صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
اُمّ المؤمنین حضرت زینب بنتِ جحش ؓ کا مال تقسیم کر نا
حضرت برّہ بنت رافع ؓ کہتی ہیں: جب حضرت عمر ؓ نے لوگوں میں عطایا تقسیم کیں تو حضرت زینب بنت جحش ؓ کے پاس ان کا حصہ بھیجا۔ جب وہ مال ان کے پاس پہنچا تو فرمانے لگیں: اللہ تعالیٰ حضرت عمر کی مغفرت فر مائے! میری دوسری بہنیں اس مال کو مجھ سے زیادہ اچھے طریقے سے تقسیم کر سکتی ہیں (اس لیے ان کے پاس لے جاؤ)۔ لانے والوں نے کہا: یہ سارا مال آپ کا ہی ہے۔ فر مانے لگیں: سبحان اللہ! اور ایک کپڑے سے پر دہ کرلیا اور فرمایا: اچھا رکھ دو اور اس پر کپڑا ڈال دو۔ پھر مجھ سے فرمایا: اس کپڑے میں ہاتھ ڈال کر ایک مٹھی بھر کر بنو فلاں کو اور بنو فلاں کو دے آؤ۔ یہ سب ان کے رشتہ دار تھے اور یتیم تھے۔ یوں ہی تقسیم فر ماتی رہیں یہاں تک کہ کپڑے کے نیچے تھوڑے سے درہم بچ گئے تو میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا: اے اُمّ ّالمؤمنین! اللہ آپ کی مغفرت فرمائے! اللہ کی قسم! اس مال میں ہمارا بھی تو حق ہے۔
فرمایا: اچھا کپڑے کے نیچے جتنے درہم ہیں وہ سب تمہارے۔ ہمیں کپڑے کے نیچے پچاسی در ہم ملے۔ اس کے بعد آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر حضرت زینب نے یہ دعا مانگی: اے اللہ! اس سال کے بعد مجھے حضرت عمر کی عطا نہ ملے۔ چناںچہ (ان کی دعا قبول ہوگئی اور) ان کا انتقال ہوگیا ۔2
حضرت محمد بن کعب ؓ کہتے ہیں: حضرت زینب بنتِ جحش ؓ کا سالانہ وظیفہ بارہ ہزار تھا، اور وہ بھی انھوں نے صرف ایک سال لیا اورلینے کے بعد یہ دعا فر مائی: اے اللہ! آیندہ سال یہ مال مجھے نہ ملے، کیوںکہ یہ فتنہ ہی ہے۔ (آیندہ سال سے پہلے ہی مجھے اٹھا لے) پھر اپنے رشتہ دار وں اور ضرورت مندوں میں سارا تقسیم کر دیا۔ حضر ت عمر ؓ کو پتہ چلا کہ انھوں نے سارا مال خرچ کر دیا ہے تو انھوں نے فرمایا: یہ ایسی (بلند مرتبہ) خاتون ہیں جن کے ساتھ اللہ نے بھلائی کا ہی ارادہ کیا ہے۔ چناںچہ حضرت عمر گئے اور ان کے دروازے پر کھڑے ہو کر اندر سلام بھجوایا اور کہا: مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے سارا مال تقسیم کر دیا ہے، یہ میں ایک ہزار اور بھیج رہا ہوں اسے آپ اپنے پاس رکھیں (ایک دم خرچ نہ کر دیں) لیکن جب یہ ایک ہزار درہم ان کے پاس پہنچے تو انھوں نے ان کو بھی پہلے کی طرح تقسیم کر دیا۔1