نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا

حضور ﷺ کا سفر میں دعوت کو پیش فرمانا

حضرت سعدؓ رہبر بن کر حضورﷺ کو رکُوبہ گھاٹی کے راستے سے لے کر گئے تھے۔ ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھ سے یہ بیان فرمایا کہ حضورﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے، آپ کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ بھی تھے۔ حضرت ابوبکر کی ایک شیر خوار بیٹی ہمارے ہاں بسلسلۂ رضاعت رہتی تھی اور حضورﷺ چاہتے تھے کہ مدینہ کا سفر چھوٹے راستہ سے کریں۔ تو ان سے حضرت سعد نے عرض کیا کہ رکوبہ گھاٹی کے نیچے سے جو راستہ جاتا ہے وہ زیادہ قریب ہے، لیکن وہاں قبیلہ اَسلم کے دو ڈاکو رہتے ہیں جن کو مہانان کہا جاتا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو ان کے پاس سے گزرنے والے راستہ سے سفر کریں؟ حضورﷺ نے فرمایا: ڈاکو والے راستے سے ہمیں لے چلو۔ حضرت سعد فرماتے ہیں کہ ہم اس راستے سے چلے ۔ جب ہم اُن کے قریب پہنچے تو ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا: لو یہ یمانی آگیا ۔ حضورﷺ نے ان دونوں کو دعوت دی اور ان پر اِسلام کو پیش فرمایا، وہ دونوں مسلمان ہوگئے۔ آپ نے ان کے نام پوچھے، انھوں نے کہا :ہم مہانان ہیں (یعنی دو گرے پڑے آدمی)۔ آپ نے فرمایا: نہیں، تم دونوں مکرمان ہو (یعنی قابلِ اکرام )۔ پھر آپ نے انھیں اپنے پاس مدینہ آنے کا حکم دیا۔ 1 آگے حدیث اور بھی ہے۔ حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضور ﷺ کے ساتھ تھے، سامنے سے ایک دیہاتی آیا۔ جب وہ حضورﷺ کے قریب پہنچا تو اس سے حضورﷺ نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا: اپنے گھر جارہا ہوں۔ آپ نے فرمایا: کیا تم کوئی بھلی بات لینا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: وہ بھلی بات کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: تم کلمۂ شہادت أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ پڑھ لو۔ اس نے کہا: جو بات آپ کہہ رہے ہیں کیا اس پر کوئی گواہ ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ درخت گواہ ہے۔ چناں چہ حضورﷺ نے اس درخت کو بلایا اور وہ درخت وادی کے کنارے پر تھا، وہ درخت زمین کو پھاڑتا ہوا آپ کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ آپ نے اس سے تین مرتبہ گواہی طلب فرمائی اس نے تین مرتبہ گواہی دی کہ حضورﷺ جیسے فرمارہے ہیں بات ویسے ہی ہے۔ پھر وہ درخت اپنی جگہ واپس چلاگیا۔ وہ دیہاتی اپنی قوم کے پاس واپس چلاگیا اور جاتے ہوئے اس نے حضورﷺ سے یہ عرض کیا کہ اگر میری قوم والوں نے میری بات مان لی تو میں ان سب کو آپ کے پاس لے آؤں گا، ورنہ میں خود آپ کے پاس واپس آجاؤں گا اور آپ کے ساتھ رہا کروں گا۔ 2 حضرت عاصم اسلمیؓ فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ نے مکہ سے مدینہ کو ہجرت فرمائی اور آپ غَمِیْم کے مقام پر پہنچے تو حضرت بُریدہ بن حُصَیبؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے ان کو اسلام کی دعوت دی وہ بھی مسلمان ہوگئے اور اُن کے ساتھ تقریباً اَسّی گھرانے بھی مسلمان ہوئے۔ پھر حضورﷺ نے عشاء کی نماز پڑھائی اور انھوں نے آپ کے پیچھے نماز ادا کی۔1