صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
نبی کریم ﷺ کے خرچ اَخراجات کی کیا صورت تھی؟
حضرت عبد اللہ ہوزنی ؓکہتے ہیں: حضور ﷺ کے مُؤذّن حضرت بلال ؓ سے حَلَب میں میری ملاقات ہوئی۔ میں نے عرض کیا: اے بلال! آپ ذرا مجھے یہ بتائیں کہ حضور ﷺ کے اَخراجات کی کیا صورت تھی؟ انھوں نے فرمایا: حضور ﷺ کے پاس کچھ ہوتا تو تھا نہیں۔ آپ کی بعثت کے وقت سے لے کر آپ کی وفات تک یہ خدمت میرے سپرد رہی۔ جس کی صورت یہ تھی کہ جب کوئی مسلمان آپ کے پاس آتا اور آپ اسے ضرورت مند سمجھتے تو آپ ارشاد فرما دیتے، میں جا کر کہیں سے قرض لے کر چادر اور کھانے کی کوئی چیز خرید لاتا، اور چادر اسے پہنا دیتا اور کھانا کھلا دیتا۔ ایک مرتبہ ایک مشرک مجھے سامنے سے آتا ہوا ملا۔ اس نے کہا: اے بلال! مجھے خوب وسعت حاصل ہے۔ تم کسی سے قر ض نہ لیا کرو، جب ضرورت ہو مجھ سے ہی لیا کرو۔ میں نے اسی سے قرض لینا شروع کر دیا۔
ایک دن میں وضو کر کے اذان دینے کے لیے کھڑ ا ہوا ہی تھا کہ وہ مشرک تاجروں کی ایک جماعت کے ساتھ آیا اور مجھے دیکھ کر کہنے لگا: او حبشی! میں نے کہا: میں حاضر ہوں۔ (کیاکہتے ہو؟) وہ بڑی تُرش روئی کے ساتھ پیش آیا اور بہت برا بھلا کہنے لگا اور کہنے لگا: تمہیں معلوم ہے کہ مہینہ ختم ہونے میں کتنے دن باقی ہے؟ میں نے کہا: عنقریب ختم ہونے والا ہے۔ اس نے کہا: چار دن باقی ہیں۔ اگر تونے اس مدت میں قرضہ ادا نہ کیاتو میں تجھے اس کے عوض غلا م بنالوں گا۔ میں نے تم کو یہ قرضہ جو دیا ہے وہ تمہاری یا تمہارے ساتھی کی بزرگی کی وجہ سے نہیں دیا ہے، بلکہ اس لیے دیا ہے تاکہ تم میرے غلام بن جاؤ، پھر تم پہلے جس طرح بکریاں چرایا کرتے تھے اسی طرح تمہیں بکریاں چرانے میں لگا دوں ۔ (یہ کہہ کر وہ تو چلا گیا) اور ایسی با تیں سن کر لوگوںکے دل میں جو خیا لات پیدا ہوتے ہیں وہ سب میرے دل میں بھی پیدا ہوئے۔ پھر میں نے جا کر اذان دی۔ جب میں عشاء کی نماز پڑھ چکا اور حضور ﷺ بھی اپنے گھرتشریف لے گئے تو میں نے اندر حاضر ہونے کی اجازت مانگی۔ آپ نے اجازت مر حمت فر ما دی۔
میںنے اندر جا کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! جس مشرک کا میں نے آپ سے تذکر ہ کیا تھا کہ میں اس سے قرضہ لیتا رہتا ہوں، آج اس نے آکر مجھے بہت برا بھلا کہا ہے۔ اور اس وقت نہ آپ کے پاس اس کے قرضے کی ادائیگی کافوری انتظام ہے اور نہ میرے پاس ہے اور وہ مجھے ضرور رسوا کرے گا، اس لیے آپ مجھے اجازت دے دیںمیں ان مسلما ن قبیلوں میں سے کسی قبیلہ میں چلا جاتا ہوں۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو اتنا دے دیں گے جس سے میرا یہ قرضہ ادا ہوسکے تو پھر میں آجا ؤں گا۔ یہ عرض کرکے میں اپنے گھر آیا اور اپنی تلوار، تھیلا، نیزہ اور جوتی اپنے سرہا نے رکھ کر مشرق کی طرف منہ کر کے صبح کے انتظار میں لیٹ گیا۔ تھوڑی دیر نیند آتی پھر فکر کی وجہ سے میری آنکھ کھل جا تی، لیکن جب میں دیکھتا کہ ابھی رات باقی ہے تو میں دوبارہ سوجا تا۔
