صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

مسلمانوں کے مالی حقوق کے بارے میں حضرت عمر ؓ کی رائے

حضرت اسلم ؓ کہتے ہیں: میںنے حضرت عمر ؓ کو یہ فر ماتے ہوئے سنا کہ اس مال کے بارے میں مشورہ کرنے کے لیے جمع ہوجاؤ اور یہ غور کرو کہ یہ مال کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ (جب مطلوبہ حضرات جمع ہوگئے تو) فرمایا: میں نے آپ لوگوں کو اس لیے جمع کیا ہے تاکہ اس مال کے بارے میں مشورہ کر لیا جائے اور غور کر لیا جائے کہ یہ مال کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ میں نے اللہ کی کتاب(قرآنِ مجید) کی چند آیتیں پڑھی ہیں۔ میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: { مَآ اَفَآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَہْلِ الْقُرٰی فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِلا کَیْْ لَا یَکُوْنَ دُوْلَۃًم بَیْْنَ الْاَغْنِیَآئِ مِنْکُمْط وَمَا اٰتٰـکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰـکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْاج وَاتَّقُوا اللّٰہَط اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِo لِلْفُقَرَآئِ الْمُہٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیْارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا وَّیَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ ط اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ o}1 جو کچھ اللہ تعالیٰ (اس طور پر) اپنے رسول ﷺ کو دوسری بستیوں کے (کافر) لوگوں سے دلوادے (جیسے فدک اور ایک حصہ خیبر کا) سو وہ بھی اللہ کا حق ہے اور رسول کا اور (آپ کے) قرابت داروں کا اور یتیموں کا اور غریبوں کا اور مسافروں کا تاکہ وہ (مالِ فے)تمہارے تونگروں کے قبضہ میں نہ آجائے۔ اور رسول تم کو جوکچھ دے دیا کریں وہ لے لیا کرو اور جس چیز (کے لینے) سے تم کو روک دیں (اور بعموم ِ الفاظ یہی حکم ہے افعال اور احکام میں بھی) تم رک جایا کرو۔ اور اللہ سے ڈر و، بے شک اللہ تعالیٰ (مخالفت کر نے پر) سخت سزا دینے والا ہے۔ اور ان حاجت مند مہاجرین کا (بالخصوص) حق ہے جو اپنے گھروں سے اوراپنے مالوں سے (جبراً و ظلماً) جدا کر دیے گئے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل (یعنی جنت) اور رضا مندی کے طالب ہیں۔ اور وہ اللہ اور اس کے رسول (کے دین) کی مدد کرتے ہیں۔ (اور) یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں۔ اللہ کی قسم! یہ مال صرف ان ہی لوگوں کے لیے نہیں ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالْاِیْمَانَ مِن قَبْلِہِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ ہَاجَرَ اِلَیْْہِمْ وَلَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّا اُوْتُوْا وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِہِمْ}1 اور (نیز) ان لوگوں کا (بھی حق ہے) جو دار الاسلام (یعنی مدینہ) میں (ان مہاجرین) کے آنے کے قبل سے قرار پکڑے ہوئے ہیں۔ جو اُن کے پاس ہجرت کر کے آتا ہے اس سے یہ لوگ محبت کر تے ہیں، اور مہاجرین کو جو کچھ ملتا ہے اس سے یہ (اَنصار) اپنے دلوں میں کوئی رشک نہیں پاتے اور اپنے سے مقدم رکھتے ہیںاگر چہ ان پر فاقہ ہی ہو۔ اور (واقعی) جو شخص اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا جائے ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ اللہ کی قسم! یہ مال صرف ان ہی لوگوں کے لیے نہیں ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے: {وَالَّذِیْنَ جَآئُ وْ مِنْم بَعْدِھِمْ}2 اور ان لوگوںکا بھی (اس مالِ فے میں حق ہے)جو اُن کے بعد آئے، جو (ان مذکورین کے حق میں) دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پر وردگار! ہم کو بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو ( بھی) جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں، اور ہمارے دلوںمیں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ ہونے دیجیے۔ اے ہمارے ربّ! آپ بڑے شفیق (اور) رحیم ہیں۔ پھر فرمایا: اللہ کی قسم! اس مال میں ہر مسلمان کا حق معلوم ہوتا ہے چاہے وہ عَدَن میں بکریاں چرا رہا ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ اسے مال دیا جائے یا نہ دیا جائے۔3 حضرت مالک بن اَوس بن حَدَثان ؓ اسی قصہ کو بیان کر تے ہوئے فر ماتے ہیں: اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے یہ آیت آخر تک پڑھی: {اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآئِ وَالْمَسٰکِیْنَ}4 صدقات تو صرف حق ہے غریبوں کا اور محتاجوں کا اور جو کارکن ان صدقات پر متعین ہیں اور جن کی دل جوئی کرنا (منظور) ہے اور غلاموں کی گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے قرضہ اور جہاد میں اور مسافر وں میں۔ یہ حکم اللہ کی طرف سے مقرر ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے، بڑی حکمت والے ہیں۔ اور فرمایا: یہ زکوٰۃ وصدقات تو ان ہی لوگوں کے لیے ہیں (جن کا اس آیت میں ذکر ہے) پھر یہ آیت آخر تک پڑھی: {وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ}1 اور اس بات کو جان لو کہ جوشے (کفّار سے) بطورِ غنیمت تم کو حاصل ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ کل کا پانچواں حصہ اللہ کا اور اس کے رسول کا ہے، اور (ایک حصہ) آپ کے قرابت والوں کا ہے، اور (ایک حصہ) یتیموں کا ہے، اور (ایک حصہ) غریبوں کا ہے، اور (ایک حصہ) مسافروں کا ہے۔ اگرتم اللہ پر یقین رکھتے ہو اور اس چیز پر جس کو ہم نے اپنے بندہ (محمدﷺ) پر فیصلہ کے دن یعنی جس دن کہ دونوں جماعتیں (مؤمنین وکفّار کی) باہم مقابل ہوئی تھیں، نازل فرمایا تھا۔ اور اللہ ہی ہر شے پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔ پھر فرمایا: یہ مالِ غنیمت ان ہی لوگوں کے لیے ہے (جن کا اس آیت میں ذکر ہے)۔ پھر یہ آیت آخر تک پڑھی: { لِلْفُقَرَآئِ الْمُہٰجِرِیْنَ} جس کا ترجمہ (۱) میں گزر چکا ہے اور فرمایا: یہ مہاجرین لوگ ہیں۔ پھر یہ آیت آخر تک پڑھی: {وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِھِمْ} جس کاترجمہ (۲) میں گزر گیا ہے اور فرمایا: اس آیت میں جن لوگوں کا تذکرہ ہے وہ اَنصار ہیں۔ پھر یہ آیت آخر تک پڑھی: {وَالَّذِیْنَ جَآئُ وْ مِنْم بَعْدِھِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ} جس کا ترجمہ (۳) میںگزر گیا ہے اور فرمایا: اس آیت میں تو سب لوگ آگئے، لہٰذا ہر مسلمان کا اس مال میں حق ہے البتہ تمہارے غلاموں کا اس مال میں کوئی حق نہیں۔ اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ ہر مسلما ن کو اس کا حق پہنچ جائے گا یہا ں تک کہ حِمیر وادی (جو کہ یمن میں ہے) کے بالائی حصہ کے چر واہے کو بھی اس کا حصہ پہنچ کر رہے گا اور اس مال کو حاصل کرنے میں اس کی پیشانی پر ذرّہ برابر پسینہ نہیں آئے گا۔ یعنی اس کے لیے اسے کچھ بھی نہیں کر نا پڑے گا۔1