صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

حضرت عمر اور حضرت علی ؓ کا بیت المال کے سارے مال کو تقسیم کرنا

حضرت سعید ؓ کہتے ہیں: حضرت عمربن خطّاب ؓ نے (بیت المال کے خزانچی) حضرت عبد اللہ بن اَرقم ؓکو فرمایا: ہر مہینہ ایک مرتبہ بیت المال کا سارا مال مسلمانوں میں تقسیم کر دیا کرو۔ (اس کے کچھ عرصہ بعدفرمایا:)نہیں۔ ہر ہفتہ بیت المال کا سارا مال مسلمانوں میں تقسیم کر دیا کرو۔ اس کے کچھ عرصہ بعد فرمایا: روزانہ بیت المال کا سارا مال تقسیم کر دیا کرو۔ اس پر ایک آدمی نے کہا: اے امیر المؤ منین! اگر آپ بیت المال میں کچھ مال رہنے دیں تو اچھا ہے، مسلمانوں کو اچانک کوئی ضرورت پیش آجاتی ہے اس میں کام آجائے گا، یا بیرون والے کسی وقت مدد مانگ لیتے ہیں تو ان کو دیا جاسکتا ہے۔ حضرت عمر نے اس سے فرمایا: تمہاری زبان پر یہ شیطان بول رہا ہے اور اس کا جواب اللہ مجھے سکھلارہا ہے اور اس کے شر سے مجھے بچا رہا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ میں نے ان تمام ضرورتوں کے لیے وہی سب کچھ تیار کیا ہوا ہے جو حضورﷺ نے تیار کیا ہو ا تھا، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول ﷺ کی اِطاعت۔ (ہر مصیبت کا علاج اور ہر ضرورت کا انتظام اللہ و رسول ﷺ کی ماننا ہے) 1 حضرت ابنِ عمر ؓ فر تے ہیں: حضرت عمر ؓ کے پاس عراق سے مال آیا۔ حضرت عمر اسے تقسیم فر مانے لگے۔ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: اے امیر المؤمنین! ہوسکتا ہے کبھی دشمن حملہ آور ہو جائے یا مسلما نوں پر اچانک کوئی مصیبت آپڑ ے تو ان ضرورتوں کے لیے اگر آپ اس مال میں سے کچھ بچا کر رکھ لیں تو اچھا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر نے فرمایا: تمہیں کیا ہوگیا؟ اللہ تمہیں مارے! یہ بات تمہاری زبان سے شیطان نے کہلوائی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب مجھے بتایا ہے۔ اللہ کی قسم! کل کو پیش آنے والی ضرورت کے لیے میں آج اللہ کی نافر مانی نہیں کر سکتا۔ نہیں (میں مال جمع کر کے نہیں رکھ سکتا بلکہ) میں تو مسلما نوں (کی ضرورتوں) کے لیے وہ کچھ تیار کر کے رکھوں گا جو حضور ﷺ نے تیا ر کیا تھا۔ (اور وہ ہے اللہ ورسول ﷺ کی اطاعت اور تقویٰ، اور تقویٰ مال جمع کرنا نہیںہے بلکہ مال دوسروں پر خرچ کرنا ہے) 2 حضرت سَلَمَہ بن سعید ؓ کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ کے پاس بہت سارا مال لا یا گیا تو حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ نے کھڑے ہو کر کہا: اے امیر المؤمنین! مسلمانوں پر کوئی ناگہانی مصیبت آجاتی ہے یا اچانک کوئی ضرورت پیش آجاتی ہے اس کے لیے اس مال میں سے کچھ بچا کر آپ بیت المال میں رکھ لیں تو بہت اچھا ہوگا۔ حضرت عمر نے فرمایا: تم نے ایسی بات کہی ہے جو شیطان ہی سامنے لاسکتا ہے۔ اللہ نے مجھے اس کا جواب سمجھا یا ہے اور اس کے فتنہ سے بچا لیا ہے۔ آیندہ سال (کی ضروریات) کے ڈر سے میںاس سال اللہ کی نافرمانی کروں؟ میں نے مسلمانوں (کی ضروریات) کے لیے اللہ کا تقویٰ تیار کیا ہواہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا o وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ}1 اور جو شخص اللہ سے ڈر تا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے (مضرتوں سے) نجات کی شکل نکال دیتا ہے۔ اور اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچا تا ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ البتہ شیطان کی یہ بات میرے بعد والوں کے لیے فتنہ بن جائے گی۔2 حضرت حسن ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے حضرت ابو موسیٰ ؓ کو یہ خط لکھا: اَما بعد! میں یہ چاہتا ہوں کہ سال میں ایک دن ایسا بھی ہو کہ بیت المال میں ایک درہم بھی باقی نہ رہے، اور اس میں سے سارا مال نکال کر تقسیم کر دیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ بات کھل کر آجائے کہ میں نے ہر حق و الے کواس کا حق دے دیا ہے۔3 حضرت حسن ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے حضرت حذیفہ ؓ کو یہ لکھا کہ لوگوں کو ان کے عطایا اور ان کے مقررہ وظیفے سب دے دو۔ حضرت حذیفہ نے جواب میں لکھا: ہم سب کچھ دے چکے ہیں لیکن پھر بھی بہت سا مال بچا ہوا ہے۔ حضرت عمر نے انھیں جو اب میں لکھا: یہ مالِ غنیمت مسلما نوں کا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا ہے، یہ عمر یا اس کی آل اولاد کا نہیں ہے، اس لیے اسے بھی مسلمانوں میں ہی تقسیم کردو۔4 حضرت علی بن ربیعہ والبی ؓ کہتے ہیں: ابنِ نبّاج نے حضرت علی ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا: اے امیر المؤمنین! مسلمانوں کا بیت المال سونے چاندی سے بھر گیا ہے۔ یہ سن کر حضرت علی نے کہا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ! اور ابنِ نبّاج پر ٹیک لگاکر کھڑے ہو ئے اور مسلمانوں کے بیت المال میں پہنچے اور یہ شعر پڑھا: ھٰذَا جَنَايَ وَخِیَارُہٗ فِیْہِ وَکُلُّ جَانٍ یَدُہٗ إِلٰی فِیْہِ یہ میرے چنے ہوئے پھل ہیں اور جو پھل عمدہ تھے وہ ان ہی میں ہیں، (میں نے انھیں نہیں کھایا اور میرے علاوہ) ہر پھل چننے والے کا ہاتھ اس کے منہ کی طرف جا رہا تھا۔ یعنی میں نے اس بیت المال میں سے کچھ نہیں لیا ہے۔ اے ابنِ نبّاج! کوفہ والوں کو میرے پاس لے آؤ۔ چناںچہ لوگوں کو اعلان کر کے بلایا گیا۔ (جب لوگ آگئے تو) حضرت علی نے بیت المال کا سارا مال لوگوں میں تقسیم کر دیا اور تقسیم کر تے ہوئے وہ یوں فر ما رہے تھے: اے سونے! اے چاندی! میرے علاوہ کسی اور کو دھو کہ دو۔ (اور لوگوں سے کہہ رہے تھے:) لے لو، لے لو۔ اور یوں ہی تقسیم کرتے رہے یہاں تک کہ نہ کوئی دینار بچا اور نہ کوئی درہم۔ پھر ابنِ نبّاج سے فرمایا: اس بیت المال میں پانی چھڑک دو۔ (اس نے پانی چھڑک دیا) پھر آپ نے اس میں دورکعت نماز پڑھی۔1 حضر ت مجمع تیمی ؓکہتے ہیں: حضرت علی ؓ بیت المال (کا سارا مال تقسیم کر کے اس) میں جھاڑو دیا کرتے تھے۔ اور اس میں نمازپڑھا کر تے اور وہاں سجدہ اس لیے کیاکرتے تاکہ یہ بیت المال قیامت کے دن آپ کے حق میں گواہی دے۔2 حضرت علاء کے والد ؓ کہتے ہیں: میں نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں نے تمہارے مالِ غنیمت میں سے کھجور وں کے اس برتن کے علاوہ اور کچھ نہیں لیا اور یہ بھی مجھے دیہات کے ایک چودھری نے ہدیہ میں دیا تھا۔ پھر حضرت علی بیت المال تشریف لے گئے اور جتنا مال اس میں تھا وہ سارا تقسیم کر دیا اور پھر وہ یہ شعر پڑھنے لگے: أَفْلَحَ مَنْ کَانَتْ لَہٗ قَوْصَرَہْ یَأْکُلُ مِنْھَا کُلَّ یَوْمٍ مَرَّہْ وہ آدمی کامیاب ہوگیا جس کے پاس ایک ٹوکرا ہو جس میں سے وہ روزانہ ایک مرتبہ کھالے۔ (کامیابی کے لیے تھوڑی دنیا بھی کافی ہے) حضرت عنترہ شیبانی ؓ کہتے ہیں: حضرت علی ؓ ہر صنعت والے سے اس کی صنعت کاری اور دست کاری میں سے جزیہ اور خراج وصول کیا کرتے تھے یہا ں تک کہ سوئی والوں سے سوئیا ں، سوئے، دھاگے اور رسیاں لیا کرتے تھے، پھر اسے لوگوںمیںتقسیم کر دیا کرتے۔ اور روزانہ بیت المال کا سارا مال شام تک تقسیم کر دیا کرتے اور رات کو اس میں کچھ نہ ہوتا۔ البتہ اگر کسی ضروری کام میں مشغول ہوجاتے اور مال تقسیم کر نے کی اس دن فر صت نہ ملتی تو پھر وہ مال بیت المال میں رات بھر رہ جاتا، لیکن اگلے دن صبح صبح جاکر اسے تقسیم کر دیتے اور فرمایا کرتے: اے دنیا! مجھے دھوکہ نہ دے ، جاکسی اور کو جاکر دھوکہ دے۔ اور یہ شعر پڑھا کرتے: ھٰذَا جَنَايَ وَخِیَارُہٗ فِیْہِ وَکُلُّ جَانٍ یَدُہٗ إِلٰٰی فِیْہِ یہ میرے چنے ہوئے پھل ہیں اور جو عمدہ پھل تھے وہ ان ہی میں ہیں ( میرے علاوہ) ہر پھل چننے والے کا ہاتھ اس کے منہ کی طرف جا رہا تھا ۔ حضرت عنترہ ؓ کہتے ہیں: میں ایک دن حضرت علی ؓکی خدمت میں حا ضر ہوا۔ تھوڑی دیر میں ان کا غلام قَنْبر آیا اور اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ (سارا ہی مال تقسیم کر دیتے ہیں اور) کچھ بھی باقی نہیں چھوڑ تے حالاںکہ اس مال میں آپ کے گھر والوں کا بھی حصہ ہے، اس لیے میں نے آپ کے لیے کچھ بہت عمدہ مال چھپا کر رکھا ہے۔ حضرت علی نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ قَنْبرنے کہا: آپ چل کر خود ہی دیکھ لیں کہ وہ کیا ہے؟ چناںچہ حضرت علی چلے اور قَنْبراُن کو ایک کمرے میں لے گیا۔ وہاں ایک بڑا برتن رکھا ہوا تھا جس پر سو نے کا پانی چڑھا ہوا تھا اور وہ سونے چاندی کے بر تنوں سے بھرا ہوا تھا۔ جب حضر ت علی نے اسے دیکھا تو فرمایا: تیری ماں تجھے گم کرے! تم میرے گھر میں بہت بڑی آگ داخل کر نا چاہتے ہو۔ پھر حضرت علی نے تول تول کر ہر قوم کے سردار کو اس کے حصہ کے مطابق دینا شروع کیا اور پھر یہ شعر پڑھا جس کا ترجمہ ابھی گزرا ہے۔ ھٰذَا جَنَايَ وَخِیَارُہٗ فِیْہِ وَکُلُّ جَانٍ یَدُہُ إِلٰی فِیْہ اور فرمایا: (اے دنیا!) مجھے دھو کہ مت دے، جا کسی اور کو جاکر دھوکہ دے۔1