جب صبح کاذِب ہوگئی تو میں نے جانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اتنے میںایک صاحب نے آکر آواز دی: اے بلال! حضور ﷺ کی خدمت میںجلدی چلو۔ میں فوراً چل پڑا۔ وہاں پہنچ کر دیکھا کہ چار اُو نٹنیا ں سامان سے لدی ہوئی بیٹھی ہیں۔ میں نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ی کی اجازت مانگی تو حضور ﷺ نے مجھ سے فرمایا: خوش ہوجاؤ ! اللہ نے تمہارے قرضہ کی ادائیگی کا انتظام کر دیا ہے۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا تمہا را گزر بیٹھی ہوئی چار اُونٹنیوں پر نہیں ہوا ہے؟ میں نے کہا: جی ہواہے۔ آپ نے فرمایا: وہ سامان سمیت تمہارے حوالے ہیں، تم یہ لے لو اور اپنا قرضہ ادا کرلو۔ میں نے دیکھا تو ان پر کپڑے اور غلہ لدا ہوا تھا جو فَدَک کے رئیس نے حضور ﷺ کی خدمت میں ہدیہ بھیجا تھا۔ چناںچہ میں نے وہ اُونٹنیاں لیں اور ان کا سارا سامان اتارا اور ان کے سامنے چارہ ڈالا۔ پھر میں نے فجر کی اذان دی۔
جب حضور ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میں بقیع چلا گیا اور وہاں جا کر دونوں کانوں میں انگلیاں ڈال کر بلند آواز سے یہ اعلان کیا کہ جس کا بھی اللہ کے رسول ﷺ کے ذمّہ قرضہ ہے وہ آجائے۔ چناںچہ وہ کپڑے اورغلہ خریدا روں کے سامنے پیش کرتا اور اسے بیچ کر قرضہ ادا کرتا رہا، یہاں تک کہ حضور ﷺ پر رُوئے زمین میں کچھ بھی قرضہ باقی نہ رہا، بلکہ دو یا ڈیڑھ اُوقیہ چاندی بچ گئی یعنی اَسّی یا ساٹھ درہم۔ اسی میں دن کا اکثر حصہ گزر چکا تھا۔ پھر میں مسجد گیا توآپ وہاںاکیلے بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا۔ آپ نے مجھ سے پوچھا: جو کام تمہارے ذمہ تھا اس کا کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول ﷺ کے ذمہ جتنا قرض تھاوہ سب اللہ نے اتروادیا، اب کچھ باقی نہیں رہا۔ آپ نے فرمایا: اس میں سے کچھ بچا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! دو دینا ر بچے ہیں۔ (قرض ادا کر نے کے بعد دو یا ڈیڑھ اُوقیہ چاندی بچی تھی، لیکن وہا ں سے مسجد تک آتے آتے حضرت بلال لوگوں کو دیتے چلے آئے ہوں گے اس لیے جب مسجد میں پہنچے تو صرف دو دینا ر باقی رہ گئے)
آپ نے فرمایا: انھیں بھی تقسیم کردو تاکہ مجھے راحت حاصل ہو۔ جب تک تم انھیں خرچ کرکے مجھے راحت نہیں پہنچا دیتے میں اس وقت تک اپنے کسی گھر میں نہیں جا ؤں گا۔ چناںچہ اس دن ہمارے پاس کوئی نہیں آیا (اور وہ خرچ نہ ہو سکے) تو حضور ﷺ نے وہ رات مسجد میں گزاری اور اگلا دن بھی سارا مسجد میں ہی گزارا۔ شام کو دو سوار آئے۔ میںان دونوں کو لے گیا اور ان دونوں کو کپڑے پہنائے اور غلہ بھی دیا۔ جب آپ عشاء سے فارغ ہوئے تو آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا: جو تمہارے پاس بچا تھا اس کا کیا بنا؟ میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے اس کے خرچ کرنے کی صورت بنا کر آپ کی راحت کی صورت پیدا کردی ہے۔ آپ نے خوش ہوکر فرمایا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ۔ اور اللہ کا شکر ادا کیا ۔ آپ کو یہ ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کوموت آجائے اور یہ بچا ہوا سامان آپ کے پاس ہی ہو۔ پھر وہاں سے آپ چلے اور میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے چلا ۔آپ اپنی ازواجِ مطہّرات میں سے ایک ایک اہلیہ محترمہ کے پاس گئے اور ہر ایک کو الگ الگ سلام کیا، اور پھر جس گھر میں رات گزارنی تھی وہا ں تشریف لے گئے۔ یہ تھی حضور ﷺ کے خرچ اَخراجات کی صورت جس کے بارے میں تم نے پوچھاتھا۔1