صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

حضرت عمر بن خطّاب ؓ کا مال واپس کر نا

حضرت عطاء بن یسار ؓ کہتے ہیں: حضورِ اقدس ﷺ نے حضرت عمر بن خطّاب ؓ کو ایک عطیہ بھیجا۔ حضرت عمر نے اسے واپس کر دیا۔ حضورﷺ نے ان سے پوچھا: تم نے یہ کیوں واپس کیا؟ حضرت عمر نے عر ض کیا: آپ نے ہی ہمیں بتایا ہے کہ ہمارے لیے بہتر یہ ہے کہ ہم کسی سے کچھ نہ لیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: میرا مقصد یہ تھا کہ مانگ کر نہ لیا جائے اور جو بغیر مانگے مل رہا ہو تو وہ اللہ کا دیا ہو ا رزق ہے اسے لے لینا چاہیے۔ اس پر حضرت عمر نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! آج کے بعد میں کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا اور جو بغیر مانگے آئے گا اسے ضرور لوں گا۔1 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے حضرت عمر ؓ کی بیوی حضرت عاتکہ بنتِ زیدبن عمر وبن نفیل ؓ کو ایک بچھونا ہدیہ میں بھیجا۔ میرا خیال یہ ہے کہ وہ ایک ہاتھ لمبا اور ایک بالشت چوڑا ہوگا۔ حضرت عمر اُن کے پاس آئے اور وہ بچھونا دیکھا تو پوچھا: یہ تمھیں کہاں سے ملا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ مجھے حضرت ابو موسیٰ اشعری نے ہدیہ کیا ہے۔ حضرت عمر نے اسے اٹھا یا اور اس زور سے ان کے سر پر مارا کہ ان کے سر کے بال کھل گئے اور پھر فرمایا کہ ابو موسیٰ کو فوراً جلدی سے میرے پاس لاؤ۔ (یعنی دوڑاتے ہوئے اتنی جلدی لاؤکہ وہ تھک جائیں) چناںچہ وہ بڑی تیزی سے چلتے ہوئے حضرت عمر کے پاس آئے اور آتے ہی انھوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ میرے بارے میں جلدی نہ کریں۔ حضر ت عمر نے فرمایا: تم میری عورتوں کو ہدیہ کیوں دیتے ہو؟ پھر وہ بچھونا اٹھا کر ان کے سر پر مارا اور فرمایا: اسے لے جاؤ، ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔2 حضرت لیث بن سعد ؓکہتے ہیں: (اِسْکَنْدریہ کے بادشاہ) مُقَوْقِس نے حضرت عمرو بن عاص ؓ سے کہاکہ وہ مُقَطَّم پہاڑ کا دامن ستّر ہزار دینا ر میں اسے بیچ دیں۔ اتنی زیادہ قیمت سن کر حضرت عمرو بہت حیران ہوئے اور مُقَوْقِس سے کہا: میں اس بارے میں امیر المؤمنین کو خط لکھ کر پوچھوں گا۔ چناںچہ حضرت عمر و نے حضرت عمر ؓ کو اس بارے میں خط لکھا۔ حضرت عمر نے جواب میں یہ لکھا کہ اس سے پوچھو وہ تمھیں اتنی زیادہ قیمت کیوں دے رہا ہے، حالاںکہ وہ زمین نہ کاشت کے قابل ہے اور نہ اس سے پانی نکالا جا سکتا ہے اور نہ وہ کسی اور کام آسکتی ہے؟ حضرت عمر و نے مُقَوْقِس سے پوچھا تو اس نے کہا: ہمیں اپنی آسمانی کتا بوں میں اس جگہ کی یہ فضیلت ملی ہے کہ اس میںجنت کے درخت ہیں۔ حضر ت عمرو نے یہ بات حضرت عمر کو لکھی۔ حضرت عمر نے انھیں جواب میں لکھا: ہم تو صرف یہی جانتے ہیںکہ جنت کے درخت صرف مؤمنوں کو ملیں گے۔ لہٰذا تم اس زمین میں اپنے ہاں کے مسلمانوں کو دفنا دیا کرو اور اسے قبر ستان بنالو اور کسی قیمت پر اسے مت بیچو۔1