حضورﷺ کے لیے ان کی ضرورت کی چیزیں (اپنے والد کے گودام میں سے) نکال لوں۔ اس پر نِسْطاس کہے گا: اپنے والد کی طرف سے اجازت کی کوئی تحریر لائو۔ تو میرا بیٹا قیس مار کر اس کی ناک توڑ دے گا اور اس سے زبردستی چابیاں لے کر حضور ﷺ کی ضرورت کا سامان نکال لے گا۔ چناںچہ پیچھے مدینہ میں ایسے ہی ہوا اور حضرت قیس نے حضور ﷺ کو سو وسق (تقریبًا پانچ سو پچیس من) لا کر دیے۔1 حضرت میمونہ بنت الحارث ؓ فرماتی ہیں: ایک سال قحط پڑا تو دیہاتی لوگ مدینہ منوّرہ آنے لگے۔ حضور ﷺ کے فرمانے پر ہر صحابی ان میں سے ایک آدمی کا ہاتھ پکڑ کر لے جاتا اور اسے اپنا مہمان بنا لیتا اور اسے رات کا کھانا کھلاتا۔ چناںچہ ایک رات ایک دیہاتی آیا (اسے حضور ﷺ اپنے ہاں لے آئے)۔ حضور ﷺ کے پاس تھوڑا سا کھانا اور کچھ دودھ تھا۔ وہ دیہاتی یہ سب کچھ کھاپی گیا اور اس نے حضور ﷺ کے لیے کچھ نہ چھوڑا۔ حضور ﷺ ایک یا دو راتیں اور اس کو ساتھ لاتے رہے اور وہ ہر روز سب کچھ کھا جاتا۔ اس پر میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا: اے اللہ! اس دیہاتی میں برکت نہ کر، کیوںکہ یہ حضور ﷺ کا سارا کھانا کھا جاتا ہے اور حضور ﷺ کے لیے کچھ نہیں چھوڑتا۔ پھر وہ مسلمان ہوگیا اور اسے پھر حضور ﷺ ایک رات ساتھ لے کر آئے۔ اس رات اس نے تھوڑا سا کھانا کھایا۔ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا: یہ وہی آدمی ہے (جو پہلے سارا کھانا کھا لیاکرتا تھا؟) حضور ﷺ نے فرمایا: (ہاں یہ وہی ہے لیکن پہلے کافر تھا اب مسلمان ہوگیا ہے) کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے اور مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے۔2 حضرت اسلم ؓ کہتے ہیں: جب (حضرت عمر ؓ کے زمانۂ خلافت میں) سخت قحط پڑا جسے عام الرَّمَادہ کہا جاتا ہے۔ ( رَمادہ کے معنی ہلاکت ہیں یا راکھ۔ یعنی ہلاکت کا سال یا وہ سال جس میں لوگوں کے رنگ قحط کی وجہ سے راکھ جیسے ہوگئے تھے) تو ہر طرف سے عرب کھنچ کر مدینہ منوّرہ آگئے۔ حضرت عمر ؓ نے کچھ لوگوں کو ان کے انتظام، اور ان میں کھانا اور سالن تقسیم کرنے کے لیے مقرر کیا۔ ان لوگوں میں حضرت یزید بن اُختِ نَمِر، حضرت مِسْوَر بن مخرمہ، حضرت عبد الرحمن بن عبدِقاری اور حضرت عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود ؓ تھے۔ شام کویہ حضرات حضرت عمر ؓ کے پاس جمع ہوتے اور دن بھر کی ساری کارگزاری سناتے۔ ان میں سے ہر ایک آدمی مدینہ کے ایک کنارے پر مقرر تھا اور یہ دیہاتی لوگ ثنیّۃ الوداع کے شروع سے لے کر رائج قلعہ، بنو حارثہ، بنو عبد الاشہل، بقیع اور بنوقُریظہ تک ٹھہرے ہوئے تھے۔ ا ور ان میں سے کچھ بنوسَلِمہ کے علاقہ میں بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔ بہرحال یہ لوگ مدینہ منوّرہ کے باہر چاروں طرف ٹھہرے ہوئے تھے۔ ایک رات جب یہ دیہاتی لوگ حضرت عمر کے ہاں کھانا کھا چکے تو میں نے حضرت عمر کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہمارے ہاں جو رات کا کھانا کھاتے ہیں ان کی گنتی کرو۔ چناںچہ اگلی رات گنتی کی تو ان کی تعداد سات ہزار تھی۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا: وہ گھرانے جو یہاں نہیں آتے ہیں ان کی اور بیماروں اور بچوں کی بھی گنتی کرو۔ ان کو گِناتو ان کی تعداد چالیس ہزار تھی۔ پھر چند راتیں اور گزریں تو لوگ اور زیادہ ہوگئے۔ تو حضرت عمر کے فرمانے پر دوبارہ گِنا تو جن لوگوں نے حضرت عمر کے ہاں رات کا کھانا کھایا تھا وہ دس ہزار تھے اور دوسرے لوگ پچاس ہزار تھے۔ یہ سلسلہ یوںہی چلتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے بارش بھیج دی اور قحط دور فرما دیا۔ جب خوب بارش ہوگئی تو میں نے دیکھا کہ حضرت عمر نے ان انتظامی لوگوں میں سے ہر ایک کی قوم کے ذمّہ یہ کام لگایا کہ ان آنے والے لوگوں میں سے جو اُن کے علاقے میں ٹھہرے ہوئے ہیں ان کو ان کے دیہات کی طرف واپس بھیج دیں، اور انھیں زادِ راہ اور دیہات تک جانے کے لیے سواریاں بھی دیں، اور میں نے دیکھا کہ خود حضرت عمر بھی انھیں بھیجنے میں لگے ہوئے تھے۔ ان قحط زدہ لوگوں میں موتیں بھی بہت ہوئی تھیں۔ میرے خیال میں ان میں سے دو تہائی لوگ مرگئے ہوں گے اور ایک تہائی بچے ہوں گے۔ حضرت عمر کی بہت ساری دیگیں تھیں۔ پکانے والے لوگ صبح تہجد میں اٹھ کر ان دیگوں میں کُرکُور(ایک قسم کا دَلْیا) پکاتے، پھر صبح یہ دلیا بیماروں کو کھلا دیتے۔ پھر آٹے میں گھی ملا کر ایک قسم کا کھانا پکاتے۔ حضرت عمر کے کہنے پر بڑی بڑی دیگوں میں تیل ڈال کر آگ پر اتنا جوش دیا جاتا کہ تیل کی گرمی اور تیزی چلی جاتی۔ پھر روٹی کا ثرید بنا کر اس میں یہ تیل بطور سالن کے ڈال دیا جاتا (چوںکہ عرب تیل استعمال کرنے کے عادی نہیں تھے) اس لیے تیل استعمال کرنے سے ان کو بخار ہوجاتا تھا۔ قحط سالی کے اس تمام عرصے میں حضرت عمر نے نہ اپنے کسی بیٹے کے ہاں کھانا کھایا اور نہ اپنی کسی بیوی کے ہاں، بلکہ ان قحط زدہ لوگوں کے ساتھ ہی رات کا کھانا کھاتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے (بارش بھیج کر) انسانوں کو زندگی عطا فرمائی۔1 حضرت فِراس دیلمی ؓکہتے ہیں: حضرت عمرو بن عاص ؓ نے مصر سے جو اُونٹ بھیجے تھے ان میں سے حضرت عمر ؓ روزانہ بیس اُونٹ ذبح کرکے اپنے دسترخوان پر (لوگوں کو) کھلاتے تھے۔2 حضرت اسلم ؓکہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ ایک رات گشت کر رہے تھے تو وہ ایک عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے گھر کے درمیان میں بیٹھی ہوئی تھی اور اس کے اِردگرد بچے رو رہے تھے اور ایک دیگچی پانی سے بھر کر آگ پر رکھی ہوئی تھی۔ حضرت عمر نے دروازے کے قریب آکر کہا: اے اللہ کی بندی! یہ بچے کیوں رو رہے ہیں؟ اس عورت نے کہا: بھوک کی وجہ سے رو رہے ہیں۔ حضرت عمر نے کہا: یہ دیگچی آگ پر کیسے رکھی ہوئی ہے؟ اس عورت نے کہا: بچوں کو بہلانے کے لیے پانی بھر کر رکھی ہوئی ہے تاکہ بچے سوجائیں، اور میں نے بچوں کو کہہ رکھا ہے کہ اس میں کچھ ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر رونے لگے۔ پھر جس گھر میں صدقے کا مال رکھا ہوا تھا وہاں آئے اور ایک بورا لے کر اس میں کچھ آٹا، چربی، گھی، کھجوریں، کچھ کپڑے اور درہم ڈالے یہاں تک کہ وہ بورا بھر گیا۔ پھر کہا: اے اسلم! یہ بورا اُٹھا کر میرے اوپر رکھ دو۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کی جگہ میں اٹھا لیتا ہوں۔ حضرت عمر نے مجھ سے کہا: اے اسلم! تیری ماں مرے! میں ہی اسے اُٹھائوں گا، کیوںکہ آخرت میں ان کے بارے میں مجھ سے ہی پوچھا جائے گا۔ چناںچہ حضرت عمر خود ہی اسے اٹھا کر اس عورت کے گھر لائے اور دیگچی لے کر اس میں آٹا اور چربی اور کھجوریں ڈالیں، پھر (آگ پر اسے رکھ کر) خود ہی اسے اپنے ہاتھ سے ہلانے لگ گئے اور دیگچی کے نیچے (آگ کو) پھونک مارنے لگ گئے۔ میں کتنی دیر دیکھتا رہا کہ دھواں حضرت عمر کی ڈاڑھی کے درمیان سے نکل رہا ہے یہاں تک کہ ان کے لیے کھاناپک گیا۔ پھر اپنے ہاتھ سے کھانا ڈال کر ان بچوں کو کھلانے لگے، یہاں تک کہ بچوں کا پیٹ بھر گیا۔ پھر گھر سے باہر آکر گھٹنوں کے بل تواضع سے بیٹھ گئے لیکن مجھ پر ایسا رعب طاری ہوا کہ میں ڈر کے مارے ان سے بات نہ کرسکا۔ حضرت عمر ایسے ہی بیٹھے رہے یہاں تک کہ بچے کھیل کود میں لگ کر ہنسنے لگے تو حضرت عمر اُٹھے اور کہنے لگے: اے اسلم! تم جانتے ہو میں بچوں کے سامنے کیوں بیٹھا؟ میں نے کہا: نہیں۔ انھوں نے کہا: میں نے ان کو روتے ہوئے دیکھا تھا، مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں ان بچوں کو ہنستے ہوئے دیکھے بغیر ہی چھوڑ کر چلا جائوں۔ جب وہ ہنسنے لگے تو میرا جی خوش ہوگیا۔1 ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت اسلم ؓ کہتے ہیں: ایک رات میں حضرت عمر ؓ کے ساتھ حرۂ واقم (مدینہ کے ایک علاقہ کا نام ہے) کی طرف نکلا۔ جب ہم صِرَار مقام پر پہنچے تو ہمیں آگ جلتی ہوئی نظر آئی۔ تو حضرت عمر نے کہا: اے اسلم! یہ کوئی قافلہ ہے جو رات ہوجانے کی وجہ سے یہیں ٹھہر گیا ہے، چلو ان کے پاس چلتے ہیں۔ ہم ان کے پاس گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک عورت ہے جس کے ساتھ اس کے بچے بھی ہیں۔ آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا ہے۔2