صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
حضرت ابو عبیدہ بن جرّا ح ؓ کا مال واپس کرنا
حضرت اسلم ؓ کہتے ہیں: رمادہ والے سال (۱۸ ہجری میں حجاز میں زبردست قحط پڑا تھا جو نو ماہ رہا تھا۔ اس سال کو عام الرّمادہ یعنی راکھ والا سال کہا جاتا ہے۔ بارش نہ ہونے کی وجہ سے مٹی راکھ کی طرح ہوگئی تھی۔ رنگ بھی ایسا ہوگیا تھا اور راکھ کی طرح اُڑ تی تھی) عربوں کا سارا علاقہ قحط کی لپیٹ میں آگیا تھا۔ اس وقت حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے حضرت عمرو بن عاصؓ کو خط لکھا۔ آگے اور حدیث ہے جس میں یہ مضمون بھی ہے کہ پھر حضرت عمر نے حضرت ابو عبیدہ بن جرّاح ؓ کو بلا یا اور قحط زدہ لوگوں میں غلہ وغیرہ تقسیم کرنے کے لیے بھیجا۔ جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر واپس آئے تو حضرت عمر نے ان کے پاس ایک ہزار دینار بھیجے۔ حضرت ابو عبیدہ نے کہا: اے ابن الخطّاب! میں نے آپ کے لیے یہ کام نہیں کیا تھا، بلکہ صرف اللہ کے لیے کیا تھا اور میں اس کام پر کچھ نہیں لوں گا۔ حضرت عمر نے فرمایا: حضورﷺ ہمیں بہت سے کاموں کے لیے بھیجا کرتے تھے اور واپسی پر ہمیں کچھ دیا کرتے تھے تو ہما را لینے کو بالکل دل نہیں چاہتا تھا۔ حضورﷺ ہمیں فرماتے: انکار نہ کرو۔ اے آدمی! اسے لے لو اور اسے اپنے دینی یا دنیاوی کاموں میں خرچ کر لو۔ یہ سن کر حضرت ابو عبیدہ ؓ نے وہ ہزار دینار لے لیے۔1