صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

مجاہدین کو کھانا کھلانا

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں: حضور ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا جس کے امیر حضرت قیس بن سعد بن عبادہ ؓ تھے۔ سفر میں ان حضرات پر فاقہ آیا توحضرت قیس نے اپنے ساتھیوں کے لیے نو اُونٹ ذبح کر دیے۔ جب یہ حضرات مدینہ منوّرہ واپس آئے تو انھوں نے حضور ﷺ کو یہ قصہ سنایا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: سخاوت تو اس گھر انہ کی خاص صفت ہے۔3 حضرت رافع بن خدیج ؓ فرماتے ہیں: (جب قیس بن سعد ؓ نو اُونٹ ذبح کرنے لگے تو) حضرت ابو عبیدہ ؓ حضرت عمر ؓ کو ساتھ لے کر حضرت قیس کے پاس آئے اوران سے کہا: میں آپ کوقسم دے کر کہتا ہوں کہ آپ اُونٹ ذبح نہ کریں (اس سے اُونٹ کم ہوجائیں گے اور سفر میں دقّت ہوگی) لیکن پھر بھی انھوں نے ذبح کر دیے۔ حضور ﷺ کو یہ سارا قصہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ارے! یہ تو سخی گھر کا آدمی ہے۔ اور یہ غزوئہ خَبَط کا واقعہ ہے جس میں صحابہ ؓ نے خَبَط یعنی درختوں کے پتے کھائے تھے۔4 حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: حضور ﷺ کے زمانہ میں ایک مرتبہ حضرت قیس بن سعد بن عُبادہ ؓ گزرے۔ اس وقت ہمیںسخت بھوک لگی ہوئی تھی۔ انھوں نے ہمارے لیے سات اُونٹ ذبح کیے (پھر ہم نے سفر کیا) اور سمندر کے کنارے ہم نے پڑائو ڈالا۔ وہاں ہمیں ایک بہت بڑی مچھلی ملی۔ ہم تین دن تک اس کا گوشت کھاتے رہے۔ ہم نے اس میں سے اپنی مرضی کے مطابق بہت ساری چربی نکالی اور اپنے مشکیزوں اور بوریوں میں بھر لی۔ اور ہم وہاں سے چل کر حضور ﷺ کی خدمت میںواپس پہنچے اور آپ کو یہ قصہ سنایا۔ اور یہ بھی ساتھیوں نے کہا: اگر ہمیں یہ یقین ہوتا کہ مچھلی کا گوشت حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچنے تک خراب نہیں ہوگا تو ہم اپنے ساتھ ضرور لاتے۔1 حضرت قیس بن ابی حازم ؓکہتے ہیں: جب حضرت عمر ؓ ملکِ شام تشریف لے گئے تو ان کے پاس حضرت بلال ؓ آئے۔ اس وقت حضرت عمر کے پاس لشکروں کے امیر بیٹھے ہوئے تھے۔ تو حضرت بلال نے کہا: اے عمر! اے عمر! حضرت عمر نے فرمایا: یہ عمر حاضر ہے (کہو کیا کہتے ہو؟) حضرت بلال نے کہا: آپ ان لوگوں کے اور اللہ کے درمیان واسطہ ہیں لیکن آپ کے اور اللہ کے درمیان کوئی نہیں ہے۔ آپ کے سامنے اور دائیں بائیں جتنے لوگ بیٹھے ہوئے ہیںآپ ان کو اچھی طرح دیکھیں، کیوںکہ اللہ کی قسم! یہ سب جتنے آپ کے پاس آئے ہوئے ہیں یہ صر ف پرندوں کا گوشت کھاتے ہیں۔ حضرت عمر نے کہا: تم نے ٹھیک کہا اور جب تک یہ لوگ مجھے اس بات کی ضمانت نہیںدیں گے کہ وہ (اپنے لشکر کے) ہرمسلمان کودو مُد (پونے دو سیر) گندم اور اس کے مناسب مقدار میں سِرکہ اورتیل دیا کریں گے اس وقت تک میں اس جگہ سے نہیںاٹھوں گا۔ سب نے کہا: اے امیر المؤمنین! ہم اس کی ضمانت دیتے ہیں۔ یہ ہمارے ذمہ ہے، کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے مال میں بڑی کثرت اور وسعت عطا فرما رکھی ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: اچھا! پھر ٹھیک ہے (اب میں مجلس سے اٹھتا ہوں اور آپ لوگ جاسکتے ہیں)۔ 2